جہان بصیرتفکرامروزمضامین ومقالات

شرم تم کو مگر نہیں آتی

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
ملک عزیز ہندوستان اس وقت جس دہانے پر کھڑا ہے وہ ایک بڑے المیہ سے کم نہیں ہے …تیز سیاسی سورج کی تپش میں انسانیت تھک چکی ہے اور اسے باوجودکوشش کے کوئی ایسی جائے پناہ نہیں مل پارہی ہے جہاں ںسستا سکے ، اور تھکا دینے والی ا س مدت کی عمر صرف 17/ ماہ ہے سب کا ساتھ سب کاوکاس کا نعرہ دینے والا اس ملک کا وزیر اعظم اپنی چکنی چپڑی باتوں کے سہارے اوج ثریا کے چھونے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے بدمست ہاتھی کی طرح دنیا کی سیرمیں مشغول ہے , انہیں کہی ہوئی اپنی یہ بات خوب یاد ہے کہ “اب کے اچھے دن آئیں گے ,,اور یہ سچ بھی ہے کہ اچھے دن آگئے اس سے اور اچھے دن کیا ہونگے کہ ایک چائے بیچنے والے کا چائے فروش بیٹا دس لاکھ کا سوٹ پہن کر سپرپاور ملک کے صدر سے اپنے سینے کو ملاتا ہے اور ہاتھ ملاکر یہ ثابت کرتا ہے کہ دیکھو یہ وہ ہاتھ ہے جو کل تک پانی کم چائے لیکر اسٹیشنوں پر گھوم گھوم کر کہتا تھا, بھائیو بہنو گرم چائے ,گرم چائے ,گرم چائے اور ایک شخص ایک گپ چائے کے بدلے چونی تھما دیتا تھا ,اور ایک گھونٹ کے بعد کہتا ٹھگ لیا کتنا گھٹیا چائے بناتا ہے , ٹھگ لینے کی یہ عادت اسے بچپن سے پڑی ہے ,اس لئے اسے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تم ٹھگاؤ یا نہ ٹھگاؤ ہمیں تو اپنی چونی سے مطلب ہے , اس ملک کی حالت دیکھ کر سوچتا ہوں کہ ہمارے اسلاف نے اپنا خون بیچ کر اور لہو بہا کر اسے آزاد کروایا تھا ,لیکن اب ان لوگوں کی اجارہ داری ہوتی جارہی ہے ,جس نے اس موقعہ سے اپنا خون کیا پسینہ بھی نہیں بہایا تھا ,اس کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اس کے ایک شخص ناتھو رام گوڈسے نے ملک کے سب سے بڑے محسن رہنما اور قائد گاندھی جی کو سر عام قتل کردیا ,اور ملک میں بسنے والے لوگ تماشائی بنے کھڑے اس طرح دیکھتے رہے کہ گویا اسے سانپ نے سونگھ لیا ہو ,یا پھر وہ اس حاثہ کو انفرادی حادثہ سمجھ رہے ہوں ,اگر اسی وقت ملک پر مالکانہ حیثیت رکھنے والے اشخاص نے اس طرف دل کی پوری درد مندی کے ساتھ توجہ دیا ہوتا اور ایسی جماعتوں کی حرکتوں پر ملک کی سلامتی کے پیش نظر پابندی عائد کی ہوتی تو نہ ملک میں مراد آباد ,ملیانہ ,جمشید پور ,بھاگلپور ,رامپور ,گجرات جیسا دلخراش حادثہ کبھی پیش نہیں آتا اور نہ ہی آج مظفر نگر جلتا اور نہ ہی دادری کا اخلاق اس بے رحمی کے ساتھ شہید کیا جاتا، نہ انجینئر راشد اور سدھیندر کلکرنی کے چہرے کالے ہوتے، اور نہ ہی سورج کی آنکھیں بہتے لہو دیکھتی,سمندر کی لہریں رک کر گرتے لاش دیکھتی ,چہچہاتے پرندے آسمان کی بلندیوں پر اٹھتی آہوں کو سنتے ,دریا کی مچھلیاں ننگی لاشوں کو نوچ کر کھاتی اور نہ ہی درد میں ڈوبا ہوا یہ شعر کلیم عاجز نے کہا ہوتا ,
بکنے بھی دو عاجز کو جوبولے ہے بکے ہے
یہ دیوانہ ہے دیوانوں سے کیا بات کرو ہو
اور نہ ہی دنیا کا سب سے سفاک اور باتونی آدمی اس ملک کا وزیر اعظم بنتا ,اور نہ ہی توگڑیا جیسی ذہنیت کے لوگ اس دنیا محبت میں جنم لیا ہوتا ,اس لئے تو یہ کہاجاتا رہا ہے “لمحوں نے خطاکی صدیوں نے سزاپائی ,” یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیائے آب وگل میں بڑے بڑے سفاک اور ظالم لوگوں نے آنکھیں کھولیں زمین کو لہو سے رنگ دیا لیکن قدرت کے جلال نے بھی اس کو صفحہ ہستی سے مٹاکر آنے والی نسلوں کے تازیانہ عبرت بنادیا اور اس بات کو ثابت کردکھایا کہ اس زمین پر جب جب ظلم وبربریت نے جنم لیا تو اسے خاک کی تہ میں ملاکر نیست ونابود کردیا ,جسے تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ رکھا ہے,تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں اسے پڑھ کر سبق حاصل کرسکیں اس ملک میں الکشن ہوتے رہے ہیں اور آج سے زیادہ حسا س انتخاب ہوا کیا ہے , لیکن اس انتخاب کو تمام الیکشنوں سے زیادہ اہمیت اس لئے دی جارہی ہے کہ یہ ا نتخاب “سیکولر بنام فسطائی طاقت ہورہا ہے ” یہ پورے ملک میں ایک ایسا پیغام دینے جارہا ہے کہ آج بھی ایسے لوگ یہاں بستے ہیں جسے اپنی مٹی سے محبت ہے اور یہ ٹوٹ کر اپنی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے ہیں , یہی وجہ ہیکہ چار مرحلوں میں ہوچکے الیکشن کی خبر مثبت ہے ,اس لئے کہ یہیں سے گذرکر سیاست دلی تک پہونچتی ہے ۔ یہ بات تو طے ہے کہ بہار الیکشن میں سیکولر پارٹیاں اپنی حکومت بنارہی ہے اور خدا کرے کہ ہمارا گمان سچ ثابت ہو اور یہ فضا پورے ملک کے لئے ایک بڑے پیغام سے کم نہیں ہوگا اور یہاں سے فسطائی طاقتیں اپنی کمزوری یقینی طور پر تسلیم کرلے گی ,چونکہ اس پورے الیکشن کی ذمہ داری وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے کاندھے پر اٹھا رکھا تھا جس سے پتہ چلتا تھا کہ یہ ملک کے وزیر اعظم نہیں بلکہ بی جے پی کا ادنی ورکر ہو ,ہم نے اپنی شعور کی آنکھوں سے وزارت عظمی کے عظیم عہدے پر راجیو گاندھی کے بعد کے لوگوں کو دیکھا ہے ,اس سے قبل جو بھی نرسمہاراؤ کے علاوہ وزیر اعظم آئے اس نے ہمیں متاثر کیا اور یہ باوقار عہدہ بھی شرمندہ نہیں ہوا ,لیکن بہار کے اس الیکشن میں موجودہ وزیر اعظم نے سارا وقار داؤپر لگاکر ملک کو اور عہدے کو شرمسار کردیا ,اور ایسا لگا کہ یہ کسی ایک نظریہ کے حامل لوگوں کے ہی وزیر اعظم ہیں ,اگر ان کی جان توڑ محنت سے پارٹی جیت جاتی تو منھ چھپایا جاسکتا تھا لیکن ہار کا وہ منھ کس منھ سے دیکھ پائینگے یہ سوچ کر ہم جیسے لوگوں کو شرم آتی ہے ,پارٹیوں کو ہارتے تو بہت دیکھا ہے لیکن وزیراعظم کو اس طرح ہارتے ہوئے پہلی مرتبہ دیکھ پائیں گے وزیر اعظم بننے کے بعددہلی میں بھی اس پارٹی نے ہار کا قلادہ باندھا تھا لیکن پورا ٹھیکرا کیجریوال کی قدیم دوست کرن بیدی پر پھوڑا گیا ,اور اس طرح ہمارے وزیر اعظم رسوائی سے بچ گئے ,اب بہار الیکشن آخری مرحلے میں ہے ,5/تاریخ کو ووٹ ڈالے جائیں گے ,ایک بار اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ فسطائی طاقتوں کھدیڑ کر بہار سے باہر کرنے کے لئے قومی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے ووٹ کیجئے اور اپنی پرانی روش کہ سرزمین گوتم بدھ بہار کو فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم اور وجود سے پاک کرنا ہے …اور پاک کرکے ہی دم لیں گے جیسے عزائم کی تکمیل کے لئے متحدہ محاذ کو ووٹ دیں اور بی جے پی کے زوال کے دن کی ابتداء کریں۔
(مضمون نگار بہار پہام انسانیت کے جنرل سکریٹری ہیں، رابطہ،09431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker