جہان بصیرتفکرامروز

مسلم قیادت کا فقدان !ایک لمحہ فکریہ

مظفراحسن رحمانی
دارالعلوم سبیل الفلاح جالے
اس وقت امت جس گرداب میں ہچکولے کھارہی ہے ,وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے, ہرلمحہ یہ فکر ستاتی ہے کہ کسے فریاد کے لئے آواز دی جائے ,کسے دردکی داستان سنائی جائے,کس کے سامنے دکھوں کا پٹارہ کھولا جائے ,کون ہے جوزخموں پر مرہم رکھے گا ,جس نے پوری دنیا کو قائد دیا ,وہ آج اپنے قائد سے محروم ہے ,جس میں قیادت کی پوری صلاحیت موجود تھی ,آج وہ دوسروں کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہے ,دسترخوان پر پھیکے ہوئے ٹکروں کے پیٹھے دوڑلگارہا ے ,اپنے محلوں کی ٹپکاری کے لئے چند سکوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے ,شاید امت نے اس بات کو فراموش کردیا کہ اسے اس قوم نے اپنی آغوش محبت میں پالا ہے جس کے سامنے شاہوں کے سر خم ہوتے تھے ,جن کی ٹھوکروں میں دنیا رہتی تھی ,جن کے اشارے پرجانیں قربان ہوتی تھی آج انہی کی نسلیں کاسہ گدائی لئے در در کی ٹھوکر کھاتی نظر آتی ہے ,اسکی نہ اپنی کوئی طاقت ہے اورنہ ہی کوئی مستحکم سیاسی جماعت ,اگر ہمارے بیچ کا کوئی فردمسلمانوں کی رہنمائی کے لئے آتا ہے تو اس پر ایسے الزامات عائد کئے جا تے ہیں کہ اسکے پاوں سے زمین کھسکتی نظرآتی ہے ,وہ اس وقت دم بخود نظر آتا ہے آج تو اورآسان ہوگیا ہے کہ کہدو یہ بی,جے پی کا ایجنٹ ہے ,تف ہے ایسی فکر پر جو ایسا گھٹیا سوچ کا مالک ہے ,ہاں اس سے انکار نہیں ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسا کرتے ہونگے ِلیکن کیا سب ایسے ہی لوگ ہیں ,سنبھا لئے خود کو اور اپنے بیچ سے ایسے قائد کو حوصلہ دیجئے جوباطل طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ رکھتا ہو ,یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کا قائد نہ آسمان ٹپکے گا اور نہ ہی زمین کی تہیں اسے اگلے گی ,محمدابن قاسم ,سلطان صلاح الدین ایوبی ,موسیٰ ابن نضیر کو بھی کسی ماں نے ہی جنم دیا تھا,وہ اسی مٹی سے اٹھے تھے اور انسانوں کی بستی میں رہ کر جوان ہوئے تھے کسی مکتب میں پڑھ کر سلیقہ پایا تھا ,کسی مربی کی تربیت نے اسے جہانگیری کا درس دیا ہوگا ,دوستوں کی مجلس سے حوصلہ ملا ہوگا ,زندگی دوسروں کے لئے جینے کا نام ہے ,اور ہرایک میں یہ صلاحیت فطری اور قدرتی طور پر موجود ہے,لیکن نکھرتا اور بڑھتا وہی ہے جسے سماج حوصلہ دیتا ہے ,گھروں سے زندگی دی جاتی ہے , ماں کی آنچل سایہ دیتی ہے, بہنوں کی دعائیں ساتھ ہوتی ہیں اور دوستوں کا ساتھ ہوتا ہے ۔
اس وقت اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا ہے , قیادت کے فقدان نے اس امت کو دوراہے پر لا کر کھڑا کردیا ہے , اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے, ایک وقت تھا کہ ہرشخص کانگریس کی حمایت کرتا نظر آرہاتھا ,سب کی ایک ہی بول تھی کہ کانگریس ہی مسلمانوں کی کشتی کو منجھدار سے نکال سکتی ہے ,آزادی کے بعد اگر تھوڑی دیر کے لئے مان لیا جائے تو شاید سچ ہو کہ حق رفاقت نے کچھ دیرساتھ نبھایا , لیکن اس کے بعد مسلمانوں کی جو درگت ہوئی وہ تاریخ نے اپنے سینے میں محفوظ کر رکھا ہے ,آپ اسے کھول کر دیکھئے شاید ان پنوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبوں کو دیکھ پائیں گے,جہاں مرادآباد کے ان بچوں کی چیخ سنائی دے گی جس نے دل میں یہ آرزو پال رکھا تھا کہ کل کی عید کو والد کے کاندھے پر بیٹھ کر عیدگاہ تک جائنگے ,معصوم بچیوں کی اس حسرت کو بھی دیکھ پائیں گے جس نے اپنی آنکھوں یہ خواب سجا رکھی تھی کہ عید کی رات خوبصورت چوڑیاں والد کے ہاتھوں پہنونگی ,بوڑھی ماں کی یہ آرزو کہ عید پڑھ کر بیٹا آئیگا تو سویاں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤنگی اور بیویوں کی اس دم توڑتی خواہش کو بھی تاریخ نے اپنے دامن میں چھپاکر رکھاہے کہ عید کے موقع سے شوہر نے جو خوبصورت پازیب لائے ہیں خوب کھنکاؤنگی ,دوستوں نے سوچا تھا کہ حق رفاقت کو نبھاؤںگا ,لیکن خوابوں کو گہن َلگ گئے ,آرزؤں ,احساسوں ,اور خیالات نے سسکیوں کے بیچ دم توڑدیا -ریشمی شہر بھاگلپور کی شاہراہوں پر آج بھی خون کے دھبے موجود ہیں,ملک کے جلتے شہریں دھواں دھواں ہے, لاشوں سے پٹی ندی نالوں سے عصمتوں کی چیخ آج بھی سنائی دے رہی ہے ,مقدس اور پاکیزہ روحیں آج بھی ظالموں کو کیفرکردار تک پہونچائے جانے کے انتظار میں آنکھیں کھولی ہوئی منتظر ہیں ,کون ان سسکیوں ,آہوں,آنسؤں, دلاسہ دیگا ,کس نے بے گناہ نوجوانو ں کو سلا خوں کے دھکیلا ہے ,سوچئے اور انجانے خوف سے باہر نکل کر اپنی قیادت کو سرخاب لگا ئیے, آپ اس وقت تک اپنی منزل نہیں پاسکتے جب تک کہ آپ کا قائد آپ کے بیچ کا نہ ہو ,سبق لیجئے بہار کے اس مانجھی سے جس نے اپنی پرانی رفاقت کی ڈور کو اس لئے توڑلیاکہ اس کے من کے مطابق احساسات وخیالات کا لاج نہیں رکھا گیا ,اس نے تمام چوہا خوروں کو آواز دیا اور سب نے اسے اپنا قائد تسلیم کرلیا ,رام ولاس پاسوان نے مچھواروں کو ایک پلیٹ فارم لا کھڑا کیا ,لالو پرسادیادو نے یادو برادری کو ایک دھاگے سے باندھ دیا ,نتیش کمار کی آوازپر اس کی برادری کھچی چلی آئی ,یہ وہ لوگ ہیں جسے سیاست کی پر پیچ راہوں پر ڈیگ ڈیگ آپ نے چلنا سکھایا ہے ,وہ آپ ہی کے دم خم پر بڑی سے بڑی بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے ,افسوس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے وہ لوگ جنہوں نے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کے نام پر مسلمانوں سے ووٹ لئے وہ اسی کے رنگ میں رنگ گئے, اور ان سیاسی بازیگروں کے دام فریب میں ایسا الجھے کہ اپنی حیثیت تک بھول گئے ,اس کی مثال اس غلام کی ہوگئی جو صرف جی حضور کہنا جانتا ہے ,اسے قوم کے نفع نقصان سے کیا سروکار ہے۔
اس وقت قیادت کی مثال پٹیل برادری میں دیکھا جاسکتاہے ,22/سالہ ہاردک پٹیل اپنی برادری میں ریزرویشن کے عنوان سے آگے بڑھتا ہے ,اس کی برادری نے اس پرزور استقبال کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے طول وعرض پر چھاگیا اور اتنی بڑی ریلی سے خطاب کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
بہار الیکشن میںگنتی کے دن رہ گئے ہیں ,سوابھیمان ریلی پوری کامیابی کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹی اس سے لگتا ہیکہ عظیم اتحاد کی سوفیصدی کامیابی ہوگی اور خدا کرے یہ کامیاب بھی ہو ,لیکن اسے اب آپ کے ووٹوں کی کچھ زیادہ ضرورت نہیں رہ گئی ہے اس لئے کہ اب آپ کدھر جائیں گے,آپ کی مجبوری اسے ووٹ دینے پر آپ کو مجبور کریگی ,بی,جے,پی سو جتن کرلے لیکن باضمیر مسلمان کبھی اسے ووٹ نہیں دینگے, اور شاید یہ بات قبل از وقت ہو کہ عظیم اتحاد مسلمانوں کو الیکشن میں ا میدوار بنائے ,اس لئے ہر ایسی جگہ سے جہاں مسلمانو کی اکثریت ہو کسی سنجیدہ شعور کو نمائندگی کرنی چاہئے ,تاکہ ہمیں حوصلہ مند قائد کے تلاش میں دشواری نہ ہو خدا آپ کی فکروں کو سلامتی دے اور عظیم اتحاد کے پرچم کے ساتھ آپ کو آپ کا قائد مل جائے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے ایڈیٹر ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker