برجستہجہان بصیرتمضامین ومقالات

صاحب !یہاں مرنے والے بھی آدمی ہیں!

برجستہ : افتخار رحمانی
مانچسٹر کے ایرینا شہر میں خود کش دھماکے ہوئے ،مصدقہ اطلاعات کے مطابق 20افراد ہلاک اور50 سے زائد زخمی ہوئے جو کہ نہایت ہی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔بھارتی وزیر اعظم نے بھی انسانیت کا درد محسوس کیا علی الصبح ٹوئٹ کرکے اسے انسان دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے مذمت کی اور اسے انسانیت کے خلاف قرار دیا ؛ لیکن اسی ملک میں ہر طرف اخلاق ،نعمان،پہلو خان ،شیخ حلیم ،نعیم ،سر اج اور سجاد جیسے بے قصور مر رہے ہیں؛ بلکہ انہیںمارا جا رہا اور ان کودہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ،کشمیر میں بہادر فوج کسی نہتے فاروق ڈار کو جیپ سے باندھ کر کئی کیلو میٹر دور تک کھینچ کر لے جاتی ہے اور پھر پریش روال بھی اس کی تائیدو تمثیل بیان کرتے ہیں کہ اروندھی کو بھی اسی طرح جیپ سے باندھ کر گھسیٹنا چاہئے تاہم ان کی تعزیت کیلئے کوئی ’’ٹوئٹ‘‘ لیٹر وارد نہیں ہوا ۔اب انسانیت کے معیار بد ل گئے ہیں یا پھرکوئی امر دیگر ہے ۔ظاہراً اطمینان کی بات ہے کہ ہم اس ملک میں رہتے ہیں جہاں قانون و انصاف کی بالا دستی سمجھتی جاتی ہے ؛ لیکن ادھر چند سالوں سے ایسا لگتاہے کہ قانون اور انصاف شاید اب خواب بنتے جا رہے ہیں اور ملک کے عوام کو اس وقت ایسے حالات سے دوچار ہوناپڑرہاہے کہ جہاں قانون کی نہیں ؛ بلکہ بھگوا غنڈوں کی بالادستی ہے ۔ذرا اس دلخراش تفصیل کی طرف نظر کیجئے کہ ملک میں دادری سے لیکر جھارکھنڈ تک اور الور سے لیکر کشمیر تک کس طرح بھیڑ جنونی ہوگئی ہے اور کس طرح بغیر کسی رد و کد کے بے قصور کو جان سے مار ڈالتی ہے ۔راقم نے اپنی گذشتہ تحریر میں عرض کیا تھا کہ ’’ مجھے اب سڑک چلتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں مبادا مقدس ’’ گائے ‘‘ کے الوالعزم ’’ جیالے ‘‘ شک کی بنیاد پر ’’ گئو ماتا ‘‘ کی تقدیس کی نذر نہ کردیں ‘‘‘ میرے لئے ہی یہ تشویش ناک امر نہیں ہے ؛ بلکہ تیس کروڑ بھارتی مسلمانوںکیلئے بھی ہے ؛ کیو نکہ یہ از روئے قسمت اس عظیم ’’ جمہوریت ‘‘ کے سایے میں گزران زندگی پر مجبور ہیں۔ہم اسے مجبوری کا نام نہ دیں تو بھلا اسے کس تعبیر سے مستعار لیں کہ ہم بھارتی جمہوریت کے باشندے ہیں ۔سابرمتی ایکسپریس میں دھماکہ کے ملزم گلزار وانی کو گذشتہ دنوں ۱۶/ سال کے بعد جیل سے باعزت رہا کیا گیا اور عدلیہ کو اس الزام کے تحت کوئی بھی ثبوت بھی نہ مل سکا جو سسٹم کی ناکامی بیان کرتا ہے ۔ اسی طرح محمد عامر کو بھی ۱۴/ سال کے بعد جیل سے باعزت رہاکیا گیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلم نوجوان اسی طرح سسٹم کی ناکامی کے شکار ہوتے رہیں گے اور ان کی زندگی تاریکیوں اور افلاس کی نذر ہوتی رہے گی ؟ مظلوم محمد نثار کے تاریخی جملے تو جمہوریت اور عدالت کو تاحشر شرمسار کرتے رہیں گے کہ ’’ میں ایک زندہ لاش ہوں‘‘ ۔ شاید یہ سوال ارباب اقتدا رتک پہنچے ؛ کیونکہ وہ اس وقت ’’ہتک عزت ‘‘ کے مقدمات اور پاکستانی چوکی نوشیرہ کو تباہ کرنے کے جشن میں ڈوبے ہیں ؛ لیکن معصوموں کی آہ ابد تک سوال کرتی رہے گی کہ میری زندگی سے کھلواڑ کرنے کی اجازت کس نے دی ؟ عدلیہ نے ،ایجنسیوں نے یا پھر تیسری طاقت نے ؟سوالات ختم تو نہیں ہوں گے،البتہ اس طرح کے سوالات کرنے والے ختم ضرور ہو سکتے ہیں ؛کیونکہ قانون اب بھگوا دھاری غنڈوں کے ہاتھوں میں ہے جو دن دہاڑے راہ چلتے ہوئے پہلو خان،شیخ حلیم ،وسیم،اور سجاد و سراج جیسے نوجوانوں کو پیٹ پیٹ کر شہید کرسکتے ہیں ۔جب جھارکھنڈ کے مظلوم گاؤں سے شہدا کی لاش اٹھی تو عوام الناس کی بھیڑ قابل رشک تھی کہ وہ شہدا ء کے اعزاز کیلئے نماز جنازہ میں شامل ہوئے ہیں ؛ لیکن فلک و زمین اور فضا و سماں غمگین ضرور تھے چشم فلک اشکبار تھی کہ شک کے شکا رہوکر مشتعل ’’ بھیڑ ‘‘ کی ہوس کاری کی نذر ہوئے تھے ۔چشم فلک تو اس وقت بھی اشکبار ہوئی تھی جب دادری میںمحمد اخلاق کو شہید کیا گیا تھا ،شہید کی لاش پر سیاست کی گئی تھی اور سینکڑوں بے بس مجبور انسان انہیں آسودہ خاک کر رہے تھے اور آسمان اس وقت بھی خون رویا تھاجب دودھ کیلئے گائے لے جاتے ہوئے پہلو خان کو مشتعل بھیڑ نے پیٹ پیٹ کرشہید کیاتھا۔
جھارکھنڈ کی تاریخ شاید دیگر ریاستوں کے مقابلہ میں کچھ زیاد ہ ہی لہو لہو ہے کہ انسانیت سوز واقعات یہیں پیش آئے ہیں رانچی سے کچھ دور کے فاصلہ پر دو بھینس چرواہوں کو گائے بیچنے کے شک میں درخت سے پھانسی پر لٹکادیا تھا اور اب پھر یہیں چار مسلم اور تین اور لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے جب ہلدی پوکھر کے رہنے والے شیخ حلیم ،سجاد ،سراج او رمحمد نعیم کو راج نگر میں جنونی بھیڑ نے راہ چلتے ہوئے روکا اور انہیں مارا پیٹا اس مبینہ غیظ و غضب کی شدت کا یہ عالم تھا کہ پیٹتے پیٹتے مار دیا مگر قابل غو ر امر یہ ہے کہ ان چاروں افراد کو مختلف مقامات میں لے جاکر قتل کیا ایک کا قتل شوبھا پور میں ،دوسرے کا قتل ڈانڈو میں ،تیسرے کا قتل سوسومالی میں اور چوتھے کا قتل دھوبو ڈنگری کے جنگل میں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک میں انسانیت کی بے وقعتی بڑھتی جار ہی ہے اور بے قصور افراد مارے جارہے ہیں ؟ مشتعل بھیڑ کے اندر غیظ و شدت کی کیفیت کس کی ایجاد کردہ ہے؟ کون ہے جو اس انسان دشمن فکر کی تخلیق کرر ہا ہے ؟نہ قانون کی داد رسی نہ گرفت اور نہ ہی ارباب اقتدار کی طرف سے مثبت اقدامات۔ آخرش کس جرم کی سزا مل رہی ہے کہ دفعتاً بھیڑ بے قصور وں کی جان لے لیتی ہے او ر اس کے تئیں اطمینان بخش اقدامات سے گریزبھی کیا جاتا ہے ۔کیا ہمارا یہ ملک شام و فلسطین ہے یا ایک جمہوری ملک بھارت!
ملک میں انسانی اقدار پامال ہو رہے ہیں جب کہ ملک اس وقت ایک طاقتور شخص کے ایام اقتدار میں ہے ؛ لیکن حکومتی خاموشی اور سرد مہری کچھ ایسی ہے کہ گمان ہی نہیں بدلتے ؛ بلکہ یقین بھی دوسرا رخ بدلتا ہے ۔ مگر اس کے باوجود ہمیں اور انہیں اپنی حکومت کو ناز ہے کلفتوں سے چہرہ کارنگ متغیرنہیں ہوتا؛ بلکہ سرمستی و جنون میں جھوم رہے ہیں۔خون و آتش کا یہ کھیل اس وقت سے چل رہا ہے جب سے ’’صاحب‘‘ اقتدار پرقانبض ہوئے اور بھگوائیوںکا نشہ بیخودی اپنے شباب پر پہنچا ہے ۔شاید یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک کا وزیر اعظم بہت ہی طاقتور ہے اور کشمیر میں دن رات خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ،دادری میں شبہ کی بنیاد پر اخلاق کو شہید کردیا گیا ،گائے کی تقدیس ا پنی ’’کرامت‘‘ دکھلا رہی ہے اور طاقتور وزیر اعظم سراپا مجسمہ تصویر بتاں ہے ،جھارکھنڈ میں بچہ چوری کے شک میں آٹھ لوگوں کوبہیمانہ قتل کردیا گیا جس میں افسوس اکثریت کے بھی افراد تھے ؛ لیکن کوئی ’’ٹوئٹ لیٹر‘‘ نازل نہیں ہوا کجا تعزیت اور پرسا؟فاروق ڈار کو ایل گگوئی کے ایماء پر جیپ سے باندھ کر آٹھ کیلومیٹر تک انسانی ڈھال کے طور پر گھسیٹاگیا؛لیکن ہمارے طاقتور وزیراعظم خاموشی اختیار کئے رہے گویا ان بہادروں کاقومی اور وطنی جذبہ کے تحت انجام دیا گیا ’’کارِخیر‘‘ ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایل گگوئی کو اعزاز سے بھی نوازا گیا ۔اخلاق کی آہ ،پہلو خان کی چیخ ،شیخ حلیم ،سراج ،سجاداور نسیم کی فریاد اور خون سے لت پت جسم و زبان کی صدائے عرش رسا اورفاروق ڈار کا کرب و آنسو وزیر اعظم کو متحرک نہ کرسکے ؛ لیکن مانچسٹر کے ایرینا میں دھماکہ انہیں علی الفور رنج زدہ اور درد آشنا کرگیا ۔گھر میں آگ لگی ہے اور صاحب خانہ اوروں کے گھر کی آگ بجھانے اور تعزیت میں مصروف ہے ۔راقم مانچسٹر کے ایرینامیںدھماکہ کی مذمت کرتا ہے، وزیر اعظم اور اپوزیشن کے دیگر لیڈروںکے مذمتی بیان کاخیرمقدم کرتاہے ؛ لیکن ذرا اس ملک کے غریب ،بیوپاری،کسان،اقلیت اور مشتعل بھیڑ کے ذریعہ مقتولین کے متعلق داد رسی بھی کی جائی تاکہ عوام کا تیقین شک و شبہ کا محور نہ بنے ۔قتل و خون اور آتشِ فساد میںجلنے کیلئے تو ’’شاہد و شراب ‘‘ کے متوالے ہیں ہی؛ کیونکہ ان کی تقدیر کچھ ایسی ہی ہے کہ و ہ کٹے ،جلے اور مرے ،تاہم کبھی تو ’’درد دل‘‘ کا دائرہ وسیع کرلینا چاہئے تاکہ نفاقاً ہی سہی جمہوریت کا بھرم قائم رہے ورنہ تو آنکھیں ازل سے ہی اشکبار ہیں ا ور جسم وجود خاکی کے بوجھ سے گراں بار بقول میر تقی میر ؎
جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم!
پر سخن تا بلب نہیں آتا
(مضمون نگار بصیرت آن لائن کے سب ایڈیٹر اور معروف کالم نویس ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker