Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانیمولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
مسلمان کو کافر کہناسوال:-  اگر لڑائی جھگڑے میں کسی کو کافر کہہ دیا جائے تو کیا کہنے والا کفار ہوجاتا ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں آیا ہے ، جس کا مفہوم یہ ے کہ اگر کوئی کسی کو کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو تو یہ کہنے والے پر لوٹ جاتی ہے ، اگر کفر کے الزام سے کافر نہیں ہوتا تو پھر اس حدیث کی توجیہ کیا ہے اوراس کا مطلب کیا ہے ؟ (عبد الرحیم ، چار مینار) جواب :-  رسول اللہ ا نے اس بات کو بہت ناپسند فرمایا ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہے ، یہاں تک کہ آپ ا نے فرمایا : کہ اگر کسی مسلمان کو کافر کہا جائے ؛ حالاںکہ وہ کافر نہ ہو ، تو کہنے والے ہی پر اس کا یہ کہنا لوٹ آئے گا ، (بخاری ، کتاب الادب ، حدیث نمبر : ۶۱۰۳) تاہم یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب کسی مسلمان کو اس کے مومنانہ عقائد کی بنیاد پر جانتے بوجھتے کافر کہا جائے ، اگر ڈانٹ ڈپٹ کے طورپر یا غصہ کے اظہار کے طورپر کافر کہہ دے تو اگرچہ ایسا کہنا سخت گناہ ہے ؛ لیکن اس کی وجہ سے کہنے والا کافر نہیں ہوگا  : والمختار للفتویٰ فی جنس ھذہ المسائل أن القائل بمثل ھذہ المقالات إن کان أراد الشتم ولا یعتقدہ کافراً لا یکفر ، وإن کان یعتقدہ کافراً فخاطبہ بھذا بناء علیٰ اعتقادہ أنہ کافر یکفر ۔( فتاویٰ ہندیہ : ۲؍۲۸۷، نیز دیکھئے : درمختار ، کتاب الحدود : ۶؍۵۸)جمعہ کی نماز میں سجدۂ سہوسوال:-  جمعہ کی نماز میں اگر امام صاحب سے کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس پر سجدہ سہو لازم آتا ہو تو کیا سجدہ کیا جائے گا یا بھیڑ کی وجہ سے شرعاً رخصت دی جائے گی ۔ (حافظ محمد حسین ، گلبرگہ) جواب :-  یوں تو سجدہ سہو کے سلسلہ میں جمعہ کا بھی یہی حکم ہے جو عام نماز کا ہے ؛ لیکن چوںکہ جمعہ و عیدین میں لوگوں کا ازدہام ہوتا ہے اور ایسے موقع پر اگر امام سجدہ سہو کرے تو امام سے دور کھڑے ہونے والے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتے ہیں ، جیسے بجائے سجدہ کے رُکوع میں چلے جائیں ؛ اس لئے جمعہ اور عیدین کی جماعت میں سہو کو قابل عفو مانا گیا ہے اور فقہاء نے لکھا ہے کہ اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا  : والسھو فی صلاۃ العید والجمعۃ والمکتوبۃ والمتطوع سواء ، والمختار عند المتأخرین عدمہ فی الأولیین لدفع الفتنۃ کما فی الجمعۃ ۔ ( درمختار : ۱؍۱۱۶ ، نیز دیکھئے : فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۱۲۸) فقہاء کی اس صراحت سے معلوم ہوا کہ اُصولی طورپر تو ہر نماز میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ؛ البتہ ازدہام کی وجہ سے ساقط ہوجاتا ہے ؛ لہٰذا اگر جمعہ کی نماز میں اتنی کم تعداد ہو، جتنی تعداد عام نمازوں میں ہوا کرتی ہے ، تو اس میں سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا ؛ کیوںکہ اس صورت میں وہ اندیشہ نہیں رہا ، جس کی وجہ سے سجدہ سہوکو ترک کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، اسی طرح جمعہ و عیدین کے علاوہ کسی اور نماز میں اتنا ازدہام ہوجائے کہ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہو ، جیساکہ بعض دفعہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں ہوجاتی ہے تو اس میں بھی سجدہ سہو کو ترک کرنے کی اجازت ہے ، واللہ اعلم ۔گرجا کی تعمیر میں تعاونسوال:-  کسی مسلمان کا گرجا گھر کی تعمیر کے لئے کسی قسم کی امداد و اعانت کرنا یا چندہ دینا کیسا ہے اور اگر کسی نے چندہ دیا ہے یا امداد و اعانت کی ہے تو اس کا حکم کیا ہے ؟  (محمد مصطفی ، مغلپورہ) جواب :-  جس طرح مشرکانہ عمل کو انجام دینا بعض صورتوں میں کفر یا گناہ ہے ، اسی طرح شرک کے کاموں میں تعاون کرنا حرام ہے ، گرجا کی تعمیر کا مقصد عیسائی طریقہ کے مطابق عبادت کرنا ہے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ عیسائی حضرات تین شخصیتوں کے مجموعہ کو خدا مانتے ہیں ، باپ ، بیٹا اور روح القدس ، اس لئے گرجا کی تعمیر میں حصہ لینا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے ؛ البتہ اگر گرجا کے ساتھ انسانی خدمت کا کوئی ادارہ ہو اوراس کی مدد کی جائے تو اس کی گنجائش ہے  : وقد نقل الشرنبلا لی فی رسالتہ عن الإمام القرافی : أنہ افتیٰ بانہ لا یعاد ما انھدم من الکنائس وأن من ساعد علٰی ذالک فھو راض بالکفر ، والرضا بالکفر کفر نعوذ باﷲ من سوء المنقلب ۔ (درمختار : ۶؍۲۵۰)پوجا پاٹ کے لئے مجبوری میں چندہ دیناسوال:-  بہت ساری بستیاں یا علاقے ایسے ہیں ، جہاں مسلمانوں کے محض چند گھر ہیں ، ہندوؤں کے تہوار کے موقع پر مسلمانوں سے بھی چندہ کے لئے کہا جاتا ہے تو کیا دفع شر کے لئے چندہ دیا جاسکتا ہے ؛ جب کہ چندہ دینے والا پوجا پاٹ میں شریک نہیں ہوتا ۔ (محمد مصطفی ، مغلپورہ) جواب :-  ایسی صورت میں غیر مسلم بھائیوں کو سمجھانا چاہئے کہ ہم آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہیں ؛ لیکن چوںکہ ہمارے مذہب میں مشرکانہ عمل کی اجازت نہیں ہے اور اس میں تعاون کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ؛ اس لئے آپ ہم سے اصرار نہ کریں ، ہاں ، اگر کوئی سماجی کام ہو تو بتائیں ، ہم اس میں مدد کریں گے ، براہ راست پوجا کے سلسلہ میں چندہ دینا جائز نہیں ہے ؛ البتہ اگر شر کا اندیشہ ہو تو دفع فتنہ کے لئے یہ کہہ کر دے دیا جائے کہ اسے مساکین وغرباء پر خرچ کردیں ، اس کی گنجائش ہے  :  وأھل الذمۃ فی حکم الھبۃ بمنزلۃ المسلمین۔ ( فتاویٰ ہندیہ : ۴؍۴۰۵)سڑک پر چبوترہسوال:-  ہمارے محلہ میں ایک صاحب نے اپنی زمین کے حدود سے باہر نکل کر چبوترہ او رسیڑھی بنالیا ، جس کی وجہ سے راستہ تنگ ہوگیا ہے ، کیا ان کا یہ عمل شرعاً جائز ہے ۔ (اخلاق الرحمن ، مہدی پٹنم) جواب :-  راستہ لوگوں کا اجتماعی حق ہے ، راستہ کے کسی حصہ پر اپنی سیڑھی یا چبوترہ بنالینا یا گاڑی کے چڑھانے یا اُتارنے کے لئے ریمپ بنالینا اجتماعی حق کو غصب کرنا ہے ، اور غصب کرنا حرام ہے ، نیز چوںکہ اس کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہے ؛ اس لئے اس کا گناہ عام گناہوں سے بڑھ کر ہے ؛ لہٰذا اس سے خوب اجتناب کرنا چاہئے ، حضرت امام ابویوسفؒ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے راستہ میں کوئی ایسی چیز رکھنا جائز نہیں ہے ، جو ان کو نقصان پہنچانے والی ہو : ’’ لا ینبغی لأحد أن یحدث شیئاً فی طریق المسلمین مما یضرھم ‘‘ ( کتاب الخراج : ۹۳) مگر افسوس کہ اس سلسلہ میں برادرانِ اسلام کے یہاں ، برادران وطن کے مقابلہ زیادہ زیادتی پائی جاتی ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like