Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

سرکاری راشن بلیک سے فروخت کرنا
سوال :- ہماری راشن کی دو کان ہے ، گورنمنٹ کم قیمت میں راشن کی چیزیں مہیا کرتی ہے ، قانوناً ہم پر یہ بات لازم ہے کہ جن لوگوں کو راشن کارڈ فراہم ہو ، ہم ان ہی کو گورنمنٹ کی مقرر کی ہوئی قیمتوں پر مقررہ مقدار کے مطابق راشن دیں ؛ لیکن بعض لوگ اپنا راشن نہیں اُٹھاتے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ راشن ڈیلر ان کو اتنی بار دوڑاتے ہیں کہ وہ تھک ہار کر راشن لینے سے باز آجاتے ہیں ، تو کیا ڈیلر کے لئے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ بچا ہوا راشن مقررہ قیمت سے زیادہ اور بازار کی قیمت سے کم میں دوسرے لوگوں کے ہاتھوں فروخت کردے ، جس کو بلیک میں بیچنا کہتے ہیں ؟( محمد سعد ، بی بی نگر)
جواب :- گورنمنٹ جو سامان سستے داموں میں مہیا کرتی ہے ، اس کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہوتا ہے اور اس کے لئے وہ مالی نقصان برداشت کرتی ہے ؛ لہٰذا ڈیلر شپ حاصل کرنا گورنمنٹ سے معاہدہ ہے کہ گورنمنٹ کے بتائے ہوئے اُصول و قواعد کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہی ہم خرید و فروخت کریں گے ؛ لہٰذا اگر اس کی پابندی نہ کی جائے تو یہ جھوٹ بھی ہے ، وعدہ خلافی بھی اور امانت میں خیانت بھی ، رسول اللہ ا نے ان تینوں باتوں کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے ، ارشاد ہے : نفاق کی تین علامتیں ہیں : بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرجائے ، جو امانت رکھی جائے ، اس میں خیانت کرے ، ’’إذا حدث کذب ، وإذا وعد أخلف ، وإذائتمن خان‘‘ ( بخاری ، باب علامۃ المنافق ، حدیث نمبر : ۳۳) اس لئے جو صورت آپ نے لکھی ہے ، وہ جائز نہیں ہے ، ہاں جس شخص کو راشن لینے کا استحقاق ہے ، اگر وہ شخص راشن لے کر اسی قیمت میں یا اس سے زیادہ قیمت میں آپ کے ہاتھ فروخت کردے اور آپ کسی اور کو فروخت کردیں تو اس کی گنجائش ہوسکتی ہے ؛ کیوںکہ آپ نے مستحق کو اس کا حق پہنچادیا ، اب آپ کی ذمہ داری ختم ہوگئی ۔ واللہ اعلم
زائد برقی بل میں انٹرسٹ کی رقم
سوال:- آج کل برقی بل کی مقدار بہت بڑھ گئی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جتنا بل آنا چاہئے میٹر کی ریڈنگ کو غلط نوٹ کرنے کی وجہ سے اس سے زیادہ بل آجاتا ہے ، ایسی صورت میں کیا بینک سے حاصل ہونے والی سود کی رقم بل میں ادا کی جاسکتی ہے ؟ (صلاح الدین محمود ، لنگم پلی)
جواب :- بجلی انسان کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے ذریعہ بڑی سہولت بہم پہنچتی ہے ، اس کا بل سود کی رقم سے ادا کرنا سود کی رقم سے فائدہ اُٹھانا ہے ، جو حرام ہے ، اس لئے جو واجبی بل آتا ہے ، اس کو سود کی رقم سے ادا کرنا تو قطعاً جائز نہیں ؛ البتہ اگر گورنمنٹ کا عملہ غلط ریڈنگ درج کردے اور توجہ دلانے کے باوجود بل میں کمی نہ کی جائے تو اس سے زائد رقم کو بینک کے انٹرسٹ سے ادا کرنے کی گنجائش ہے ؛ کیوںکہ آپ اس رقم سے فائدہ نہیں اُٹھارہے ہیں ؛ بلکہ جو رقم ظلما ًآپ پر عائد کردی گئی تھی ، آپ اس ظلم سے بچنے کے لئے گورنمنٹ کو یہ رقم واپس کررہے ہیں ۔ واللہ اعلم
خرید و فروخت میں کمیشن
سوال:- آج کل کمیشن کا کاروبار بہت زیادہ چل رہا ہے ، خاص کر زمین کے خریدنے اور بیچنے میں وہ ایجنٹ کے مدد حاصل کرتے ہیں اور ایجنٹ اپنے محنتانہ کے طورپر وصول کرتے ہیں ، اس طرح کمیشن لینا اور دینا کیا شرعاً جائز ہے ؟ اگر جائز ہے تو کمیشن خریدار سے لیا جاسکتا ہے یا بیچنے والے سے ؟ (محمد اظہر ، گنٹور)
جواب :- کمیشن کی حیثیت اُجرت کی ہے ، اس میں کام کرنے والا کام کی تکمیل پر اُجرت کا مستحق ہوتا ہے جس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’جعالہ‘‘ کہتے ہیں ، کمیشن میں اُجرت کی قطعی مقدار متعین نہیں ہوتی ہے ؛ بلکہ تناسب اور فیصد متعین ہوتا ہے ؛ لیکن یہ تعیین ایسی ہوتی ہے کہ فریقین کے درمیان نزاع کی نوبت نہیں آتی ہے ، اس لئے اس میں کچھ حرج نہیں ہے ، بعد کے فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے ، اگر ایجنٹ خریدار کے لئے کام کررہا ہو تو وہ خریدار سے کمیشن لے سکتا ہے ، اگر بیچنے والے کے لئے کام کررہا ہو تو بیچنے والے سے لے سکتا ہے اور اگر دونوں کے لئے کام کررہا ہو تو دونوں سے کمیشن لینے کی اجازت ہوگی ، مشہور فقیہ علامہ شامیؒ نے اس کی صراحت فرمائی ہے : ’’ والدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربھا فأجرتہ علی البائع ( قال الشامی) ولیس لہ أخذ شیٔ من المشتری (إلی قولہ) فظاہرہ أنہ یعتبر العرف ھنا لأنہ لا وجد لہ ، وإن سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف (قال الشامی) فتجب الدلالۃ علی البائع أوالمشتری أو علیھما بحسب العرف‘‘ ( فتاویٰ شامی : ۴؍۴۲) ؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ جھوٹ اور دھوکہ نہ ہو ، مثلاً خریدار سے کہا جائے کہ ہم آپ ہی کے لئے کام کررہے ہیں اور صرف آپ ہی سے کمیشن لیں گے اور کمیشن تاجر سے بھی لے لے تو یہ صورت جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ معاملہ کا واضح اور شفاف ہونا ضروری ہے اور جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔
صرف ترجمۂ قرآن کی اور رومن رسم الخط میں متن قرآن کی اشاعت
سوال:- آج کل قرآن مجید کے ایسے نسخے شائع ہورہے ہیں جو صرف ہندی اور انگریزی یا اُردو ترجمہ ہے ، اسی طرح لوگوں کی آسانی کے لئے رومن خط میں قرآن مجید کی عبارت لکھی جاتی ہے ، کیا اس طرح قرآن مجید کی کتابت و طباعت درست ہے ؟ (محمد عبد الرحمن ، گچی باؤلی)
جواب:- قرآن مجید کا متن چھوڑ کر صرف ترجمہ شائع کرنا درست نہیں ، اس کے نادرست ہونے پر تقریباً فقہاء کا اتفاق ہے ، اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ قرآن مجید کو عربی کے بجائے کسی اور رسم الخط میں شائع کیا جائے ؛ کیوںکہ عربی زبان کا تلفظ دوسری زبان میں منتقل ہونا بہ ظاہر ممکن نظر نہیں آتا ؛ البتہ نو مسلموں اور ایسے لوگ جو قرآن مجید نہیں پڑھ سکتے ، ان کے لئے ضرورتاً موجودہ دور کے اہل علم نے اس حد تک اجازت دی ہے کہ اصل عربی متنِ قرآن کے ساتھ ساتھ نیچے غیر عربی رسم الخط میں قرآن مجید کے الفاظ کو لکھ دیا جائے اور کتاب کے شروع میں یہ نوٹ بھی لکھ دیا جائے کہ اصل قرآن مجید وہ ہے جو عربی زبان میں ہے ، غیر عربی زبان میں لکھی ہوئی تحریر قرآن پڑھنے کی آسانی کے لئے ہے نہ کہ اصل قرآن ، استاذ گرامی و سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب اعظمی نے اسی طرح مشروط اجازت دی ہے ، ( منتخبات نظام الفتاویٰ : ۳؍۳۲۸) اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اپنے پندرہویں سیمینار منعقدہ یکم تا ۳؍مارچ ۲۰۱۵ء میں بھی یہی فیصلہ کیا ہے ۔
جادو کی حقیقت
سوال:- آج کل جادو کے بارے میں بہت زیادہ سنا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ فلاں پر جادو ہے ، فلاں پر کالا جادو ہے ، فلاں شخص پر سفلی عمل کے ذریعہ جادو کردیا گیا ہے ، اس کی حقیقت کیا ہے ؟ کیا واقعی جادو کا اثر ہوتا ہے ؟ ( نیاز احمد ، مہدی پٹنم)
جواب:- قرآن مجید میں جادو کا ذکر ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یہ فن اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا ، فرعون نے مصر کے کونے کونے سے جادوگروں کو بلاکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا مقابلہ کرنا چاہا ؛ لیکن جادو گروں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جو معجزہ ظاہر ہورہا ہے ، وہ جادو نہیں ہے ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی طاقت کا ظہور ہے ؛ چنانچہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے ، خود رسول اللہ اپر بھی بعض یہودیوں نے سحر کیا اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ، اس لئے یہ صحیح ہے کہ جادو ہوتا ہے اور اس کا اثر بھی ہوتا ہے ، کبھی اس کا اثر نظر بندی کی شکل میں ہوتا ہے کہ انسان کی نظر صحیح کام نہیں کرپاتی اور کوئی شئے خلاف واقعہ نظر آتی ہے ، اور کبھی اس کی وجہ سے انسان کی کیفیات میں بھی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور مسحور شخص کی کوئی خاص صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے ؛ البتہ بعض دفعہ لوگ ہر تکلیف کے بارے میں گمان کرنے لگتے ہیں کہ یہ جادو ہے ؛ حالاںکہ انسان بیمار بھی پڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ہوتی ہے ، اس لئے جب کوئی تکلیف ہوتو ڈاکٹر سے رُجوع کرنا چاہئے اور اگر سحر کا گمان ہوتو ایسے عامل سے — جو قرآنی آیات اور حدیث میں موجود دُعاؤں سے علاج کیا کرتے ہیں — رُجوع کیا جاسکتا ہے ۔
ناچ گانے والی شادی کے لئے فنکشن ہال کرایہ پر لینا
سوال:- آج کل شہروں میں شادی اور دوسری تقریبات کے لئے بڑے فنکشن ہال بنائے جاتے ہیں اور اس کو کرایہ پر دیئے جاتے ہیں ، کیا یہ جائز ہے ؟ فنکشن ہال کے مالکان میں مسلمان بھی ہوتے ہیں تو اگر یہ بات معلوم ہوا کہ یہاں ناچ گانے کا بھی انتظام ہوگا ، اس کے باوجود کیا ان لوگوں کو فنکشن ہال کرایہ پر دیا جاسکتا ہے اور اگر دیا تو کرایہ حلال ہوگا ، جب کہ امتیاز کرنا بھی دشوار ہے کہ کونسا کرایہ ایسی تقریبات کا ہے ، جن میں ناچ گانا ہوا ہے ؟(شوکت علی ، ٹولی چوکی)
جواب:- (الف) فنکشن ہال نکاح اور جائز تقریبات کے لئے بنانا اور کرایہ پر لگانا جائز ہے ؛ کیوںکہ یہ جائز نفع اُٹھانے کی ایک صورت ہے ۔
(ب) لیکن ضروری ہے کہ تقریبات میں کوئی خلاف شرع عمل نہ پایا جائے ؛ لہٰذا اگر فنکشن ہال کے مالک پر یہ بات واضح ہوکہ اس تقریب میں ناجائز کام بھی کئے جائیں گے ، جیسے گانا بجانا ہوگا ، رقص ہوگا ، تو ایسے لوگوں کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہوگا اور اگر دے تو وہ گنہگار ہوگا : ’’ولا (تصح الاجارۃ) لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملا ھی ولو أخذ بلا شرط یباح‘‘ ۔ (الدر مع الرد : ۹؍۷۵)
( ج ) اس سے جو آمدنی حاصل ہوئی ، وہ اگرچہ بالکل حرام نہ ہوگی ؛ کیوںکہ کرایہ گانے بجانے کا نہیں ہے ؛ بلکہ نکاح سے متعلق مختلف ضروری اُمور کو انجام دینے کے لئے مکان سے استفادہ کا ہے ، لیکن کراہت سے بھی آمدنی خالی نہیں ہوگی ؛ اس لئے اگر ریکارڈ سے ایسی رقم کا پتہ چل جائے تو اسے صدقہ کردیا جائے ، استغفار کیا جائے اور آئندہ اس سے بچنے کا پختہ ارادہ کرلیا جائے : ’’ … (وجاز اجارۃ بیت الخ) ھذا عندہ أیضا ؛ لأن الاجارۃ علی منفعۃ البیت ، ولہذا یجب الأجر بمجرد التسلیم ولا معصیۃ فیہ وانما المعصیۃ بفعل المستأجرو ھو مختار فینقطع نسبتہ عنہ (إلی قولہ) والدلیل علیہ أنہ لو آجدہ للسکنی جاز وھو لا بد لہ من عبادتہ فیہ ‘‘ ۔ ( شامی : ۵؍۲۵۵)
اللہ تعالیٰ کے نام کے لاکٹ گلے میں لٹکانا اور اس کو لے کر بیت الخلاء جانا
سوال:- آج کل گلے میں لٹکانے کے پیتل یا چاندی کے ایسے سکے ملتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے ، نوجوان حضرات خاص طورپر ایسے سکے گلے میں لٹکاتے ہیں ، کیا ان کا یہ عمل درست ہے ، اور کیا ان کو پہن کر وہ بیت الخلاء میں جاسکتے ہیں ؟ ( احمد علی ، سلطان شاہی)
جواب:- (الف) رسول اللہ ا نے مردوں کو دھات کی کسی چیز کو بطور زینت کے پہننے سے منع فرمایا ہے ، صرف چاندی کی انگوٹھی پہننے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی ایسی کہ تین گرام سے زیادہ نہ ہو ، اس طرح کے لاکٹ جو گلے میں لٹکائے جاتے ہیں ، اس کا اصل مقصد زینت ہے ، نیز اس میں غیر مسلموں سے مشابہت بھی ہے ؛ کیوںکہ عیسائی حضرات اپنے گلے میں دھات کی بنی ہوئی صلیب لٹکاتے ہیں اور ہندو بھائی بعض دیویوں اور دیوتاؤں کی تصویر ، اس لئے اس میں غیر مسلم بھائیوں سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے ؛ لہٰذا یہ صورت جائز نہیں ۔
(ب) اس کے باوجود اگر کوئی شخص ایسی لاکٹ پہنتا ہو تو اس کو چاہئے کہ بیت الخلاء میں جاتے وقت اس کو باہر نکال کر رکھ دے اوراگر باہر رکھنے میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتو کسی چیز میں لپیٹ کر جیب کے اندر رکھ لے ، کھلی ہوئی حالت میں اس کو پہن کر بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ بے ادبی ہے : ’’ ویکرہ أن یدخل الخلاء ومعہ خاتم مکتوب علیہ اسم اﷲ تعالیٰ ، أو شیٔ من القرآن‘‘ ۔ (البحر الرائق : ۱؍۴۲۲)

(بصیرت فیچرس)

You might also like