Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانیمولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
سیلون میں ڈاڑھی مونڈناسوال :-  میرا سیلون ہے ، یہاں لوگ بال بھی کٹواتے ہیں اور چہرہ بنانے کا بھی کم دیتے ہیں ، ایسی صورت میں کیا ہمارا گاہک کی ڈاڑھی مونڈنا جائز نہیں ؟( احمد علی ، سلطان شاہی) جواب :-  سیلون کی دُکان بنانا تو جائز ہے اور چہرہ بنانا بھی درست ہے ؛ لیکن ڈاڑھی کا مونڈنا جائز نہیں ، ڈاڑھی رکھنا واجب ہے اورڈاڑھی منڈوانا گنا ہ ہے اور گناہ کے کام میں تعاون بھی گناہ ہے ۔میک اپ کا سامان فروخت کرناسوال:-  میری ایک دُکان ہے جس میں مختلف سامان رکھتا ہوں ، جس میں بچوں اور عورتوں کے استعمال کی چیزیں بھی ہیں اور میک اپ اور لپ اسٹک کا سامان بھی ، کیا میرے لئے میک اپ ،  لپ اسٹک اور نیل پالش کا سامان رکھنا درست ہے ؟(محمد توقیر ، دودھ باؤلی) جواب :-  عورتوں کے لئے زیب و زینت کی خصوصی اجازت دی گئی ہے ، اسی لئے ان کو سونے کا زیور بنانے ، ریشم اور شوخ کلر کے کپڑے پہننے اور مہدی لگانے کی بھی اجازت ہے ، اس لئے اگر میک اپ کے سامان میں کوئی حرام جزو استعمال نہیں کیا گیا ہوتو اس کا استعمال جائز ہے اور اس کی خرید و فروخت بھی درست ہے ، یہی حکم نیل پالش کا بھی ہے ۔ایجنٹ کا خریدار کو زمین کی قیمت بڑھا کر بتاناسوال:-  میں زمینوں کا کاروبار کرتا ہوں ، زمین مالک سے بات کرتا ہوں ، پھر خریدنے والی پارٹی سے ، پھر دونوں کو بیٹھاکر سودا کرواتا ہوں ، اس میں میرا بھی نفع ہوتا ہے ، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر زمین مالک ۵۰؍ہزار قیمت بتائے تو کیا میں سامنے والی پارٹی کو ۶۰؍ ہزار بتاسکتاہوں ۔      (فیض احمد ، سنوش نگر) جواب :-  زمین کی خرید و فروخت میں جو شخص درمیانی آدمی کا کردار ادا کرے ، اس کے لئے خریدنے اور بیچنے والے سے کمیشن لینا جائز ہے ؛ لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ معاملہ کو واضح کردے ، جھوٹ اور دھوکہ نہ ہو ، مالک زمین ۵۰؍ ہزار قیمت بتائے اور دوسرے فریق کو ۶۰؍ ہزار بتایا جائے یہ جائز نہیں ؛ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مالک زمین سے کہے کہ آپ ۵۰؍ ہزار کے بجائے ۶۰؍ہزار اس کی قیمت رکھئے اور یہ جو ۱۰؍ ہزار کی زائد قیمت ہے ، یہ میری اُجرت ہے اور مالک زمین کی منظوری سے وہ دوسرے فریق کو کہے کہ زمین کی قیمت ۶۰؍ ہزار روپے متعین ہے تو ایسا کرنا درست ہوگا ؛ کیوںکہ خود مالک زمین نے ایجنٹ کے مشورہ سے زمین کی قیمت ۶۰؍ ہزار روپے متعین کی ہے تو اب اس میں جھوٹ اور دھوکہ نہیں رہا ۔ایسی چیزوں کا فروخت کرنا جن کا استعمال پوجا میں بھی استعمال ہوتا ہوسوال:-  میں اپنی دُکان میں مختلف چیزیں رکھتا ہوں ، ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو آدمی کے استعمال پر ہیں ، چاہے تو آدمی اچھا استعمال کرے ، چاہے تو بُرا ، جیسے : گنیش کے موقع پر پھل ، فروٹ ، ناریل وغیرہ اور بعض ایسی چیزیں ہیں جن کا استعمال یقینی طورپر برا ہے ، ایسی چیزوں کا بیچنا کیسا ہے ؟ ( محمد مصطفی ، حیدرگوڑہ) جواب:-  جن چیزوں کا جائز استعمال بھی ہوسکتا ہے ، جیسے کھانے پینے کی چیزیں ، ان کا تہوار میں شریک ہونے والے غیر مسلم بھائیوں کے ہاتھ بیچنا جائز ہے ، سوائے ایسی چیزوں کے جن کے بارے میں معلوم ہوکہ ان کا استعمال پوجا پاٹ ہی کے لئے ہوگا ، جیسے مندر کے قریب پھول اور ناریل بیچنا ، جن کو غیر مسلم عقیدت مند مورتیوں پر چڑھاتے ہیں ، مندروں کو آنے والے حضرات کے ہاتھ ان کو بیچنا مکروہ ہے ؛ کیوںکہ اگرچہ یہ چیزیں جائز مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں ، مگر یہاں خریدنے والوں کی نیت معلوم ہے کہ وہ اس کو مورتیوں پر چڑھائیں گے ، اسی طرح جو چیزیں خاص پوجا ہی کے لئے استعمال کی جاتی ہیں اور اسی میں ہی استعمال ہوتی ہیں ، ان کو بیچنا جائز نہیں ؛ کیوںکہ یہ شرک کے کام میں کھلا ہوا تعاون ہے ۔غیر مسلموں کی پیشانی پر لگائی جانے والی علامتی شئے کا فروخت کرناسوال:-  کفار اپنی پیشانیوں پر ایک علامتی لال نشان لگاتے ہیں ، جو کبھی کاغذ سے بنا ہوتا ہے ، کبھی مسالہ سے ، ان چیزوں کو بیچنا کیا حکم رکھتا ہے ؟ (محمد مصطفی ، حیدرگوڑہ) جواب:-  جو چیزیں کسی غیر مسلم گروہ کے لئے مذہبی علامت کا درجہ رکھتی ہوں ، وہ اس گروہ کے شعار میں داخل ہیں ، جیسے عیسائی حضرات کا اپنے گلے میں صلیب لٹکانا ، برادرانِ وطن اپنی پیشانی پر جو ٹیکہ لگاتے ہیں یا بعض لوگ قشقہ لگاتے ہیں ، یہ مذہب یا اس مذہب کے کسی خاص گروہ سے وابستگی کی علامت ہے ، اور ان کے لئے شعار کے درجہ میں ہے ، اس لئے ایسی چیزوں کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے ۔تصویر والے کھلونےسوال:-  خواتین کی تصویر والے کھلونے ، یا بتوں کی تصویر والے کھلونے بیچنا کیسا ہے ؟ (اشفاق احمد ، بنجارہ ہلز ) جواب:-  ایسے کھلونے بیچنا جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ سایہ دار تصوریروں کے درجہ میں ہیں اور سایہ دار تصوریروں کے حرام ہونے پر فقہاء کا اتفاق ہے ، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چھوٹے بچوں کا ذہن بہت تیزی سے ان چیزوں کو اخذ کرتا ہے ، جن کو وہ دیکھتا ہے ، بتوں کو دیکھ کر ان کے اندر بتوں کی عظمت پیدا ہوتی ہے ، لڑکیوں کی تصویر پر مبنی کھلونے اس طرح بنائے جاتے ہیں کہ بعض اوقات جسم کانشیب و فراز بھی ظاہر کیا جاتا ہے ، یہ بات بچوں کے اخلاق پر برا اثر ڈال سکتی ہے ؛ اس لئے ایسے کھلونے استعمال کرنا اور فروخت کرنا چاہئے ، جو غیر ذی روح کی شکل پر مبنی ہوں ۔موسیقی اور ہوٹل میں خورد و نوش کرناسوال:-  بہت سے ہوٹل ایسے ہوتے ہیں جہاں ہلکی ہلکی موسیقی ہر وقت جاری رہتی ہے ، ایسے ہوٹلوں میں کھانے کا کیا حکم ہے ، اس میں دو شکلیں ہیں  :(۱)  جب کہ دوسرے ہوٹل موجود ہوں ، اور ہم شوقیہ کھانا چاہتے ہوں ۔(۲)  جب کہ دوسرے ہوٹل موجود نہ ہوں اور ہم مجبوراً کھانا چاہتے ہوں ۔ (حیدرعلی ، بورا بنڈہ) جواب:-  رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ جیسے پانی سے کھیتیاں اُگتی ہیں ، اسی طرح گانے بجانے سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے،(سنن بیہقی ، حدیث نمبر : ۲۱۰۰۷) اس لئے موسیقی بجانا جائز نہیں ، اور جانتے بوجھتے بلا ضرورت ایسے ماحول میں رہنا بھی درست نہیں ؛ لہٰذا مجبوری کی شکل میں تو ایسے ہوٹل میں کھانے کی گنجائش ہے اور کھانے کے بقدر وہاں وہ قیام کرسکتا ہے ؛ لیکن شوقیہ ایسے ہوٹل میں کھانا درست نہیں ، کم سے کم ایسا ہونا چاہئے کہ ہوٹل والوں سے خواہش کی جائے کہ میرے جانے تک موسیقی بند کردی جائے ، اگر محبت کے ساتھ یہ بات کہی جائے تو عام طورپر ہوٹل والے یا ٹیکسی والے اس گذارش کو قبول کرلیتے ہیں ۔کھیتی کی حفاظت کے لئے نقلی پتلے کا استعمالسوال:-  میرا سبزی کا کاروبار ہے ، اُگاکر بیچتا ہوں ، کھیتوں میں جانوروں اور پرندوں کو بھگانے کے لئے ’’ بھامبوٹ ‘‘ کھڑا کرنا پڑتا ہے ، جس کو ہمارے یہاں بڑگونا ( نقلی پتلا ) کہتے ہیں ، کیا یہ جانوروں کو دھوکہ نہیں ہے اور کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟( محمد فصیح ، شمس آباد) جواب:-  نقصان پہنچانے والے جانوروں کو بھگانے کے لئے یہ تدبیر اختیار کرنا جائز ہے ، جب ایذا پہنچانے والے جانور کو مارنے کی اجازت ہے تو اس کی بدرجۂ اولیٰ اجازت ہوگی اور اس مقصد کے لئے جو نقلی پتلا استعمال کیا جاتا ہے ، عام طورپر اس میں شکل واضح نہیں ہوتی ہے کہ اس کو تصویر اور مجسمہ کے حکم میں رکھا جائے ، اس لئے اس پہلو سے بھی اس کے استعمال میں قباحت نہیں ۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like