جہان بصیرتخبردرخبر

مذہب اسلام کی صحیح شبیہ کوپیش کرناضروری

صوفیاء کے ذریعہ پیش کردہ خیالات ہندوستانی اقدارکالازمی حصہ :نریندرمودی
یہ وزیراعظم کے’’ من کی بات‘‘ہے یاپھرایک ’’جملہ‘‘؟
محمدشارب ضیاء رحمانی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح شبیہ کو صحیح اندا ز میں پہنچاناضروری ہوگیاہے،صوفی روایت کی وسعت ظرفی کے پیغام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام مذاہب کے لوگ اس روایت کوسمجھیں گے کہ صوفی ازم محبت ،رواداری سے مربوط ہے ،وہ اس کے پیغام کودوردورتک پہونچائیں گے ۔یہ روایت ہرجگہ پہونچنی چاہئے جس سے انسانیت کو فائدہ ہو گا،اور اس سے اسلام کا بھی فائدہ ہو گا۔ مودی نے کہا کہ میں دوسروں سے بھی کہتاہوں کہ ہم کسی بھی مذہب کو کیوں نہ مانتے ہوں لیکن صوفی ازم کو سمجھنا چاہیے۔مودی نے یہ بات آکاش وانی پر’ من کی بات‘ پروگرام میں کہی۔ان کے بیان کی تعریف اس وقت کی جاتی جب واقعی یہ ان کے’’ من کی بات ‘‘ہوتی لیکن ان کی حکومت کے پندرہ مہینوں کے پس منظرمیں یہ سمجھناکوئی مشکل نہیں ہے کہ یہ ’’ مودی کے من‘‘ کی بات ہے یاان کے’’جملے‘‘ہیں۔دوسری بات کہ وزیراعظم نے صوفیاء کرام کے ذریعہ پیش کردہ خیالات کوہندوستانی اقدارکالازمی حصہ بتایااورساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہاکہ بنیادپرست طاقتیں انہیں کمزورکرنے کی کوشش کررہی ہیں،بہترہوتاکہ وہ ان بنیادپرستوں کی بھی وضاحت کردیتے۔
وزیراعظم اس سے قبل بھی مذہبی رواداری کی بات کرتے رہے ہیں۔گذشتہ برس لال قلعہ کی فصیل سے انہوں نے دس برس تک تشددچھوڑنے اوربھائی چارگی کے فروغ کی اپیل کی تھی،یہی ٹیپ ریکارڈانہوں نے رواں برس بھی دوہرایالیکن سب جانتے ہیں کہ ان کی حکومت اوران کی پارٹی کی پشت پناہی میں کیاہورہاہے،تشددکوکون فروغ دے رہاہے،فرقہ وارانہ ماحول کون بگاڑرہاہے،خودان کے گروموہن بھاگوت نے کہاتھاکہ دنیاکی ساری جنگیں عیسائیوں اورمسلمانوں کی وجہ سے ہوتی ہیں،لیکن جب اوبامہ جی نے ڈانٹ پلائی اور پوری دنیامیں بی جے پی حکومت کی رسوائی ہوئی توعیسائیوں پرفی الحال ان کی بولتی بندہے،اس کے بعدسے وزیراعظم اوروزیرداخلہ مذہبی روادی کے فروغ کی بات کررہے ہیں۔مذہب اسلام توسلامتی اورامن کامذہب ہے،سلامتی تواس کاجزوہے،مودی جی کواپنے لوگوں کوسمجھاناچاہئے کہ وہ تشددکوفروغ نہ دیں۔آخراپنے گروکے موقف کے خلاف مودی جی کوکیوں بولناپڑا۔
گذشتہ دنوں وزیراعظم ابوظہبی کی شیخ زائدمسجدبھی گئے تھے،وہاں کے وزیٹربک پرانہوں نے اسلام کی تعریف بھی کی جس کے بعدان پرسیکولرہونے کا’’شبہ‘‘ ہونے لگاتھالیکن گجرات فسادات میں متاثرمساجدکی مرمت اوربازآبادکاری پرجب ان کی سرکارنے عدالت میں اپنا’ناگپوری‘موقف دوہرادیاکہ مذہبی مقامات کی بازآبادکاری کیلئے سرکاری فنڈکااستعمال نہیں کیاجاسکتا،توپھراس شبہ کاازالہ ہوگیاہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکاری مشنریوں کااستعمال فرقہ پرستی کے منصوبوں کوعملی جامہ پہنانے کیلئے کیوںکیاجاناچاہئے ۔گجرات میں پٹیل تحریک کے دوران سرکاری عملے(پولیس) کی ا صل تصویرسی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعہ سامنے آئی جس میں وہ سوسائٹی میں بغیرکسی اشتعال انگیزی کے توڑپھوڑکررہی تھی،اوردلچسپ بات تویہ ہے کہ وزیراعلیٰ آنندی بین پٹیل نے پولیس کو’داشتہ آیدبکار‘بھی قراردیاجوانہیں’’ الیکشن میں کام آئے گی‘‘۔تفتیشی ایجنسیوں کے حکومتی دبائومیں کام کرنے کی بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے،خودابھی کے وزیراعظم اوراس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی جی نے بھی سابقہ یوپی اے حکومت پرسی بی آئی کواستعمال کرنے کاالزام لگایاتھا،اب ان کاوہی کلیہ ان کی سرکارپرکیوں منطبق نہیں ہورہاہے۔خیرمسجدنہ جانے اورٹوپی نہ پہننے سے کوئی فرقہ پرست نہیں ہوجاتااورافطارپارٹی میں شرکت،مسجدمیںحاضری،اجمیردرگاہ کیلئے چادرروانہ کرنے سے سیکولر ہونے کی سندنہیں مل جاتی ہے۔خیرصوفیوں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کوصوفی ازم میں ایک موسیقی کااحساس بھی ہوا۔مودی نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں ان کا بودھ گیا جانے کاپروگرام ہے۔ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کے بودھ گیا دورہ کاحوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے مذہبی رہنمائوں کے ساتھ بودھ گیا جانے کا موقع ملنے والا ہے، میرے لیے یہ ایک بہت ہی خو ش کن لمحہ ہوگا۔دیکھنایہ ہے کہ فرقہ پرستی کے فروغ اوراس کی حوصلہ افزائی سے ان کی سرکارکب پیچھے ہٹتی ہے،ملک کیلئے تویہی خوش کن مرحلہ ہوگا۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker