مضامین ومقالات

صبروقناعت میں دل کاسکون ہے

مولانااسرارالحق قاسمی
کچھ عادتیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندرایسی رکھی ہیں کہ ان کی وجہ سے وہ دنیاوی زندگی میں بھی راحت و سکون کے ساتھ سانس لیتاہے اوراگر صاحبِ ایمان و اعمالِ صالحہ ہے تو بعدازمرگ بھی اس کے لئے راحت و سکون بھری زندگی ہے۔انہی عادتوں میں سے ایک صبر و قناعت بھی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ تقدیر پرراضی رہنا اور اللہ تعالیٰ نے قسمت میں جوکچھ لکھ دیاہے،اس پربغیر کسی شکوہ شکایت کے شکربجالانا۔یہ وصف اگر کسی کے اندر پایاجائے تو وہ دل کے سکون و چین اور روح کے اطمینان سے مالامال ہوتاہے اور اسے کسی قسم کے رنج و غم سے دوچار نہیں پڑتا۔احادیث میں نبی اکرمﷺ نے ایسے آدمی کوبڑا نصیب والا قراردیاہے۔ایک حدیث میں ارشاد ہے’’کامیاب اور بامراد ہواوہ بندہ جسے اسلام کی حقیقت کا ادراک نصیب ہوا،اور اس کو روزی بھی بقدر کفاف نصیب ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس بندے کواسی روزی پر قانع بھی بنادیا‘‘۔(صحیح مسلم)حدیث میں مذکورحقیقتِ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ بندے کو اسلام کی صداقت و حقانیت اور کاملیت و مکمل ہونے کا نہایت پختہ یقین ہواور اس کا دل اپنے ایمان ویقین سے حددرجہ مطمئن ہو۔بعدکے حصے میں فرمایاگیاکہ اللہ تعالیٰ اسے بقدرِ کفاف روزی دے یعنی اسے اتنی ہی روزی میسر ہوکہ اس کی زندگی ٹھیک ٹھاک گزرسکتی ہواور پھر اسے یہ توفیق بھی مل جائے کہ وہ اتنی روزی پر خوش اور مطمئن ہو توایسا بندہ دنیا و آخرت میں کامیاب و بامراد ہوگا۔گویایہ عین ممکن ہے کہ ایک انسان کے پاس بس زندگی گزارنے بھرکے مطابق مال ہواور وہ نہایت مطمئن اور آسودہ حال ہو،جبکہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص ایسا ہوسکتاہے کہ اس کے پاس بنگلہ ہو،گاڑی ہو،بینک بیلنس ہواور بہت سارے پیسے ہوں،لیکن اس کے باوجود اسے قلبی سکون حاصل نہ ہواور ایسے توبے شمار لوگ ہمارے آس پاس پائے جاتے ہیں۔جب انسان کے اندر زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کا دھن سوار ہوجائے اور حرص و طمع کی وجہ سے وہ اس فکر میں رہے کہ دنیابھر کی دولت اسے مل جائے تویقیناً ایسا شخص کبھی چین سے زندگی نہیں گزارسکتا،ایسے لوگ تمام تر آسائش دستیاب ہونے کے باوجود چین کی نیند تک سے محروم ہوتے ہیں اورانہیں نیند کی دوائیاں کھانی پڑتی ہیں۔اس کے برخلاف جو شخص محنت اور کوشش کرتا ہے ،پھر اللہ تعالیٰ اسے جتنی روزی دے دے اسی پر خوش رہتااوراسے مزید مال و دولت حاصل کرنے کی بے جا ہوس نہیں ہوتی،توایسا شخص دل کا غنی اور قلبی اعتبار سے آسودہ حال ہوتاہے،اسے کوئی پریشانی اور رنج نہیں ہوتا،پھر وہ مکمل یکسوئی اور سکون کے ساتھ رب کی عبادت بھی کرتاہے اور اپنے گھر خاندان کو بھی بہتر طریقے سے چلاتاہے،ایسے شخص کو کبھی سونے کے لئے نیند کی گولیاں نہیں کھانی پڑتیں۔جب انسان کے اندر قناعت کی صفت پیداہوجائے تووہ دوسرے کے مال و دولت پر بھی اپنی نگاہیں نہیں گاڑتااوراس طرح وہ بہت سے غلط کاموں سے بچ جاتاہے،اس کے برخلاف اگر انسان کے دل میں زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی ہوس پیدا ہوجائے توپھر رفتہ رفتہ حلال و حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور پھر اگر اسے تجارت یا صنعت وغیرہ کے ذریعے مال کمانے کاموقع ملا تو ٹھیک ورنہ وہ چوری،ڈاکہ زنی اور غارت گری تک پر اتر آتاہے اور پھر ایک نہ ایک دن اسے برے انجام تک پہنچنا پڑتاہے۔
ایک دوسری حدیث میں اللہ کے نبی ﷺفرماتے ہیں کہ’’دولت مندی مال و اسباب کی زیادتی سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اصل دولت مندی تودل کی بے نیازی ہے‘‘۔(صحیح بخاری)یہ اتنی قیمتی بات ہے کہ اسے ہمیں زندگی بھر ذہن و دماغ میں بٹھاکررکھناچاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے،اس پر عمل کرنے کے بعد ہماری تمام پریشانیوں اور مشکلوں کا خاتمہ ہوسکتاہے۔عام طورپر لوگ اس شخص کو دولت مند سمجھتے ہیں جس کے پاس کافی سارے مال و اسباب ہوں ،گاڑی بنگلے ہوں،زمین جائیداد ہو،نوکرچاکر ہوں،مگر دیکھنا یہ چاہئے کہ اتناسب ہونے کے بعد بھی کیا وہ شخص مزید کمانے سے رک جاتاہے؟یقیناً نہیں اور کبھی نہیں،بلکہ اس کے پاس جتنامال جمع ہوتاجاتاہے،اس کی لالچ اور حرص میں اضافہ ہی ہوتاجاتاہے۔ایک کے بعد دوسری گاڑی،ایک کے بعددوسرا بنگلہ اسی طرح وہ چاہتاہے کہ ساری دنیاکی دولت اس کے قدموں میں بچھادی جائے،لیکن اس کے برخلاف اگر انسان دل سے غنی ہے تو کم دولت میں بھی وہ خوش اور مطمئن ہوگا اور اپنی دولت کو محض اپنی ذات اور خاندان کے عیش کا ذریعہ بنانے کے بجائے دوسرے غریب و نادار انسانوں کی امدادواعانت میں بھی خرچ کرے گا۔دل کی بے نیازی یادل کی مالداری اصل ہے اوراسی سے انسان کے اخلاق و شرافت اوراس کے اصل مقام و مرتبے کا اندازہ لگتاہے۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کوتاکید کے ساتھ یہ حکم دیاہے کہ دنیامیں زندگی گزارنے کے لئے محنت اور جدوجہد کرنی پڑے گی اور جو شخص جتنی محنت کرے گااسے اسی کے بقدررزق ملے گا،البتہ اس کے بعدایک انسان کوچاہئے کہ اسے اللہ نے جتنا دیااس پر راضی رہے اور مزید کی چاہ میں غلط راہوں کو اختیار نہ کرے یا لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا شروع کردے۔اس سلسلے میں رہنمائی کرنے والی کئی احادیث ہیں جن میں اللہ کے نبیﷺ نے مسلمانوں کوصبروقناعت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے اور ذلت خواری اختیار کرنے سے منع کیاہے۔حضرت ابوسعید خدریؓسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے آپ سے کچھ طلب کیا،آپؐنے انہیں عطاء فرمادیا(لیکن ان کی مانگ ختم نہ ہوئی)اورانہوں نے مزید طلب کیا،آپ نے انہیں پھر دیا،یہاں تک کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہوگیا۔اس کے بعد آپؐ نے ان انصاریوں سے فرمایا’’سنو!جوکچھ مال و دولت بھی میرے پاس ہوگایاکہیں سے آئے تواسے میں اپنے پاس بچاکر یاجمع کرکے نہیں رکھوں گا(یعنی وہ مال میں تم لوگوں پر ہی خرچ کروں گالیکن تمہارااس طرح مانگتے رہنااچھی عادت نہیں ہے اوراس سے تمہاری تنگدستی دورنہیں ہوگی)جوشخص خود عفیف بنناچاہتاہے(یعنی دوسروںکے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتاہے)تواللہ تعالیٰ اس کی مددفرماتاہے اور جو شخص بندو ں کے سامنے محتاجی ظاہرکرنے سے بچتاہے تواللہ تعالیٰ اسے بندوں سے بے نیاز کردیتاہے اور جو شخص مشکل گھڑیوں میں ہمت کرکے صبر وقناعت اختیار کرتاہے تواسے صبر نصیب ہوجاتاہے اور صبر سے زیادہ وسیع نعمت کسی انسان کونہیں ملی‘‘۔(سنن ابوداؤد)اس حدیث پاک میں کئی باتیں بتائی گئی ہیں ۔ایک تویہ کہ اگر انسان بالکل ہی تنگدست اور محتاج ہے توصاحبِ استطاعت لوگوں کواس کی مددکرنی چاہیے،دوسری یہ کہ انسان کو ہمیشہ مانگنے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اس سے بچنے اور خود محنت کرنے کے ساتھ صبر کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔صبر اور قناعت کے سلسلے میں جوبات آپؐ نے ارشاد فرمائی وہ بھی قابلِ غوروفکرہے اورجب بھی مشکل گھڑی آجائے ہمیں اس پر عمل ضرور کرناچاہئے۔آپؐ نے فرمایاکہ صبر سے زیادہ وسیع نعمت اورکوئی نہیں،یقیناً یہ بات بالکل برحق ہے،اگر ایک انسان کوحاصل ہونے والے رزق پر قناعت کی توفیق حاصل ہوجائے اور آنے والے مصائب اور مشکلات کوتقدیر کاحصہ سمجھ کرانہیں برداشت کرے تویقیناً یہی چیزاس کے لئے نعمت بن جاتی ہے اور پھر جلد ہی اس کی پریشانیوں کا خاتمہ ہوجاتاہے۔گویاصبراور قناعت زندگی کے ہر موڑ پرہمارے دلی سکون و اطمینان اور روحانی اضطراب سے نجات کا ذریعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker