Baseerat Online News Portal

فرقہ پرستی پرمودی سے برطانیہ کے سوال کافیصلہ قابل تحسین

محمدشارب ضیاء رحمانی
پورے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول پربے چینی ہے،ملک کے اولین شہری صدرجمہوریہ نے بھی کثرت میں وحدت کی روایت پرباربارزوردیتے ہوئے ملک کی صورتحال پرتشویش ظاہرکی ہے۔صدرجمہوریہ کے علاوہ ریزروبینک کے گورنررگھورام راجن،عالمی اقتصادی ایجنسی موڈیز،امریکہ کی وزارت خارجہ اورملک کے مختلف غیرجانبدارسائنسدانوں،مصنفین نے بھی اس بے چینی کومحسوس کیاہے ،اب اطلاع یہ بھی ہے کہ مودی کے برطانیہ دورہ کے دوان ان سے عالمی برداری ہندوستان کی فرقہ ورانہ صورتحال پرخبرلے گی ۔برطانیہ کے وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈنے کہاہے کہ ان کی سرکارمودی سے ہندوستان کے فرقہ پرستانہ ماحول پرسوال اٹھائے گی۔مودی سے فرقہ پرستی اورتشددپرسوال کیاجائے گا۔عالمی برداری کااس پرنوٹس لینایقیناََخو ش آئنداورقابل تحسین قدم ہے۔وزیراعظم 12نومبرکوبرطانیہ کے دورہ پرجارہے ہیں جہاں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرن بھی مودی سے ہندوستان کے سیکولرزم پرمنڈلاتے بادل پرتبادلہ خیال کریں گے۔وزیرخارجہ نے یہ بھی وارننگ دی کہ تشددکے مسئلہ کوحل کئے بغیرترقی ممکن نہیں ہے ۔ یہ بھی قابل فکرپہلوہے کہ امریکہ اوربرطانیہ نے سخت نوٹس لیاہے اورعیسائی آؓبادی اس پرنوٹس لے رہی ہے لیکن مسلم ممالک بدستورخواب خرگوش میں بدمست ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عیسائیوں نے اپنے خلاف ہورہے تشددسے اپنی عالمی کمیونٹی کومطلع کردیا،ہوناتویہ چاہئے تھاکہ ہندوستان کی مسلم قیادت مسلم ممالک خصوصاََترکی اورسعودی عربیہ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے یاخطوط لکھ کرہندوستان کی صورتحال پرتوجہ مرکوزکرائے۔ایسے حالات میں عالمی دبائوبھی بہت ضروری ہے ۔کیونکہ تیل اورگیس سے مالامال ممالک کے نوٹس لینے کایقیناََحکومت ہندبلکہ آرایس ایس حکومت کی پالیسی پراثرپڑے گا۔
دوسری طرف ملک میں مسلمانوں کاالمیہ یہ ہے کہ وہ سیکولربننے کی چاہت اورغیرجانبدارکہلانے کی دوڑمیں کسی حدتک چلے جاتے ہیں۔بہت سے دانشورایسے ملیں گے جو سیکولرزم کے علمبردارکہلانے کاشوق رکھتے ہیں ۔سیکولرزم کامفہوم تویہ ہے کہ ہرمذہب کے احترام کے ساتھ ساتھ ملک غیرجانبدارہوگااوراس کے رہنے والے مذہب کوچھوڑکرنہیں بلکہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے ملک کی ترقی وتعمیرمیں برابرشریک رہیں گے،لیکن مسلمانوں میں سیکولربننے کابھوت کسی ا وراندازسے چڑھتاہے۔جب کہ دیگرانصاف پسندبرادران وطن کے نزدیک سیکولرزم کامفہوم اپنی کمیونٹی کوگالی دینانہیں ہے۔کیامسلمانوں کوسیکولراسی وقت سمجھاجائے گاجب وہ مندروں میں سرٹیکنے لگیں،فرقہ پرستوں کی تعریف کرنے لگیں۔
لیکن بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے والد سلیم خان نے ایک انگریزی اخبارکودیئے گئے انٹرویو میں سلیم نے صاف طور پر کہا کہ مودی قطعی کمیونل نہیں ہیں۔سلیم نے کہا کہ مسلمانوں کے رہنے کیلئے پوری دنیا میں بھارت سے اچھاملک ہو ہی نہیں سکتا۔سلیم نے کہاکہ اگر مسلمان اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ملک اور اس کے کلچر کی عزت کرنی ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس میں یقین رکھتے ہیں۔میں مسلمانوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ پاکستان، افغانستان، عراق یا ایران میں جاکر رہنا پسند کریں گے۔گرچہ سلیم نے ایوارڈز لوٹانے والوںکی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اس بات کو مان لینا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں پرابلم تو ہے اور یہ باہمی بات چیت سے حل کیاجاناچاہئے۔جن لوگوں نے ایوارڈ لوٹائے ہیں وہ پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ ہیں۔ان کی بات سنی جانی چاہئے اوراقتدار میں بیٹھے لوگوں کوان مسائل کے حل کی تلاش کرناچاہئے۔
مودی کادفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2014کے لوک سبھا انتخابات میں مودی لہر کے دوران کچھ ایسے لوگ بھی جیت گئے جو کم پڑھے لکھے ہیں۔جنہیں پارلیمنٹ کے کام اور جمہوریت کا مطلب ہی نہیں جانتے۔ایسے ہی لوگ غلط باتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔مودی کا خواب بڑا ہے، وہ خود ان چیزوں سے پریشان ہوں گے۔مودی نے مسلمانوں کے لئے بہت اسکیمیں لانچ کی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ جموں و کشمیر کے رکن اسمبلی انجینئر رشید نے بیف پارٹی دے انتہائی غلط حرکت کی۔وہ جانتے تھے کہ بیف کھانا غیر قانونی ہے۔یہ تو لوگوں کو بھڑکانے کا کام ہے۔ان میں سے کچھ باتوں کی تائیدکی جاسکتی ہے لیکن سلیم صاحب کایہ کہناکہ مسلمانوں کویہاں کے کلچرکی عزت کرنی ہوگی۔سلیم صاحب یہ کہناچاہتے ہیں کہ مسلمان یہاں کی تہذیب کااحترام نہیں کرتے حالانکہ ہندوستان کے متنوع کلچرکوان کے ممدوح کی حکومت بربادکررہی ہے جسے تکثیریت پریقین نہیں ہے۔یہاں کی تہذیب اورجمہوریت کی روح ہی یہی ہے کہ ہرایک کواس کے مذہب کے مطابق اوراس کے کلچرکے مطابق زندگی گذارنے کی مکمل آزادی ہو،لیکن جس طرح ایک مخصوص کلچرتھوپنے اورہندوتونظریہ پرپورے ہندوستان کوڈھالنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔یہ سازشیں مسلمان نہیں کررہے ہیں ان کے ممدوح کی سرپرستی میں ہورہی ہیں۔سلیم صاحب کوکلچراورروایت کے احترام کی نصیحت مودی اینڈکمپنی کوکرنی چاہئے۔وہ اگریہ بات نہ کہتے توانہیں کوئی فرقہ پرست نہیں کہتا۔کس کوکیاکھاناچاہئے،کس کی پلیٹ میں کیاہواورکیانہ ہو،کون کتنے بچے پیداکرے،اسکولوں میں کون کیاپڑھے اورکیاپڑھایاجائے۔یہ حق کس نے ان کی پارٹی کودیاہے۔کون نہیں جانتاکہ بی جے پی اورمودی سے سلیم صاحب اوران کے گھرانے کایارانہ کتناپراناہے۔لیکن انہیں کوئی حق نہیں پہونچتاکہ وہ مسلمانوں کے جمہوریت اورجمہوری قدروں میں یقین کرنے پرسوالیہ نشان لگادیں۔رواداری اورمذہبی تحمل پیداکرنے کی نصیحت مسلمانوں کوکرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ سب کہے بغیربھی سلیم صاحب سیکولرکہلاسکتے تھے۔مسلمان نے تواسی سیکولرزم کی حفاظت اس ملک میں کی ہے اس کیلئے اسے کسی کے بھی استحصال کاشکارہوناپڑے،اسے اس تنوع کوجوگنے کی بڑی قیمت اداکرنی پڑی ہے اورآج بھی سیکولرزم کی حفاظت اوروحدت میں کثرت کی روایت کی علمبرداری میں مسلمان سب سے آگے ہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

You might also like