Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

نمازی کے آگے سے گذرنے والے کو روکنے کا طریقہ
سوال :- اگر کوئی شخص نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گذر رہا ہو تو نماز پڑھنے والے کو کیا تکبیر کہنی چاہئے ، اشارہ کرنا چاہئے ، یا کسی اور طریقہ پر تنبیہ کرنی چاہئے؟ یا اشارہ بھی کرے اور تسبیح بھی پڑھے ؟ یا ہاتھ پر ہاتھ کو مارا جائے ، پھر ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی کیفیت کیا ہوگی اور تسبیح پڑھنے کا طریقہ کیا ہوگا ؟ براہ کرم وضاحت فرمایئے ۔ ( اکرام الدین ، ملے پلی)
جواب :- نمازی کے سامنے سے گذرنے والے کو متنبہ کرنے کے لئے مردوں کے لئے دو طریقے ہیں ، اشارہ یا تسبیح ، اشارہ ہاتھ سے بھی کیا جاسکتا ہے ، سر سے بھی ، آنکھ سے بھی ؛ لیکن کسی ایک ہی سے اشارہ ہونا چاہئے : ’’ وھو بالاشارۃ بالید أو بالراس ، أو بالتسبیح‘‘ ۔ (البحر الرائق : ۲؍۲۳)
تسبیح سے مراد سبحان اللہ کہنا ہے ، بعض لوگ سبحان اللہ کے بجائے ’ اللہ اکبر ‘ کہہ دیتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے ؛ کیوںکہ اللہ اکبر تو نماز کے اذکار میں شامل ہے ، اگر آپ اللہ اکبر کہہ دیں تو گذرنے والے کو احساس نہیں ہوپائے گا کہ آپ اس کو اس کی حرکت سے روک رہے ہیں اورآپ کا مقصود اس کو منع کرنا ہے ، تسبیح اور اشارہ دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے ، اگر ان دونوں میں سے ایک گذرنے والے کو روکنے کے لئے کافی ہوجائے تو دوسرے طریقہ کو استعمال کرنا بے فائدہ ہے اور نماز میں حتی المقدور بے فائدہ عمل سے بچنا چاہئے : ’’ ویکرہ الجمع بین التسبیح والاشارۃ لأن بأحدھما کفایۃ‘‘ (حوالۂ سابق)البتہ اگر صرف تسبیح یا صرف اشارہ کافی نہ ہو تو ان دونوں میں سے دوسرے طریقہ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے ، گذرنے والے کو متنبہ کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ نماز پڑھنے والا اگر سری نماز میں ہو تو ایک آدھ آیت زور سے پڑھ دے اور اگر جہری نماز ہو تو جہر کی مقدار میں اضافہ کردے : ’’ وزاد الولوالجی أن یکون برفع الصوت لقراء ۃ القرآن‘‘ (حوالۂ سابق) جہاں تک ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی بات ہے تو اس کا تعلق خواتین سے ہے کہ عورتیں اشارہ کرنے اور تسبیح پڑھنے کے بجائے ہاتھ تھپتھپائیں گی ؛ لیکن ہاتھ تھپتھپانے سے مراد ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا نہیں ہے ؛ بلکہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت پر مارنا مراد ہے : ’’ وکیفیتہ أن تضرب بظہور أصابع الیمنی علی صفحۃ الکف من الیسریٰ ولأن فی صوتھن فتنۃ فکرہ لھن التسبیح‘‘ ۔ (حوالۂ سابق)
دو بیویوں میں سے ایک کو بیرونِ ملک ساتھ لے جانا
سوال:- ایک شخص کی دو بیویاں ہیں تو ان دونوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے ، اگر شوہر بیرونِ ملک رہتا ہو تو وہ جس کو چاہے اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے یا دونوں کو اپنے ساتھ رکھنا لازم ہوگا ؟ (محمداعجاز ، نظام آباد)
جواب :- بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا سلوک کرنا واجب ہے ، فقہاء نے اس سلسلہ میں کھانے کپڑے اور شب گذاری کا ذکر کیا ہے کہ ان چیزوں میں دونوں بیویوں کے درمیان برابری ضروری ہے : ’’ وفی الماکول والملبوس … والنوبۃ لھذہ لیلۃ ولھذہ لیلۃ‘‘ ( تاتار خانیہ : ۱۰؍۳۵۷) شب گذاری میں یکسانیت کی ایک صورت یہ ہے کہ باری باری دونوں کے یہاں ایک ایک شب گذارے اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ایک بیوی کے یہاں چند رات گذارے اور اتنی ہی راتیں دوسری بیوی کے یہاں : ’’ وإن شاء أقام عند کل واحدۃ ثلثۃ أیام ، لأن المستحق علیہ التسویۃ الخ‘‘ (حوالۂ سابق) البتہ میاں بیوی کے خصوصی تعلق میں برابری ضروری نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ مکمل طورپر اختیاری چیز نہیں ہے ؛ بلکہ نشاط اور طبعی آمادگی پر موقوف ہے ؛ البتہ یہ درست نہیں کہ ایک بیوی سے تعلق رکھے اور دوسری سے بالکل بے تعلق ہوجائے ، فقہاء نے یہ صراحت کی ہے کہ اگر شوہر سفر پر جارہا ہوتو بیوی کے درمیان ساتھ لے جانے میں برابری ضروری نہیں ہے ، اگر وہ ایک ہی بیوی کو ساتھ لے جانا چاہتا ہو تو وہ اپنی مرضی سے کسی ایک کا انتخاب کرسکتا ہے ؛ کیوںکہ سفر میں ایسے رفیق کی ضررت ہوتی ہے جو انسان کے لئے معاون و مددگار بنے اور ممکن ہے کہ ایک خاتون میں وہ صلاحیت ہو اور دوسری اس سے خالی ہو ؛ البتہ بہتر ہے کہ ایسی صورت میںقرعہ اندازی کرلے اور جس کے نام کا قرعہ نکلے اس کو اپنے ساتھ رکھے : ’’ والاولیٰ أن یضرب بالقرعۃ لیکون أقرب إلی العدل وأبعد من المیل‘‘ (تاتار خانیہ : ۴؍۳۵۸) مگر سفر سے مراد ایسا سفر ہے جس کا مقصد صرف آمد و رفت ہو قیام نہ ہو ، جو لوگ بیرونِ ملک فیملی کو لے جاتے ہیں ان کا مقصد وہاں مستقل طورپر قیام کرنا ہوتا ہے اور مہینوں بعض اوقات سالوں وہاں قیام کرتے ہیں ، ایسے شخص پر واجب ہے کہ یا تو دونوں بیویوں کو اپنے ساتھ لے جائیں ، یا باری باری ایک مقررہ مدت کے لئے یکے بعد دیگرے دونوں کو لے جائیں ، مثلاً چھ چھ ماہ کے لئے ، اور یہ مدت اتنی طویل نہ ہو جو ساتھ نہ لے جائے جانے والی بیوی کے لئے تکلیف دہ ہوجائے ، یا اس کی وجہ سے اس کی عفت و عصمت کو خطرہ درپیش ہو ، ایک بیوی کو اپنے ساتھ رکھنا اور دوسری کو مستقل طورپر دور رکھنا جائز نہیں ہے اور عند اللہ سخت پکڑ کا باعث ہے ۔
اگر نماز کے اندر ہی سجدۂ تلاوت یاد آجائے؟
سوال:- اگر ایک شخص نماز میں آیت سجدہ پڑھے ؛ لیکن سجدۂ تلاوت کرنا بھول گیا ، پھر اخیر میں اس کو نماز ہی کی حالت میں یاد آیا تو کیا اسے سجدۂ تلاوت کرنا چاہئے ؟ اب اگر وہ نہیں کرپایا تو ایسی صورت میں اس کے لئے سجدۂ تلاوت کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟ (نیاز احمد ،مہدی پٹنم)
جواب :- اگر نماز کے اندر آیت سجدہ پڑھی اور اس وقت سجدہ نہیں کرسکا اور نماز کے اندر ہی یہ بات یاد آگئی تو نماز کے ختم ہونے سے پہلے تک سجدۂ تلاوت کرنے کی گنجائش ہے ، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بالکل آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ تلاوت ادا کرلے ؛ البتہ اگر نماز کے اندر بھی بعد میں سجدۂ تلاوت کرے گا تو سجدۂ تلاوت میں تاخیر کی وجہ سے سجدۂ سہو بھی واجب ہوجائے گا ، پہلے سجدۂ تلاوت کرے ، پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرلے : ’’ ولو تذکر سجدۃ التلاوۃ فی آخر الصلاۃ وسجد لھا ، ھل یلزمہ سجود السہو بھذا التاخیر؟ نص علیہ عصام أنہ یلزمہ‘‘ ۔ (تاتار خانیہ : ۴؍۴۱۸)
ہندوستان میں نماز جمعہ قائم کرنا
سوال:- فقہاء نے جمعہ قائم کرنے کے لئے یہ شرط رکھی ہے کہ سلطان یا قاضی ہونا چاہئے ، جب کہ ہندوستان میں نہ سلطان ہیں اور نہ سلطان کی طرف سے مقرر کئے ہوئے قاضی ، تو ایسی صورت میں کیا ہندوستان میں جمعہ قائم کرنا درست ہوگا ؟ (محمد انوارالحق قاسمی ، بنگلور )
جواب:- شریعت میں اور بھی بہت سے احکام سلطان اور قاضی سے متعلق ہیں ؛ لیکن جہاں با اختیار قاضی نہ ہو وہاں یہ فریضہ اس کے قائم مقام کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے ، آج کل جو مسجد کی انتظامی کمیٹی ہے ، وہی اس وقت سلطان کے قائم مقام ہے اور وہ جس کو امام مقرر کرے ، اس کے لئے جمعہ پڑھانا جائز ہے ؛ چنانچہ امام محمدؒ سے منقول ہے کہ اگر امام المسلمین سے اجازت لینا دشوار ہو اور لوگ کسی شخص کو امام بنانے پر متفق ہوجائیں تو اس شخص کی اقتداء میں نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے : ’’ وعن محمد : إذا تعذر إذن الامام جاز اجتماعھم علی رجل یؤمھم‘‘ ۔(تاتار خانیہ : ۴؍۵۵۷)
شک کی وجہ سے طلاق نہیں ہوتی ہے
سوال:- میرے ایک دوست کو شک ہے کہ شاید اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا ہے ؛ لیکن وہ یقین کے ساتھ کچھ کہنے کے موقف میں نہیں ہے ، کیا اس صورت میں اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی یا اس سے کہا جائے گا کہ وہ اس عورت سے الگ رہے ؟ (احمد علی ،سلطان شاہی)
جواب:- طلاق صرف شک سے واقع نہیں ہوتی ، اگر اس کو طلاق دینا یاد نہ ہو ، نہ ایسے معتبر گواہان موجود ہوں جو اس کے طلاق دینے کی گواہی دیں تو محض شک کی بنیاد پر طلاق واقع نہیں ہوگی : ’’ ومنھا عدم الشک من الزوج فی الطلاق وھو شرط الحکم ، بوقوع الطلاق حتی لو شک فیہ لا یحکم بوقوعہ حتی لا یجب علیہ أن یعتزل امرأتہ‘‘ ۔ (بدائع الصنائع : ۳؍۱۹۹)
نکاح سے پہلے منگیتر کو دیکھنا بہتر ہے یا غیر بہتر
سوال:- اپنے رشتہ دار ہی میں ایک لڑکی سے میرے رشتہ کی بات چل رہی ہے ، میں نے اس کو بہت بچپن میں دیکھا تھا ، میں پھر اس کو دیکھنا چاہتاہوں ، میرے بعض دوستوں نے بتایا کہ اگرچہ میرے لئے اس لڑکی کو دیکھنا جائز ہے ؛ لیکن بہتر ہے کہ اسے نہ دیکھا جائے ، یہ کس حد تک درست ہے ؟ ( اقبال احمد ،اِلٰہ آباد)
جواب:- اگر واقعی آپ کا ارادہ اس لڑکی سے نکاح کرنے کا ہو تو آپ کا نکاح سے پہلے اس کو دیکھ لینا بہتر ہے ، اس سے رشتہ میں استحکام باقی رہتا ہے ، بعد میں شکایت باقی نہیں رہتی ہے اور شریعت کا منشاء یہی ہے کہ رشتۂ نکاح میں پائیداری اور دوام و استمرار ہو ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، رسول اللہ ا نے اپنے بعض رفقاء کو اس کی ترغیب دی کہ وہ نکاح سے پہلے اپنے منگیتر کو دیکھ لیں ، فقہاء نے بھی صراحت کی ہے کہ جس لڑکی سے نکاح مقصود ہو ، اس کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا بہتر ہے : ’’ ونظرہ إلی مخطوبتہ قبل النکاح سنۃ فإنہ داعیۃ للألفۃ‘‘ ۔ (البحر الرائق : ۳؍۱۴۴)

(بصیرت فیچرس)

You might also like