Baseerat Online News Portal

بے سہارابیواؤںکیلئے حکومت نے کچھ نہیں کیا

راہ نما ہدایات وضع نہ کرنے پرمودی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کی کڑی سرزنش ، ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد
نئی دہلی ،۲۲اپریل :(روزنامہ ممبئی اردو نیوز)ملک میںایک طرف سوچی سمجھی سازش کے تحت جہاں تین طلاق کے بہانے مسلمانوں کےمذہبی معاملات کو میڈیا میں تنقیدوں کا نشانہ بنایاجارہاہے وہیں بے سہاراودھواؤں(بیوہ) خواتین کی دردرناک حالت پر پوراقومی میڈیا اور حکمراں بی جے پی کے حواری مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن آج سپریم کورٹ نے اس بارے میں مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیاہے ۔ بے سہارا بیوہ خواتین کی حالت زار پرسپریم کورٹ نے ایک تیکھا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ عدالتیں حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہیں جو کام ہی نہیں کرنا چاہتیں۔جمعہ کو جسٹس مدن بی لوكر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے ملک میں بے سہارابیواؤں کی حالت پر توجہ نہ دیئے جانے پرمرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، آپ (حکومت) اسے نہیں کرنا چاہتے اور جب ہم کچھ کہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ عدالت حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔عدالت عظمی ٰنے بیواؤں کی حالت بہتر بنانے کے لئے اپنی ہدایات کے باوجود ’راہ نما ہدایات‘ کے ساتھ نہ آنے پر مرکزی حکومت پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا اور راہ نماہدایات وضع کرنے کے لئے چار ہفتے کا وقت دیا۔سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا’’ آپ ہندوستان کی بیواؤں کی حالت پر توجہ نہیں دیتے ہو۔ آپ حلف نامہ دائر کریں اور کہیں کہ آپ ہندوستان کی بیواؤں کو لے کر فکر مند نہیں ہیں۔آپ نے کچھ نہیں کیا ہے ، یہ مکمل طور بے بسی ہے۔ حکومت کچھ نہیں کرنا چاہتی۔عدالت نے گذشتہ شنوائی میں مرکز سے قومی خواتین کمیشن کی تجاویز پر بات چیت کرنے کے لئے اجلاس بلانے اور ملک میں بیواؤں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے راہ نما ہدایات تیار کرنے کو کہا تھا۔وزارت برائےخواتین اور بچوں کی فلاح وبہبودکے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ قومی خواتین کمیشن اور ماہرین کی تجاویز پر بات چیت کرنے کے لئے 12 اور 13 اپریل کو ملاقات ہونی تھی۔بنچ نے جمعہ کی سماعت کے دوران مرکز کے وکیل سے پوچھا کہ عدالت کو یقین دہانی دئے جانے کے باوجود یہ میٹنگ کیوں منعقد نہیں کی گئی۔

You might also like