ہندوستان

طلاق ثلاثہ ’آستھا‘ نہیں بلکہ قرآن وحدیث کا حصہ ہے

کپل سبل کے ذریعہ سپریم کورٹ میں لفظ ’آستھا‘ اور اس کی مثال سے علماء دیوبند نالاں ،دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ بھی زیر بحث
دیوبند،۱۹؍ مئی(سمیر چودھری)طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاہے،جس کا ملت اسلامیہ اور حکومت کے ساتھ ساتھ نیشنل میڈیا کو بھی شدت سے انتظار ہے۔ مگر اب اس معاملہ میں بحث نے دوسرا رخ اختیار کرلیاہے، ایک طرف دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کو لیکر سوشل میڈیااور الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا میں بحث و مباحثہ چل رہے ہیں تو دوسری جانب مسلم پرسنل لاء روڈ کے وکیل کپل سبل کے ذریعہ عدالت عظمیٰ میں طلاق ثلاثہ کو چودہ سو سالہ قدیم آستھا کا معاملہ قرار دیئے جانے کو حالانکہ مسلم پرسنل لاء کے رہنماء درست کرنے کے لئے مختلف تاویل ضرور پیش کررہے ہیں لیکن علماء دیوبند اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس بابت نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ماہنامہ ترجمان دیوبند کے مدیر اعلیٰ مولاناندیم الواجدی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ شریعت کاحصہ ہے ،جسے محض آستھا نہیں کہا جاسکتاہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا وکیل ہونے کے سبب ہم کپل سبل کااہتمام کرتے ہیں لیکن انہوںنے جس مثال کو پیش کیا ہے اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ آج اگر سپریم کورٹ طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں آستھا کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے تو کل اس آستھا کی مثال کا ہمیں بڑا نقصان اٹھاناپڑسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ قرآن حدیث سے ثابت ہے اسے محض آستھا کہہ دینا درست نہیں ہے۔ فتویٰ آن لائن موبائل سروس کے چیئرمین و دارالعلوم زکریا دیوبند کے استاذ مفتی ارشد فاروقی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کو آستھا کہنا درست نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھلے ہی طلاق ثلاثہ ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے لیکن طلاق ثلاثہ شریعت سے ثابت ہے۔انہوں نے کہاکہ آستھا اور عقیدہ میں بڑا فرق ہوتاہے ،عقیدہ قرآن حدیث اور اللہ و اس کے رسول کے احکام پر ہے جبکہ آستھا من گھڑت باتوں سے بھی ہوسکتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سینئر رہنما مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اس بابت واضح بیان میں میڈیا دیاہے۔ مفتی ارشد فاروقی نے صاف کہاکہ طلاق ثلاثہ شریعت ہے نہ کہ آستھا،اسلئے کہیں نہ کہیں کپل سبل کی مثال نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے جس سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے خازن مولاناحسیب صدیقی نے کہاکہ طلاق ثلاثہ قرآن وحدیث دونوں سے ثابت ہے مگر اس کو درست ثابت کرنے کے لئے آستھا کا سہار ا لیا جارہاہے، جبکہ امت مسلمہ قرآن وحدیث پر عقیدہ رکھتی ہے ۔انہوںنے کپل سبل کے لفظ ’آستھا‘ کے استعمال اور اس کے ضمن میں پیش کی گئی مثال پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کی مثالوں سے ہم دوسرے مقدمات میں کمزور ہوجائینگے ،جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا صدیقی نے کہاکہ جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے صاف کہاکہ طلاق ثلاثہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ ضلع کے سینئر وکیل چودھری جاں نثار ایڈوکیٹ نے کپل سبل کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ طلاق حسن،طلاق احسن کے علاوہ تیسری طلاق طلاق بدعت ہے ،جو ناپسندہ عمل ہے۔انہوںنے کہاکہ قرآن و شریعت میں تین طلاق کو قطعی پسند نہیں کیاگیا ہے لیکن بعد کے زمانے میں اس کو تسلیم کیا گیاہے جس کے سبب یہ ایک آستھاہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ دو نوں مقدمات کی نوعیت مختلف ہے ،بابری مسجد کی عمارت نمایاں ہے تو پھر فریق ثانی کی آستھا کا اعتبار کیسے کیا جاسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ مفاہمت تھا لیکن سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آئے گاوہ ٹھوس ثبوتوں کی بنیادپر ہی آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker