مضامین ومقالات

یہ جو زندگی ہے

تبسّم منظور ممبئی
ہماری زندگی ایک پوری کتاب ہے۔جس میں ہم ہر روز ایک صفحہ لکھتے ہیں۔کبھی کچھ اچھا تو کبھی کچھ برا لکھا جاتا ہے۔کیونکہ ہر دن ایک جیسا اور ہر ایک کی زندگی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ہماری زندگی میں بہت سارے لوگ ملتے ہیں۔کوئی بہت یاد آتے ہیں۔کوئی ہمیشہ یاد رہ جاتے ہیں۔کسی کو ہم بھول جاتے ہیں۔کوئی کسی کو شدت سے دعاؤں میں مانگتا ہے تو کوئی کسی کو بنا مانگے ہی مل جاتا ہے۔کبھی کبھی ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جن سے کبھی نہ ٹوٹنے والا ایک مضبوط رشتہ بن جاتا ہے۔کبھی کوئی خوبصورت سا ایک پل ہماری زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ کبھی کبھی کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جو ہماری زندگی کو ستاروں کی طرح چمکا دیتے ہیں۔جو ہمارے لئے کسی ٹھنڈی چھاؤں کی طرح ہوتے ہیں۔اور کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جن کے لئے ہم اپنی ساری زندگی قربان بھی کریں تو وہ زہر اگلنے سے باز نہیں آتے۔
یہ جو زندگی ہے کہیں کسی کے لئے گلاب کی طرح مہک رہی ہے تو کہیں مرجھا گئی ہے۔کہیں کسی کی زندگی میں بے شمار نعمتوں، برکتوں کی بارش ہے تو کہیں تشنگی بے حساب ہے۔کہیں کسی کے لئے یہ زندگی ایک حسین خواب ہے تو کسی کے لئے عذاب سے کم نہیں۔یہ زندگی کہیں کسی کے لئے آنسوؤں کی درد بھری داستان ہے تو کہیں مسکراہٹوں کا گلستان ہے۔کہیں کسی کی زندگی میں غم ہی غم ہیں تو کہیں خوشی مہربان ہے۔کہیں کسی کی آنکھیں اشکبار ہیں تو کہیں ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے۔کہیں زندگی چھاوں ہیں تو کہیں دھوپ ہے۔کہیں زندگی میں کسی کو پالیا تو کسی نے کھو دیا۔کہیں کوئی زخموں کو چھپا رہا ہے تو کہیں لفظوں سے دل کو چھلنی کر رہا ہے۔
یہ زندگی ایک پہلی ہے اسے سچے دل سے سلجھانا ہے ایک وعدہ ہے جس کو نبھانا ہے۔زندگی کبھی کبھی راہوں میں پھول بکھیرتی ہے تو کبھی کانٹوں پر بھی چلاتی ہے۔کبھی
زندگی غم کا دریا ہے تو کبھی خوشی کا سمندر ہے۔بس ہمیں ہنس کر پار کرنا ہے۔سب کچھ حاصل نہیں ہوتا زندگی میں۔اسی کو تو زندگی کہتے ہے نا !
زندگی کے سفر میں جو مقام گزر جاتے ہیں۔ وہ پھر کبھی بھی واپس نہیں آتے۔ایک بار جو دن رات صبح شام گزر جائے تو پھر وہ کبھی نہیں آتے۔جو لوگ ایک بار بچھڑ جائیں تو ہزاروں کے آنے سے بھی ملتے نہیں۔ ہم جب اپنے آس پاس کا جائزہ لیتے ہیں۔تو پتہ چلتا ہے کہ کہیں بھائی بھائی کا دشمن بنا ہے تو کہیں بھائیوں میں اتنا پیار ہے کہ لوگ مثال دیتے ہیں۔سبھی بھائی بہن ایک ساتھ ماں باپ کی آغوش میں پلے بڑھے وہ بڑے ہو کر صرف جائیداد کے لئے ایک دوسرے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ایک دوسرے کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتے سالوں سال بات چیت بند کیے ہوئے ہیں۔کہیں پر بچے اپنے ماں باپ کا بے حد عزت و احترام کرتے ہیں تو کہیں پر والدین کو اولڈ ایج ہوم میں بھیجا جا رہا ہے۔یہ زندگی ہے چلتی رہتی ہے کبھی رکتی نہیں۔کیسی کے رہنے یا نہ رہنے سے نا ہی رکے گی۔ زندگی ایک امتحان گاہ ہے ہر روز ہم امتحان سے گزرتے ہیں۔روز ایک نیا سبق اور ایک نیا تجربہ ملتا ہے۔زندگی کبھی خوشی دے کر اور کبھی غم دے کر بھی امتحان لیتی ہے۔کوئی کسی کو اپنے سے آگے جانے نہیں دیتا۔لوگ ایک چہرے پر کئی چہرے لگائے ہوئے ہیں۔دوست بن کر ملتے ہیں اور دل زہر میں سمائے ہوئے ہیں۔اور زہر بھی کیسا؟ میٹھے زہر سے ایک دوسرے کی جان لیتے ہیں۔غیر تو غیر اپنے بھی دشمنی نبھانے میں کوئی کسر نہیں رکھتے۔زندگی اللہ تعالٰی نے ہمارے پاس امانت کے طور پر دی ہے جب چاہے واپس لے سکتا ہے اس لئے ہمیشہ زیر بن کر رہیں زبر بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایک دن اللہ تعالٰی کے سامنے پیش ہونا ہے۔زندگی کی صحیح حقیقت اگر معلوم ہو جائے تو بیشک ہم اللہ کے سوا کسی کو بھی اپنا ساتھی نہیں چنگے۔ زندگی میں ایک دوسرے سے پیار اور محبتیں بانٹوں اپنے دلوں سے نفرتیں عداوتیں نکال دو۔اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے سیدھے سچیراستے پر چلتے ہوئے اپنی زندگی کوسنواروں کیونکہ یہ زندگی ایک مہمان ہے بے وفا ہے یہ ہمارا ساتھ چھوڑ جائے گی۔موت ہی ایک حقیقت ہے۔ایک محبوبہ کی طرح ہے جو ساتھ لے کر جائے گی۔سب کچھ یہی رہ جائے گا۔ساتھ جائیں گے تو صرف اعمال اور کچھ نہیں۔۔۔۔
سورہ ال عمران کی آیت نمبر 193۔”اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دے اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر کے اپنے پاس بلا لے”۔ آمین
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker