اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

تراویح میں کس تاریخ کو ختم قرآن مجید بہتر ہے ؟
سوال:- نماز تراویح کس دن ختم کرنا افضل ہے اور ختم قرآن کا طریقہ کیا ہے ؟
( حافظ مجیب احمد ، نِرمل)
جواب :- رمضان المبارک کی کس تاریخ کو تراویح میں قرآن مجید مکمل کرنا افضل ہے ؟ حدیث میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ؛ کیوںکہ رسول اللہ ا نے اس اندیشہ سے کہ کہیں یہ نماز فرض نہ ہوجائے اور اُمت کے لئے مشقت کا باعث نہ بن جائے ، اس نماز کو جماعت کے ساتھ چند ہی دنوں ادا فرمایا ، پورے مہینہ آپ ایہ نماز نہیں پڑھ سکے ، اور نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ آپ انے نماز کے اندر قرآن مجید مکمل فرمایا ؛ لیکن فقہاء نے اس بنیاد پر کہ شب ِقدر ایک مبارک رات ہے اور اس وجہ سے کہ ستائیسویں شب کو شب ِقدر ہونے کا زیادہ امکان ہے ، ستائیسویں شب کو تراویح ختم کرنے کو بہتر اور مستحب قرار دیا ہے : ’’ ومنھم من استحب الختم فی لیلۃ السابع والعشرین رجاء أن ینالوا لیلۃ القدر ؛ لأن الأخبار تظاھرت علیھا‘‘ ( ردالمحتار : ۲؍۴۶) — آج کل عام مزاج یہ ہوگیا ہے کہ تراویح میں قرآن مجید مکمل ہوجانے کے بعد لوگ سمجھتے ہیں کہ گویا تراویح کی اہمیت ہی ختم ہوگئی اور خاص کر نوجوان بازاروں میں وقت گزارا کرتے ہیں ؛ اس لئے بہتر ہے کہ ۲۹؍ویں شب میں قرآن مجید ختم کیا جائے ؛ تاکہ اخیر تک لوگوں میں تراویح کا اہتمام باقی رہے ۔
رسول اللہ ا نے ایسے مسافر کی تعریف کی ہے ، جو اپنی منزل پر پہنچ کر پھر سفر شروع کردے ، (سنن ترمذی : ۵؍۴۵ ، ابواب القراء ات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید مکمل کرنے کے ساتھ ہی پھر قرآن مجید کا اگلا دور شروع کردے ؛ تاکہ قرآن مجید سے تعلق ، رغبت اور شغف کا اظہار ہو ، فقہاء نے اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس بات کو مستحب قرار دیا ہے کہ جب قرآن مجید ختم ہو ، تو ۱۹ ؍ویں رکعت میں سورۂ ناس اور سورۂ فلق پڑھ لے اور بیسویں رکعت میں سورۂ بقرہ کا ابتدائی حصہ ؛ تاکہ اس حدیث پر عمل ہوجائے : ’’ إذا ختم القرآن فی التراویح وفرغ من المعوذتین فی الرکعۃ الأولیٰ یرکع ، ثم یقرأ فی الثانیۃ بعد الفاتحۃ شیئاً من سورۃ البقرۃ‘‘ ۔
(فتاویٰ سراجیہ : ۲۱ ، نیز دیکھئے : کبیری : ۴۶۳)
تلاوت کے درمیان رسول اللہ ا کا ذکر آجائے
سوال:- اگر کوئی شخص قرآن مجید کی تلاوت کررہا ہو ، اس درمیان رسول اللہ ا کا ذکر آجائے اور تلاوت کرنے والا اس کو سن لے تو کیا اس کو تلاوت روک کر درود شریف پڑھنا چاہئے یا تلاوت جاری رکھنی چاہئے ؟ (محمود احمد ، ٹولی چوکی )
جواب :- تلاوت ِقرآن بھی بڑا اہم عمل ہے اور رسول اللہ اپر صلاۃ وسلام بھی ، اب اگر تلاوت کے درمیان رُک کر صلاۃ وسلام پڑھا جائے تو اس سے تلاوتِ قرآن میں تسلسل باقی نہیں رہ سکے گا ؛ اس لئے تلاوت روک کر درُود شریف پڑھنا ضروری نہیں ہے ، ہاں ، یہ بات بہتر ہے کہ جب تلاوت سے فارغ ہوتو درود شریف پڑھ لے ؛ تاکہ تلاوت بھی بغیر خلل کے ہوجائے اور رسول اللہ اکے ذکر مبارک پر درود شریف کا اہتمام بھی ہوجائے : ’’ رجل یقرأ القرآن فسمع اسم النبی صلی اﷲ علیہ وسلم ، ذکر الناطفی رحمہ اﷲ تعالٰی : أنہ لا یجب علیہ الصلاۃ والتسلیم ؛ لأن قرأۃ القرآن علی النظم والتالیف أفضل من الصلاۃ علیہ صلی اﷲ علیہ وسلم ، فإذا فرغ من القرآن صلی اﷲ علیہ وسلم کان حسنا و إن لم یصل فلا شئی علیہ ‘‘ ۔ ( فتاویٰ قاضی خان : ۳؍۲۵۹)
ایک مسکین کو کئی روزوں کا فدیہ
سوال:- میرے والد بہت ضعیف ہیں ان کی طرف سے فدیہ ادا کرنا ہے تو کیا ایک مسکین کو کئی روزوں کا فدیہ دیا جاسکتا ہے یا ہر فدیہ الگ الگ شخص کو دینا ضروری ہے ؟ ( صدرالحسن ، گنٹور)
جواب :- فدیہ دینے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر روزے کا فدیہ الگ الگ شخص کو دیاجائے ، اگر ایک ہی شخص کو کئی دنوں کا فدیہ دے دیا جائے تو بھی جائز ہے : ’’ وللشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر ویفدی وجوبا ولو فی أول الشھر وبلا تعدد فقیر کالفطرۃ ‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۲؍۴۲۷)
فدیہ کی مقدار
سوال:- روزے کے فدیہ کی مقدار کیا ہے ، کیا فدیہ میں گیہوں دینا ضروری ہے ، یا اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے ؟ ( عثمان خان ، کنگ کوٹھی)
جواب :- فدیہ کے لئے اصل حکم یہ ہے کہ مسکین کو کھانا کھلایا جائے ، چاہے انسان اپنے گھر پر کھلادے یا اس کو کھانا پہنچادے ، یا کسی ہوٹل میں انتظام کردے کہ وہ فقیر وہاں آکر کھانا کھا لیا کرے ، روزہ کا زمانہ نہ ہو تو دوپہر اور رات کا کھانا کھلانا چاہئے ، اور روزہ دار ہو تو مغرب بعد کا اور سحری کا کھانا کھلانا چاہئے ، اصل حکم یہی ہے ؛ لیکن فقہاء نے صدقۃ الفطر کے حکم کو سامنے رکھتے ہوئے یہ رائے اختیار کی ہے کہ ایک روزہ کے بدلے ایک صدقۃ الفطر کے بقدر گیہوں دے دے ، جس کی مقدار احناف کے نزدیک پونے دو کیلو کے قریب ہوتی ہے ، یا پھر اس کی قیمت دے دے ؛ لیکن اس حقیر کا خیال ہے کہ گزشتہ زمانے میں غذائی اشیا بہت سستی تھیں اور پونے دو کیلو گیہوں کی قیمت میں غالباً لوگ دو وقت کا کھانا کھالیا کرتے تھے ، موجودہ دور میں اتنے پیسوں میں ایک وقت کا کھانا بھی آسودہ ہوکر نہیں کھایا جاسکتا ہے ؛ اس لئے چوںکہ اصل حکم مسکین کو کھانا کھلانے کا ہے ؛ لہٰذا یا تو کھانا کھلانا چاہئے ، یا اتنے پیسے دینا چاہئے کہ وہ اس میں دو وقت آسودہ ہوکر کھالے ، مثلاً : موجودہ دور میں معمولی کھانا کھانا چاہے تب بھی شاید پچاس روپئے سے کم میں نہیں کھاسکے گا ؛ اس لئے ایک روزے کا کم سے کم سو روپے فدیہ ادا کرے ۔
اگر نماز عید فوت ہوجائے؟
سوال:- اگر کسی شخص کی نماز عید فوت ہوجائے تو اس کی ادائے گی کی کیا صورت ہے ؟ ( محمد عاصم ، دہلی)
جواب :- عید کی نماز کا پہلے سے اہتمام کرنا چاہئے کہ کم سے کم سال میں ایک دفعہ آنے والی یہ نماز تو فوت نہ ہوجائے ؛ تاہم اگر کسی کی نمازِ عید چھوٹ ہی گئی اور کم سے کم دو اور حضرات کی نماز چھوٹ گئی ہو تو ان کے لئے گنجائش ہے کہ دوبارہ نمازِ عید کی جماعت بنالیں ، اور اگر تنہا ہو تو چوںکہ نماز عید میں جماعت ضروری ہے ؛ اس لئے وہ تنہا عید کی نماز نہیں پڑھ سکتا ہے ؛ کیوںکہ عید کی نماز کا ثبوت جماعت کے ساتھ ہی ہے ؛ لہٰذا جس کی عید کی نماز چھوٹ گئی ، اب اس پر اس کے بدلے میں کوئی نماز واجب نہیں ؛ البتہ بہتر ہے کہ وہ دو رکعت یا چار رکعت نماز چاشت کی نیت سے پڑھ لے کہ شاید یہ اللہ کے نزدیک نمازِ عید کا بدل ہوجائے : ’’ ولا شئی علٰی من فاتتہ صلاۃ العید مع الإمام … ولکنہ إن أحب صلی رکعتین إن شاء و ان شاء أربعاً کصلاۃ الضحیٰ فی سائر الأیام‘‘ ۔ ( المبسوط للسرخسی : ۲؍۳۹)
روزہ میں خون دینا
سوال:- میں پیشے سے ڈاکٹر ہوں ، بہت سی دفعہ مریضوں کو خون کی ضرورت پڑ جاتی ہے ، اگر کوئی روزہ دار شخص خون دینے کو تیار ہو تو کیا اس کا خون لیا جاسکتا ہے یا اس کی وجہ سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ؟ ( ڈاکٹر احتشام ، ممبئی)
جواب :- فطری راستہ سے کوئی چیز جسم کے اندر داخل کی جائے ، اس سے روزہ ٹوٹتا ہے ، اندر سے کوئی چیز باہر نکالی جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ؛ اس لئے اگر کوئی شخص اپنا خون دے تو چوںکہ خون جسم سے باہر نکالا جاتا ہے اور یہ نکالنا بھی قدرتی راستہ سے نہیں ہوتا ہے ؛ اس لئے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ؛ البتہ اگر اندیشہ ہو کہ اس کی وجہ سے وہ اپنے روزہ کو برقرار نہیں رکھ سکے گا تو اس کو شدید ضرورت کے بغیر خون نہیں دینا چاہئے : ’’ لا خلاف أن الفصد والجراحۃ وسائر مایوجب إخراج الدم من البدن لا یوجب الإفطار‘‘ ۔
(شرح مختصر الطحاوی : ۲؍۴۳۷)
کیا نکسیر سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
سوال:- مجھے نکسیر پھوٹنے کی بیماری ہے ، جب گرمی کی شدت پیدا ہوتی ہے تو ناک سے خون آنے لگتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ خون ناک سے حلق کی طرف چلا جاتا ہے ، ایسی صورت میں روزہ درست ہوجائے گا یا ٹوٹ جائے گا ؟ ( عبید اللہ ، سلطان شاہی )
جواب :- روزہ ٹوٹنے کے لئے یہ بات ضروری نہیں ہے کہ بالارادہ ناقض صوم کا ارتکاب کیا گیا ہو ، اگر بلا ارادہ بھی کھانے پینے کی کوئی چیز حلق میں پہنچ گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ؛ اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر آنسو ، پسینہ یا نکسیر کا خون آدمی کے حلق میں داخل ہوجائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا ، اور اس کا اندازہ مزے سے لگایا جائے گا ، اگر خون کا مزا منھ میں محسوس ہو تو یہ حلق تک خون کے پہنچنے کی دلیل سمجھی جائے گی : ’’لو دخل دمعہ أو عرق جبینہ أو دم رعافہ حلقہ فسد صومہ یوافق ماذکرتہ فإنہ حلق بوصولہ الی الحلق ، ومجرد وجدان الملوحۃ دلیل ذالک ‘‘ ۔ (فتح القدیر : ۲؍۳۳۲)
اعتکاف کی قضاء
سوال:- اعتکاف شروع کیا اور ایک دو دن اعتکاف کرنے کے بعد کسی وجہ سے اعتکاف توڑ دینا پڑا تو کیا اس کی قضا ، واجب ہے ؟ ( قمر الزماں ، صلالہ )
جواب :- اگر اعتکاف کی نذر نہیں مانی گئی ہو تو اعتکاف واجب نہیں ؛ اس لئے بعض اہل علم کے نزدیک اگر اعتکاف توڑ دے تو قضا واجب نہیں ؛ لیکن امام ابوحنیفہؒ کے ایک اور قول کے مطابق جس دن کا اعتکاف توڑا ہے ، اس دن کے بدلے ایک دن کے اعتکاف کی قضا کرنی ہوگی : ’’ ولو شرع فیہ ثم قطع لا یلزمہ القضاء ، وفی روایۃ الأصل وفی روایۃ الحسن یلزمہ ، وفی الظھیریۃ عن أبی حنیفۃ رحمہ اﷲ ، أنہ یلزمہ یوماً ‘‘ ۔ (فتاویٰ تاتار خانیہ : ۲؍۴۱۴ ، الفصل الثانی عشر فی الاعتکاف)

عید مبارک کہنا
سوال:- ہندوستان میں ایک دوسرے کو عید کے دن اور عید کی نماز کے بعد مبارک باد دینے اور عید مبارک کہنے کا رواج ہے ، کیا یہ کہنا درست ہے یا یہ بدعت میں شامل ہے ؟ ( توقیر احمد ، سعیدآباد)
جواب :- عید مبارک بطور اظہار مسرت اور تہنیت کے کہا جاتا ہے ، ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، بعض اہل علم نے نقل کیا ہے کہ صحابہ جب عید کے دن ایک دوسرے سے ملتے تو ’’ تقبل اﷲ منا ومنکم‘‘ کہا کرتے تھے ، اسی سے استدلال کرتے ہوئے علامہ طحاویؒ نے ایسا کہنے کو مستحب قرار دیا ہے ، اظہار اور تبریک کے الفاظ ہر جگہ کے عرف کے اعتبار سے الگ الگ ہوتے ہیں ، شام اور مصر وغیرہ کے بارے میں بھی فقہاء نے نقل کیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ’’ عیدٌ مبارکٌ علیک‘‘ کہا کرتے تھے اور اس کوبھی علامہ طحاویؒ نے بہتر طریقۂ تہنیت قرار دیا ہے : ’’وکان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إذا التقوا یوم العید یقول بعضھم لبعض تقبل اﷲ منا ومنکم ، قال وأخرجہ الطبرانی أیضا فی الدعاء بسند قوی الخ قال والمتعامل بہ فی البلاد الشامیۃ والمصریۃ قول الرجل لصاحبہ : عید مبارک علیک ونحوہ ، ویمکن أن یلحق ھذا اللفظ بذلک فی الجواز الحسن واستحبابہ لما بینھما من التلازم الخ ‘‘ ( طحطاوی علی المراقی : ۵۳۰ ) — بدعت ایسی چیزیں ہوتی ہیں ، ججن کو عبادت اور دینی عمل سمجھ کر کیا جائے ، خوشی کے موقع پر مبارک پیش کرنا اُمور عادت کے دائرے میں آتا ہے ؛ اس لئے اگر اس کو لازم اور دین کا کوئی عمل سمجھے بغیر کیا جائے تو یہ بدعت نہیں ہے ۔ واللہ اعلم
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker