شمع فروزاںمضامین ومقالات

بُرائی کی آگ

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
اگر کسی گھر میں آگ لگ جائے ، تو آبادی کے تمام لوگ آگ بجھانے اور گھر کو بچانے دوڑ پڑتے ہیں اور ہر شخص اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق بھڑکتے ہوئے شعلوں کو بجھانے کی کوشش کرتا ہے ، کوئی ایک ساتھ دو بالٹی اُٹھاتا ہے ، کوئی ڈول دو ڈول لے کر پہنچ جاتا ہے ، کوئی لوٹا دو لوٹاہی پانی ڈال دیتا ہے ، چھوٹے بڑے امیر غریب جوان بوڑھے اور مردد و عورت ہر شخص اپنی طاقت اس بلاء ِناگہانی سے بچنے بچانے میں صرف کر دیتا ہے ؛ کیوں کہ اگر آگ پھیلی تو صرف اسی گھر کانقصان نہیں ہوگا ، جس گھرمیں آگ لگی ہو ؛ بلکہ یکے بعد دیگرے سارے گھر جلیں گے اورپوری بستی خاکستر ہو کر رہ جائے گی ، آگ ایسی کور چشم اور عدم نا آشنا ہے کہ اس کی سرشت میں من و توکا کوئی امتیاز ہی نہیں ، نہ امیر کا خیال کرتی ہے نہ غریب پر رحم کھاتی ہے ، نہ طاقت اور حکومت والوں سے ڈرتی ہے نہ بے قصور رعایا اور کمزوروں پر اسے ترس آتا ہے ، ایک بلاء بے درماں ہے جو زد میں آتا ہے اسے جلا کر رکھ دیتی ہے ۔
اگر دریا پانی سے لبریز ہو اور پشتہ ٹوٹنے کا خطرہ ہو ، تو سارے لوگ اکٹھا ہو جاتے ہیں ، اور ہر شخص اپنی طاقت بھر پشتہ کو مضبوط کرنے اورپانی کو تھامنے کی تدبیر کرتا ہے ؛ کیوںکہ پانی بھی آگ ہی کی طرح بے رحم اور بے حس واقع ہوا ہے ، کسی کو خاطر میں نہیں لاتا ، خوش رنگ پھلواریاں ہوں ، ہرے بھرے کھیت ہوں ، پر رونق آبادیاں ہوں ، آبادی میں معصوم بچے رہتے ہوں ، بے زبان جانورہوں ، بیمار اور بستر مرگ پر پڑے ہوئے لوگ ہوں ، اس کی تلاطم خیز موجیں کودتی پھاندتی ، دوڑ تی بھاگتی ، ہر شئے کو غرقاب اور تہہ آب کرتی پہنچ جاتی ہیں ، اسی لئے آگ لگ جائے اور سیلاب آجائے تو ایک دوسرے سے برسرپیکار دشمن بھی اپنی عداوتوں کو فراموش کر کے اس مصیبت کا سدباب کرنے کے لے یک جٹ ہوجاتے ہیں ۔
یہ آگ او رپانی کی مصیبتیں وہ ہیں ، جو ہمیں مادی نقصان پہنچاتی ہیں ، جن کی وجہ سے ہمارے در و دیوار ویرانوں میںتبدیل ہو جاتے ہیں ؛ لیکن ایک اور آگ ہے جس کانقصان اس نقصان سے بھی بڑھ کر ہے اور ایک سیلاب ہے جس کی تباہکاری اس سیلاب سے کہیںزیادہ ہے ، وہ ہے برائی اور بے حیائی کی آگ ، جو انسانی آبادی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہے اور وہ ہے منکرات اور فواحش کا سیلاب ، جس کی زد سے کوئی پکا اور کچا مکان محفوظ نہیں ہے ؛ لیکن عجیب بات ہے کہ اس آگ اور سیلاب کو بجھانے اور تھامنے کی ہمارے اندر کوئی فکر نہیں ، یہ آگ گھر گھر کو سلگارہی ہے اور یہ سیلاب اخلاق و کردار کی عمارتوں کو زمیںبوس کرتا جارہا ہے ؛ لیکن نہ اس پر بے چین ہونے والے دل ہیں ، نہ اس پر رونے والی آنکھیں ہیں ، نہ اس کے لئے جنبش میں آنے والے ہاتھ پاؤں ہیں ، نہ سماج کے بزرگوں کو اس کی فکر ہے نہ نوجوانوں میں اس کے مقابلہ کا عزم ۔
برائی کی طرف میلان انسانی فطرت میں موجود ہے ، اس کا مقابلہ اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ، کہ جس قوت سے بُرائی پھیل رہی ہے ، اسی قوت سے بلکہ اس سے بڑھ کربُرائی کو روکنے کی تدبیریں کی جائیں ، اسی تدبیر کا نام قرآن مجید کی زبان میں : ’’نہی عن المنکر‘‘ہے، قرآن کہتا ہے کہ اُمت ِمحمدیہ کا ایک بنیادی مقصد نہی عن المنکر ہے اور اسی فریضہ کی وجہ سے اس کو اقوامِ عالم میں خیر اُمت یعنی بہترین انسانی گروہ کا لقب دیا گیا ہے ، (آل عمران : ۱۱۰) مسلمانوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ : ’’ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور اس دوستی کا حق یوں ادا کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کو بھلائی کی دعوت دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ‘‘ (التوبۃ : ۷۱) بُرائی سے روکنے والوں کو صالحین میں شمار کیا گیا ہے ، (آل عمران : ۱۱۴) اورارشاد ہواکہ : ’’ کم سے کم ایک ایسا گروہ ہمیشہ ضرور رہناچاہئے جو خیر کی طرف دعوت دیتا ہو ، بھلائی کا حکم دیتا ہو اور برائی سے روکتا ہو ، کہ یہی لوگ در اصل کامیاب ہیں ‘‘ ۔ ( آلِ عمران: ۱۰۴)
قرآن کی اس تعبیرپر بھی غور کیجئے کہ بھلائی کو معروف اور برائی کومنکر سے تعبیر کیا گیا ہے ، معروف کے اصل معنی ایسی بات کے ہیں جو لوگوں میں مروج اور مشہور ہو اور جس کا چلن قائم ہو گیا ہو ، اس کے مقابلہ میںمنکر کالفط ہے ، یعنی ایسی بات جو ان پہچانی اور نامانوس ہو ، گاہے گاہے پیش آجاتی ہو ، اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ سماج میں نیکیوں کا عام چلن ہونا چاہئے ، وہ سماج کا مروج اور مشہور عمل ہو اور برائی کو سماج میں اتنا کم ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کے لئے اچنبھے کا باعث ہو ، خلافِ معمول کبھی یہ بات پیش آجاتی ہو ۔
اس تعبیر سے نہی عن المنکر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، رسول اللہ انے اس کی بڑی تاکیدفرمائی اور فرمایا : کہ تم میں سے کوئی شخص جب بُرائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اور یہ ایمان کاکم سے کم درجہ ہے ، (مسلم ، حدیث نمبر : ۱۷۷) دل سے روکنے کا مطلب دو ہو سکتا ہے : ایک یہ کہ دل سے اس پر کراہت محسوس کرے ، دوسرے یہ کہ دل میں اس بات کا عزم رکھے کہ جب اسے قدرت حاصل ہوگی ، وہ اس بُرائی کو روکنے کی کوشش کرے گا ، ہاتھ سے روکنے کا منشا مار پیٹ اورجنگ و جدال ہی نہیں ہے ؛ بلکہ اپنے اثر و رُسوخ اور اخلاقی دباؤ کا استعمال کرنا بھی اس میںداخل ہے ، جیسے انسان دنیا کے مسائل میں اپنے رُسوخ اور اپنی حیثیت کو کام میں لاتا ہے ، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے بارے میں اسے اس سے بڑھ کر اپنی اخلاقی قوت استعمال کرنا چاہئے ۔
آج صورت ِحال یہ ہے کہ جن چیزوں کا برائی اور منکر ہونا متفق علیہ ہے اور جن کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ، ان میں بھی عوام تو کیا ، اہل علم اور اہل دین بھی کھلے تساہل سے کام لیتے ہیں ، اس سے کس کو اختلاف ہو گا کہ گانا بجانا حرام ہے ، شادی بیاہ میں مروجہ تصویر کشی اورویڈیو گرافی جس میں عورتوں کی بھی تصویریں محفوظ کرلی جاتی ہیں ، ناجائز ہیں ، اس سے کسے اختلاف ہے کہ لڑکے والوں کی طرف سے بے جا مطالبات حرام ہے اور رشوت کے حکم میں ہے ، کون نہیں جانتا کہ سودی کاروبار پر اللہ اور اس کے رسول ا کی لعنت ہے ؛ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ سماج کے با اثر لوگ جب علانیہ ان برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور اپنی جھوٹی شان بگھارتے ہیں ، تو نہ صرف یہ کہ ہماری زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ؛ بلکہ ہم خود ان تقریبات میں شریک ہو کر رونقِ محفل میں اضافہ کرتے ہیں ، ہم خود حرام اور ناجائز کاروبار کرنے والوں کی اہتمام اوراحتشام سے معمور دعوتوں میں شریک ہو کر عملاً اس برائی کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔
حدیث میں اسی لئے برائی سے روکنے کو زبان کا جہاد ( جہاد باللسان) قرار دیا گیا ہے، (مسلم ، حدیث نمبر : ۱۷۹) کیوںکہ نیکی کی دعوت آسان ہے ، اگر آپ کسی کو نماز روزہ کی دعوت دیں ، حج و زکوٰۃ کے لئے توجہ دلائیں ، تو اس سے اس کے وقار پر کوئی آنچ نہیں آتی ، نہ اس سے اس کی انا کو ٹھیس لگتی ہے ؛ لیکن جب کسی انسان کو اس کی برائی پر ٹوکا جائے ، تو اس سے اس کی انا مجروح ہو تی ہے ، وہ اسے اپنی توہین سمجھتا ہے اور اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنے کے بجائے وہ بے جا رد عمل کا اظہار کرتا ہے ، اسی لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود ص نے فرمایا : یہ بہت بڑا گناہ ہے (اکبر الذنب) ہے کہ کسی سے کہا جائے کہ تم اللہ سے ڈرو ، تو وہ جواب میں کہے: تم اپنی فکر کرو ، علیک نفسک ۔ ( مجمع الزوائد : ۷ ؍۲۷۱)
جو چیز برائی پر ٹوکنے اور اس سے ر وکنے میں رکاوٹ بنتی ہے ، وہ بنیادی طور پر دو ہیں ، ایک دنیا کی محبت ، دوسرے اہل ثروت اور اہل اقتدار کا خوف ، اسی لئے حضور ا نے فرمایا : جب تم میں دنیا کی محبت گھر کر لے گی تو تم نہ نیکی کا حکم دو گے اور نہ برائی سے روکوگے اور نہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرو گے ، ( مجمع الزوائد : ۷ ؍ ۲۷۱) اور حضرت ابو سعید خدری ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ اخطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اورارشاد فرمایا : خبر دار ! کسی شخص کو لوگوں کی ہیبت حق جاننے کے باوجود حق کہنے سے باز نہ رکھے ، (ترمذی، حدیث نمبر : ۴۰۰۸) یہ اس اُمت کے ادبار اور پستی کی علامت ہے کہ اس میں برائی پر ٹوکنے والی زبانیں باقی نہ رہیں ، حضرت ابوامامہ ص سے مروی ہے کہ اس دین کے اقبال کی علامت یہ ہے کہ تمام مسلمانوں میں دین کا فہم ہو ، اس میں ایک دو برے لوگ ہوں تو دوہ سماج میں ذلیل سمجھے جائیں اور اس دین کے ادبار کی علامت یہ ہے کہ عام لوگ گناہ میں مبتلا ہو جائیں ، اکاد کا اشخاص دین پر قائم ہوں ، وہ سماج میں ذلیل سمجھے جائیں اور بات کریں تو مطعون ٹھہریں ، یہاں تک کہ علانیہ شراب پی جائے ، ایک عورت قوم پر سے گذرے ، قوم میں سے ایک شخص اس کی طرف کھڑا ہو اور دامن اُٹھا کر اس طرح برائی کرے جیسے کسی مادہ جانور کی دم اُٹھا کر نراس سے جفتی کرتا ہے ، اس دن جو شخص یہ کہے کہ تم نے اس کو اس دیوار کے پیچھے تو کر لیا ہوتا ، تو وہ اس دن اس میں ویسے ہی ہوگا جیسے تم میں ابوبکر و عمر رضی اﷲ عنہما ، اس دن جو نیکی کی طرف بلائے اور بُرائی سے روکے ، اس کے لئے ایسے پچاس آدمیوں کے برابر اجر ہوگا جس نے مجھے دیکھا ہو ، میری اطاعت کی ، مجھ پر ایمان لایا ہو او ر میرے ہاتھوں پر بیعت ہوا ہو ، ( مجمع الزوائد : ۷ ؍ ۲۶۲) بُرائی کے سیلاب کو دیکھتے ہوئے خیال گذرتا ہے کہ شاید اب وہ وقت قریب آگیا ہے ۔
بُرائی سے نہ روکنے کا گناہ صرف آخرت سے متعلق نہیں ہے ؛ بلکہ دنیا سے بھی متعلق ہے ، رسول اللہ انے فرمایا کہ جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور ظلم سے نہ روکیں ، تو اللہ تعالیٰ کا عذاب سبھوں کو پکڑ لے گا اور جس قوم میں گناہ کیا جاتا ہو ، کچھ لوگ اس سے دور کرنے پر قادر ہوں ، پھر بھی وہ اسے دور نہ کریں ، تو قریب ہے کہ اللہ کا عذاب ان سب کو اپنی پکڑ میں لے لے ، ( ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۵۳۸، ترمذی، حدیث نمبر : ۲۱۶۸) رسول اللہ انے قیامت کے قریب ایک لشکر کے زمین میں دھنسا دیئے جانے کا ذکر کیا ، حضرت اُم سلمہ gنے عرض کیا : شاید ان میں ایسے لوگ بھی ہوں جنھیں زبر دستی لایا گیا ہو ؟ آپ انے فرمایا کہ دنیا کے عذاب میں تو سب شامل ہو ں گے ، آخرت میں نیتوں کے اعتبار سے معاملہ ہوگا ۔ ( ترمذی ، حدیث نمبر : ۲۱۷۱)
حضرت عبد اللہ بن مسعود ص راوی ہیں کہ آپ انے فرمایا : بنی اسرائیل میں اس طرح بُرائی کا آغاز ہوا کہ ایک شخص دوسرے کو اس برائی پر ٹوکتا اور کہتا کہ یہ حلال نہیں اور کل ہو کر اسی کا ہم نوالہ ، ہم پیالہ اور ہم نشیں بن جاتا ؛ چنانچہ یہی چیزیں بنی اسرائیل پر عذابِ الٰہی آنے کا باعث ہوئی ، ( ابو داؤد ، حدیث نمبر : ۴۳۳۶) آپ انے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کے گناہ کی وجہ سے پوری قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے ؛ بلکہ جب کچھ لوگ گناہ کرتے ہیں اوراکثریت قدرت کے باوجود اس پر خاموشی اختیار کر تی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عوام و خواص سبھوں کی ہلاکت کا فیصلہ ہوتا ہے : ’’ فذاک حین یاذن اﷲ فی ھلاک العامۃ والخاصۃ ‘‘ ۔ ( مجمع الزوائد : ۷ ؍ ۲۶۸)
یہ ضروری ہے کہ سماج کا ضمیر زندہ ہو ، وہ بُرائی سے ایسی ہی نفرت کرتا ہو جیسے انسان گندگی سے نفرت کرتا ہے ، سماج میں جب کوئی بُرائی ہو تو کتنی زبانیں ہوں جو اس پر ٹوکنے کے لئے آمادہ ہوں ، جب ایک ہاتھ ظلم کرے تو سینکڑوں ہاتھ اس ظلم کو روکنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں ، جب کوئی نگاہ بُرائی کرے تو کتنی ہی غضب آلود نگاہیں اس کے حوصلے پست کر دیں ، خدا کی نافرمانی پر انسان کو اپنی نافرمانی سے زیادہ طیش آئے ، اپنے بھائی پر جب کوئی ظلم ہوتا ہوا دیکھے تو اسے محسوس ہو کہ یہ ظلم خاص اس پر ہورہا ہے ، جب وہ کسی آبرو کو لٹتے ہوئے دیکھے تواسے خیال ہو کہ یہ عزت و آبرو کی مقتول عورت اس کی بہن یا بیٹی ہے ، برائیوں کے بارے میں جب تک ضمیر زندہ نہ ہو حدو داللہ کی اہمیت انسان کے ذہن میں نہ ہو اور خدا کے خوف سے ہمارے سینے معمور نہ ہوں اس وقت تک برائیوں کے اس سیلاب کو تھامنا ، بے حیائی کی اس آگ کو بجھانا اور بد اخلاقی کی اس تیز آندھی کو روکنا ممکن نہ ہوگا ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker