Baseerat Online News Portal

جماعت اسلامی کی ’’ مسلم پرسنل لاء بیداری مہم‘‘سے بھرپور استفادہ حاصل کریں: محمد شعیب القاسمی

ممبئی۔۲۲؍اپریل: مسلم پرسنل لاء حقیقت کے لحاظ سے اسلامی پرسنل لاء ہے، یہ قانون خود مسلمانوں کا شخصی نہیں اور نہ مسلمانوں نے کوئی قانون وضع کیا ہے بلکہ یہ تو IslamicLaw خدائی قانون ہے۔جو تمام انسانیت کے لیئے عام ہے۔اس وقت مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جو فضا ء بن رہی ہے، ہندوستانی مسلمان اس سے اچھی طرح واقف ہے، ہمیں یہ غور کرنا چاہیئے کے یہ مداخلت بار بار کیوں ہورہی ہے؟ یہ ملک جمہوری ہے اور دستور نے ہرایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی ہوئی ہے پھر بھی یہ مداخلت کیوں؟ مسلم پرسنل لاء کو ختم کرکے ’’ یونیفارم سول کوڈ‘‘ کی بات کی جاتی ہے ہندوستان میں ’’ یونیفارم سول کوڈ‘‘ کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی ہدایات کے خلاف نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہوگا ہونگے،وصیت اور وراثت کے معاملہ میں بھی انہیں مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح دوسرے مذہب اور رسم وراج کے پابند لوگوں کو بھی اپنامذہب چھوڑنا ہوگا۔ اپنے رواج کو مٹانا ہوگا ، اور نئے قانون کا پابند ہونا پڑیگا، جس کے نفاذ کے بعد’’ مسلم پرسنل لاء‘‘ کی کئی گنجائش باقی نہیں رہتی، مسلم پرسنل لاء جس کی بنیاد قرآن وسنت پر ہے، یونیفارم سول کوڈ کو یکجا نہیں کیا جاسکتا، مسلمان یونیفارم سول کوڈ کے مخالف ہیں، مسلمانوں کے اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’’ یونیفارم سول کوڈ‘‘ مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، اس کے نفاذکے بعد عائلی اور شخصی زندگی میں قرآن و سنت کی ہدایات سے دستبردار ہونا پڑے گا ،اور ایک ایسے قانون کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا پڑے گا جس کے نتیجے میں مذہب کی مقرر کی ہوئی حدیں مٹ جائیگی اور فرد کی شخصی زندگی سے حلال و حرام کا وجود ختم ہوجائے گا۔مسلمان اس کے لیئے تیار نہیں ہیں کے وہ ان قوانین کے ذریعہ اپنی عائلی اور شخصی معاملات کا حل نکالیں جن کا ہر قدم پر مذہب سے ٹکراؤ ہوتا رہے گا۔اب ضرروری ہیکہ اور آپ اور ہم اس چیز کے ذمہ دار ہیں کہ پہلے تو اس قانون پر عمل کریں اور اپنے اندر اس کو رچالیں ،اس کے بعد اعلان کریں کے یہ خدائی قانون ہے۔اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔ پرسنل لاء کے نام سے ہم واقف ہی نہیں، شخصی اور عائلی قوانین کیا ہیںاُن پر عمل در آمد نہیں،اگر ہم عمل کریں گے تو دوسرے خود مغلوب ہوجائے گے،لیکن خود ہم عمل نہ کرے تو دوسروں کی جرأت ہوتی ہے کے مداخلتیں کریں،وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں کے پرسنل لاء کیا ہے۔اگر آج ہم سب مل کر اس پر جمع ہوجائیں کہ پیدا ہونے سے لیکر مرنے تک جو اسلامی معاشرہ ہے ہم اسکو قائم کرکے رہیں گے، تو ان شا ء اللہ پرسنل لا ء خود محفوظ ہو جائیگا۔ واضح ہوکہ جماعتِ اسلامی ہند کی جانب سے مؤرخہ ۲۳؍اپریل تا ۷؍ مئی ۲۰۱۷ پورے ملک میں ’’ مسلم پرسنل لاء بیداری مہم ‘‘ چلائی جارہی جس کی ضرورت و افادیت کو محسوس کرتے ہوئے ملک کے نامور مؤقر علماء کرام نے بھرپور تائید کی ہے اور تمام امت مسلمہ سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی ہند کی جانب سے چلائی جارہی سے بھرپور استفادہ حاصل کریں ۔

You might also like