Baseerat Online News Portal

علماء کرام اسلام کی سرحدوں کے محافظ: خالد سیف اللہ رحمانی

تین طلاق پرہنگامہ کرنے والے اپنی قوم کی بیواؤں اورچھوڑی ہوئی عورتوں کی فکرکریں:اسدالدین اویسی
المعہد العالی االاسلامی کا سولہواں جلسہ تقسیم اسناداختتام پذیر، علماء ودانشوران کا خطاب
حیدرآباد۔۲۳؍اپریل: (غلام رسول قاسمی؍بی این ایس) 
علمائے کرام اسلام کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور نگہبان ہیں ،تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اسلام کی نظریاتی سرحد میں کسی نے دراندازی کی علماء نے اس کا مقابلہ کیا اور اسلام پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی ،ماضی قریب میں آریہ سماجی فتنے کامولانامولانا قاسم نانوتوی،قادیانی فتنے کا مولانا محمد علی مونگیری،اور عیسائی مشنری کا حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے مقابلہ کیا،اور انکا قلعہ قمع کیا۔ آج بھی اسلام پر مختلف سمتوں سے حملے ہورہے ہیں،علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حملوں کے مقابل سینہ سپر ہوجائیں،یہ باتیں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے المعہد العالی الاسلامی کے سولہویں تقسیم اسناد کے جلسہ میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے معہد سے فارغ ہونے والے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تبلیغ دین کی ہونی چاہئے مسلک کی نہیں اور دین کی تبلیغ میں حکمت اور مخاطب کے نفسیات کی رعایت ضروری ہے۔اس موقع پربیرسٹراسدالدین اویسی نے اپنے خطاب میں ملک کے موجودہ حالات کا ذکر کیا اور بتایا کہ ہم کس طرح ان مشکل حالات سے نکل سکتے ہیں،انہوں نے اعدادوشمار کی روشنی میں بتایاکہ تین طلاق پر ہنگامہ کرنے والے اپنی قوم کی کروڑوں بیواؤں اوربغیرطلاق کے چھوڑی ہوئی عورتوں کی حالت زارپرکیوں دھیان نہیں دیتے؟اس ضمن میں انہوں نے وزیراعظم کی اہلیہ کا بھی حوالہ دیا۔مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے مزید فرمایاکہ آج فارغ ہونے والے طلبہ اس بات کو ذہن نشیں کرلیں کہ اختلاف میں اعتدال کو ملحوظ رکھیں اور مخالف نقطہ نظر کا بھی احترام کریں،اور جزوی مسائل کو نہ اچھالیں اور نہ فروعی مسائل کو اصول کا درجہ و مقام دیں۔واضح رہے کہ المعہد العالی الاسلامی کا یہ سولہواں تقسیم اسناد کا جلسہ 10/بجے سعیدآباد کے سعید فنکشن ہال میں منعقد ہوا ،اجلاس کی ابتداء تلاوتِ کلام پاک اور نعت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )سے ہوئی۔ معہد کے طلبہ نے اہم موضوعات پر مدلل اور سنجیدہ خطاب کیا،دو طالب علموں نے انگریزی میں بھی خطاب کیا۔ مولانا اشرف علی قاسمی نے خیرمقدمی کلمات ادا کیے اور معہد العالی الاسلامی کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا، آزاد یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر مولانا فہیم اختر ندوی نے طلبہ کو عصر حاضر کے مسائل پر سنجیدہ اور علمی و مدلل خطاب پر زور دیا۔ مولانا احمد قاسمی نے بہت ہی خوبصورت انداز میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی تصنیف’’آسان تفسیر‘‘کا تعارف پیش کیا۔اس موقع پر مولانا زکریا سنبھلی شخ الحدیث دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ہاتھوں آسان تفسیر کی رسمِ اجراء عمل میں آئی نیز معہد کے استاذ مولانا انصار اللہ قاسمی کی “متاع لوح و قلم کا اجراء بدست مولانا خالد سیف اللہ رحمانی عمل میں آیا۔رسمِ اجراء کے بعد مولانا عبدالقوی ناظم ادارہ اشرف العلوم نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ علماء4 اس بات کے مخالف نہیں کہ عوام قرآن پر غور و فکر کریں لیکن وہ یہ چاہتے ہیں کہ عوام بجائے اس کے کہ قرا?ن کو اپنی سطح پر لائیں انھیں چاہیے کہ اپنی سطح بلند کرکے قرآن کی سطح پر آئیں۔ بعدازاں معہد سے فارغ ہونے والے مختلف شعبہ جات کے طلباء کی تقسیم اسناد عمل میں آئی،طلبہ کو مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،حضرت مولانا زکریا سنبھلی ،مولانا عبدالقوی مظاہری اوربیرسٹر اسدالدین اویسی کے ہاتھوں اسناد دیئے گئے۔ آخرمیں مولانازکریاسنبھلی مدظلہ کاکلیدی خطاب ہوا پھراکابرین کی پرسوز دعاؤں پر معہد العالی الاسلامی کا سولہواں تقسیم اسناد کا جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

You might also like