برجستہمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

تم ایک گورکھ دھندا ہو!

برجستہ :افتخار رحمانی
موجودہ وزیر اعظم کا دور اقتدار دیکھتے دیکھتے تین سال عرصہ کا مکمل کر گیا نعرے ،وعدے ،بیان بازی ،نادر شاہی فرمان اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ملک افلاس ،غربت،جہالت ،ناخواندگی اور لوٹ کھسوٹ کی چپقلش کے بدترین دور سے گذرا ؛ لیکن وزیر اعظم اور ان کے حامی اسے ’’زریں دور ‘‘ سے تعبیر کرتے رہے ۔جب نوٹ بندی نافذ کی گئی تو خودوزیر اعظم نے اسے بدعنوانی کے خلاف مؤثر جنگ کا نام دیا تھا نیز اس مبینہ فتخ پر بھی اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے کہ نوٹ بندی سے در اندازی اور دہشت گردی پر کاری ضرب لگے گی ،البتہ دہشت گردی اور در اندازی پر کاری ضرب لگنے کے بجائے بھارتی عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور بیدادِ جرم کے عوض ۱۷۰ /افراد لقمہ اجل بن گئے جس کو خود وزیر اعظم نے بدعنوانی کے خلاف ’’مہا یگیہ ’’میں ’’آہوتی ‘‘ قرار دیا تھا اور عوام کی سادگی تو دیکھئے کہ اسے من و عن قبول بھی کرلیا۔نوٹ بندی کا طلسم اس وقت ٹوٹ گیا جب اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے موقعہ پر کروڑوں کے دو ہزاری نوٹ بھاجپا لیڈر کی گاڑی سے غازی آباد میں پکڑے گئے تھے۔ تین سال کے اس عرصہ میں انھوں نے اور ان کی پارٹی نے ہمیشہ ’’مذہبی نعروں ‘‘ سے کام لیا ہے اور ستم تو یہ ہے کہ ان ہی مذہبی نعرو ں کے ذریعہ سیاست اور حکومت کو میڈیا ’’اتم راجیہ کار‘‘ کہلانے میں فخر محسوس کر رہا ہے ،ذرا اس میڈیا کی دوغلی پالیسی کو دیکھیں کہ کپل مشرا کے ہڑتال کو کور کرنے کا وقت ہے ،یوگی سے لیکر مودی تک او رمودی سے لیکر راج ناتھ سنگھ تک کس نے کیا کھایا ،کس کی کون سی مرغوب غذا ہے ،کون کیا پہنا،کون کس وقت چہل قدمی کرتا ہے،مارننگ واک کتنے وقفہ پرمنحصر ہے ؛ لیکن مہاراشٹر کے کسان جنتر منتر پر مظاہر ہ کر رہے ہیں اس مظاہر ہ کو کور کرنے کیلئے اس ’’پیڈ میڈیا ‘‘ کے پاس وقت نہیں ہے ۔پہلو خان اور اخلاق کی شہادت کور کرنے کیلئے ان کے پاس وقت کہاں ہے ،البتہ ان کے پاس نام نہاد گئو رکھشکوں کی مخبری اور کشمیریوں کے جائز مطالبات کو ناجائز اور غداری وطن سے منسوب کرنے کا وقت ہے اور سچ پوچھئے تو کالے کو سفید اور سفید کے کالاکے اظہار پر ہی روٹیاں ملتی ہیں ۔
جو ۸۰/روپے ارہر کی دال کھا کر ’’ہر ہر مودی ‘‘ کس تسبیح پڑھ رہے تھے وہ اب ۲۰۰ / روپے ارہر دل کھا کر بھی مست اور مسرور ہیں انہیں ۲۰۰ / روپے مسور کی دال نالاں نہیں کرسکتی ؛ کیونکہ اپنی فیاض طبع فکر کے بموجب ۲۰۰/روپے کے ہی روا دار تھے ؛ کیونکہ انہیں ملک میں ’’وکاس ‘‘ پیدا کرنا تھا، لاکھوں جتن کرلئے حتی کہ سابقہ حکومت کو چور ،ڈاکو اور لٹیرا کہتے ہوئے نہیں تھکے نتیجتاً’’وکاس‘‘کی بازیابی اور حصول کی سعی و کوشش میں ’’وناش‘‘ آگیا،وناش آنا بھی تھا ؛ کیونکہ اس کی آمدان کی فطرت اور خواہش کے عین موافق تھی۔گائے کی تقدیس جب انسانوں کی تکریم سے بھی بڑھ جائے اور یہ تقدیس تعبد میں انضمام ہوکر شدت بھی اختیار کرلے تو ’’آستھا ‘‘ جنم لیتی ہے اور پھر از روئے تعبد ایسے کارہائے نمایاں انجام پذیر ہوتے ہیں کہ وہم و گمان بھی اس کا احاطہ نہ کرسکے دادری زخم خوردہ ہے تو الور سراپا لہو ،بلند شہر مجروح ہے تو آسام نالہ کناں ؛ بلکہ یوں کہہ لیں کہ پورا ملک ’’تقدیس ‘‘ کی سوزش میں قہر آلود ہے ،جب کہ ’’تقدیس ‘‘ کا یہ مطالبہ ہر گز بھی نہیں ہے ۔مشتعل بھیڑ کے ذریعہ محمد اخلاق اور پہلو خان کی جس طرح دردناک شہادت ہوئی مودی سرکار کی عالمی ریکارڈ دریافت ہے ،نوٹ بندی کی ہولناکی کااحساس انہیں نہیں ہوسکتا جو ذاتی طیارہ ،ہائی پروفائل سیکوریٹی ،اہل خانہ کے مطالبات اورخانگی الجھنوں سے عاری ہوں ،احساس تو انہیں ہوگا جو گذران زندگی کی تمام دشواریوں کاادراک کرتے ہیں اور ان میں سر تاپا محصور بھی ہیں ،قلت زیست انہیں نالاں نہیں کرسکتی جو زیست کی ماہیت سے لاعلم و نا آشنا ہیں ۔نوٹ بندی سے وہ خوش ہی نہیں تھے؛ بلکہ مغرور بھی تھے ، برسرعام کہتے تھے کہ ملک بدعنوانی سے پاک ہورہا ہے ؛ لیکن تجاہل عارفانہ اور پیش آمدہ خطرات سے کور چشمی یہ تھی کہ وہ عمداًبے قصور کو بھوک ،افلاس اورنکبت کے قعرمذلت میں دھکیل رہے تھے ۔لاکھوں بے روزگار ہوگئے ،ہزاروں بین الاقوامی کمپنیاں بند ہوگئیں ،مالک دیوالیہ ہوگئے ،شاید ملک کے عوام اس تلخ حقیقت کو فراموش کرپائیں کہ نوٹ بندی کے دوران امبانی ،اڈانی ،برلا، ٹاٹااور سیاست داں بینک کی قطار میں نہیں تھے ؛ بلکہ رام غلام، جمن میاں، علی بخش اور اتواری خان قطاروںمیں اپنی جان گنوا رہے تھے ۔اور جس ’’وکاس شیل ‘‘ بھارت کادعوی کر رہے تھے وہ وکاس اندھ بھکتی کے طوفان بد تمیزی میں کہیں گم ہوگیا اور ایسا گم ہوا کہ اپنی شناخت بھی نہ چھوڑ سکا ۔ہر سال نوجوانوں کو کثیر مقدار و تعداد میں ملازمت دینی کا دعوی بھی تھا ، الفاظ و تشبیہات کی ایجاد کاری یوں تھی اگر آج کے زمانے میں غالب و میر اور ٹیگور و تلسی داس ہوتے تو تشبیہات و استعارات کی دریوزہ گری برسراقتدار طبقہ سے ضرور کرتے۔ یہ حقیقت ہے کہ ’’راشٹر‘‘ ’’ شبدوں ‘‘ کے کھیل میں نہیں الجھتی ؛ بلکہ ان کے اثرات و واضح مقاصد کی آشنائی چاہتی ہے ؛ لیکن وا حسرتا یہ خواب ہی ثابت ہوئے اور ایسا خواب کہ جس کی تعبیرتعبیرنامہ میں کہیں نہیں مل سکتی۔میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا ایسے بھیانک اور ڈراؤنا خواب ثابت ہوئے کہ اگر یہ خواب پیاراملک نہ دیکھتا تو اسی میں اس کی بہتری تھی؛لیکن طبع افتاد کی گراں باری کو کیا کہیں کہ ہر امور میں اپنی سی کوششِ بیداد کئے رہتی ہے ۔لین دین، روپے کے مبادلے کیلئے کیش لیس کی طرف اقدامات کئے گئے تاکہ بدعنوانی پر قد غن لگے ؛ لیکن ’’پی ٹی ایم ‘‘ اور ’’ بھیم ‘‘ بدعنوانی اور ستم رانی کو مزید بڑھا گیا اور پھر ان کی طبع افتاد پر تأسف ہے کہ پاکستان سے دوستی کے جرم میں چین سے دشمنی کی منافقانہ کوشش یوںکی گئی کہ چینی مصنوعات کی بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور دیوالی کے موقعہ پر چینی پٹاخے کے استعمال نہ کرنا کا اعلان بھگواتنظیم کی تمام اکائیوں کی طرف ہوا ؛ لیکن حقیقت تو یہ تھی ارباب اقتدار چینی مصنوعات کی دھنوں پر رقصاں تھے اور میک ان انڈیا کے علمبردار جاپانی ایپ ’’پی ٹی ایم ‘‘ کا اشتہار بڑے فخریہ انداز میں کر رہے تھے ،شاید یہ حقیقت حال سے کور چشمی ہی تھی کہ میک ان انڈیا کا اعلان کرنے والے خود چینی مصنوعات پر اکتفا کر رہے تھے۔شجاعت اور دلیری اس قوم کا ازلی شیوہ ہے ؛ لیکن اس مبینہ شجاعت اور دلیری کیلئے دلائل بھی ہونے چاہئے نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا ہنگامہ یوں کیا کہ گویا جو پاکستان سے عشق میں بیتاب تھا وہ خود رقیبانہ کردار کا حامل بن بیٹھا اور اڑی کا انتقام یوں لیا کہ ’’نگار خودی ‘‘ کے منزل مآل عشق میں گھس کر بے وفائی کا بدلہ لے لیا ،تاہم اس وقت اس دلیری اور رقیبانہ کوششوں پر پانی پھر گیا جب ایک ’’ ممولا‘‘ نما آدمی وزیراعلی دہلی اروند کجریوال نے اس کاروائی کا ثبوت مانگ لیا؛ لیکن کجریوال کو بھی اپنی بلند ہمتی پر جھٹکا لگا کہ اس مبینہ مطالبہ کو ’’غداری وطن ‘‘ اور ’’بہادروں‘‘ کی تذلیل و مضحکہ سے تعبیر کرکے اس ’’ممولا‘‘ کی بولتی بند کر دی گئی ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے کانگریس سے ایسی غلطیاں واقع ہوئیں کہ بطور سزا اسے تضحیک و الزامات کا سامناہے ؛ لیکن سزا اقتدار سے بے دخلی نہیں ہے ؛ بلکہ ’’راشٹر‘‘ کو بھی بھوک ،بے روزگاری ،مہنگائی ، فرقہ پرستی اور کرپشن کی سزا جھیلنی پڑی ۔میں طبعاً کانگریس کا حامی نہیں ،البتہ سابقہ اقتدار جس کی جبین پر بدعنوانی کا داغ تھا اس سے سوا پشیمانی ،ندامت ،بدکرداری اور ڈھونگ کا داغ موجودہ حکومت کی جبین پر ہے اور ابلہی یہ کہ موجودہ حکومت اور اس کے معاونین و کارکنان جو بھگوائیت و ہندوتو کے نشہ میں بیخود ہیںوہ اسی کو ’’عہدِزریں‘‘ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں ۔
موجودہ بھگوا ارباب اقتدار کے اس مبینہ تین سالہ عرصہ کا غیر جانبدارانہ اور ملکی مفاد کی تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو سوائے افسوس اور حوصلہ شکن امور و واقعات کے کچھ بھی نہیں ملتا ،گائے کی ’’ تقدیس ‘‘ سے کلام نہیں ؛ کیونکہ یہ آستھا سے وابستہ امر ہے ؛ لیکن اس آستھا کے تحت مشتعل بھیڑ کے ذریعہ اخلاق اور پہلوخان کی شہادت آستھا کے تحت مبینہ فکری ’’دہشت گردی‘‘ کا پتہ دیتی ہے ،نماز سے بات یوگا تک پہنچ گئی اور معاملہ قبرستان سے شمشان پہنچا ؛ لیکن ترقی اور ’’وکاس ‘‘ سے یکسر محروم رہا ۔یکساں سول کوڈ اور مسلم خواتین پرزیادتی کے الزامات سے وزیر اعظم نے خود ایک شوشہ چھوڑا ؛ لیکن اس شوشہ بازی سے ملک میں افراتفری اور فکری سراسیمگی ہی پھیلی ،موصوف نے مسلم خواتین کادرد محسوس کیا ؛ لیکن اپنی مطلقہ ’’جشودا بین‘‘ کی زندگی کا کربِ مسلسل اور زیست کی تاریکی محسوس نہ کی ۔کشمیراپنی فطری کشش اور دامن گیر حیثیت کھو کر جہنم ارضی کا نمونہ پیش کر رہا ہے اس کے تئیں کبھی نفاقاً ہی سہی کوئی مثبت اقدام نہ کیا سوائے یہ کہ کشمیریوں کو ہی عتاب کے لازم قرار دیا ،مہنگائی کا عفریت منھ پھاڑے کھڑا ہے ،تاہم اسی عفریت سے تعشق کا اظہار بھی ہے ۔’’راشٹر ‘‘ جو کلی حس سے محروم نہیں تجزیاتی مطالعہ اور اس درد اس محور سے آگے نہیں بڑھتا کہ افسوس ترقی اور ’’وکاس‘‘ تین طلاق سے آگے نہیں بڑھا ہے یہ اس ملک کی حالت زار ہے جسے میک ان انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا بنانے کا عزم کیا گیا تھا ۔اس بے وفائی اور عشق و وفا کی راہوں میںکور ہمتی کامرثیہ ان چند شعر میں محسوس کیجئے ،درانحا لیکہ دو سال مزید ملک کو ان کی کرم فرمائیوں اورفیضان سے لطف اندوز ہونا پڑے گا ۔
سوچتا ہوں وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم
وہ خدا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
ہم سے یہ سوچ کر کوئی وعدہ کرو
ایک وعدے پہ عمریں گذر جائیں گی
یہ ہے دنیا یہاں کتنے اہل وفا
بے وفا ہوگئے دیکھتے دیکھتے
(مضمون نگار بصیرت میڈیاگروپ کے سب ایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker