Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

معذور شخص کا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا اور سجدہ کرنا
سوال :-  کچھ سالوں سے مختلف مقامات پر یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ضعیف اور معذور حضرات کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں ، جب سجدہ کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ حضرات اپنے دونوں ہاتھ سامنے پھیلاتے ہیں ، جیساکسی بچے کے سر پر ہاتھ پھیر رہے ہوں ، وہ اس طرح سے نماز ادا کرتے ہیں ، میں نے پڑھا تھا کہ سجدہ میں سات اعضاء کا زمین پر لگنا واجب ہے ، جس میں پیشانی بھی داخل ہے ، سجدہ ایسی چیز پر کرنا چاہئے جو سخت اور جمی ہوئی ہو ، جس پر پیشانی ٹھہر سکے ، یہ جو حضرات سجدہ کے وقت ہاتھ پھیلاتے ہیں کیا یہ طریقہ صحیح ہے ؟ اگر نہیں تو پھر کرسی پر نماز پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ، بعض مساجد میں کرسی کے سامنے اسٹول رکھ کر نماز پڑھتے ہیں ، سجدہ کے وقت سر اپنا اسٹول پر رکھتے ہیں ، ایک ہی مسجد میں دو طرح کی نماز ادا ہوتی ہے ، یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کی نماز صحیح ہے ؟ — حیدرآباد میں تو کئی مساجد میں امام صاحب بھی کرسی پر نماز پڑھتے ہیں ، مگر ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوتا ، صرف ہاتھ پھیلاکر سجدہ ادا کرتے ہیں — آپ سے گذارش ہے کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور کس طرح سے نماز پڑھنی چاہئے ، وہ حضرات جو اسٹول سامنے رکھ کر نماز پڑھتے ہیں کیا وہ صحیح ہیں ، یا وہ حضرات جو صرف سجدہ کے وقت ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ طریقہ صحیح ہے ؛ چوںکہ میں بھی ایک معذور ہوں اور اسٹول سامنے رکھ کر نماز پڑھتا ہوں ۔ (حافظ انور ، مہدی پٹنم)

جواب :-  نماز میں قیام ، رُکوع ، سجدہ اور قعدہ فرض ہے اور ان کی ہیئت خود رسول اللہ ا نے مقرر فرمائی ہے ؛ اس لئے جب تک آدمی مجبور نہ ہو ، اس کو ان افعال کی اصل ہیئت کی رعایت کے مطابق ہی نماز پڑھنی چاہئے ، افسوس کہ ادھر اس میں لوگ بہت تساہل سے کام لینے لگے ہیں اور معمولی مشقت کی بنیاد پر کرسی کا سہارا لیتے ہیں ، یہ قطعاً درست نہیں ہے ، کرسی پر نماز پڑھنا اصل میں ان لوگوں کے لئے درست ہے ، جو قعدہ کی کیفیت پر بیٹھنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں ، یا اس طرح بیٹھنے میں اس کو بڑی مشقت ہوتی ہو ، اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے ، جو سجدہ اپنی ہیئت پر نہیں کرسکتے ، اس کے علاوہ لوگوں کے لئے کرسی پر نماز پڑھنا درست نہیں ، جو لوگ سجدہ اور قعدہ نہیں کرسکتے ہیں ؛ لیکن کھڑے ہونے اور رُکوع کرنے پر قادر ہیں ، ان کو قیام اور رُکوع اس کی اصل ہیئت کے مطابق کرنا چاہئے ، مذکورہ تفصیل کے مطابق معذور ہونے کی وجہ سے اگر کوئی شخص کرسی پر نماز پڑھتا ہے تو اسے یہ بات سمجھنی چاہئے کہ وہ اشارہ سے سجدہ کررہا ہے اور رُکوع ، سجدہ وغیرہ میں معذور شخص کے لئے سر کا اشارہ مطلوب ہے نہ کہ ہاتھوں کا ؛ اس لئے جب کرسی پر نماز پڑھے تو سر کے اشارہ سے کام لے ، اگر رُکوع اورسجدہ دونوں اشارہ سے کررہے ہوں تو سجدہ کا اشارہ بمقابلہ رُکوع کے زیادہ جھکتا ہوا ہونا چاہئے ، ہاتھ آگے بڑھا کر اور جھکاکر اشارہ کرنا درست نہیں ، نہ صرف یہ کہ اس طرح سجدہ درست نہیں ہوگا ؛ بلکہ اس میں نماز کے فاسد ہوجانے کا اندیشہ ہے ؛ کیوںکہ یہ نماز سے زائد عمل ہے اورنماز میں زائد عمل کی مقدار کثیر ہو تو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ، نیز اگر سر نہیں جھکایا ، صرف ہاتھ آگے بڑھاکر جھکادیا تو اس کا سجدہ نہیں ہوا ، — اسی طرح سامنے اسٹول رکھ کر اس پر سجدہ کرنا ایک بے فائدہ عمل ہے ؛ البتہ اگر اسٹول اتنا نیچا ہو کہ سر جھکانے کی کیفیت پوری ہو جاتی ہو تو نماز ہوجائے گی ، اشارہ سے سجدہ کرنے میں اصل تو یہ ہے کہ اس کا سر اس کے گھٹنوں کے مقابل آجائے ، اگر اتنا نہ جھکا سکتا ہو تو جتنا جھکا سکتا ہو اتنا جھکائے ، اسٹول رکھنے سے یہ اندیشہ ہے کہ سجدہ میں جتنی مقدار جھکنا مطلوب ہے ، وہ مقدار پوری نہ ہو — رہ گیا امام صاحب کا کرسی پر نماز پڑھانا تو اگرچہ احناف کے یہاں عذر کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کی کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے اقتداء کر سکتے ہیں ؛ لیکن بعض فقہاء کے نزدیک کھڑے ہوکر نماز پڑھنے والے بیٹھے ہوئے شخص کی اقتداء نہیں کرسکتے ، اور جہاں تک ممکن ہو ایسے طریقہ پر عمل ہونا چاہئے ، جو تمام فقہاء کی رائے پر درست ہوجائے ؛ تاکہ اس کے درست ہونے میں کوئی شبہ نہ رہے ؛ لہٰذا ایسے معذور شخص کو مستقل امام مقرر کرنا یا وقتی طورپر بھی ایسی جگہ امام بنانا جہاں غیر معذور لوگ موجود ہوں مناسب نہیں ، ( راقم الحروف نے سہ ماہی بحث و نظر کے شمارہ نمبر : ۹۴-۹۵ میں اس موضوع پر ایک تفصیلی مقالہ کھا ہے جو ویب سائٹ [email protected] پر موجود ہے ، جو لوگ تفصیل چاہیں ، وہ اس سے رُجوع کرسکتے ہیں )۔

حج سب سیڈی سے فائدہ اُٹھانا
سوال:-  الحمدﷲحج کی آمد آمد ہے ، کچھ لوگ جو معاشی طورپر اچھی حالت میں ہیں اور پرائیوٹ ایجنسی کے ذریعہ سفر حج کرسکتے ہیں اس کے باوجود حکومت کی طرف سے دی جانے والی سب سیڈی یعنی حج کمیٹی کی طرف سے حج کے لئے جاتے ہیں ، کچھ سال پہلے غالباً کہیں پڑھا تھا کہ حکومت کی سب سیڈی پر حج کے لئے نہیں جانا چاہئے ، اس لئے کہ اس میں حلال اور حرام ہر قسم کا پیسہ ملا ہوا ہوتا ہے ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے جو رعایت دی ہے ، اس کے مطابق حج کے اخراجات وغیرہ کے متحمل ہوں تو ہی حج فرض ہوتا ہے ۔ (۱)  تو کیا وہ لوگ جو ماشاء اللہ اچھی معاشی حالت میںہیں اور بغیر حکومت کی سب سیڈی کے حج کو جاسکتے ہیں ، ایسے لوگ کیا حکومت کی طرف سے دی جانے والی سب سیڈی پر حج کو جاسکتے ہیں ؟(۲)  کیا حکومت کی طرف سے دی جانے والی سب سیڈی پر حج کے لئے جانے کی مذہب اسلام میں گنجائش ہے ؟ (امان اللہ ، چندرائن گٹہ)

جواب :-  حج میں جو سب سیڈی دی جاتی ہے ، اس کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ گورنمنٹ کم کرایہ لے کر حج کمیٹی کے واسطے سے جانے والے حجاج کو ہندوستان سے سعودی عرب پہنچاتی ہے ، جو شخص کسی کو اپنی سواری پر لے جائے ، اسے اختیار ہے کہ چاہے تو زیادہ کرایہ لے اور چاہے تو کم ، اگر وہ اپنی مرضی سے کسی کو کم کرایہ پر لے جائے تو سفر کرنے والے کو اس سے فائدہ اُٹھانے میں کوئی حرج نہیں ، اور لے جانے والے کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے ؟ سفر کرنے والا اس کا ذمہ دار بھی نہیں ، جیسے حکومت ریلوے کا نظام بھی چلاتی ہے اور عام لوگوں کے مقابلہ معذور اور سن رسیدہ حضرات سے کم کرایہ لیتی ہے اور ریلوے کا سفر بھی بعض اوقات دینی مقاصد کے لئے ہوتا ہے ، ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی جائز ہے ، رہ گئی یہ بات کہ حکومت مسلمانوں کو سب سیڈی دیتی ہے تو یہ کوئی احسان نہیں ہے ؛ کیوںکہ اس طرح کی رعایت حکومت دوسرے مذہبوں کے لوگوں کو بھی دیتی ہے ، پھر سچائی یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں یہ رعایت حقیقی رعایت نہیں ہے ؛ کیوںکہ زمانۂ حج میں اگر ایک شخص ویزٹ ویزا پر سعودی عرب جائے تو اس کا کرایہ کم ہوتا ہے ، اور حج ویزا پر جائے تو تقریباً دو گنا ہوتا ہے ، معلوم ہوا کہ یہ صرف حکومت کا دھوکہ ہے ، حقیقی معنوں میں مسلمانوں کو حکومت کوئی رعایت نہیں دیتی ہے ، اور اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ حج کی فلائٹ آتے اور جاتے وقت مکمل بھری ہوئی ہوتی ہے ، ایک پیسنجر کی سیٹ کا بھی نقصان نہیں ہوتا ہے ، تو اس لحاظ سے حکومت کو اور زیادہ رعایت کرنی چاہئے ، اس لئے اہل ثروت کے لئے بھی حج    سب سیڈی سے فائدہ اُٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

مرحوم والد کی طرف سے حج کرانے کی نیت
سوال:-  مسئلہ درپیش یہ ہے کہ زید نے ماں باپ کو حج کرانے کی نیت کی اور درخواست بھی جمع کردی ؛ لیکن دو سال تک درخواست منظور نہ ہوسکی اسی دوران زید کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ، پھر چوتھے سال میں زید کی والدہ کی درخواست منظور ہوگئی اور ان کو کسی رشتہ دار کے ساتھ حج کے لئے بھیج دیا گیا ، زید نے والد صاحب کے انتقال کے بعد یہ بھی نیت کی کہ والد صاحب کی طرف سے چھوٹے بھائی کو حج کرائیں گے ، تو کیا والد صاحب کی طرف سے زید کو حج کرانا ضروری ہے ، یا نہیں ، جب کہ اب چھوٹے بھائی کے نام سے منظوری آچکی ہے ، اور زید اب حج کے آدھے پیسے دینے کو تیار ہے اور آدھے پیسے دینے سے انکار کررہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ قرض لے کر حج کراؤ ، برائے مہربانی جواب مرحمت فرمائیں ۔ (محمد شمیم ، سعیدآباد)

جواب:-  زید نے والدین کو حج کرانے کا ارادہ کیا ، یہ بہت ہی بہتر ادارہ ہے ،اور انشاء اللہ اس نیت پر بھی اجر ہے؛ البتہ حج دو وجہ سے واجب ہوتا ہے ، ایک اس وجہ سے کہ اس کے اندر حج کرنے کی استطاعت ہو اور اگر وہ حج نہ کرپایا تو اس نے اپنے ترکہ میں سے حج کرنے کی وصیت کی ہو ، دوسرے جو شخص حج کرچکا ہو یا اس پر حج فرض نہ ہو اور وہ حج کرنے کی نذر مان لے ، تو اب اس پر بھی حج کرنا واجب ہوجاتا ہے ، اب اگر زید کے والد پر حج فرض نہیں تھا یا فرض تھا اور انھوںنے اپنی طرف سے اپنے ترکہ میں سے حج کرانے کی وصیت نہیں کی تو زید کے والد کی طرف سے حج بدل کرانا واجب نہیں ہے ، زید نے جو حج کرانے کی نیت کی تھی ، اس سے کوئی چیز واجب نہیں ہوتی ، جب تک کہ آدمی زبان سے نذر کے الفاظ نہ کہے ، جیسے وہ کہے : میں اللہ کے لئے اپنے والد کو حج کرانے کی منت مانتا ہوں کہ میں فلاں شخص کو ان کی طرف سے حج کے اخراجات دے کر حج کے لئے بھیجوں گا ، تو اس صورت میں اس پر حج کرانا واجب ہوگا ، غرض کہ اس پر اپنے والد کی طرف سے حج کرانا واجب نہیں ہے ؛ البتہ اپنے ارادہ کو پورا کرلینا بہتر ضرور ہے ، اگر چھوٹا بھائی بھی اپنی طرف سے آدھا پیسہ شریک کرلے تو یہ ایک بہتر بات ہوگی کہ والد کو بھی ثواب پہنچے گا اور دونوں بھائیوں کو بھی ۔

مفلوک الحال سادات کو زکوٰۃ
سوال:-  (۱)  کیا ایسے سید حضرات جن کے یہاں لڑکیاں زیادہ ہیں اور جن کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے ، ان کی لڑکیوں کی شادی کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ، جیسے فرنیچر کی خریدی ، شادی خانے کا کرایہ ، شادی کے دن ضیافت وغیرہ کرنے کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے اگر دولہا غیرسید ہو ؟ (۲) ایسے غریب سید طالب علم جو پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ، انھیں تعلیمی اخراجات کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ؟ (۳) ضعیف سید حضرات کو ان کے علاج کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے ؟  (عبد اللہ ، سکندرآباد)

جواب :-  اصلاً سادات کو زکوٰۃ دینا درست نہیں ؛ البتہ امام ابوحنیفہؒ کا ایک قول یہ ہے کہ مالِ غنیمت میں سادات کے لئے جو خصوصی مد ہوا کرتا تھا ، اگر کسی زمانہ میں وہ مد باقی نہ رہے تو ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ، اسی طرح ایک قول امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کا یہ بھی منقول ہے کہ سادات کی زکوٰۃ سادات کو دی جاسکتی ہے :’’وروی أبو عصمۃ عن الإمام أنہ یجوز الدفع إلی بنی ہاشم فی زمانہ لأنہ عوضہا وھو خمس الخمس لم یصل إلیہم لإہمال الناس أمر الغنائم وإیصالہا إلی مستحقیہا ، وإذا لم یصل إلیہم العوض عادوا إلی المعوض کذا فی البحر ، قال فی النہر : وجوز أبویوسف دفع بعضہم إلی بعض وھو روایۃ عن الإمام‘‘ (ردالمحتار : ۳؍۲۹۹ ، کتاب الزکوٰۃ )— اس لئے کوشش تو یہ کرنی چاہئے کہ سادات کو عطیہ کے مد سے رقم دی جائے اور اگر اس کی گنجائش نہ ہوتو ان کو بالواسطہ رقم پہنچائی جائے ، جیسے ایسے غریب لڑکے یا لڑکی کے والدین میں سے اگر ایک سید ہوں اور دوسرے سید نہ ہوں تو جو نہیں ہوں ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو موجودہ حالات میں امام ابوحنیفہؒ کے اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ، اس قول کے مطابق سید حضرات کو لڑکیوں کی شادی ، بچوں کی تعلیم اوربیماروں کے علاج کے لئے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ۔(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

You might also like