ہندوستان

کریمی لائبریری میں اردو کے اخبارات ورسائل کی ۵۰ہزار صفحات کے ڈیجیٹائزیشن کی شاندار تقریب

اردوزبان ،تاریخ وتہذیب کو آئندہ نسل کےلئے محفوظ کی جانب پہلا قدم ہے:ڈاکٹر ظہیر قاضی
ممبئی۔۲۱؍اپریل: (نمائندہ خصوصی) انجمن اسلام کریمی لائبریری ایک تاریخی لائبریری ہے جو ایک زمانے تک بند رہی اور اس کا علمی سرمایہ تباہ ہوگیا یا چوری ہوگیا۔ ۲۰۱۰ء کے بعد اس کی تجدید اور احیاء ہوا اور ڈاکٹر ظہیر قاضی کی صدارت کے دوران انجمن اسلام کے جوائنٹ سیکریٹری معین الحق چودھری کی چیئرمین شپ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے اس لائبریری کو از سر نو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اردو کے معروف شاعر ، نقاد اور کالم نگار شمیم طارق اس کے ڈائرکٹر بنائے گئے اور انھوں نے ایک منصوبے کے تحت اس لائبریری کی از سر نو تنظیم کا کام شروع کیا۔ اب یہاں نادر کتابوں کے علاوہ انیسویں صدی کے اخبارات کے تقریباً پچاس ہزار صفحات محفوظ کردیے گئے ہیں۔ان اخبارات سے متعارف کرانے کے لیے کریمی لائبریری ہال میں جمعہ ۲۱؍اپریل ۲۰۱۷ء کو ایک علمی ادبی تقریب منعقد کی گئی جس میں ممبئی اور بیرون ممبئی کے اہل علم اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انجمن اسلام کے دو نائب صدور مشتاق انتولے اور ڈاکٹر شیخ عبداللہ نے علامہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ اس کام کی ستائش کی جو کریمی لائبریری میں انجام پایا ہے۔عبدالکریم سالار ، صدر اقراء ایجوکیشن سوسائٹی نے کہا کہ کریمی لائبریری میں موجود ۱۹؍ویں صدی کے اخبارات کا ڈیجیٹائزیشن قوم کو نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے انھوں نے انجمن کے عہدیداروں اور ذمہ داروں کو مبارکباد دی۔سالار صاحب نے کہا کہ قوم کو جگانے کے لیے اقبالؔ کے کلام کی تفہیم بہت ضروری ہے۔ یہ کام گاؤں اور قریہ تک پہنچنا چاہیے۔۲۱؍اپریل چونکہ علامہ اقبال کا یوم وفات ہے اس مناسبت سے اس موقع پر اقبال کو بھی یاد کیا گیا اور شاعر، نقاد اور کریمی لائبریری کے ڈائرکٹر شمیم طارق نے بڑے موثر انداز میں ان کی نظم ’’جبریل و ابلیس‘‘ کی تفہیم و تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظم کا ایک حصہ نغمۂ جبریل سے عبارت ہے اور دوسرا حصہ ابلیس کی دعووں سے۔ جبریل نوری ہیں، قاصد وحی ہیں، سراپا علم و عرفان ہیں، سراپا اطاعت ہیں، مقرب بارگاہ ہیں اور ابلیس ناری ہے یعنی آگ سے بنا ہے۔ نافرمان ہے۔ مایوس و سرکش ہے۔ مردود بارگاہ ہے۔ یہ دونوں متضاد کردار ہیں مگر کبھی آسمان میں ایک ساتھ رہ چکے ہیں اس لیے جب ان میں ملاقات ہوتی ہے تو جبریل اس سے کچھ سوالات پوچھتے ہیں اور ابلیس اپنی خطابت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علامت شر ہونے کی بڑی موثر نقش گری کرتا ہے۔ پوری نظم تمثیل کے پیرایے میں ہے اس لیے یہ سوچنا صحیح نہیں کہ واقعی جبریل و ابلیس میں کبھی کوئی مکالمہ ہوا ہوگا۔ البتہ یہ گمان ہوتا ہے کہ اقبال کے احساسات ابلیس کے احساسات کا مظہر ہیں مگر ’’ضرب کلیم‘‘ کی ایک دوسری نظم ’’تقدیر‘‘ ذہن میں ہو تو یہ غلط فہمی دور ہوجاتی ہے جس میں ابلیس اقرار کرتا ہے کہ
حرف استکبار تیرے سامنے ممکن نہ تھا
ہاں مگر تیری مشیت میں نہ تھا میرا سجود
اس موقع پرشمیم طارق نے انیسویں صدی کے اردو اخبارات کے ڈیجیٹائزڈ کیے ہوئے صفحات کا تعارف کرانے سے پہلے اردو صحافت کی تاریخ، مزاج، ملک گیر حیثیت، ممبئی کی اردو صحافت، انجمن اسلام کے اردو صحافت سے تعلق پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کے بعد یہ اطلاع فراہم کی کہ انجمن اسلام کریمی لائبریری میں کم و بیش ۱۵۰؍اردو اخبارات کے پانچ ہزار شماروں کے پچاس ہزار صفحات ڈیجیٹائزڈ کیے جاچکے ہیں۔اب یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے ہیں۔ اس سوال کا کہ ان بوسیدہ اوراق کے ڈیجیٹائزیشن پر لاکھوں خرچ کرنے کا فائدہ کیا ہے جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پرانے اخبارات کراس ریفرنس کے علاوہ اس زمانے کے حالات، زبان کے بتدریج ارتقاء اور مختلف مقامات اور علاقوں کے اخبارات کی زبان میں فرق کا احساس دلاتے ہیں۔ اس حیثیت سے دیکھیں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انجمن اسلام کریمی لائبریری میں تاریخی کارنامہ انجام پایا ہے اور اس کے لیے انجمن کا انتظامیہ قابل مبارکباد ہے۔شمیم طارق نے مزید کہا کہ انجمن اسلام کریمی لائبریری میں ڈیجیٹائزیشن کی شکل میں جو کارنامہ انجام پایا ہے میں اس کے لیے اللہ کا شکرگذار ہوں۔ اس کا اعتراف ہو یا نہ ہو مگر مجھے اطمینان قلب حاصل ہے کہ ایک اچھے کام میں میری شرکت بھی رہی ہے۔انجمن اسلام میں بدرالدین طیب جی اردو ہائی اسکول کی دو استاذ رضوانہ شیخ اور تبسم انصاری نے اقبال کی نظم ’’جبریل و ابلیس‘‘ سنائی۔ ایک اور استاذ ناصر شیخ نے ترنم سے اقبال کی نظم ’’جب عشق سکھاتا ہے…‘‘پڑھ کر سماں باندھا۔ان نظموں کو پڑھے جانے میںموسیقی کا انتظام کیا گیا تھا۔ انجمن اسلام اسکولس کی ڈائرکٹر سلمیٰ لوکھنڈوالا نے بحسن وخوبی نظامت کے فرائض انجام دینے کے علاوہ استقبالیہ تقریر بھی کی۔انجمن کے ایک طالب علم حافظ محمد دانش نے قرأت سے پروگرام کا آغاز کیااور ترجمہ بھی کیا۔ انجمن اسلام کے جوائنٹ سیکریٹری جناب معین الحق چودھری نے سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انجمن اسلام کریمی لائبریری کی ادبی تقریبات کی وسیع حلقے میں پذیرائی ہورہی ہے۔ آج کا پروگرام بھی یادگارپروگرام تھا۔ اس پروگرام میں اقبال کی شاہکار نظم ’’جبریل و ابلیس‘‘ کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے شعر فہمی کی ایک نئی روایت قائم ہوئی ہے۔Digitizationکا جو کام ہوا ہے وہ اردوصحافت کی تاریخ کا حصہ ہے۔ ہماری آپ کی خوش بختی ہے کہ ہم اس پروگرام میں شامل ہیں۔میں آپ سب کا شکرگذار ہوں کہ آپ ہماری دعوت پر تشریف لائے۔ یہاں جلگاؤں، بھیونڈی، کوکن، پونے اور دوسرے شہروں کے اہل علم بھی موجود ہیں۔ باہر سے تشریف لانے والوں کا میںخاص طور سے شکرگذار ہوں۔ امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کریمی لائبریری کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہیں گے۔ جلسے میں ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر شہروں کے اہم افراد نے شرکت کی۔ اردو جرنلسٹس اسوسی ایشن کے ذمہ داران نے ڈاکٹر ظہیر قاضی کو گلدستہ پیش کرکے تیسری بار صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker