مضامین ومقالاتنوائے خلق

امت مسلمہ کے نام دردبھراپیغام

محترم و مکرم جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
قطر کے خلاف بعض خلیجی ملکوں نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک غیرانسانی سلوک اور شرعی لحاظ سے ناجائز و حرام رویہ ہے، اس کی نظیر زمانہ جاہلیت میں شعب ابی طالب کے بائیکاٹ سے ملتی ہے، دو ملکوں میں باہم اختلاف و کشیدگی کا پایا جانا ایک عام سی بات ہے، مگر ایک ملک کو اناج، غذائی اجناس اور تمام تر زندگی کے وسائل سے محروم کرنے کی کوشش کرنا بذات خود دہشت گردی اور فتنہ انگیزی ہے۔فلسطین کی آزادی، مسجد اقصی کی بازیابی، اسرائیلی دہشت گردی سے پنجہ آزمائی اور غزہ کے نہتے مسلمانوں کی داد رسی کےلیئے ’’حماس‘‘ ہی ایک مخلص عنوان ہے، یہی وجہ کہ پوری دنیا کے مسلمان ان سے محبت اور قلبی تعلق رکھتے ہیں ، مگر اسلامی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ نام نہاد مسلم عرب حکمرانوں نے ان جانباز بندگان خدا کو دہشت گرد قرار دینے کی مجرمانہ سازش کی ، تاکہ اسرائیل کاظالمانہ و جابرانہ موقف مضبوط ہوسکے، اور مسلم امہ کے موقف کو کمزور اور بے وزن کیا جاسکے، نیز فلسطین کی سرزمین کو طشت میں رکھ کر یہودیوں کو پیش کیا جاسکے، اس ملت فروشی اور بےضمیری کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے، ظاہر ہے ان بدبخت حکمرانوں کی جانب سے حماس کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بعد اس میں کوئی شبہ نہین رہ جاتا کہ آل سعود و آل مکتوم یہودیوں کے ایجنٹ ہیں، جو عالم اسلام کو تہ و بالا کرنا چاہتے ہیں۔ اب امت ایسے مجرموں اور طاغوتوں کو اپنا قائد و زعیم نہیں سمجھ سکتی ہے ۔انسانی اور شرعی بنیادوں پر اس کی پر زور مذمت ہونی چاہیئے، اسلامی تعلیمات کے مطابق برائی اور ظلم و سفاکی کے خلاف یہ کمترین درجہ ہے، اگر اس پر بھی ہم آمادہ نہیں ہیں تو اپنے ایمان کو ٹٹولنا ہوگا !اسی طرح تازہ اطلاعات کے بموجب سعودی عرب، مصر، امارات اور بحرین نے مشترکہ طور پر مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرست میں امام یوسف القرضاوی کا نام بھی شامل کیا ہے۔ واضح رہے کہ علامہ شیخ یوسف القرضاوی اس وقت پوری دنیا میں بلند قامت عالم اور مفتی اعظم سمجھے جاتے ہیں، سو سے زائد ان کی کتابیں علماء کےلیئے مرجع کی حیثیت رکھتی ہیں ، ہندوستان کے معروف خدا ترس عالم دین و مفکر حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی اور امام یوسف القرضاوی کے بیچ نہایت احترام و محبت کا تعلق تھا ، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیخ القرضاوی کا کیا مقام و مرتبہ ہے، مگر حیرت و حسرت ہے آج کے نام نہاد عرب حکمرانوں پر، جو یہود و نصاری کے آلہء کار بنے بیٹھے ہیں ، اور اب ان کے ظلم و ستم سے علماء بھی محفوظ نہیں رہے ۔ سعودی عرب و دیگر ملکوں کے اس اقدام کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ’’آل سلول ‘‘ آج کے منافقین و ملحدین کے سرغنہ ہیں ۔اللہ انہیں کیفر کردار تک جلد پہنچائے ۔ان حالات کے پس منظر میں ہمارا ملی فریضہ ہے کہ :
1_۔ انفرادی و اجتماعی ہر سطح پر اس کی پر زور مذمت کی جائے۔ 2۔ سوشل میڈیا پر اس کے خلاف جم کر احتجاج کیا جائے۔ 3_- ان ظالم حکومتوں کے خلاف ملی جماعتیں اور تحریکیں قرار داد پاس کریں -4_- ان حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنے والی ہندوستانی ملی تحریکات اور دینی شخصیات سے مطالبہ کیا جائے کہ ان سے قطع تعلق کریں ، اور ان کے سیمنار و اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں –5_ جمعہ کے خطبات اور بیانات میں عوامی آگہی کےلیئے اس موضوع پر روشنی ڈالی جائے ، تاکہ حق و باطل کا فرق واضح ہوسکے -6_- ملکی سطح پر کام کرنے والی تحریکات اپنا مشترکہ مذمتی بیان اخبارات و ذرائع ابلاغ تک پہنچائیں -7_- فلسطین کے جانباز سپاہیوں سے اظہار یگانگت کی جائے ، اور اللہ سے ان کے لیئے مدد و نصرت طلب کی جائے۔8- اس آزمائش کی گھڑی میں خدا سے رجوع ہوں اور مظلوموں کےلیئے دعا کریں ۔
خیر اندیش / ابو الوفا ہندی

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker