Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانیمولانا خالد سیف اللہ رحمانی
مریض کو کب تک نماز پڑھنا ضروری ہے ؟سوال:-  نماز پڑھنا تو صحت مندوں پر بھی فرض ہے اور مریضوں پر بھی ؛ لیکن مریض پر بعض دفعہ ایسے حالات آتے ہیں کہ وہ نماز پڑھنے سے بالکل معذور ہوجاتے ہیں ، اس سلسلہ میں دریافت کرنا چاہتاہوں کہ مریض کس حد تک نماز پڑھنے کا مکلف ہے ؟ ( نور الاسلام ،گنبدان قطب شاہی ) جواب:-  رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھو ، اگر کھڑے ہونے پر قدرت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز ادا کرو ، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو پر لیٹ کر : ’’ صل قائماً ، فإن لم تستطع فقاعداً ، فإن لم تستطع فعلی جنب‘‘ ( بخاری ، عن عمران بن حصین ، حدیث نمبر : ۱۱۱۷) اسی روایت میں بعض راویوں نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ پہلو کے بَل اشارہ سے نماز پڑھے ، اگر اشارہ کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ عذر کو زیادہ قبول کرنے والے ہیں : ’’ فإن لم تستطع فاﷲ أولٰی بالعذر‘‘ ( المبسوط للسرخسی ، باب صلاۃ المریض : ۱؍۵۱۲) اس میں اشارہ سے سر کا اشارہ مراد ہے ؛ لہٰذا اگر سر سے اشارہ پر قدرت باقی نہیں رہی ، مگر آنکھوں اور بھنوؤں سے اشارہ کرنے پر قادر ہے تو بعض اہل علم کے نزدیک آنکھوں کے اشارہ سے نماز ادا کرنی چاہئے ؛ لیکن راجح یہ ہے کہ جب آدمی اس درجہ کو پہنچ جائے تو پھر اس پر نماز فرض باقی نہیں رہتی ، اگر پانچ نمازوں کے بقدر یا اس سے زیادہ وقت اسی حالت میں گذر جائے تو اس پر فوت شدہ نمازوں کی قضا بھی واجب نہیں ہے ، اگر اسی حالت میں اس کی موت ہوگئی تو فدیہ بھی واجب نہیں ہوگا اور اگر اس سے کم وقت مجبوری کی حالت میں گزرا ، تو صحت مند ہونے کے بعد چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضا کرنی ہوگی ۔مسلمان کا غیر مسلم کو یا غیر مسلم کا مسلمان کو خون دیناسوال:-  بہت سی دفعہ مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے ، مریض مسلمان بھی ہوتا ہے اور غیر مسلم بھی ، تو کیا مسلمان کا خون غیر مسلم کو اور غیر مسلم کا خون مسلمان کو چڑھایا جاسکتا ہے ؟     ( محمد امتیاز ، وجے واڑہ) جواب:-  خون دینا ایک انسانی مدد ہے اور انسانی نقطۂ نظر سے تعاون لینے اور دینے میں مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں ؛ اس لئے دونوں صورتیں جائز ہیں ، یہ بھی کہ غیر مسلم کو خون دیا جائے اور یہ بھی اگر کوئی غیر مسلم خون دینے کو تیار ہو تو خون قبول کیا جائے ، انسانی ہمدردی کا ہرکام باعث ثواب ہے ، خواہ اس کا تعلق مسلمان سے ہو یا غیر مسلم سے : ’’ لَا یَنْہَاکُمُ اﷲ ُعَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُم مِّن دِیَارِکُمْ أَن تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْا إِلَیْْہِمْ‘‘ ۔ ( الممتحنہ : ۸)غیر مسلم سے ہونے والے حمل کو ساقط کرناسوال:-  ایک مسلمان لڑکی نے غیر مسلم لڑکے سے نکاح کرلیا ہے اور اس کو حمل بھی ٹھہر گیا ہے ، اب وہ اپنا حمل گرانا چاہتی ہے ، کیا اس عورت کے لئے اپنی مرضی سے اپنا حمل ساقط کرانے کی گنجائش ہے ؟  ( انعام الحق،بنجارہ ہلز ) جواب:-  اولاً تو مسلمان لڑکی غیر مسلم لڑکے سے بظاہر نکاح کر بھی لے تو نکاح منعقد نہیں ہوتا اور ان دونوں کا تعلق حرام ہے ، جہاں تک حمل ساقط کرانے کی بات ہے تو ابھی حمل پر ۱۲۰ دن نہ گزرے ہوں تو کراہت کے ساتھ حمل ساقط کرانے کی گنجائش ہے ، اس میں ایک مصلحت بھی ہے کہ اس طرح پیدا ہونے والے بچہ کو عار میں مبتلا کرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور کسی مسلمان بچہ کو شرم و عار سے بچانا بھی دین میں مطلوب ہے ؛ البتہ اگر حمل پر ۱۲۰ دن گزر چکے ہیں ، تو اب اسقاط حمل جائز نہیں ؛ کیوںکہ یہ ایک زندہ وجود کو قتل کرنے کے مترادف ہے ، اور قتل نفس کا حرام ہونا ظاہر ہے : ’’ ھل یباح الاسقاط بعد الحمل ؟ نعم یباح مالم یتخلق منہ شیٔ ولم یکن ذلک إلا بعد مائۃ وعشرین یوما ‘‘ ۔ ( النہر الفائق : ۲؍۲۷۶)فوت شدہ روزہ و نماز کا فدیہسوال:-  والدین کی وصیت کے بغیر ان کے ترک کردہ روزوں اور نمازوں کا فدیہ اب دیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ اگر فدیہ ادا نہ ہوا ہو تو جو رقم مدرسہ اور مستحقین کو دی گئی ہے اس کی کیا اس مد میں نیت کی جائے ؟      ( محمد اعجاز ، سلطان شاہی) جواب:-  اگر میت کے کچھ روزے سفر یا بیماری کی وجہ سے چھوٹ گئے ہیں اور اس سے پہلے کہ اس کا سفر ختم ہو ، یا وہ بیماری سے صحت یاب ہو ، اس کا انتقال ہوجائے تو اس کا فدیہ واجب نہیں ، اگر وہ صحت مند ہوجائے اور اسے روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہوچکی ہو ، پھر بھی اس نے روزہ نہیں رکھا ، تو فدیہ ادا کرنا واجب ہے ، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے ، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک فوت ہوجانے والی نمازوں کا بھی یہی حکم ہے اورجب مرنے والا وصیت کردے تو ورثہ پر واجب ہے کہ ترکہ کے ایک تہائی میں سے اس وصیت کو پوری کرے ، اور اگر اس نے وصیت نہیں کی ہو تب بھی حنفیہ کے نزدیک ورثہ کا اس کی طرف سے فدیہ ادا کردینا بہتر ہے اور اللہ کی ذات سے اُمید ہے کہ اس کی طرف سے یہ مقبول ہوجائے گا  :  إذا مات المریض ولم یقدر علی الصلاۃ بالإیماء لا یلزمہ الإیصاء بھا وإن قلت وکذا الصوم إن أفطر فیہ المسافر والمریض وماتا قبل الإقامۃ والصحۃ ، وعلیہ الوصیۃ بما قدر علیہ وبقی بذمتہ ، فیخرج عنہ ولیہ من ثلث ما ترک لصوم کل یوم ولصلاۃ کل وقت حتی الوتر نصف صاع من بر أوْ قیمتہ ، وإن لم یوص وتبرع عنہ ولیہ جاز ۔ ( نور الایضاح : ۱؍۹۱ ، نیز دیکھئے : ردالمحتار : ۲؍۴۲۵)مرحوم کی وصیت کے بغیر ان کی طرف سے حج و عمرہسوال:-  مرحومین کی طرف سے بغیر ان کی وصیت کے حج وعمرہ کرنا کیسا ہے ؟ اس طرح ان کا حج وعمرہ قبول ہوگا یا نہیں ؟ جب کہ وہ اپنی زندگی میں شدید خواہش رکھتے تھے ، مگر شرعی طورپر ان پر حج و عمرہ فرض نہیں تھا ، اب تک ان کی جانب سے جو حج و عمرہ بیٹوں و پوتوں نے کئے ، ان کا ثواب انھیں ملے گا یا نہیں ؟      ( نیاز احمد ، گولکنڈہ قلعہ)  جواب:-  عمرہ کرنا تو سنت ہے واجب نہیں ؛ لیکن صاحب استطاعت لوگوں پر حج کرنا فرض ہے ، اگر کوئی شخص اتنی دولت رکھتا تھا کہ حج کا سفر کرسکے ، اس کے باوجود اس نے حج نہیں کیا ، تو اس پر واجب ہے کہ وہ حج بدل کی وصیت کر جائے اور اس کے ورثہ کے لئے اس کے ترکہ میں سے ایک تہائی کے بقدر مال میں سے حج بدل کرانا واجب ہے ، اگر ایک تہائی میں حج بدل نہ ہوسکتا ہو ، تو آپسی رضامندی سے مزید پیسے لگاکر حج بدل کرانا مستحب ہے ، اور اگر ورثہ مرنے والے کی وصیت کے بغیر بھی حج بدل کرادیں ، تو حج ادا ہوجائے گا ، رسول اللہ ا سے قبیلہ بنو خثعم کی ایک خاتون نے عرض کیا کہ میرے والد حج نہیں کرپائے ، کیا مجھے ان کی طرف سے حج کرنا چاہئے ؟ آپ نے دریافت فرمایا : اگر تمہارے والد کے ذمہ کسی کا دَ ین ہوتا تو تم اس کو ادا کرتیں یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ تمہیں ان کی طرف سے حج کرنا چاہئے ، اس میں سوال کرنے والی نے والد کی وصیت کا ذکر نہیں کیا ہے ، اس کے باوجود آپ نے ان کی طرف سے حج کرنے کا حکم فرمایا ہے ، اس کی روشنی میں علامہ ابن ہمامؒ فرماتے ہیں : ’’وإن لم یوص فتبرع عنہ بالاحجاج أوالحج بنفسہ ، قال ابوحنیفۃ : یجزیہ إن شاء اﷲ تعالیٰ الخ ‘‘ ( فتح القدیر : ۳؍۱۵۳) اگرحج اس پر واجب نہیں تھا اور بیٹے پوتے نے اس کی طرف سے حج کردیا ، یا عمرہ کردیا تو یہ بطور ایصالِ ثواب کے نفل حج و عمرہ ہے اور انشاء اللہ مرنے والے کو اس کا اجر و ثواب پہنچے گا ۔فجر کے آخری وقت میں نمازسوال:-  انتہاء فجر کا وقت طلوع آفتاب سے پانچ منٹ قبل کا دیا جاتا ہے ، کیا فجر کی نماز انتہاء وقت پر شروع کی جاسکتی ہے ؟ کیوںکہ پانچ منٹ میں کبھی نماز ادا کردی جاسکتی ہے ، اگر بیدار ہونے کے بعد ضروریات سے فارغ ہوکر وضو بنانے تک طلوع آفتاب کا وقت ہوجائے ، تو قضاء نماز ادا کرنے کے لئے ممنوعہ وقت ۲۰؍ منٹ گذرنے کا انتظار کرنا ہوگا ؟ ( کرامت علی بیگ ، چھتہ بازار ) جواب:-  جیسے ہی طلوع آفتاب کا آغاز ہوتا ہے ، فجر کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور نہ صرف وقت ختم ہوجاتا ہے ؛ بلکہ اس وقت کسی فرض یانفل نماز کا پڑھنا بھی جائز نہیں ، آپ ا نے ارشاد فرمایا : ’’ وقت الفجر مالم تطلع الشمس‘‘ ( مسلم : ۱؍۲۲۳ ، باب اوقات صلوات الخمس) اسی لئے احتیاطاً طلوع آفتاب سے چند منٹ پہلے کا وقت دیا جاتا ہے ؛ کیوںکہ اگر آدمی کھلی جگہ پر نہ ہو اور آسمان بھی کھلا ہوا نہ ہو ، تو اس بات کا اندازہ کرنا دشوار ہوتا ہے کہ طلوع آفتاب کا آغاز ہوگیا ہے یا نہیں ؟ تاہم اگر وقت باقی رہنے کا اطمینان ہوتو وضو کرکے دو رکعت فرض اس طرح پڑھ لینی چاہئے کہ اس میں مختصر قراء ت ہو ، اس میں اگرچہ سنت چھوٹ جائے گی اور قراء ت کی مستحب مقدار پوری کرنے سے وہ قاصر رہے گا ؛ لیکن کسی سنت یا مستحب کا چھوٹ جانا مکروہ اور ناجائز عمل میں مبتلا ہوجانے سے بہتر ہے ، اگر طلوع آفتاب کا وقت شروع ہوگیا ، تو ضروری ہے کہ اب آفتاب کے طلوع ہوجانے کا انتظار کرے ، جس کا وقفہ احتیاطی طورپر ۲۰؍ منٹ رکھا گیا ہے ، اس کے بعد فجر کی قضاء کرے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی اس غلطی پر مغفرت کا طلب گار ہو ، نیز اس کی عادت نہ بنالے ۔بیت المقدس کے قبلۂ اول ہونے کا مطلبسوال:-  بیت المقدس کو قبلہ اول کیوں کہا جاتا ہے ، جب کہ اس کی تعمیر خانہ کعبہ کی تعمیر اول سے ۴۰ سال بعد ہوئی ہے ؟ ( محمد عثمان ، سعید آباد) جواب :-  بیت المقدس کو تعمیر کے اعتبار سے قبلہ اول نہیں کہا جاتا ؛ بلکہ قبلہ ہونے کے اعتبار سے قبلہ اول کہا جاتا ہے ، راجح قول کے مطابق نماز کا حکم مکی زندگی میں ہی آچکا تھا ، آپ ا خود اور صحابہ کرام مکہ مکرمہ میں بھی نماز ادا فرمایا کرتے تھے ؛ البتہ مکہ کے حالات کی وجہ سے جماعت واجب نہیں کی گئی تھی ، مکی زندگی میں آپ ااس طرح نماز ادا کرتے تھے کہ کعبۃ اللہ بھی سامنے ہو اور بیت المقدس بھی ، پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور مدینہ تشریف لے گئے ، تو وہاں کعبہ اور بیت المقدس دو مخالف سمتوں میں تھا ، مکہ مکرمہ جنوب کی طرف تھا اور بیت المقدس شمال کی طرف ، تو آپ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کو ترجیح دی اور سولہ ، سترہ مہینے اسی طرف رُخ کرکے نماز ادا فرمائی ؛ کیوںکہ جن اُمور کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی صریح حکم نہیں آتا تھا ، ان میں آپ اہل کتاب کے طریقہ کو اختیار فرماتے تھے ، پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا کہ کعبۃ اللہ کی طرف رُخ کرکے نماز ادا کریں تو کعبۃ اللہ قبلہ ہوگیا اور اب قیامت تک یہی قبلہ رہے گا ؛ لہٰذا چوںکہ پہلے بیت المقدس کو آپ ا نے اپنے اجتہاد سے قبلہ بنایا تھا ، اس لئے اس کو قبلہ اول کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول مسلمانوں کو واپس دلا دیں ۔ وما ذالک علی اﷲ بعزیز ۔(بصیرت فیچرس)

You might also like