اصلاح معاشرہمضامین ومقالات

اصلاح باطن ۔۔۔۔۔ضرورت واہمیت

مفتی محمدعبداللہ قاسمی
استادفقہ وادب دارالعلوم حیدرآباد
mob :8688514639
نفس کاتزکیہ اوراخلاق کی پاکیزگی وقت کی اہم ضرورت ہے،دنیوی واخروی فلاح وکامیابی کی شاہ کلیدہے،نفس کی تطہیراوراس کاتزکیہ کرنے سے انسان کااپنے خالق حقیقی سے رشتہ مضبوط اورپائیدارہوتاہے،دل کوسکون وطمانینت نصیب ہوتاہے،جب انسان اپنے دل کوگناہوں کی آلائشوں سے پاک کرتاہے تواس کواللہ کی محبت ومعرفت حاصل ہوتی ہے،اس کے دل کی خزاں رسیدہ کھیتی سرسبزوشاداب ہوتی ہے،باطن کے تزکیہ سے انسان کے ظاہری وبیرونی زندگی پرمثبت اورخوش گواراثرات پڑتے ہیں،انسان کے اعمال واخلاق درست ہوتے ہیں،فکرآخرت کی شمع فروزاں ہوتی ہے،اورشریعت کی ہدایا ت پرعمل کرنے کاجذبہ پیداہوتاہے۔
تزکیہ واصلاح باطن کی اہمیت
چوں کہ تزکیہ نفس اوراصلاح باطن ہرمومن کے لئے ازبس ضروری ہے،اوراس کے نتیجہ میں اعمال صالحہ اوراخلاق حسنہ وجودپذیرہوتے ہیں؛اسی وجہ سے قرآن کریم کے اندرسورئہ مومنون کی ابتدائی آیات میں فلاح وکامیابی سے ہمکنارہونے والے مومنین کی جہاں دیگرصفات ذکرکی گئی ہیں وہیں ایک صفت یہ بھی ذکرکی گئی ہے کہ وہ اپنے دلوں کاتزکیہ کرتے ہیں،چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:مومن لوگ فلاح پاگئے،جوخشوع کے ساتھ نمازپڑھتے ہیں،اورلغوباتوں سے اعراض کرتے ہیں،اوراپناتزکیہ کرتے ہیں(المومنون:۱تا۴)آپﷺکی بعثت کے جہاں دیگرمقاصدبیان کیے گئے ہیں وہیں آپﷺکاایک فرض منصبی یہ بھی ذکرکیاگیاہے کہ آپﷺمسلمانوں کے قلوب کاتزکیہ کرتے ہیں،اوران کے باطن کی اصلاح کرتے ہیں،چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:یقینا اللہ نے مومنوں پراحسان فرمایاکہ ان میں ایک رسول بھیجاجوان کے سامنے قرآن کی آیا ت پڑھتے ہیں،ان کوکتاب اورحکمت ودانائی کی باتوں کی تعلیم دیتے ہیں،اوران کاتزکیہ کرتے ہیں۔(آل عمران:۱۶۴)اللہ جل شانہ نے جنت میں داخلے کے لئے تزکیۂ نفس کوضروری قراردیاہے،چنانچہ اللہ تبارک وتعالی کاارشادہے:ہمیشہ کے باغات ہیں جس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی،یہ اس شخص کابدلہ ہے جس نے تزکیہ کیا(طہ:۷۶)ایک اورجگہ ارشادہوتاہے:یقینا فلاح پاگیاوہ شخص جس نے اپناتزکیہ کیا،اورناکام ونامرادہوگیاوہ شخص جس نے اس کوآلودہ کیا(الشمس:۸،۹)
تزکیہ کامفہوم
تزکیہ کے لغوی معنی پاک کرنے اورصفائی کرنے کے ہیں،اوراہل تصوف کی اصطلاح میںباطنی بیماریوں سے دل کے پاک کرنے کوتزکیہ واحسان کہتے ہیں،چاندسورج کی طرح یہ ایک سدابہارحقیقت ہے کہ انسا ن کے اخلاق واعمال کامنبع دل ہے،اگرانسان کادل اچھے اورپاکیزہ خیالات کی قرارگاہ ہے تواس کے اعضاء وجوارح سے اعمال صالحہ صادرہوں گے،اس کی رفتاراورگفتارمیں گلشن سیرت کے عطربیزپھولوں کی مہک ہوگی،اس کی زبان سے نکلنے والے کلمات پیام ربانی کاترجمان ہوگی،اوراس کاہراٹھنے والاقدم حکم ربانی کی تعمیل ہوگا،لیکن اگرانسان کادل برے اورمسموم خیالات کی آماجگاہ ہے تولازمی طورپرانسان کے اعضاء وجوارح سے معاصی اورسیئات کاصدورہوگا،اس کی رفتاراورگفتارسے ہرکوئی رنجیدہ ونالاں ہوگا،اوراس کاہراٹھنے والاقدم خدائے ذوالجلال وحدہ لاشریک لہ سے بغاوت اورسرکشی کے مترادف ہوگا؛اسی لئے انسان کے ظاہرکی اصلاح اوراس کے اعمال واخلاق کی پاکیزگی کے لئے دل کی اصلاح اورباطن کاتزکیہ موقوف علیہ کی حیثیت رکھتاہے،اسی وجہ سے سرکاردوعالم ﷺنے ارشادفرمایا:الاوان فی الجسد مضغۃ اذاصلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ الاوہی القلب(بخاری،حدیث نمبر:۵۲)آگاہ رہو!یقیناجسم میں ایک ٹکڑاہے،اگروہ صحیح سلامت رہے توپوراجسم صحیح سلامت رہتاہے،اورجب وہ ٹکڑاخراب ہوجائے توپوراجسم خراب ہوجاتاہے،سنووہ ٹکڑادل ہے،دل ہی چوں کہ اخلاق کامنبع وسرچشمہ ہے،اوراعمال کی صلاح ودرستگی کے لئے دل کاتزکیہ بے حدضروری ہے؛اسی وجہ سے آپﷺنے ارشادفرمایا:ان اللہ لاینظرالی صورکم واموالکم ولکن ینظرالی قلوبکم واعمالکم(۲۵۶۴)اللہ تعالی تمہاری صورتوں اورتمہارے مالوں کونہیں دیکھتے ؛بلکہ وہ تمہارے دلوں اورتمہارے اعمال کودیکھتے ہیں۔
باطنی بیماریاں
ہمارے مسلم معاشرے میں بہت سے ایسے گناہ پائے جاتے ہیں جن کاتعلق قلب سے ہے،اوراس میں عام ابتلاء پایاجاتاہے،اوراسے امت مسلمہ کی بدقسمتی اورحرماں نصیبی کہیے کہ باطنی گناہوں سے ان میں عام غفلت اورلاپرواہی پائی جاتی ہے،اوران کے گناہ ہونے کاتصورختم ہوتاجارہاہے،چہ جائیکہ اس کی اصلاح وازالہ کی فکرکی جائے اوران سنگین گناہوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی سنجیدہ جدوجہدکی جائے،ذیل میں چندباطنی بیماریوں کاتذکرہ کیاجاتاہے:
تکبروخودپسندی
دل کی بیماریوں میں سے ایک سنگین اوردنیاوآخرت کوتباہ وبربادکرنے والی بیماری تکبروخودپسندی ہے،اپنے آپ کوبڑاسمجھنااوردوسروں کوذلیل وحقیرخیال کرناایسامہلک گناہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان ذلت وناکامی سے دوچارہوتاہے،شکستہ پائی وزبوں طالعی اس کامقدرہوتی ہے،تکبروعجب کی وجہ سے نہ صرف اللہ کاغضب وغصہ نازل ہوتاہے ،اورخداکی نظروں میں وہ معتوب ہوتاہے؛بلکہ خودلوگ اسے حقیراورذلیل سمجھتے ہیں،اس کے اخلاقی رویہ سے لوگ پریشان اورکبیدہ خاطرہوتے ہیں،جب کوئی جماعت اجتماعی طورپراس مہلک مرض کی شکارہوجاتی ہے ،اورتکبروخودپسندی ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے تووہاں ایک دوسرے کے حقوق پامال ہوتے ہیں،اورلڑائی جھگڑے اورکشت وخون کی فضاعام ہوتی ہے،یہ کبراورعجب پسندی ہی تھی کہ جس کی وجہ سے ابلیس نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کوسجدہ کرنے سے انکارکردیا،اوراس کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے مردودہوگیا،چوںکہ یہ مرض بڑاسنگین اورتباہ کن ہے اوردونوں جہاں میں محرومی وبدبختی کاذریعہ ہے ؛ اسی وجہ سے رسول اکرمﷺنے امت کواس سے مجتنب رہنے کی تاکیدکی ہے،اورمختلف پیرایہ میں تکبروعجب پسندی کی مذمت بیان کی ہے،چنانچہ آپﷺکاارشادہے:لایدخل الجنۃ من فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر(صحیح مسلم ،حدیث نمبر:۹۱)جنت میں ایساشخص داخل نہ ہوگاجس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابرکبرہو۔ایک روایت میںہے:آپﷺنے صحابہ کرام سے دریافت کیاکہ کیامیں تمہیں جنتی لوگوں کے بارے میں نہ بتلائوں ؟صحابہ کرام نے عرض کیا:کیوں نہیں !اے اللہ کے رسول!آپﷺنے فرمایا:ہرایساشخص جوکمزورہواورلوگ اسے کمزورسمجھتے ہوں(لیکن ان کااللہ عزوجل کی نگاہوں میں یہ مقام ہوکہ)اگرکسی بات کی قسم کھالیں تواللہ تعالی اسے پوری فرمادیں،پھرآپﷺنے فرمایا:کیامیں تمہیں جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتلائوں ؟صحابہ کرام نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!آپﷺنے فرمایا:ہرایساشخص جوسخت جھگڑالوہو،اکڑکرچلتاہواورمتکبرہو۔(بخاری،حدیث نمبر:۴۹۱۸)متکبراورعجب پسندی میں مبتلاشخص کے لئے احادیث شریفہ میں جواتنی سخت وعیدیں واردہوئی ہیںان کااصل سبب یہ ہے کہ تکبرکاراست اثرانسان کے اعمال واخلاق پرپڑتاہے،اخلاق کی لطافت وپاکیزگی جس پرآپﷺنے جنت کی بشارت سنائی ہے،اوراسے مومنوں کازیورقراردیاہے ،اگرانسان کے دل میں رائی کے برابربھی کبرآجائے تووہ اس کے اخلاق کے سرسبزوشاداب پھول مرجھاجاتے ہیں،اوراس کارویہ دوسروں کے ساتھ منفی اورتحقیرآمیزہوتاہے۔
حسد
دل کی بیماریوں میں سے ایک عام بیماری حسدہے،حسد بہت ہی مذموم اوربری خصلت ہے،کسی کی نعمتوں اورآسائشوں پرحسدکرنااوراس کے ختم ہوجانے کی تمناکرنادراصل قسام ازل کے طریقۂ تقسیم پرراضی نہ ہوناہے،حسد کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ انسان اپنے لئے ذہنی تشویش وپراگندگی اور رنج وغم کاسامان مہیاکرتاہے؛بلکہ وہ خودلوگوں کی نگاہوں میں مبغوض اورقابل نفرت ہوجاتاہے،اسی وجہ سے آپﷺنے امت کواس سے کنارہ کش رہنے کی تلقین کی ہے،حضرت زبیربن عوام ؓفرماتے ہیں کہ آپﷺنے ارشادفرمایا:تم لوگوں میں پچھلی قوموں کے مرض حسدوبغض میں مبتلاہوجائوگے،غورسے سنوکہ حسد وبغض مونڈنے والاہے،میں نہیں کہتاکہ وہ سرکومونڈنے والاہے؛لیکن وہ دین کومونڈنے والاہے۔(ترمذی،حدیث نمبر:۲۵۱۰)ایک روایت میں آپﷺکاارشادگرامی ہے:کسی انسان کے دل میں ایمان اورحسد جمع نہیں ہوسکتے(فتخ الغفارالجامع لاحکام سنۃ نبیناالمختار،حدیث نمبر:۲۷۶۱)ایک حدیث میں ہے:لوگ برابرخیراوربھلائی میں رہیں گے جب تک کہ وہ حسد کے شکارنہ ہوں(کنزالعمال،حدیث نمبر:۷۴۴۹) ایک روایت میںہے:تم حسد سے بچو؛کیوں کہ حسدنیکیوں کوایسے ہی کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑیوں کوکھاجاتی ہے۔(ابودائود،حدیث نمبر:۴۹۰۳)
بغض وعداوت
باطنی امراض میں سے ایک مرض بغض وعداوت ہے،کسی سے دل میں بغض اوردشمنی رکھنااورنفرت کرناسنگین گناہ ہے،اللہ عزوجل کے غضب وغصہ کاسبب ہے،آپﷺنے امت کواس مذموم خصلت سے دوررہنے کاحکم دیاہے،آپﷺکاارشادگرامی ہے:ایک دوسرے سے بغض مت رکھو،ایک دوسرے سے حسدمت کرو،ایک دوسرے سے پشت مت پھیرو،اورتم اے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن کررہو۔(بخاری،حدیث نمبر:۶۰۶۶)اگرکسی وجہ سے نااتفاقی اورناچاقی پیش آجائے توجلد سے جلدصلح کرلینے اوردل کوایک دوسرے سے صاف کرلینے کاشریعت مطہرہ نے حکم دیاہے،چنانچہ آپﷺنے ارشادفرمایا:کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔(بخاری،حدیث نمبر:۶۰۶۵)
شہرت طلبی
دل کی بیماریوںمیں سے ایک بیماری شہرت طلبی ہے،آدمی کوئی نیک کام انجام دے،اوراس کی خواہش یہ ہوکہ لوگ میری تعریف کریں،اورمیرے عمل کوسراہیں،یہ ایسی سنگین اورتباہ کن بیماری ہے کہ اس سے نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں،اوراللہ کی نگاہوں میں اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی،آپﷺکاارشادگرامی ہے:قیامت کے دن سب سے پہلے جس کافیصلہ کیا جائے گاوہ شہیدآدمی ہوگا،اس کواللہ کی بارگاہ میں حاضرکیا جائے گا،اللہ تعالی اس کواپنی نعمتیں یاددلائیں گے ،وہ شخص اللہ کی نعمتوں کااعتراف کرے گا،اللہ تبارک وتعالی اس پوچھیں گے کہ تم نے ان نعمتوں کوکس میں صرف کیا؟وہ کہے گاکہ میں تیری راہ میں جہادکیاحتی کہ شہیدہوگیا،اللہ تعالی فرمائیں گے کہ توجھوٹ کہتاہے،تونے اس لئے جہادکیاتاکہ لوگ تجھے بہادرکہیں ،سووہ کہاجاچکا،پھراللہ تعالی فرشتوں کوحکم دیں گے کہ اس کومنہ کے بل گھسیٹ کرجہنم میں داخل کردو،چنانچہ اس کوجہنم میں ڈال دیاجائے گا،دوسرے عالم شخص کوبلایاجائے گا،اللہ تعالی اس کواپنی نعمتیں یاددلائیں گے ،وہ شخص اللہ کی نعمتوں کااعتراف کرے گا،اللہ تبارک وتعالی اس پوچھیں گے کہ تم نے ان نعمتوں کوکس میں صرف کیا؟وہ عرض کرے گاکہ میں نے تیری خاطرلوگوں کوعلم سکھلایا،اللہ فرمائیں گے کہ توجھوٹ بکتاہے،تونے تولوگوں کوعلم سکھلایا؛تاکہ لوگ تجھے عالم کہیں ،سوہ کہاجاچکاہے،پھراللہ تعالی فرشتوں کوحکم دیں گے کہ اس کومنہ کے بل گھسیٹ کرجہنم میں داخل کردو،چنانچہ اس کوجہنم میں ڈال دیاجائے گا،اورایک مالدارشخص کوبلایاجائے گا،اللہ تعالی اس کواپنی نعمتیں یاددلائیں گے ،وہ شخص اللہ کی نعمتوں کااعتراف کرے گا،اللہ تبارک وتعالی اس پوچھیں گے کہ تم نے ان نعمتوں کوکس میں صرف کیا؟وہ عرض کرے گاکہ مال خرچ کے جتنے راستے تجھے محبوب اورپسندیدہ تھے میں ان سب راستوں میں تیری رضاکے لئے مال خرچ کیا،اللہ فرمائیں گے کہ توجھوٹ بکتاہے،تونے یہ سب اس لئے کیا؛تاکہ لوگ تجھے سخی اورفیاض کہیں ،سوہ کہاجاچکاہے،پھراللہ تعالی فرشتوں کوحکم دیں گے کہ اس کومنہ کے بل گھسیٹ کرجہنم میں داخل کردو،چنانچہ اس کوجہنم میں ڈال دیاجائے گا(مسلم،حدیث نمبر:۱۹۰۵)
بدگمانی
دل کی بیماریوں میں سے ایک بیماری بدگمانی ہے،بدگمانی وہ زہرہلاہل ہے جواجتماعی زندگی کی بنیادوں کوکمزورکردیتاہے،اورمہرووفااورمحبت والفت کے پائیداررشتہ کونفرت وعداوت میں تبدیل کردیتاہے،یہ وہ جان لیوامرض ہے کہ جب کوئی گروہ اورجماعت اس مرض کاشکارہوتی ہے تووہ بے اعتمادی اوربے اطمینانی کی فضاعام ہوجاتی ہے،اورایک دوسرے پرالزامات واتہامات کاایک لامتناہی سلسلہ چل پڑتاہے،اسی وجہ سے اللہ تبارک وتعالی نے اہل ایمان کواس سے بچنے کی تاکیدکی ہے،اللہ تعالی کاارشادہے:اے ایمان والو!کثرت گمان سے بچو؛کیوں کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ایک حدیث میں آپﷺکاارشادگرامی ہے:بدگمانی سے بچو؛کیوں کہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے،دوسروں کی ٹوہ میں نہ لگو،دوسرون کی جاسوسی نہ کرو،دوسروں پربڑھنے کی بے جاہوس نہ کرو،نہ آپس میں حسدکرواوربغض رکھواوراے اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن کررہو(بخاری،حدیث نمبر:۶۰۶۶)
یہ وہ باطنی امراض ہیں جن سے چھٹکاراحاصل کرنے کے لئے اولیاء اللہ اوربزرگان دین کی صحبت ازحدضروری ہے،اپنے لوح قلب کوآئینہ کی طرح مجلی ومصفی کرنے کے لئے اپنے کو کسی محرم اسراراورمردراہ بیںکے حوالہ کرنااوران سے اکتساب فیض کرناناگزیرہے،اس کے بغیرنفس کاتزکیہ اورباطن کی اصلاح کماحقہ مشکل ہے۔اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ امت مسلمہ کی جملہ ظاہری وباطنی گناہوںسے محفوظ رکھے ،آمین ثم آمین۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker