سیرت وشخصیاتشخصیاتمضامین ومقالات

طوطیٔ بوستان سخن حضرت سعدیؔ شیرازی

غوث سیوانی، نئی دہلی
جب کبھی فارسی کی اخلاقی شاعری کا ذکر آئے گا توشیخ سعدیؔ شیرازی کا نام ضرور آئے گا۔ وہ صرف اخلاقی شاعری ہی نہیں فارسی غزل کی بھی پہچان ہیں۔یہ دونوں میدان، ان کے ہیں اور یہاں وہ چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی ’’گلستان‘‘ اور ’’بوستان‘‘ دو ایسی تصنیفات ہیں جو عالم میں بے مثال ہیں اور دنیا کی مختلف زبانوں میں ان کے تراجم ہوئے ہیں۔یہ دنیا کی بہت مشہور کتابوں میں شامل ہیں اور گزشتہ سات صدیوں سے یہ عالمِ اسلام کی نصاب تعلیم کا حصہ ہیں۔
شیخ سعدیؔ کی ابتدائی زندگی
سعدیؔ شیرازی کا لقب مصلح الدین اور سعدی ؔ تخلص تھا۔اس تخلص کا سبب بادشاہِ شیراز اتابک سعد بن زنگی کی نسبت ہے جس کے دربار میں ان کے والد ملازم تھے۔ سعدی کی تاریخِ پیدائش تذکرہ نگاروں نے نہیں لکھی ہے لیکن ان کا انتقال ۶۹۱ھ میں ہوا اور ان کی عمر ایک سو دوسال تھی لہٰذا قیاس کیا جاتا ہے کہ ان کا سال ولادت ۵۸۹ھ رہا ہوگا۔
شیخ کے بچپن کے حالات خود انھیں کی تحریر میں جابجا بیان ہوئے ہیں، جن کے مطابق ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت خود ان کے والد کی نگرانی میں، باصلاحیت اساتذہ کے ذریعے ہوئی۔ والد نے جب انھیں پڑھنے کے لئے بٹھایا تو تختی اور کاغذ کے ساتھ ایک طلائی انگوٹھی بھی، انھیں خرید دی۔ وہ اس قدر چھوٹے تھے کہ انگوٹھی کی قدروقیمت کو نہیں پہچانتے تھے اور کسی شخص نے انھیں مٹھائی دے کر، انگوٹھی ٹھگ لی۔
شیخ سعدی کے والد انھیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور ان کی خود تربیت کیا کرتے تھے۔ وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ والد کے ساتھ، عیدگاہ گئے اور انھیں اپنا دامن پکڑا دیا کہ کہیں گم نہ ہوجائیں۔ یہ دامن پکڑے چلتے رہے مگر ہجوم میں کہیں دامن چھوٹ گیا او ر گم ہوگئے۔ والد سے بچھڑ کر بہت پریشان ہوئے اور رونے لگے مگر والد نے انھیں دیکھ لیا اور کان پکڑ کر بولے،احمق تجھے کہانہ تھا کہ دامن نہ چھوڑنا۔
والدمحترم خود ایک نیک اور پرہیزگار انسان تھے اور راتوں کو اٹھ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ سعدی ؔکو بھی اس کی عادت ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ، والد کے ساتھ رات کو عبادت کر رہے تھے اور گھر کے دیگر افراد سو رہے تھے۔ باپ سے کہا کہ دیکھو کیسے سو رہے ہیں۔ یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اٹھ کر دو رکعت نماز ہی ادا کرلیں۔ انھوں نے یہ سنا تو ناراض ہوئے اور بولے اس غیبت سے تو اچھا تھا کہ تم بھی سورہتے۔
شیخ کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا اور وہ جس نازونعمت میں پل رہے تھے، سب چھن گئے۔ چونکہ وہ شاہی ملازم تھے، لہٰذا مالی اعتبار سے ان کا خاندان خوشحال تھا۔ مگر حصولِ علم کے لئے انھیں بغداد جانا پڑا ،جہاں کا مدرسہ نظامیہ عالمی شہرت کا حامل تھا اور دور دراز کے طلباء یہاں پڑھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔مدرسہ کے اساتذہ میں بڑے بڑے علمائِ فن ہوتے تھے اور مدرسے کی طرف سے طلباء کو وظیفے بھی دیئے جاتے تھے۔ اس زمانے میں شیراز بھی، اہل علم کا مرکز تھا اور یہاں مدرسے موجود تھے مگر زمانے کے دستور کے مطابق شیخ بھی مدرسہ نظامیہ میں داخل ہوئے جو اپنے عہد میں بین الاقوامی یونیورسیٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔
سیروسیاحت
شیخ سعدیؔ نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد سیر وسیاحت شروع کی اور ایشیا کے بیشتر حصوں میں سفر کرتے رہے۔ انھوں نے عرب، ایران، ترکستان اور وسط ایشیا کے ساتھ ساتھ، ہندوستان تک، سفر کیااور چین بھی گئے۔ وہ آزاد مزاج تھے لہٰذا خوب سیاحت کی اورتجربات حاصل کئے۔ وہ اپنی کتاب ’’بوستان‘‘ میں گجرات کے سومنات مندر میں ایک مدت تک قیام کی داستان بیان کرتے ہیں۔ انھیں سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے سلطان محمد شہید (گورنر پنجاب و سندھ) نے اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی مگر وہ بڑھاپے کی وجہ سے نہ آسکے اور اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ کر، گلستاں،بوستان روانہ کی۔ وہ کئی بار حج بیت اللہ اور زیارتِ روضۂ رسول کے لئے گئے اور بیت المقدس جاکر عبادت ومجاہدے کئے۔
قید،رہائی اور پھر قیدحیات
ایک بار انھیں بیت المقدس کے صحرا میں کچھ عیسائیوں نے پکڑ لیا اور طرابلس (تریپولی) میں لے جا کر خندق کھودنے پر لگا دیا۔ وہ ایک مدت تک پریشان رہے اور آخرکار کسی شناسا نے، انھیں اس حال میں دیکھا تودس دینار میں خرید کر آزاد کیا۔ وہ اپنے ساتھ حلب لایا اور یہاں سو دینار مہر کے عوض اپنی شوخ اور زبان دراز بیٹی سے نکاح کردیا جو اکثر اپنے باپ کے اس احسان کا طعنہ دیتی رہتی تھیں۔ گویا دس دینار کا قرض بڑھ کر،سودینار ہوگیااور ایک قید سے آزادی کے بعد دوسرے قید میں پڑ گئے۔ یہ تو پتہ نہیں کہ ان بیگم صاحبہ کا کیا رہا مگر ایک اور شادی کا ذکر ملتا ہے جو یمن کے صنعا مقام پر انھوں نے کی تھی۔ اس نکاح سے اولاد بھی ہوئی جس کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیااوراپنی آزاد مزاجی کے باوجود انھیں بے حد صدمہ پہنچا۔گھریلو ذمہ داریاں اپنی جگہ مگر پھر بھی انھوں نے دنیا کے بیشتر حصوں کی سیر وسیاحت کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک جسمانی قوت نے اجازت دی۔
شخص اور عکس
سعدیؔ گوناگوں خوبیوں کے حامل اور متضاد صفات رکھنے والے انسان تھے۔ ان کی شہرت اگرچہ شاعر کے طور پر ہوئی مگر وہ اسی کے ساتھ ایک واعظ وفقیہ بھی تھے۔ وہ ایک طرف صوفی تھے، تو دوسری طرف، ایک حسن پرست اور شوخ طبع انسان بھی تھے۔ انھوں نے ’’گلستان‘‘ کا پانچواں باب عشق وجوانی کے موضوع پر رکھا ہے اور اس کی تمام حکایات سرمستیٔ عشق کے موضوع پر ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی نظر میں عشق ایک فطری موضوع تھا لہٰذا اس پر اظہار خیال کرنے میں انھوں نے کوئی عار محسوس نہ کیا۔ البتہ مدارس آج تک اس قدر وسعتِ قلبی نہ پیدا کرسکے کہ وہ پانچواں باب پڑھاسکیں۔ آج بھی جن مدرسوں میں گلستان کی تعلیم ہوتی ہے وہاں پانچواں باب نہیں پڑھایا جاتا۔ اس باب میں جو عشق کی داستانیں ہیں ان میں بہت سی خود ان کی اپنی ہیںجنھیں چٹخارے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔
صوفی سعدیؔ
شیخ سعدی ایک صوفی بھی تھے اور باقاعدہ سہروردیہ سلسلے کے بانی حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کے ہاتھ پر مرید تھے۔انھیں کی رہنمائی میں سلوک کی تعلیم پائی تھی اور تزکیہ نفس کے مراتب طے کئے۔ وہ باقاعدہ بعض موقعوں پر تصوف کے موضوع پر وعظ کہتے تھے۔ انھوں نے ایک جگہ پیغمبرحضرت یحیٰ علیہ السلام کی قبر پر اعتکاف کرنے کا بھی ذکر کیا ہے۔وہ اپنی کتابوں میں اکثر صاحبِ دل بزرگوں کا ذکر کرتے ہیں۔
دربار سے تعلق
سعدی نے اگرچہ دنیاکے ایک بڑے حصے کی سیر میں اپنی زندگی کے بیشتر ایام گزار دیئے مگران کا دل ہمیشہ شیراز میں لگتا تھا اور وہ یہاں کے لوگوں کی تعریف کیا کرتے تھے۔جس زمانے میں ابوبکر بن سعد زنگی بادشاہ تھا، وہ درباریوں میں داخل ہوئے ، گلستان اور بوستان اس کے نام منسوب کی اور کچھ مدح میں بھی لکھا مگر ان کی آزادروی کے سبب یہ ممکن نہ تھا کہ وہ یہاں جم کر بیٹھ رہتے۔ بادشاہ بھی ان کے مزاج کو سمجھتا تھا لہٰذا اس نے بھی ان سے اس کی توقع نہ کی اور انھیں کوئی بڑی ذمہ داری نہ سونپی۔سعدیؔ کی شہرت ،ان کے عہد میں ہی دور دور تک پھیل چکی تھی اوران کے عقیدت مندوں میں ہلاکوخان کا وزیراعظم خواجہ شمس الدین بھی شامل تھا،جس کی بدولت مغل حکمرانوں میں اسلام کاپیغام عام ہوا۔
آخری آرامگاہ
شیخ نے آخری عمر میں شیراز میں قیام اختیار کرلیا تھا اور شہر کے باہر ایک زادیہ بناکر رہنے لگے تھے۔یہاں وہ دن رات عبادت وریاضت میں لگے رہتے تھے اور ملاقات کے خواہشمند امراء، وزراء، علماء، صوفیہ اور عوام یہیں چلے آیا کرتے تھے۔ انتقال کے بعد ان کا پختہ مقبرہ تعمیر ہوگیا اور یہاں آنے والوں کی بھیڑ لگنے لگی۔ آج بھی شیراز میں یہ مقام دنیا بھر کے سیاحوں اور ان کے قدردانوں کے لئے زیارت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس جگہ کو ’سعدیہ‘ کہاجاتا ہے۔
شاعری
سعدیؔ نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں جن میں گلستان، بوستان کو زیادہ شہرت ملی مگر ان کے علاوہ عربی قصیدہ قافیہ میم،طیبات، بدائع، خواتیم، قصائد فارسیہ، مراثی، طمعات، مثلثات،(فارسی،عربی اور ترکی میں) قصائد عربیہ، ترجیعات، مقطعات، مجلسِ ہزل، مطائبات، رباعیات، مفردات اور غزلیات بھی ہیں۔
فارسی شاعری میں سعدیؔ کا کیا مقام ہے اس کا اندازہ ذیل کے مصرعوں سے ہوجاتا ہے، جو کہ زبان زد ہیں:
در شعر سہ تن پیمبراند
ہر چند کہ لا نبی بعدی
ابیات و قصیدۂ غزل را
فردوسیؔ و انوریؔ و سعدیؔ
یہ مصرعے فارسی شاعری کی ایک بہت بڑی سچائی کو بیان کرتے ہیں۔یہاں تین شاعروں کو فارسی شاعری کا پیغمبر مانا جاتا ہے جن میں ایک سعدیؔ بھی ہیں۔ ان تینوں کے میدان کار مختلف ہیں، یعنی فردوسیؔ ابیات میں پیغمبر کا درجہ رکھتا ہے تو انوریؔ قصیدہ گوئی میں اور سعدیؔ کو غزل کے میدان میں پیغبرانہ مقام حاصل ہے۔یہی نہیں سعدیؔ کا ایک اور میدان ہے اور وہ ہے اخلاقی شاعری کا،جس کے دو بے مثال نمونے گلستان اور بوستان کی شکل میں انھوں نے چھوڑے ہیں۔ گلستاں میں جگہ جگہ اشعار ہیں۔ فارسی شاعری کو عالمی ادب کا امام بنانے میں جن شاعروں کا یوگدان ہے ان میں سعدیؔ سرِ فہرست ہیں۔ ان کی غزل گوئی لاجواب ہے اور کسی بھی بڑے سے بڑے شاعر کے کلام کے مقابلے میں ان کی غزل کو رکھا جاسکتا ہے۔طوطی ہندوستان حضرت امیر خسرو بھی سعدیؔ کو اپنا روحانی استاد مانتے ہیں اور ان کی تقلید میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

( اس مضمون کے ماخذدرج ذیل ہیں: تاریخ ادبیات ایران، شعرالعجم گلستاں، بوستان اور انٹرنیٹ)

(سعدیؔ کی ایک غزل)
چشمت خوش ست وبر اثر خواب خوشتر است
طعمِ دہانت از شکرِ ناب خوشتر است
زنہار از آن تبسمِ شیرین کہ می کنی
کز خندۂ شگوفۂ سیراب خوشتر است
شمعی بہ پیش روی تو گفتم کہ بر کنم
حاجت بشمع نیست کہ مہتاب خوشتر است
دوش آرزویٔ خوشم بود یک جہان
امشب نظر بروی تو از خواب خوشتر است
ز آب روان و سبزہ و صحرا ولالہ زار
بامن مگو کہ چشم بر احباب خوشتر است
سعدیؔ دگر بہ گوشۂ خلوت نمیرود
خلوت خوش ست و خدمت اصحاب خوشتر است

 

(منظوم ترجمہ۔ غوث سیوانی)
آنکھیں ہیں خوب اس پہ اثرِ خواب خوب تر
اس کے لبوں سے چھو کے شکر ناب خوب تر
ہونٹوں پہ اس کے برقِ تبسم کی اِک کرن
بہ خندۂ شگوفۂ سیراب خوب تر
سوچا تھا ایک شمع رکھوں تیرے رو برو
حاجت نہیں کہ شمع سے مہتاب خوب تر
کل تک تھی اِک جہاں کی تمنا میرے دل میں
امشب تمہارا دیکھنا بہ خواب خوب تر
آبِ رواں و سبزہ وصحرا و لالہ زار
ہیں خوب لیکن چشم بر احباب خوب تر
سعدیؔ دوبارہ گوشۂ خلوت نہ جائیے
خلوت ہے خوب وخدمتِ اصحاب خوب تر

(یواین این)

 

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker