ہندوستان

ائمہ مساجد دوران خطبہ ضوابط طلاق سے عوام الناس کو روسناش کرائیں :ولی رحمانی

آَ ل انڈیا مسلم پر سنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا جاری کردہ پریس اعلامیہ میں ائمہ مساجد سے اپیل
لکھنؤ۔۲۰؍اپریل(سعید ہاشمی)
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ منعقدہ۱۵؍۱۶؍اپریل ۲۰۱۷ء؁ بمقام دارالعلوم ندوۃ العلماء میں بورڈ نے متفقہ طور پر اہم فیصلہ لیتے ہوئے عوام میں طلاق سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے اور طلاق کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے اس سلسلے میں ایک کوڈ آف کنڈکٹ ’’ضوابط برائے طلاق ‘‘ جاری کیا تھا۔ اس موقع پر یہ بھی فیصلہ لیا گیا تھا کہ عوام میں تشہیر کرنے کے لیے ائمہ مساجد سے اس کی اپیل کی جائے کہ جمعے کے خطبے سے پہلے اس کو نمازیوں کو پڑھ کر سنادیں۔اس سلسلے میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی نے جاری کردہ پریس ریلیز میں تمام ائمہ کرام سے یہ اپیل کی کہ اس ’’ضوابطہ برائے طلاق ‘‘ کو جمعے کے خطبے میں ضرور پڑھ کر سنادیں جس سے کہ قانون طلاق کا صحیح علم لوگوں کو ہوسکے اور شریعت کے خلاف ہورہے پروپیگنڈے اور سازش کا بھی کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا جاسکے۔مولانا سید ولی رحمانی نے مندرجہ ذیل امور پر ائمہ مساجد اور علماء سے زور دیا ہے کہ جو تجاویز بورڈ کی مجلس عاملہ میں منظور ہوئیں تھیں اور جو ہدایت جاری کی گئی تھیں ہدایات میں کہا گیا ہے کہ
(۱) اگر شوہر وبیوی میں اختلافات پیدا ہوجائیں تو پہلے وہ خود آپسی طور پر ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور دونوں اس بات کو سامنے رکھیں کہ ہر انسان میںکچھ کم زوریاں ہوتی ہیں اور بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں۔لہذا شریعت کی روایت کے مطابق ایک دوسرے کی غلطیوں کو در گزر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔(۲)اگر اس طرح بات نہ بنے توعارضی طور پر قطع تعلق کیا جاسکتا ہے۔(۳ اگر یہ دونوں طریقے ناکام ہوجائیں تو دونوں خاندان کے باشعور افراد مل کر مصالحت کی کوشش کریں، یا دونوں طرف سے ایک ایک ثالث مقرر کرکے (Reconciliation and Arbitration)باہمی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔(۴)اگر اس کے باوجود بات نہ بنے تو بیوی کو پاکی کی حالت میں شوہر ایک طلاق دے کر چھوڑ دے، یہاں تک کہ ایام عدت گزر جائیں۔ عدت کے دوران اگر مرافقت پیدا ہوجائے تو شوہر رجوع کرلے اور پھر دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزاریں۔اگر عدت کے دوران شوہر نے رجوع نہیںکیا تو عدت کے بعد خود ہی رشتہ نکاح ختم ہوجائے گا اور دونوں نئی زندگی شروع کرنے کے لیے آزاد اور خود مختار ہوں گے۔ اگر بیوی اس وقت حاملہ ہوگی تو عدت کی مدت وضع حمل ہوگی۔ طلاق دینے کی صورت میں شوہر کو عدت کاخرچ دینا ہوگا اور مہر باقی ہو تووہ بھی فوراً ادا کرناہوگا۔(۵)اگر عدت کے بعد مصالحت ہوجائے تو باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دونوں تجدید نکاح کے ذریعے اپنے رشتے کو بحال کرسکتے ہیں۔(۶)دوسری صورت یہ ہے کہ بیوی کی پاکی کو حالت میں شوہر ایک طلاق دے پھر دوسرے ماہ دوسری طلاق دے اور تیسرے ماہ تیسری طلاق دے۔ تیسری طلاق سے پہلے اگر مصالحت ہوجائے تو شوہر رجوع کرلے اور سابقہ رشتہ نکاح بحال کرلے۔
(۷) اگر بیوی شوہرکے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ہے تووہ خلع کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرسکتی ہے۔(۸)مسلم سماج کو چاہیے کہ جو شخص ایک ساتھ تین طلاق دے اس کا سماجی بائیکاٹ کیاجائے، تاکہ ایسے واقعات کم از کم ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker