مضامین ومقالات

ہندی چینی بائی بائی

ڈاکٹر سلیم خان

چین کی فوج نے ۸ جون کو بھوٹان کے اندر واقع ہندوستانی فوج دو بنکر تباہ کردئیے اس سے قبل ۲۰۰۸؁ کے اندر چین نے یہی کیا تھا۔   اس وقت چونکہ منموہن سنگھ کی سرکارسی پی ایم کی حمایت حاصل تھی اس لیے بی جے پی شور مچاتی  تھی کہ  چین نواز سی  پی ایم کے ڈر سے کانگریس والے چین کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن اب حالت یہ ہے کہاحمد آباد سے گلا پھاڑ پھاڑ کر للکارنے والا شیر دہلی میں  بھیگی بلی بنا ہوا ہے۔ ۵۶ انچ کی چھاتی  والے مونی بابا کو تو گویا پتہ ہی نہیں ہے کہ چین کی سرحد پر کیا کچھ ہو رہاہے ؟   امسال ۱۶ جون کو چین سے ۱۰۰ لوگ ۴ بلڈوزر  اور دیگر تعمیراتی سازو سامان لے کر ڈو کلام پہنچ گئے ۔ یہ چونکہ بھوٹان کا علاقہ ہے اس لیے وہاں  کی حکومت نے اعلان کردیا کہ چینی زامپیلری کی وادی میں نئی سڑک بنا رہے ہیں اور ہندوستان سے مدد طلب کرلی   ۔ چینی فوجی علاقہ کا سروے کررہے تھے کہ ہندوستانی فوج کے جوانوں نے انسانی زنجیر بناکر ان کو کام کرنے سے روک دیا۔  اس کے بعد چینیوں نے کام تو نہیں شروع کیا مگر دونوں جانب فوجیں ڈٹی ہوئی ہیں ۔

ہندوستان اور چین کے درمیان ۳۴۸۸ کلومیٹر  کی طویل لائن آف کنٹرول ہے  جسے ۱۸۹۰؁ میں برطانیہ اور چین کی حکومت نے طے کیا تھا۔  اس میں سے یہ ۲۲۰ کلومیٹر کا علاقہ متنازع ہے۔ اس بابت ۲۰۱۲؁ کے اندر دونوں ممالک کے خصوصی نمائندوں نے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اس کی حالت میں بغیر کی باہمی مفاہمت اور بھوٹان کی توثیق کے کوئی تبدیلی نہیں کی جائیگی ۔ یہ علاقہ مغربی بنگال کی سرحد سے  ۲۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ جرمنی کے اندر وزیراعظم مودی کی چین کے سربراہ ژی پینگ سے ملاقات ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ اب امید جتائی جارہی تھی کہ قومی سلامتی کے سربراہ  اجیت دوول جب بیجنگ کا  دورہ کریں گےتو اس وقت مذاکرات ہوں گےلیکن اس سے قبل  چین نے اپنا موقف پیش  کرتے ہوئے  سخت شرائط رکھ دیں اور ایسی مشکلات کھڑی کردیں کہ جس سے بات چیت کے امکانات ماند پڑگئے  اور گویا  سلام دعا یعنی ہائے ہیلو  سے پہلے ہی   ٹاٹا بائی بائی ہوگیا ۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان  کرنل  وُوقوین  نے دھمکی آمیز انداز میں  پریس کانفرنس کے اندر  کہہ دیا کہ ہندوستان  غیر حقیقی بھرم میں  قسمت آزمائی نہ کرے ۔  چین اپنی قومی تحفظ اور خودمختاری  کی حفاظت میں  مصمم  ہےاور پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانا آسان ہے  لیکن چینی فوج کو مشکل ہے۔ ہندوستان اپنی فوج پیچھے ہٹا لے ورنہ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔    چین نے اس  سےپہلے دھمکی دی تھی اس کی فوج  زیادہ دنوں تک خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی  اور اب کہا ہے کہ ہندوستان  اپنی غلطی کی اصلاح کے لیے فوراً عملی اقدامات  کرے   اور  سرحدی علاقہ میں امن و  امان برقرار رکھنے کی خاطر اشتعال انگیزی  سے گریز کرے۔اس سخت  موقف کے جواب میں وزیرخارجہ  سشما سوراج نے ایوان پارلیمان میں کہا چین کا اپنے تئیں وہاں کے حالات بدلنے کی کوشش کرنا ہمارے تحفظ کا  سنگین مسئلہ ہے۔ اس لیے دونوں فوجوں کو پیچھے جانا ہوگا۔ سشما جی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ  سارے ملک ہمارے ساتھ ہیں  اور سب سمجھ رہے ہیں کہ بھارت کا موقف غلط نہیں ہے۔

دنیا کے تمام ممالک  سشما سوراج کی اس  خوش فہمی سے اتفاق رکھتے ہیں یا نہیں یہ تو معلوم کرنا مشکل ہے مگرخود ان کی اپنی حکومت  میں شامل شیوسینا کے سر براہ ادھو ٹھاکرے اس  خیال سے متفق نہیں ہیں ۔  انہوں  نے  ایک انٹرویو میں  کہا کہ وزیراعظم نے ساری دنیا کے ممالک سے دوستی کی لیکن اس کے باوجود پاکستان اور چین کے معاملے میں بین الاقوامی  حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ادھو ٹھاکرے  نے سوال کیا کہ آخر ایسا کیوں ہوا کہ کشمیر میں بدامنی پھیل گئی اور چین ہمارا دشمن ہوگیا؟کیا ہم کوئی غلطی کررہے ہیں ؟ آخر ایسا کیوں ہے کہ دشمنوں کے خلاف کوئی بھی کھل کر ہماری حمایت نہیں کرتا ؟ادھو نے کہا کہ چین کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان کو اس کے برابر آنے کی سعی کرنےکی ضرورت ہے۔

شیوسینا کے ترجمان سامنا میں  ادھو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک طرف تو بی جے پی  پاکستان کے قبضے والے کشمیر کو واپس نہیں لاسکی اور دوسری طرف چین پاوں پسار رہا ہے۔ یہ بیان اگر کوئی  اشتراکی دیتا تو اسے  چین کا ایجنٹ قرار دے  کر دیش دروہی قرار دے دیا جاتا۔  کانگریس پارٹی کا ترجمان اگر ایسا کہنے کی جرأت کرتا تو بی جے پی یوا مورچہ کت غنڈے کانگریس پارٹی کے دفتر پہنچ کر راہل گاندھی کا پتلا نذرِ آتش کر آتے ۔  اعظم خان کا تو خیر لاہور کا ٹکٹ بن جاتا   لیکن قومی جمہوری محاذ میں شامل کٹرّ ہندوتوادی شیوسینا کے رہنما کا کیا کیا جائے کہ ان کا تو پاکستانی ویزہ لگنا بھی مشکل ہے اور بفرض محال لگ بھی جائے تو وہاں جائیں گے کیوں کر؟ پاکستان کے خلاف ادھو ٹھاکرے نے اس قدر بیانات دے رکھے ہیں کہ اگر نواز شریف ان کو سرکاری مہمان بنا کر بھی کسی تقریب میں آنے کی دعوت دے تو حافظ سعید اور مسعود اظہر ہنگامہ کھڑا کردیں گے ۔ بی جے پی کے شعلہ بیان یوگی اور ساکشی  میں اگر ہمت ہے تو ادھو ٹھاکرے کو ان کی جماعت کے ساتھ پاکستان روانہ کرنے دھمکی دے کر دیکھے  دوسرے دن مہاراشٹر میں بی جے پی  کی صوبائی  سرکار چاروں شانے چت ہو جائیگی اور اس بار تو شرد پوار بھی اسے نہیں بچا پائیں گے۔

چین تو خیر ہندوستان کا پرانا دشمن ہے جو دوست بن کر اپنا مال بیچتا ہے اور پھر دشمن بن کر پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا لیکن مودی جی  دیش بھکت سرکار کو چین سے زیادہ بے چین  کمپٹرولراینڈآڈیٹرجنرل کی رپورٹ نے کردیا جو اتفاق سے اس تنازع کے دوران ہی ایوان پارلیمان میں پیش کی گئی۔  تحقیق و تفتیش کے بعد اس ذمہ دار سرکاری ادارے  نے اپنی  رپورٹ  میں  کہا گیا ہےکہ  مودی جی کے رام  راج میں فوجکےپاساسلحہکی قلت  ہے اورہتھیاربھیمعیارینہیںہیں ۔ یہ سنسنی خیز انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا  جبکہ بھوٹان کے اندر ہندوستان کی فوج چینی فوج کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ملک کے اعلیٰ ترین آڈیٹر کی رپورٹ لوک سبھا کے مانسون اجلاس میں پیش کی گئی  جس میں ہندوستان فوج کے اندرا سلحہ کی فراہمی کے باب میں  سنگین خامیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔سی اے جی نے سرکاری آرڈیننس کارخانوں  کی فوج  کومطلوبہ مقدار میں  اسلحہ فراہم نہ کرنے اور۲۰۱۳؁  سے لے کر اب تک یعنی مودی جی  کی پوری مدت کار میں  غیر مناسب و غیر معیاری سازوسامان فراہم کرنے پر سخت سرزنش کی ۔

سی اے جی نے ایسا پہلی بار نہیں کیا بلکہ گزشتہ سال بھی  اس بابت کوتاہیوں کا تذکرہ کیا تھا مگر نام نہاد دیش بھکت سرکار نے اسے نظر اندازکردیا۔ وزیر اعظم کو اس بات کی فکر  توستاتی رہی کہ کس طرح اترپردیش میں اپنی سرکار بنائی جائے  اس لیے کہ ۲۰۱۹؁ کے اندر دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے لیے وہ لازمی تھا ۔ صدارتی محل میں کس طرح اپنا آدمی بٹھا نے کے لیے بھی انہوں نے اپنے دست راست امیت شاہ کے ساتھ مل کر خوب  جوڑ توڑ کی  لیکن اس دوران ان سے ملک کے دفاعی میدان مجرمانہ کوتاہی سرزد ہوئی ۔ انہوں نے گوا جیسی معمولی ریاست  کے اندراقلیت میں ہونے کے باوجود اپنی پارٹی کا اقتدار قائم کرنے کی خاطر  ملک کے وزیردفاع کو برخواست کرکے وہاں روانہ کردیا اور ان کی خالی جگہ کو پرُ  کرنے کی زحمت نہیں کی۔ سابق وزیر دفاع جب تک دہلی میں رہے اپنے احمقانہ بیانات کے سبب تنازعات میں گھرے رہے مگر اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے ادا کرنے کوشش نہیں کی۔  منوہر پریکر کو آج کل  اس بات کی تو بہت چنتا ہے کہ  گوا کے ان کے رائے دہندگان کو  ہر روز  مناسب مقدار میں بیف  مہیا کیا جائے اور اس میں کوئی کمی ہوجائے تو پڑوس کی ریاستِ کرناٹک سے اسے منگوا لیا جائے  لیکن یہ فکر نہیں تھی کہ فوج کی ضرورت مطابق اس کو  اسلحہ مہیا کیا جائے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری بخیرو خوبی ادا کرتے تو آڈیٹر جنرل کی رپورٹ  ان کی تعریف و توصیف بیان کرتی ۔

ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں وزارت دفاع کے اہم ترین قلمدان ایک کارگزار وزیر کے سپرد ہے ۔ منوہر پریکر کے دہلی پارکرنے کے بعد یہ  اضافی ذمہ داری ایک  ایسے وزیرخزانہ کو سونپ دی گئی ہے جو پیشے سے وکیل ہے اور  جی ایس ٹی کی مدد سے دن رات  زیادہ زیادہ ٹیکس جمع کرنے میں جٹا ہوا ہے۔ ارون جیٹلی  کو شاید  یاد بھی نہیں رہتا کہ اس پر ملک کا دفاع بھی ان کے ذمہ ہے ورنہ چین کے مقابلے ان کا مکمل سکوت کس بات  کا غماز ہے؟  سی اے جی نے اپنی ۲۰۱۵؁ کی رپورٹ میں خبردار کیا  تھا کہ ہندوستانی فوج کے پاس ۲۰ روز سے  زیادہ طویل جنگ لڑنے کے لیے خاطر خواہ مقدار میں  اسلحہ کا ذخیرہ نہیں ہے ۔ اول  ایک  دیش بھکت سرکار کے زیر اقتدار یہ حالت  رونما ہی  نہیں  ہونیچاہیے تھی لیکن اگر بفرض محال ایسا ہوبھی گیا تھا تو کم ازکم اس ایک سال میں صورتحال کو بہتر بنانے کی بھرپورکوشش کی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

وزیر اعظم دنیا بھر میں گھوم گھوم  کر نہ جانے کون کون سا  اسلحہ خریدتے رہے اوران کے بھکت گائے کے نام پر آتنک مچاتے رہے اس کا نتیجہ یہ  نکلا کہ حالات مزید ابتر ہوگئی اور اب تو دس دنوں جنگ جاری رکھنے کی خاطر بھی اسلحہ کا ذخیرہ نہیں ہے۔ یعنی   حالتِ جنگ میں دس کے بعد جو ۱۵۲ قسم کا اسلحہ استعمال ہورہا ہے اس میں سے ۴۰ فیصد میں فوج قلت  کا شکار ہوجائیگی۔ ۵۵ فیصد اس کم ازکم مقدار سے نیچے پہنچ جائیگا جو ۲۰ دن کی جنگ کے لیے درکار ہے۔فوجی اصطلاح میں فیوز اسلحہ کے اس حصے کو کہتے ہیں کہ جسے استعمال کے فوراً پہلے لگایا جاتا ہے ۔ ایسے فیوزوں  کی صرف ۱۷ فیصدمقدار دستیاب ہے جس کے دوسرے معنیٰ یہ ہوئے کہ ۸۳ فیصد اسلحہ کا  بوقتِ ضرورت استعمال نہیں ہوسکے گا۔  پچھلے سال سی اے جی نے بجٹ  میں اضافہ کی سفارش کی تھی تاکہ کم ازکم ۴۰ دن تک لڑائی کا ذخیرہ  موجود ہو لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ ۱۵۲ قسم کے اسلحہ میں سے صرف ۳۱ یعنی ۲۰ فیصد ہی ۴۰ دنوں تک استعمال ہوسکے گا۔اگر اس  جانب توجہ کی جاتی تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔

اس رپورٹ میں ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن پر ۲۰ء ۶ کروڈ  کےغبارے برآمد کرنے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر عقلی قرار دیا گیا ہےکیونکہ مذکورہ منصوبے پر ۵۰ء۴۹ کروڈ روپئے خرچ کرنے کے باوجود کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکا۔ تمل ناڈو کے آوڈی  نامی مقام پرواقع فوجی گاڑی بنانے والے کارخانے کی کارکردگی پر ٹی ۷۲ برج لائنگ ٹینک کی تاخیرکے حوالے سےتاخیر پر گرفت کی گئی ۔ یہ فراہمی   ۲۰۱۲؁ سے ۲۰۱۷؁ کے درمیان وقفہ وقفہ ہونی تھی لیکن  بار بارڈیزائن میں تبدیلی کے سبب ایسا نہ ہوسکا ۔  اسی کارخانے نے ٹی ۹۰ ٹینک کے لیے ایک ناتجربہ کار کمپنی سے ۷۶ء۲کروڈ کی مالیت کےریڈیٹر بنوائے  جسے فوج نے غیر معیاری ہونے کے باعث  مسترد کردیا۔ اودی کے تحقیقی شعبے نے  لاہت ۲۰ میزائل منگوائے جبکہ ان کے بارے میں پہلے سے بے اطمینانی تھی۔ بالآخر آزمائش کے دوران وہ  ناکام رہے اور اس طرح ادارے کو ۵۳ء۱۹ کروڈ کا خسارہ ہوا۔ این سی سی کے پاس موجود مائکرولائیٹ ہوائی جہاز کا استعمال ویسے ہی کم اس کے باوجود اس  نے ۹۱ء۵۲ کروڈ خرچ کرکے ۱۱۰ نئے جہاز خریدلیے اور ان کے ۳۴ انجن کی خریداری میں ضابطے کو بالائے طاق رکھ کر ۵۰ فیصد سے زیادہ اضافی قیمت ادا کردی ۔ فوج کے انٹلی جنس دفتر نے ۲۰ فوٹو وائر سسٹم ۲۸ء۲۱ کروڈ خرچ کرکے خریدے جو ۳ تا ۲۲ مہینوں کے درمیان بیکار ہوگئے۔

سی اے جی کی رپورٹ میں ہر سال اس طرح کی کوتاہیوں کی جانب توجہ دلائی جاتی  ہے مگر اس پر دھیان نہیں دیا جاتا۔ ۲۰۱۵؁ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ہوائی دستے میں ۵۲ فیصد جہاز ۳۰ سال پرانے ہیں اس طرح عملاً صرف ۴۰فیصد وقت ضرورت کام میں لائے جاسکتے ہیں۔ کل ۱۸۱چیتا اور چیتک ہیلی کاپٹر میں سے ۵۱  کی عمر ۴۰ سال سے زیادہ ہے ۷۸ کی تعداد ۳۰ تا ۴۰ سال پرانی ہے۔ ان میں سے ۲۳ حادثات کا شکار ہوچکے ہیں اور فوجیوں کے اہل خانہ نے بارہا ان ہیلی کاپٹروں کے استعمال کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلحہ کے محفوظ  گوداموں میں رکھنے کے بارے میں صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق  آگ بجھانے کی سہولتیں ناقص ہیں  ۔ پچھلے سال پلگاوں میں واقع ملک کے سب بڑے گودام  میں  جو بھیانک آگ لگی تھی اس میں فوج کے دوافسر ایک جوان اور آگ بجھانے والے دستے کے ۱۳ اہلکار ہلاک ہوئے تھے جو کوئی  غیرمعمولی  نقصان  ہے۔

ماہرین کے مطابق لال فیتہ شاہی کے سبب  ۲۰۰۸؁ سے ۲۰۱۳؁ کے درمیان صرف ۲۰ فیصد اسلحہ درآمد کیا جاسکا ۔  یہ تو خیر منموہن سرکار کا زمانہ تھا جبکہ بی جے پی والے آئے دن نت نئے گھوٹالوں کا الزام لگاتے تھے اور انٹونی جیسے صاف ستھری شبیہ کے مالک وزیردفاع کا جینا دوبھر کررکھاتھا۔  اس کے بعد مودی جی آئے اور انہوں نے ’میک ان انڈیا‘ کے تحت درآمدات کو کم کرنے  کااعلان کیا اور یہاں تک کہ کہہ دیا کہ ہندوستان بہت جلد چھوٹے موٹے ممالک کو اسلحہ برآمد کرنے لگے گا ۔  خواب بیچنا اور انہیں شرمندۂ تعبیر کرنے میں بڑا فرق ہے۔ سی اے جی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا فوج  کے صدر دفتر کی جانب سے ۲۰۰۹؁ سئ ۲۰۱۳؁کے درمیان شروع کئے جانے والی برآمدات کی  زیادہ تر تجاویز  جنوری۲۰۱۷؁ تک  زیر التواء ہیں۔  کیا شدت  کے ساتھ  قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے لیے یہ صورتحال قابلِ عار نہیں ہے؟

چین جس کے ساتھ سرحد پر اب تک کا طویل ترین سرحدی تناو جاری ہے دنیا کی دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے ۔  ہندوستان کا نمبر ویسے  تو تیسرا ہے مگر ان دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اس کی  مجموعی داخلی پیداوار اور دفاعی بجٹ بھی ہندوستان سے چار گنا زیادہ  ہے اسی لیے جب ارون جیٹلی  نے  کہا کہ چین یہ نہ بھولے کہ  اب ہندوستان وہ۱۹۶۲؁ والا  ہندوستان نہیں ہے تو چین کا جواب تھا کہ بھارت  بھی یہ یادرکھے کہ  چین بھیوہ۱۹۶۲؁ والا چین نہیں ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  نائب صدارت کے امیدوار وینکیا نائیڈو پاکستان کو تو۱۹۷۱؁ کی جنگ یاددلاتے ہیں لیکن چین کو۱۹۶۲؁ یاد نہیں دلاتے جبکہ پاکستان کے ساتھ فی الحال کوئی خاص تنازع نہیں ہے ممکن ہے وینکیا جی کو چین اور پاکستان کے درمیان کا فرق ہی ٹھیک سے معلوم نہ ہو۔ ویسےوینکیا نائیڈو اگر واقعی سمجھدار آدمی ہوتے تو مودی جی ان کو نائب صدا رت کا امیدوار بنانے کی غلطی  ہرگزنہ کرتے ۔مودی جی جس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو چار بار سرمایہ کاری کے لیے   چین کا دورہ کیا اور وزیر اعظم بننے کے بعد چینی صدر کو گجرات بلا کر سابرمتی کے کنارے پر ان  کی شاندار ضیافت کی لیکن لگتا ہے بھوٹان کی اس فوجی پیش قدمی نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور چین نے ان کے ساتھ بھی وہی رویہ اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا جو پنڈت جواہر لال نہرو کے ساتھ کیا تھا اس صورتحال سے نمٹنے کا بہترین طریقہ گفت و شنید کے ذریعہ پروقار راہِ فرارہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ تو نہیں پاتا کہ چین کے ساتھ سرحد پر کیا ہو رہا ہے مگر وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ ۱۸ سال پہلے کارگل میں کیا ہواتھا اس لیے انہوں نے کارگل وجئے دیوس  کے موقع پر ۲۶ جولائی کو ان بہادر فوجیوں کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے جنہوں نے قوم کی عظمت اور شہریوں کے تحفظ کی خاطرجنگ کی  تھی۔ اسی طرح کا ایک پیغام انہوں نے گزشتہ سال بھی نشر کیا تھا اور کہا تھا کہ کارگل وجے دیوس (کارگل یوم فتح) کے دن پر میں ان بہادر فوجیوں کے آگے سر جھکاتا ہوں، جنہوں نے آخری سانس تک ہندوستان کے لئے جنگ لڑی۔ ان کی قربانی ہماری حوصلہ افزائی کرتی ہے۔وزیراعظم کے الفاظ اس دوران کھوکھلے  ثابت ہوگئے جب بی جے پی اور مودی سرکار کی بغل بچہ تنظیم ’’اکھل، بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘‘ ’’اے بی وی پی‘‘ کے کارکنان نے کارگل جنگ میں قومی شہید کیپٹن مندیپ سنگھ کی بیٹی گورومہر کور کو قتل اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں  یہ سنگھ پریوار کی پاکھنڈی جس کے خلاف پولیس کو کارروائی کرنی پڑی ۔  جس ملک  میں جعلی دیش بھکت اپنے فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہیں وہاں کی فوج اپنے سیاستدانوں پر کیسے اعتماد کرسکتی ہے؟
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker