برجستہجہان بصیرتمضامین ومقالات

ارتداد کی خفیہ جنگ:ہم کہاں ہیں؟

برجستہ: افتخار رحمانی
سب ایڈیٹر بصیرت میڈیا گروپ
ملک کی سیاست مکمل طور پر برہنہ ہوچکی ہے،مخصوص افکار کی اشاعت اور اس کے نفاذکی خاطر تمام حربے استعمال کئے جاچکے ہیں اور ستم تو یہ ہے کہ یہ تمام حربے مؤثر بھی ثابت ہورہے ہیں جب کہ ان حربوں میں کوئی قوت اور توانا ئی نہیں ہے؛ بلکہ یہ ازل سے لاغر و نحیف اور کمزور ہیں؛لیکن اس ملک کی تیس کروڑ آبادی کی بے حسی اور تغافل مسلسل اس مبینہ حربوں کو تقویت پہنچا رہے ہیں جو کہ اس مرحوم قوم کیلئے کسی بدترین خدشات و طوفان کا عندیہ ہے۔سیاست جب برہنہ ہوجاتی ہے تو ملک میں مذہبی مسائل چھیڑے جاتے ہیں کبھی کسی کے مذہبی مفروضات پر عمل کو لازم قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اس سے سوا ہوکر یہ بھی کہاجاتا ہے دستوری نکات کی آزادی کے باوجود یونیفارم سول کوڈ کو لازم تصور کرنا ہوگا اور یہی لازمی تصور ملک میں بود وباش کے لئے ممد و معاون ہوں گے۔رام نومی کے موقعہ پر ایسے اشتعال انگیز نعرے راقم نے خود اپنی سماعتوں سے ملاحظہ کیا کہ ”اس ملک میں رہناہے تو جے شری رام کہنا ہوگا“جب کہ جمہوری آئین اس مبینہ فکری دہشت گردی کے مخالف ہیں؛ لیکن ممانعت اور مانع کا یہاں مکمل فقدان ہے؛لہذا کہنے والے اپنی رو اور فکری تشدد میں وہ کچھ کہہ جاتے ہیں کہ جس کا جواز خود ان کی مذہبی کتابوں اور رشی منیوں کی تعلیمات میں بھی نہیں ملتا ہے۔
اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ اقتدار پر قابض ہوئے اور پھر ان کی بنائی ہوئی تنظیم اور اس تنظیم کے کارکنان اقتدار کے نشہ میں اس قدر بیگانے ہوگئے کہ وہ اپنی خودی اور اس تنظیم کے مقررہ اصول و ضوابط سے بھی خود کو منحرف کرلیا عشاق و دل گریہ پر ”اینٹی رومیو“ نافذ کرکے قہر برپا کردی تو وہیں اسکول و کالج میں ”یوگیانہ فرمان“جاری کیا گیا کہ طلبہ کا لباس اور ان کا ہیر اسٹائل یوگی آدتیہ ناتھ کے موافق ہونے چاہئے،جب کہ اس طرح کا فرمان از خود لاکھوں فیشن زدہ بھگوائیوں کے لئے سوہان روح ہے؛ کیونکہ وہ از خود تو یوگی کے عشق میں مبتلا ہیں؛ لیکن ان کے دلوں پر جیسٹن بیبر،سلمان خان،شاہ رخ خان،ہنی سنگھ اور رنویر سنگھ جیسے اسٹار ز حکمرانی کرتے ہیں ان ہی کے مخصوص اسٹائل کو اختیار کرتے ہوئے ان طلبا کو خوشی اور فخر کا احساس ہوتا ہے۔یوگی نے ”لوجہاد“ کا مفروضہ چھیڑ کر ہندو تو کی آگ میں پٹرول چھڑکنے کا کام کیا تھا اور پھر اس مفروضہ پر اس قدر مباحثہ کیا گیا کہ الامان و الحفیظ! اگر ساورکر زندہ ہوتے تو وہ بھی درد سے بلبلا اٹھتے۔ان فرضی فسانہ عشق و سودا کے علاوہ آرایس ایس نے مسلمانوں کیلئے اور مسلمانوں کے دینی احکامات کو بزعم خویش بے جان ا ور مسلمان کو دین سے بیزار کرنے کیلئے ملک گیر سطح پر جس طرح کی سازش کی ہے اگر اس کا تھوڑا سا بھی ادراک و فہم ہوجائے تو اس تغافل کیش مرحوم ملت کو اپنے وجود اور ملی تشخص کی پامالی کا شعور ہوسکے گا؛لیکن اب”صور“ ہی ان کے احساسات اور ادراکات کو متحرک کرسکتی ہے۔وہ لڑکیاں جو عصری تعلیم کیلئے کالج اور اسکولوں کی زینت بنی ہوئی ہیں ان کے درمیان ایسے طلباء تیار کئے گئے ہیں جو درحقیقت آر ایس ایس کے ورکر ہیں وہ اپنے جھوٹے عشق اور محبت کے جال میں الجھا کر دین سے بیزار کر رہے ہیں،کئی مقامات میں رونما ہونے والے واقعات نے مکمل طوپر اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ دشمنان دین و ملت کس طرح ملت کے خلاف مورچہ کھول رکھے ہوئے ہیں۔ پٹنہ سے لیکر ہریدوار تک اور دہلی سے لیکر آسام تک ارتداد اور دین بیزاری کی خوفناک لہر چلائی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا سے لیکر پرنٹ میڈیا تک ایسے ایسے پوسٹ اور پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں کہ جس کے بحث و مباحثہ میں الجھ کر غیردانستہ ایمان کے ضیاع کا قوی خطرہ ہے اور پھر اس سے سوا یہ کہ دینی احکام سے دوری اور لا علمی نے اس مقام پر لا کھڑا کردیاہے کہ دلائل و بینات بھی ذہنی افق سے لاپتہ ہیں۔گذشتہ ماہ راقم نے دو واقعات ایسے سنے کہ د رددل دوبالا ہوگیا۔ ایک واقعہ تو صحافی کامران غنی صبا نے اپنی تحر یر میں ذکر کیا اوردوسرا واقعہ مفتی یاسر ندیم نے اپنے فیس بک اسٹیٹس میں پوسٹ کیا تھا۔کامران غنی صبا نے یہ تحریر کیا تھا کہ دوران سفر ایک ہندو لڑکے سے ملاقات ہوئی جو ایک مسلم لڑکی کے عشق میں مبتلا ہے اور اسی عشق کی کرامتوں کی وجہ سے وہ اردو بھی سیکھ رہا ہے؛ لیکن اس ہندو عاشق نے جو انکشافات کئے ان سے سر بھی شرم جھکا تو اپنی بے مائیگی،بے وقعتی اور معاشرتی بے راہ روی پر آنسو بھی نکل پڑے۔ انکشاف میں یہ درج تھا کہ آر ایس ایس نے مسلم لڑکیوں کو بددین کرنے اور شادی کے جھانسے میں پھانسنے کیلئے باضابطہ فنڈ کا اہتمام کیا ہے، ہندو لڑکے جو ان کیلئے کام کرتے ہیں ان کیلئے تمام طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں،حتی کہ میر و غالب اور اقبال و فیض کے اشعار بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ ایک ہندو کی زبان سے نکلنے والے اردو شاعروں کے اشعار مؤثر ہوں اور ان غزلوں کی سحرکاری میں اپنا دل کھوبیٹھے اور پھر رفتہ رفتہ یہی سودا غیر شعوری طور پر ایمان و ایقان کے سلب ہوجانے کاسبب ہو؛لیکن ہم ان تمام فریب کاری کے باوجود احساسات سے مکمل عاری ہیں اور کسی بھی طرح کے دفاعی اقدامات سے یک قلم گریزاں ہیں۔ہریدوار کا ایک واقعہ یوں رونما ہوا کہ ایک امام مسجد نے یہ افسوسناک اور شرمناک اطلاع دی کہ ایک مسلم لڑکی ایک غیر مسلم کیساتھ گھر سے فرار ہوگئی ماں باپ اور معاشرہ کے ذمہ دار منھ تکتے رہ گئے حتی کہ پولس میں رپورٹ درج کرانا بھی شرمندگی کی وجہ سمجھی گئی۔ مسلم حکومت میں نقب زنی کیلئے یہود اپنی پر کشش حسیناؤں کا انتخاب کرتے تھے اندلس کی خونچکاں تاریخ اندلس کی عظمت و شوکت کی فرسودگی کی وجہ بیان کرتی ہے؛ لیکن بھارت جسے اندلس بنا دینے میں آر ایس ایس اپنا اہرمنی کردار ادا کر تی ہے،مسلمانوں کو کمزور کرنے کیلئے اپنے لڑکوں کو استعمال کر رہی ہے،گویا برہمنیت یہودیت سے بھی زیادہ شاطر اورادائے جرم میں بیباک ہے۔ جب ان دو واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں اور اس کی وجہیں اور عوامل کے تئیں غور کرتے ہیں تو ایک کوہستانی ملا کی پیشن گوئی سماعتوں میں گونجنے لگتی ہے کہ: ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج کفر و زندیقیت نہیں؛ بلکہ آر ایس ایس ہے اگر ان کی سازشوں کو محسوس کرتے ہوئے وقت رہتے ہوئے ناکام بنا دیا گیا تو بھارت میں اسلامی شعائر کی حفاظت ممکن ہے ورنہ خطرات مسلسل ہماری دہلیز کھٹکھٹا رہے ہیں،تاہم اس کوہستانی ملا کی بات کو بے یقینی اور لاف گزینی کی صورت میں دیکھی گئی تھی۔کبھی کسی مجذوب نے کہا تھا کہ بھارت بشمول دیگر غیر مسلم ممالک میں مسلم لڑکیوں سے زیادتی اور جنسی استحصال کے بڑھتے واقعات کا واحد مقصد یہی ہے کہ مسلم بطن سے کفارکے نطفے پیدا کئے جائیں تاکہ مسلم معاشرہ میں فحاشی اور بے دینی پیدا ہو۔ اس کی مثال میں بھارت،چین،یوروپ کے حالیہ واقعات پیش کئے گئے تھے؛ لیکن اس ضمن میں کسی طرح کا ردعمل سامنے نہ آیا؛بلکہ اسے ”ملائی اختراع“ سمجھا گیا تھا۔بھارت کی موجودہ تصویر اور مسلم مخالف سرگرمیوں سے ”ملائی اختراع“ کی حقیقت واضح ہوتی ہے اور یہ تسلیم کرلینے پر آمادہ بھی ہونا پڑتا ہے کہ آر ایس ایس اپنے مذموم مقاصد میں صد فیصد کامیاب ہے۔ذرا ان سے کوئی پوچھے کہ یہ عشق و سودا اور تڑپ کس ”لوجہاد“ کی انتقامی کاروائی ہے۔
ملک میں تقریبا ایک معتد بہ حصہ پر بھگوا حکومت کا تسلط ہے اور یہ جماعت مکمل طریقہ سے اپنے مقاصد کی تکمیل میں سرگرم بھی ہے حتی کہ اس کی کوشش اب ”ارتداد“ پر بھی منتج ہورہی ہے کہ گھر گھر ارتداد اور الحاد پہنچائی جا رہی ہے،کالجز اور اسکولوں میں بھگوا کوشش اپنی شباب پر ہے،ٹی وی اسکرین پر نام نہاد دانشوران کا ایک ملحد اور برہنہ فکر حامل طبقہ نوجوان نسلوں میں بے دینی،الحاد،زندیقیت،ارتداد،آزادی کے نام پر بیزاری اور شبہات کی اشاعت میں مصروف ہے اورمسلم طالبات کو عشق کے نام پر دھوکہ دے کر ان معصوم کی زندگی سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ اس طوائف الملوکی اور ابتر صورتحال میں ہماری کوشش اور ہمارا مدافعانہ قدم کیا ہوگا اس ذیل میں سوچنے اور تدبر کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ طوفان اپنی رو میں سب کچھ بہا کر لے جائے گا اورہم تیس کروڑ مسلمان اپنی پہچان اور شناخت کے ساتھ مسلمہ عزت و ناموس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔مسلم طالبات تعلیم سے محروم نہیں کی جاسکتی ہیں؛ لیکن ان طالبات کے لئے ایسی درسگاہوں کو یقینی بنانا ہوگا کہ جہاں وہ مکمل اسلامی ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ اس کیلئے خود مسلم تنظیموں اور حوصلہ مند اہل ثروت کو آگے آنا ہوگا تاکہ اس ضرورت کی تکمیل ہوسکے۔البتہ اتنا ضرور خیال رکھنا ہوگا کہ ان درس گاہوں میں عصری نصاب کو لازم بنانا ہوگا،نسواں دینی درسگاہ کچھ حد تک ان ضروریات کی تکمیل کرتی ہیں؛ لیکن معاصرانہ ضروریات کی تکمیل سے گریزاں ہیں۔والدین کو طلبہ و طالبات پر کڑی نگاہ رکھنی ہوگی ان کی آمد و رفت اور مطالعہ کے اوقات کو ملحوظ رکھناہوگا؛کیوں کہ لاعلمی کی صورت میں صرف خاندان پر ہی داغ نہ لگے گا؛ بلکہ پوری قوم کے چہرے پر کالک لگ جائے گی۔وقت رہتے کچھ کیا جائے ورنہ مبادا کہیں اقدام اور مدافعت کا موقعہ بھی نہ مل سکے۔ (جاری)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker