طب وسائنسمضامین ومقالات

رمضان المبارک کی آمد سے پہلے!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، یہ بڑی برکت اور سعادت کا مہینہ ہے، رسول اللہ ﷺ رجب کے مہینے سے ہی دعاء فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کو بابرکت بنا دیجئے، اور ہمیں رمضان تک پہنچا دیجئے، ’’اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلِّغنا إلی رمضان‘‘،اس پس منظر میںیہ اچھی بات ہے کہ ہمارے یہاں عام طور پر استقبال رمضان المبارک کے جلسے کئے جاتے ہیں، اور اس میں ماہ رمضان ، روزہ اور اس مہینہ کے دوسرے اعمال کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں، اس سے لوگوں میں اس مہینہ کی عبادتوں کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، پھر جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو پورے مسلم سماج میں ایک دینی فضا پیدا ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ بہت سے غافل اور دین سے بے پروا لوگ بھی نماز، مسجد اور تلاوت قرآن مجید سے اپنے رشتہ استوار کرلیتے ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی مریض کو طاقت کا انجکشن لگا دیاگیا ہو۔
استقبال رمضان کے جلسے مبارک؛ لیکن استقبال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ رمضان المبارک کے آنے سے پہلے اس ماہ مبارک کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا جائے، یہ تیاری امید ہے کہ ماہ مبارک سے فائدہ اٹھانے میں ممدو معاون ہوگی اور لوگ اس کی برکات سے صحیح طور پر فائدہ اٹھا سکیںگے۔
۱-اس تیاری کا پہلا عمل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ذمہ داریوں اور مشغولیتوں کے لحاظ سے رمضان المبارک کا ایک نظام العمل بنالے، جس میں یہ باتیں شامل ہونی چاہئیں کہ وہ روزانہ قرآن مجید کی کتنی مقدار تلاوت کرے گا؟ اور کوشش کرنی چاہئے کہ روزانہ کم سے کم نصف پارہ کی تلاوت ہوجائے؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ آخری دفعہ دوبار قرآن مجید کا دور کیا تھا؛ اسی لئے بعض فقہاء نماز تراویح میں دو بار قرآن پڑھنے کو افضل قرار دیتے ہیں۔
دوسرا ضروری عمل نماز تراویح کا ہے، یہ بات پہلے سے طے کر لی جائے کہ کونسی مسجد میں تراویح کے اوقات اس کے لئے موزوں ہیں؟ پھر اسی مسجد میںپوری تراویح ادا کرنے کی کوشش کی جائے، مختلف مقامات بدل کر نمازتراویح پڑھنے سے قرآن مجید ترتیب اور تسلسل کے ساتھ مکمل نہیں ہوپاتا، اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ پانچ یا چھ دنوں میں کہیں قرآن مجیدختم کر کے پھر نماز تراویح چھوڑ دی جائے، تراویح میںاتنی مقدار میں قرأت ہونی چاہئے کہ توجہ باقی رہے،اور پورا مہینہ اس نمازکا اہتمام ہو۔
نماز تہجد سنن مؤکدہ کے بعد سب سے افضل نماز ہے، رمضان المبارک میں رسول اللہ ﷺ کی تہجد طویل ہوجایا کرتی تھی اور صحابہ بھی اس کا خصوصی اہتمام کرتے تھے؛ اس لئے رمضان المبارک میں اس کو اپنے پروگرام کا حصہ بنالیناچاہئے ،اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بمقابلہ سال کے دوسرے دنوں کے رمضان میں تہجد پڑھنا آسان ہوتاہے؛ اس لئے جب سحری کے لئے اٹھیں تو ساتھ ساتھ آٹھ رکعت یا کم سے کم چار رکعت تہجد کی نیت سے بھی پڑھ لیں،یادرکھناچاہئے کہ جو آدمی اعتکاف کی حالت میں نہ ہو، اس کے لئے گھر میں تہجد پڑھنا افضل ہے، اور یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا۔
جن اوقات میں دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان میں افطار کا اور آخرِ شب کا وقت بھی ہے؛ اس لئے دونوں اوقات میں دعائوں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے ، افطارکاسامان وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے تیار کرلیاجائے اور کم سے کم پندرہ منٹ پہلے دسترخوان پر لگا دیاجائے، پھر سب لوگ دعامیں مشغول ہوجائیں، بوڑھے بھی جوان بھی، عورتیںبھی اور بچے بھی، دعاء عربی زبان میں کرنا ضروری نہیں ہے، اپنی زبان میں بھی دعا کی جاسکتی ہے، اور افضل طریقہ یہ ہے کہ اجتماعی دعا کرنے کے بجائے سب لوگ اپنی اپنی دعا کریں؛ تاکہ اپنی ضرورت کے مطابق اللہ سے التجا کی جائے،آسانی کے لئے ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر اجتماعی دعا کر کے پھر انفرادی طور پر لوگ اپنی اپنی دعائیں کرلیں، یہی عمل سحری کے وقت بھی ہونا چاہئے، سحری کا پکوان وقت سے پہلے تیار ہوجائے اور سحری کے آخری وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے سحری ختم کردی جائے، اور اس بچے ہوئے وقت میں دعائوں کا اہتمام کیاجائے۔
رمضان المبارک میں ہر عمل کا اجر بڑھا دیاجاتا ہے؛ اس لئے اس میں کچھ وقت ذکر کے لئے بھی فارغ کرنا چاہئے، ذکر میں خاص طور پر کلمہ طیبہ، حمد و تسبیح کے کلمات بالخصوص ’’سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا إلہ إلا اللّٰہ واللّٰہ أکبر‘‘، درود شریف اور استغفار کی بڑی اہمیت ہے، اور کلمہ طیبہ کو سب سے افضل ذکر قرار دیاگیا ہے؛ اس لئے اپنی سہولت کے اعتبار سے کچھ وقت اس میں بھی گذارنا چاہئے۔
اگر رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ان تمام اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے یومیہ پروگرام بنالیاجائے اور پوری پابندی کے ساتھ اس پر عمل کیاجائے تو یہ ان مبارک اوقات کی صحیح قدر دانی ہوگی۔
۲-نماز کے بعد دوسرا اہم فریضہ زکوۃ ہے، زکوۃ تو مال کی مخصوص مقدار پر سال گزرنے کے بعد ہی واجب ہوجاتی ہے اور واجب ہونے کے بعد اس کو جلد از جلد ادا کردینا چاہئے ؛لیکن آج کل عام طور پر رمضان المبارک میں زکوۃ ادا کی جاتی ہے ؛ اس لئے رمضان کے شروع ہونے سے پہلے ہی زکوۃ کا پورا حساب کرلینا چاہئے، اس میں تین باتیں دیکھنے کی ہیں: اول یہ کہ ان کے پاس جو اموال زکوۃہیں، ان کی موجودہ قیمت کیا ہے؟ دوسرے: اس پر لوگوں کا کتنا بقایا ہے؟ اور اگر اس کی ادائیگی طویل مدت میں کرنی ہے تو اس سال ادا کی جانے والی قسط کیا ہے؟ تیسرے :کیا اس نے درمیان سال میںکسی شخص کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے زکوۃ کی نیت سے مدد کی ہے اور کی ہے تو کس قدر کی ہے؟پھر اموال زکاۃ کی قیمت میں سے قابل ادائیگی دین کو منہا کردیاجائے، اب جو رقم بچ جائے، اس میں ڈھائی فیصد یعنی ایک ہزار پر پچیس روپئے کے اعتبار سے زکاۃ کا حساب کیاجائے، اور جو زکاۃ پہلے ادا کر چکا ہے، اس کو اس میں سے منہا کردیاجائے، اس کے بعد جو رقم بچ رہے، وہ اس پر واجب الاداء ہے۔
زکوۃ کی ادائیگی کے لئے نیت ضروری ہے اور نیت کے دو موقعے ہیں، یا تو مستحق زکوۃ کو پیسہ حوالہ کرنے کے وقت نیت کی جائے، یا زکوۃ کی رقم الگ کر لی جائے اور جو بھی مستحق آتے رہیں،ان کو اداکی جاتی رہے، یہ دوسری شکل زیادہ بہتر ہے، اس صورت میںزکوۃ کی رقم کسی ایک جگہ رکھ دی جائے اور گھر کے ذمہ دار مردوں اور عورتوں کوبتا دیاجائے؛ تاکہ جو بھی مستحق آئے، وہ اس میں سے انہیں رقم دیتے چلے جائیں، مستحقین کو بار بار آنا نہ پڑے،ایسی صورت میں ہر مستحق کو دیتے وقت مستقل نیت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
۳-رمضان المبارک سے متعلق ایک اور عمل صدقۃ الفطر کا ہے، عام طور پر لوگ عید کے دن ہی صدقۃ الفطر نکالتے ہیں، بہتر ہے کہ پہلے ہی سے صدقۃ الفطر نکال دیاجائے؛ کیونکہ اس کا مقصد عید کی خوشیوں میں غریبوں کو شریک کرنا ہے، اور یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے ،جب پہلے ہی انہیں یہ رقم ادا کر دی جائے؛ اس لئے بہتر ہے کہ رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی صدقۃ الفطرکاحساب کرلیاجائے اور روپیہ یا اجناس جس شکل میں صدقہ ادا کرنا ہو، اس کو علاحدہ کرلیاجائے، اور پھر رمضان کے پہلے ہفتہ یا عشرہ میں مستحقین کو ادا کردیاجائے۔
۴-روزہ سے متعلق ایک اہم عمل افطار ہے،افطار حالانکہ کھانے پینے کا نام ہے؛ لیکن چونکہ یہ روزہ کا حصہ ہے؛ اس لئے یہ کھانا بھی عبادت میں شامل ہے، فضول خرچی سے بچتے ہوئے اگر افطارمیں فراخی ہو، پڑوسیوں، دوستوں اور سماج کے غریب بھائیوں کو مدعو کیاجائے تو اس سے نہ صرف آپسی محبت بڑھتی ہے ؛بلکہ یہ بڑے ہی اجر و ثواب کا باعث ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، تو افطار کرنے والے کو روزہ کا جتنا ثواب ہوگا ،اس میں کمی کئے بغیر افطار کرانے والے کو بھی اتنا ہی اجر حاصل ہوگا؛ لیکن بعض دفعہ لوگ افطار کی تیاری میں غلو کرتے ہیں، اور گھر کی خواتین پر پکوان کا اتنا بوجھ ڈال دیتے ہیں کہ وہ مغرب کی اذان تک پکوان ہی میںمشغول رہتی ہیں،نہ دعا کا اہتمام کر پاتی ہیں اور نہ ذکر وتلاوت کا،یہ عورتوں کے ساتھ ظلم ہے، اور یہ بے مقصد کاموں میں لگ کر اصل مقصد کو کھود ینے کے متراد ف ہے۔
افطارمیں عام طور پر خاصے تکلفات کئے جاتے ہیں، تلی ہوئی چیزیں،پکائی ہوئی غذائیں، اور مختلف قسم کے پھل، روزے کا خاصا وقت افطار، کھانا اور سحری کے پکوان کی اشیاء کو خریدکرنے میں لگ جاتا ہے، اور جو رمضان کے اصل اعمال ہیں، ان کی طرف سے غفلت ہوجاتی ہے؛ اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ کھانے وغیرہ کی جو اشیاء دیر تک رہ سکتی ہیں، انہیں رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی خرید کر اسٹاک کرلیاجائے ،اور جو اشیاء جلد خراب ہوجانے والی ہیں، ان کو بھی روز روز لینے کے بجائے چند دنوں کا ایک ساتھ لینے کی کوشش کی جائے، اس طرح ہم بہت سارا وقت بازار کی تگ و دو سے بچا سکتے ہیں۔
۵-عید الفطر مسلمانوں کا ایک اہم تہوار ہے، اس میں اچھے کپڑے پہننا مستحب ہے؛ اس لئے اس میں عام طور پر لوگ اپنے اوراپنے بچوں کے نئے کپڑے بناتے ہیں، رمضان المبارک میں کپڑوں کی مارکیٹ ا س طرح آباد ہوتی ہے کہ گویا اس مہینے کو کپڑوں کی خریداری کے لئے ہی رکھا گیا ہو، آخری عشرہ میں تو بدن سے بدن چھِلتا ہے ،کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بڑے اور کیا چھوٹے! ایک جم غفیر صبح سے رات دیرتک بازار کی سیر کرتا رہتا ہے، اس کام کو انجام دینے کے لئے روزے تک چھوڑ دیئے جاتے ہیں، نمازوں کا چھوٹنا تو عام بات ہے، اور رمضان المبارک کے دوسرے اعمال سے غفلت کا کیا ذکرکہ وہ تو مستحبات میں سے ہیں، یہ ایک نہایت ہی قبیح طریقہ ہے ،جو مسلم سماج میں پیدا ہوگیا ہے۔
اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے ہی کپڑے خرید کر لئے جائیں اور درزی کو دے کر سِلوا لیاجائے، اسی طرح عید کے دن شیر خورمہ اور سویٔ وغیرہ کا روایتی طور پرجو اہتمام کیاجاتا ہے، یہ ساری چیزیں رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی خرید کر لی جائیں۔
اگر ماہ مبارک کے آنے سے پہلے پہلے ہم یہ تیاریاں کر لیں تو ہمارا وقت بازاروں، ہوٹلوں اور خواتین کے اوقات باورچی خانوں میں ضائع ہونے سے بچ جائیں گے،روزہ کی حالت میں دوڑ دھوپ کی مشقت سے بھی بچ سکیں گے اور اس ماہ کے مطلوب اعمال کوصحیح طور پر انجام دے سکیںگے،وباللہ التوفیق۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker