Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

اسلام قبول کرانے کے لئے تعوذ اور تسمیہ
سوال:- ایک غیر مسلم کو مسلمان بنانے کے لئے کیا پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ کہلانا ضروری ہے ؟
(محمد اسماعیل ، آصف نگر )
جواب : – غیر مسلم کو مسلمان بنانے کے لئے کلمۂ شہادت پڑھوانا چاہئے ، رسول اللہ ا جب کسی سے بیعت اسلام لیتے تھے تو کلمۂ شہادت پڑھواتے تھے ، اسی طرح اگر کسی کے بارے میں اطمینان کرنا ہو کہ وہ مسلمان ہے تو اس سے کلمۂ شہادت کا اقرار کراتے تھے ، کلمۂ شہادت میں دو باتیں شامل ہیں ، ایک : اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور شرک کی صراحتاً نفی و انکار ، دوسرے : محمد اکی رسالت کا اقرار ، اعوذ باللہ یابسم اللہ بہت ہی مبارک اذکار ہیں ؛ لیکن اس میں اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار تو ہے مگر شرک کی نفی نہیں ہے ، اور نہ رسول اللہ اکی نبوت کا اقرار ہے ؛ لہٰذا اگر تبرکاً کلمۂ شہادت سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھوا لیا جائے تو حرج نہیں ؛ لیکن یہ ضروری نہیں ہے ؛ بلکہ میرے حقیر علم کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں کے سلسلہ میں یہ رسول اللہ ا کا عام معمول بھی نہیں تھا ۔

بالوں کی وِگ پر مسح
سوال:- ایک نوجوان نے اپنے گنجاپن کو چھپانے کے لئے سر پر بالوں کی وِگ لگائی ہے ؛ لیکن اس کو سر پر اس طرح چپکا دیا گیا ہے کہ اس کو بہ آسانی الگ نہیں کیا جاسکتا ، ایسا شخص کیا وِگ کے اوپر سر کا مسح کرسکتا ہے ؟ ( ڈاکٹر عبد القادر ، ممبئی)
جواب : – اگر جسم سے کوئی چیز اس طرح پیوست کردی جائے کہ اس کو الگ کرنا دشوار ہو تو وہ جسم کے ایک حصہ کا درجہ حاصل کرلیتی ہے ، جیسے کوئی شخص مصنوعی دانت کو مستقل طورپر فٹ کرالے تو وضوء و غسل میں اسی کا دھونا کافی ہوتا ہے ، اور اگر وہ جسم کے ساتھ اس طرح لگائی گئی ہو کہ اسے حسب ضرورت لگایا اور ہٹایا جاسکتا ہے تو پھر وہ جسم کا حصہ نہیں ، وضوء یا غسل کے وقت اس سے متعلق فرض یا سنت کو ادا کرنے کے لئے اس کا ہٹادینا ضروری ہوگا ، جیسے ایسے مصنوعی دانت جو مسوڑھوں کے ساتھ مکمل طورپر پیوست نہیں کئے جاتے ، ان کو غسل کرنے کے وقت نکالنا ضروری ہے ، اور اس کو نکالے بغیر کلی کرنا کافی نہیں ہے ؛ لہٰذا اگر سر پر چسپاں کئے جانے والے وِگ کی صورت یہ ہو کہ اسے مشقت کے بغیر نکالا نہیں جاسکتا ہو تو ایسی صورت میں اس کی حیثیت جسم کے ایک عضو کی ہوگی اور اس پر مسح کرنے کی گنجائش ہوگی ، اگر یہ صورت نہ ہو تو غسل و وضوء کے وقت اس کا نکالنا اور سر پر پانی بہانا اور مسح کرنا ضروری ہوگا ۔ واللہ اعلم

نماز پڑھ کر دوسری جگہ امامت
سوال:- ایک شخص نے ظہر کی نماز پڑھ لی اور اس کے بعد اس نے دوسری مسجد میں جاکے امامت کی ، کیا اس کے پیچھے نماز درست ہے ، بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے نماز درست ہے ؟
(محمد شرف الدین ، ملک پیٹ)
جواب : – ایک شخص جب اپنی فرض نماز ادا کرلیتا ہے تو اب اسی نماز کو دوبارہ ادا نہیں کرسکتا ، اگر وہ اسی نماز کی نیت سے دوبارہ نماز پڑھے تب بھی وہ اس کے حق میں نفل نماز ہوگی ؛ لہٰذا جب وہ دوسری مسجد میں نماز پڑھائے گا تو اس کی نماز تو ہوگی نفل اور اس کے پیچھے پڑھنے والوں کی نماز ہوگی فرض ، اور نفل پڑھنے والے کی اقتداء فرض پڑھنے والا نہیں کرسکتا ؛ اس لئے اس شخص نے جو دوسری جگہ جاکر ظہر کی نماز پڑھائی ہے ، اس کا یہ عمل درست نہیں ہے ۔

غیر مسلم لڑکے لئے دُعا اور رومن خط میں قرآن مجید کی تلاوت
سوال:- میری ایک غیر مسلم سہیلی ہے ، وہ اللہ پر یقین رکھتی ہے اور ہم نماز قرآن پڑھ کر جو دُعا کرتے ہیں اس پر بہت بھروسہ کرتی ہے اور مجھ سے ہمیشہ دُعا کرنے کے لئے کہتی ہے ، ایک مرتبہ میںنے اس کے کسی مسئلہ کے لئے سات مرتبہ سورہ رحمن پڑھ کر دُعا مانگی تھی تو اس کا مسئلہ حل ہوگیا ، وہ بے انتہا خوش ہوگئی اور اسے پورا یقین ہوگیا ، اب کچھ بھی Problem ہوتا ہے تو مجھے دُعا کرنے کے لئے کہتی ہے ، کیا میرا یہ عمل شریعت کے حساب سے صحیح ہے ؟ انٹر نیٹ پر سے رومن انگلش میں جو قرآن ہے ، اس کو پڑھنے کی خواہاں ہے ، میں ہمیشہ اسے اسلامی تعلیمات دیتی ہوں ، وہ بہت دلچسپی سے سنتی ہے ، اب تک مجھ سے بہت کچھ سیکھ چکی ہے ، کچھ آیت یا کلمہ کا ورد بھی کرنا چاہتی ہے ، کیا ہم اس کو وہ قرآن پڑھنے کے لئے کہہ سکتے ہیں ؟ اور ہم ان سے کس حد تک دوستی رکھ سکتے ہیں ؟
(عرفانہ بیگم ، بیگم بازار )
جواب : – آپ کا اس غیر مسلم سہیلی سے تعلق رکھنا جائز ہے ،اور اگر اس نیت سے تعلق رکھیں کہ اس کو آہستہ آہستہ اسلام کی دعوت دیں گی تو انشاء اللہ اآپ کا یہ تعلق رکھنا باعث اجر و ثواب ہوگا ، اور ہوسکتا ہے کہ یہ اس کے لئے ہدایت کا ذریعہ بن جائے ، آپ اسے اللہ تعالیٰ کی توحید ورسالت اور آخرت کے بارے میں بھی سمجھایا کریں اور اُسے مفید کتابیں بھی ہدیہ کیا کریں ۔
غیر مسلم کے لئے دُعا کرنا جائز ہے ؛ البتہ جب بھی آپ اس کے لئے دنیا کے کسی کام کی دُعا کریں تو ساتھ ہی ساتھ اس کی ہدایت کے لئے بھی دُعا کا اہتمام کریں — اصل میں تو قرآن مجید وہ ہے جو عربی زبان میں ہے ، عربی کے علاوہ دوسری زبان میں قرآن مجید کے الفاظ لکھنا جائز نہیں ہے ؛ لیکن چوںکہ وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئی ہے اور عربی زبان سے بھی واقف نہیں ہوئی ، اس لئے اس کے حق میں رومن خط میں قرآن کے الفاظ پڑھنے کی گنجائش ہے اور ترجمہ تو پڑھ ہی سکتی ہے ۔

خاندانی منصوبہ بندی کی تشہیر و ترغیب
سوال:- آج کل بے شمار مسلمان مرد و خواتین جو نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج کی ادائے گی کے پابند تو ہیں اور تقریباً پوری زندگی متشرع گذارتے ہیں ؛ لیکن ساتھ ساتھ قتل اولاد یعنی خاندانی منصوبہ بندی کو ضروری سمجھتے ہیں ، اسی پر یقین کرتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہیں اور دوسروں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں ، خاندانی منصوبہ بندی کی تشہیر کرتے ہیں ، ایسے مسلمان مرد و خواتین کے لئے از روئے فقہ و شریعت اسلامی میں کیا حکم ہے ؟ (سیدظہور ، خیرت آباد )
جواب : – میڈیکل مجبوری کے بغیر خاندانی منصوبہ بندی کی کوئی بھی صورت اختیار کرنا درست نہیں ، یہ نہ صرف ایک گناہ ہے ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت پر ایمان کے مغائر ہے اور پھر دوسروں کو اس کی ترغیب دینا تو مزید گناہ ہے ، اس کی ترغیب سن کر جو لوگ متاثر ہوں گے ، ان کے گناہ میں بھی ان کی شرکت ہوگی ، اس لئے مسلمانوں کے لئے اس طرح کا عمل درست نہیں ہے ۔

سگریٹ بیڑی کے کارخانہ کی ملازمت
سوال:- سگریٹ اور بیڑی کے کارخانے کی ملازمت جائز ہے یا نہیں ؛ کیوںکہ یہ دونوں چیزیں انسانی جسم کو ضرر پہنچاتی ہیں ۔( شاہنواز حسین ،جل پلی)
جواب : – سگریٹ اور بیڑی ایسے اجزاء سے تیار ہوتی ہے ، جن کا تعلق نباتات سے ہے ، نباتی اشیاء یعنی زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں میں اصل اس کا حلال ہونا ہے ؛ البتہ دو صورتوں میں وہ حرام اور ایک صورت میں مکروہ ہے ، اگر نشہ آور ہو یا فوری طورپر انسان کو ہلاکت سے دوچار کردینے والا ہو ، جیساکہ بعض زہریلے پودے ہوتے ہیں ، تو یہ حرام ہے اور اگر صحت کے لئے نقصان دہ ہو اور بتدریج جسم کو اس کا نقصان پہنچتا ہو تو ایسے نباتات مکروہ ہیں ، اسی لئے تمباکو — جس سے بیڑی اور سگریٹ تیار کئے جاتے ہیں — کو راجح قول کے مطابق مکروہ قرار دیا گیا ہے ، یعنی یہ حرام تو نہیں ہے ؛ لیکن قریب بہ حرام ہے ، اور جو چیز مکروہ ہو ، اس کی تیاری میں تعاون کرنا بھی مکروہ ہوتا ہے ، اس لئے سگریٹ اور بیڑی کے کارخانے میں ملازمت یا اس کی تجارت مکروہ ہے اور ایک مسلمان کو اس سے بچنا چاہئے ۔

بے روزگار نوجوانوں کے لئے ایک سرکاری اسکیم
سوال:- سرکار کی طرف سے اقلیت سے تعلق رکھنے والے بے روزگار نوجوانوں کے لئے ایک اسکیم شروع کی گئی ہے ، جس کی شکل یہ ہے کہ مثلاً حکومت ایک لاکھ روپے دیتی ہے ، جس میں سے اسّی ہزار روپے نہیں لیتی ؛ البتہ اس ایک لاکھ میں سے بیس ہزار روپے بطور قرض ہوتا ہے ، اور حکومت اس پر سود لیتی ہے ، کیا مسلمانوں کے لئے اس اسکیم سے فائدہ اُٹھانا جائز ہوگا ؟ ( عبد الرحیم ، ہائی ٹیک سٹی)
جواب : – یہ صورت جائز ہے اور اس سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے ، کسی چیز کو سود کا نام دے دینے سے وہ چیز سود نہیں ہوجاتی ؛ بلکہ سود ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے سود ہو ، سود کی حقیقت یہ ہے کہ کم روپے دیئے جائیں اور زیادہ روپے وصول کئے جائیں ، جو صورت آپ نے لکھی ہے اس میں حکومت بحیثیت مجموعی ایک لاکھ روپے دیتی ہے اور بیس ہزار سے کچھ اوپر وصول کرتی ہے تو اس نے اپنی دی ہوئی رقم سے کم لیا نہ کہ زیادہ ؛ اس لئے یہ صورت سود کے دائرہ میں نہیں آتی ہے ، مسلمانوں کو اس سے استفادہ کرنا چاہئے ۔
(بصیرت فیچرس)

٭٭٭

You might also like