مضامین ومقالات

سماج کو تقسیم کرنے کی سازش پر لگام ضروری

مولانا اسرار الحق قاسمی
مرکز میںوزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈیڑھ سالہ حکمرانی کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کرنے کے لئے ملک کے سرکردہ ادیبوں‘دانشوروں‘مصنفوں‘فلمسازوں‘فنکاروں‘سائنسدانوں‘موئرخوں نے اپنے قومی ایوارڈس واپس کرتے ہوئے حکومت وقت کو لعنت وملامت کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا‘اس سے ارباب حل و عقد اس قدربوکھلا گئے کہ انہوںے آناً فاناً اپنے وظیفہ خوروں کو ایوارڈ واپسی کے اس حقیقی احتجاج کے خلاف دہلی میں ایک فرضی مارچ نکالنے کا حکم صادر فرما دیا جس کی تکمیل میںفلم اور ڈراموں کے مشہور اداکارانوپم کھیرنے‘ جو بی جے پی کے حامی کے بطوربھی شہرت رکھتے ہیںاور جن کی اہلیہ کرن کھیر بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں‘گزشتہ سنیچر کونئی دہلی میںاپنی سرکردگی میں ہی ایک ’مارچ فار انڈیا‘کا ڈرامہ اسٹیج کیااور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ملک میں عدم رواداری کا ماحول دور دور تک نہیں بلکہ تحمل اور برداشت کی شاندار فضا ہے‘اور جو لوگ ایوارڈ واپس کر رہے ہیں وہ کانگریس یا بائیں بازو کی جماعتوں کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہیںاور ان سے یہ برداشت نہیں ہو رہا ہے کہ مودی اس ملک کے وزیر اعظم کیسے بن گئے لہٰذا وہ امن ‘بھائی چارہ اور رواداری کی چیمپیئن اس حکومت کوبدنام کرنے کے لئے خواہ مخواہ عدم رواداری کا جھوٹا شور مچا کر ایوارڈ واپس کر رہے ہیں۔
اس مارچ میںانوپم کھیرکا ساتھ دینے والی حکومت نواز بھیڑ میںفلمسازمدھور بھنڈارکر‘اشوک پنڈت‘پریہ درشن‘اداکار منوج جوشی کے ساتھ مصنفہ مدھو کشور بھی شامل تھیں جو نریندر مودی کی زبردست وفادار‘ آر ایس ایس کی طرفداراور مسلم مخالف ایسی کہ پورے مسلم فرقہ کو ہی اڑیل‘ضدی اور فسادی جیسے القاب سے نوازنے کے لئے جانی جاتی ہیں۔اسی جماوڑے میں گلوکار ابھیجیت بھٹہ چاریہ بھی ایک ٹیلی ویزن کیمرے پر غلام علی جیسے عالمی شہرت یافتہ فنکار کے بارے میں یہ اظہار خیال فرماتے ہوئے دیکھے اور سنے گئے کہ ’یہ غلام علی ہے کیا چیز؟‘۔ایک استاد فنکار کے بارے میں ایسے نازیبا الفاظ کا استعمال اس ناپختہ اور پٹے ہوئے گلوکار کی ذہنی خباثت اورفتنہ انگیزی کی عکاسی کرتا ہے۔اس مارچ کے ان سرگرم افراد نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اورہاں شام ساڑھے چھہ بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی شاید پیٹھ تھپتھپانے اور شکریہ ادا کرنے کے لئے اس گروپ کو شرف ملاقات بخشا۔
انوپم کھیر اور انکے ہمنوا تو مہرہ ہیں جنہیں بی جے پی حکومت نے استعمال کیا۔ اگر حکومت کو واقعی یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ملک میں رواداری کا ماحول قائم ہے اور ادیب‘ دانشور‘ سائنسداں اور فنکارمحض اسے بدنام کرنے کے لئے ایوارڈ واپس کر رہے ہیںتو اسے صدر پرنب مکھرجی کے خلاف بھی اسی نوعیت کے ایک مارچ کا اہتمام کرنا چاہئے جو خود گزشتہ دو مہینوں میں کم از کم چھ بار مرکزی حکومت کو رواداری کی تلقین کر چکے ہیں ۔کیا صدر مکھرجی بھی غلط بیانی کر رہے ہیں ‘حکومت کو بدنام کر رہے ہیں اور وہ بھی کسی سیاسی جماعت کے آلۂ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں؟ حکمراں جماعت کو ان سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔
یہی نہیں‘اس سچائی پر کیسے پردہ ڈالا جا سکتا ہے کہ مودی حکومت کے دور اقتدار میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کا نوٹس عالمی سطح پر بھی لیا گیا ہے۔ اگر ملک میں واقعی رواداری قائم ہے تو آخر کیا سبب تھا کہ امریکی صدر اوباما جب اس سال یوم جمہوریہ تقریبات میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرنے کے لئے ہندوستان آئے تو ان کو دہلی کے سری فورٹ اسٹیڈیم میں اپنے خطاب میں ڈھکے چھپے لفظوں میں مودی حکومت کے دور میں عدم رواراری کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہنے کی ضرورت پیش آئی کہ کوئی ملک اسی وقت ترقی کر سکتاہے جب وہاں مذہبی آزادی ہو۔اس خطاب کے ہفتہ دس دنوں کے بعد ہی انہوں نے واشنگٹن میں بھی یہی بات دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اگر گاندھی جی زندہ ہوتے تو انہیں بھارت میںمذہبی عدم رواداری کے موجودہ ماحول سے کافی صدمہ پہنچتا۔اسکے علاوہ ابھی گزشتہ ہفتہ ہی عالمی کریڈٹ ریٹنگ کے ادارے موڈی نے مودی حکومت کووارننگ دی کہ وہ اپنی پارٹی کے نفرت پھیلانے والے لیڈروں کو کنٹرول کریں ورنہ بھارت کی عالمی معتبریت خطرے میں پڑسکتی ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کا نوٹس برطانیہ میں بھی لیا گیا ہے جہاں کے دورے کے لئے وزیر اعظم رخت سفر بس باندھنے ہی والے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ وہاں وزیر اعظم مودی کوہندوستان میں عدم تحمل کی موجودہ صورتحال کے خلاف احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
ہندوستان میں مودی حکومت کی سرپرستی میںعدم رواداری کے بڑھتے ہوئے طوفان کوملک و بیرون ممالک میں شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے لیکن آخر کیا سبب ہے کہ حکومت تجاہل عارفانہ سے کام لے رہی ہے اور چند لوگوں کے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ تھما کر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں سب خیریت ہے۔ ہندوستان ایک تکثیری ملک ہے جہاں آئین نے سب کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے‘ اپنی تہذیب و ثقافت کو قائم رکھنے کی آزادی دی ہے۔مودی حکومت قائم ہونے کے بعد اس آزادی پرہر روز حملے ہو رہے ہیں۔ ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی ہر روز کوشش ہو رہی ہے۔ اگر کوئی گوشت کھاتا ہے تو اسے گھر میں گھس کر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی حکومت کے خلاف منہ کھولے تو اسے موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ سوا ارب آبادی والے اس ملک کے پچیس کروڑ مسلمانوں کو ہر روز پاکستان چلے جانے یا سمندر میں غرق ہو جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کوئی مسلمان حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرے تو فوراً پاکستانی ایجنٹ قرار پاتا ہے۔ مسلم حکمرانوں سے موسوم سڑکوں کے نام بدلے جا رہے ہیں۔ ٹیپو سلطان جیسے محب وطن اور انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے جا ن دینے والے حکمراں کے خلاف بے معنی باتیں کی جا رہی ہیں۔مسلمانوں کوہندو بنانے کی جبراً کوشش ہو رہی ہے۔ ان پر ہندو رسم ورواج میں ڈھل جانے کے لئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔یہ فہرست کافی طویل ہو سکتی ہے۔ کیا یہ تمام باتیں تحمل اور رواداری کی باتیں ہیں؟
بہر حال‘ایوارڈ واپسی کے خلاف یہ مارچ ‘حکمراں ٹولہ کی سماج کو تقسیم کرنے کی مسلسل کوششوں کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اپنے سیاسی مفادات کے لئے زعفرانی آئیڈیالوجی کو ملک کے نظام پر مسلط کرنے کی ناپاک کوششوں اور سازشوںمیں ہمہ وقت سر گرم عمل رہنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکی ہمنوا تنظیموں کا یہ کوئی نیا حربہ نہیں ہے۔ سچ کو دبانے اور اس پر جھوٹ کا ملمع چڑھانے کی یہ ایک کوشش تھی جو ظاہر ہے کہ بہت کامیاب نہیں ہوسکی تاہم آنے والے وقت میں اسکے خطرناک نتائج ضرور سامنے آسکتے ہیں۔ یہ مارچ یہ ثابت کرنے میںبہر حال ناکام رہا ہے کہ جس عدم رواداری کے خلاف ایوارڈ واپسی کی شکل میں احتجاجات ہو رہے ہیں‘ وہ عدم رواداری نام کی کوئی شئے ملک میں موجود ہی نہیں ہے۔ البتہ ایک اور سچ ضرور سامنے آگیا ہے کہ حکومت ِوقت کی کھلی سرپرستی میں سماج کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش تیزی سے پنپتی جا رہی ہے۔بہار انتخابات میں شرمناک شکست کے بعد امید کی جانی چاہئے کہ بی جے پی سماج کو تقسیم کرنے کی اپنی پالیسی کو ترک کر دیگی اور یہ سبق ضرور حاصل کرے گی کہ ہندوستان کے متنوع معاشرہ کے ہر رنگ کو برقرار رکھ کر اور اسے پھلنے پھولنے اورنکھرنے کا موقع دیکر ہی ملک کو ترقی کے راستہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
(مضمون نگارممبرپارلیمنٹ اورآل انڈیاتعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے صدرہیں)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker