مضامین ومقالات

بہارالیکشن:فرقہ پرستی کی شکست

محمدشارب ضیاء رحمانی
دوسال قبل بہارکی ریلی میں مودی نے کہاتھاکہ اہل بہارنے سکندرجیسے فاتح کونہیں چھوڑا۔جب وہ اپنی فاتحانہ مہم کے ساتھ یہاںبڑھاتوبہاریوں نے اسے ماربھگایا۔تاریخی حیثیت اس بیان کی جوبھی ہولیکن خودکوسکندراوراشوک سمجھنے والے تاناشاہ کے اقتدارکانشہ بہارنے چورکردیااورایسی کراری ہارسے نوازاکہ مودی اورامت شاہ کی جوڑی پرپڑے زوردارطمانچہ کی گونج پاکستان کیاپوری دنیامیں سنی گئی،مرکز کی سب سے بڑی پارٹی بہارکی تیسری درجہ کی جماعت بن کررہ گئی۔آرایس ایس کی ساری کوششیں بیکارہوئیں اورمرکزی وزراء کاکام دھنداچھوڑکربہارمیں ڈیرہ ڈالناکام نہ آیا۔ مودی اینڈکمپنی نے جس طرح اہل بہارکولڑانے کی کوشش کی،عوام نے اس کے اس فرقہ پرستانہ ایجنڈے کومستردکردیا۔دلچسپ بات یہ رہی کہ جیسے ہی آٹھ بجے کائونٹنگ شروع ہوئی اورابتدائی مرحلہ میں این ڈی اے کوواضح اکثریت مل رہی تھی جس کے بعد’’جے شری رام اورہرہرمودی‘‘کے نعرے لگنے لگے ،بی جے پی دفترکے سامنے مٹھائی اورپٹاخے کی دکانیں کھلنے لگیں،مانجھی نے تووزیراعلیٰ کیلئے اپنی دعویداری بھی پیش کردی۔اس وقت ٹی وی چینلوں اوربی جے پی لیڈروں کے دماغ اورزبان کاجواب نہیں تھا۔چراغ پاسوان سے لے کرشہنوازحسین تک بس حکومت بنانے ہی جارہے تھے لیکن جیسے ہی پانسہ پلٹا،ترجمانوں کی بولتی بندہوگئی اورمنہ پررنگ پوت کر’’جے شری رام ‘‘کانعرہ لگانے والے جلدی جلدی منہ پوچھ کربی جے پی دفترسے بھاگنے لگے۔
اس سے بھی دلچسپ بات یہ رہی ہے کہ صبح صبح مودی، برتھ ڈے کی مبارکباددینے اپنے ’’گرو ‘‘اڈوانی کے گھرپہونچے ہوئے تھے لیکن وہ کوئی تحفہ کیادے پاتے،اس سے قبل ہی رجحانات میں تبدیلی دیکھ کرہوش ٹھکا نے لگ گئے لیکن اڈوانی اوران کے خیمہ نے ضرورراحت کی سانس لی ہوگی۔شتروگھن سنہااورارون شوری کازوردارحملہ، اسی کااشارہ ہے ۔اب اجتماعی ذمہ داری بتاکرمودی سے شکست کاٹھیکراہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی نے دہلی میں کم اوربہارمیں زیادہ وقت دیا،مقابلہ مودی بنام نتیش تھا،جس میں دوبہاری پورے مرکز پربھاری پڑگئے۔امت شاہ ،مودی کے وزراء کے ساتھ پٹنہ میں ڈیرہ ڈالے تھے۔آرایس ایس نے بھی کیاکیاجتن نہیں کئے لیکن نتیجہ بالکل قیاس سے بالاتررہا۔اس اتحادکاسب سے زیادہ فائدہ لالواورپھرکانگریس کوہوا۔اتنی شاندارکامیابی کی شایدامیدمہاگٹھ بندھن کوبھی نہیں ہوئی ہوگئی ۔اسکے لئے سب سے زیادہ مبارکبادکے مستحق مسلمان ہیں جنہوں نے دہلی کی طرح بہت خاموشی کے ساتھ اپنے اتحادویکجہتی کامظاہرہ کرکے ملک کی سیاست کونئی سمت دی ۔ممتابنرجی،کجریوال،عمرعبداللہ، راہل گاندھی،سونیاگاندھی نے سیکولرزم کی اس علمبرداری پراہل بہارکومبارکباددی ہے۔لالونے صاف کردیاہے کہ راجدبڑی پارٹی بن کرابھری ضرورہے لیکن لڑائی مہاگٹھ بندھن نے لڑی ہے اس لئے پارٹی کاکوئی مسئلہ ہے ہی نہیں،لالونے پورے بہار،اقلیتوں اورمسلمانوں کابھی شکریہ اداکرتے ہوئے کہاہے کہ نتیش بہارسنبھالیں گے اورمیں دہلی میں مودی سے دودوہاتھ کروں گا۔
ٓتاریخ شاہدہے کہ کبھی بھی، کسی کاستارئہ اقبال بلندنہیں رہاہے۔جب غرور،نخوت اورکبرحدسے گذرتاہے توخدائی عتاب مختلف اندازسے نازل ہوتاہے۔جب قضائے الٰہی کے آگے نمردو،شداداورفرعون وسکندرجیسے شہ زور مجبورہوگئے تو فسطائیت ،فاشزم کی سیاست اورظلم کی حکمرانی بھی باقی نہیں رہ سکتی۔شرط یہ ہے کہ ہمارے اعمال نصرت الٰہی کے تقاضوں کے مطابق ہوجائیں۔خداتواپنے گھرکی حفاظت کاکام ابابیلوں سے بھی لے لیاکرتاہے ،وہ مسبب الاسباب ہے ،سبب کامحتاج نہیں۔حدیث کے مطابق ظالم کاتسلط ہماری بداعمالی اورخیرامت کے تقاضوں سے روگردانی کانتیجہ ہے۔
بی جے پی کی یہ سازش تھی کہ یوپی اوربہارفتح کرکے راجیہ سبھامیں اکثریت میں آئے اورپھراپنے ناپاک منصوبہ یعنی ہندواسٹیٹ کی طرف قانون سازی کی راہ ہموارکرسکے۔لیکن ان کے ناپاک عزائم سبوتاژہوگئے ۔ اب یوپی کے مسلمانوں کی سیاسی بصیرت کاامتحان ہوناہے،پنچایت الیکشن نے مثبت پیغام لایاہے اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔یوپی الیکشن اورپھرلوک سبھاکیلئے ابھی سے تیاری کرکے کل وقتی حل نکالناچاہئے۔یوپی میں کانگریس کومایاوتی کے ساتھ اتحادکرناانتہائی ضروری ہے،ابھی سے اس کی حکمت عملی طے کرنی چاہئے ۔مہاراشٹراورجھارکھنڈکی صورتحال دوسری تھی۔وہاں بھی اگراین سی پی اورجھارکھنڈمکتی مورچہ کے ساتھ مل کرکانگریس الیکشن لڑتی تونتیجہ مختلف ہوتا۔ان ریاستوں میںبی جے پی جیتی نہیں ہے بلکہ کانگریس اپنی کرنی سے ہاری ہے۔
مسلمانوں کوزیادہ خوش فہمی میں مبتلاہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔قابل فکرپہلویہ ہے کہ ہمیں اس نتیجہ سے کیاملا۔۔ کیاہمارامصرف بس اس قدرہے کہ کسی پارٹی کواپنے سرپربٹھاکراقتدارکی منزل تک پہونچادیں۔اورپھرپانچ برسوں تک ہمارااستحصال اوراستعمال ہوتارہے۔کون نہیں جانتاکہ مسلمانوں کے سارے مسائل انہیں نام نہادسیکولرپارٹیوں کے پیداکردہ ہیں،بی جے پی تواسے عملی جامہ پہنارہی ہے ۔یونیفارم سول کوڈکاشوشہ کانگریس نے چھوڑا،بی جے پی ، حکومتی ایجنڈے میں شامل کرکے اس پرآگے بڑھ رہی ہے،بابری مسجدکاتالاسیکولرزم کے علمبردارنے ہی کھولا،بی جے پی نے اسے شہیدکیا۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس الیکشن میںمہاگٹھ بندھن کوووٹ دیناہماری مجبوری تھی ،ہمارے پاس کوئی متبادل بھی نہیں تھا۔اسی لئے ہارڈفرقہ پرستی کے مقابلہ میں سافٹ کومنلزم کاساتھ دیناپڑا۔لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کب تک ہم مجبوروبے بس رہیں گے اوردشمنوں کوپہچاننے کے باوجوداقتدارسے نوازتے رہیں گے۔ہمیں توکبھی بھی غیروں کو اپناہمرازاوردوست سمجھنے کی غلطی نہ کرنے کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔وقت کی ضرورت ہے کہ اب اس سیاست سے باہرہوں،کانگریس،راجد،جدیو،ایس پی ،بی ایس پی اوراین سی پی کوئی مسلمانوں کی ہمدردپارٹی نہیں ہے۔آخرلالویادوبلکہ پورامہاگٹھ بندھن مسلمانوں کے ووٹ کادعویدارتھا،مسلمانوں نے صرف ملک کے مفادمیں ان کابھرپورساتھ دیا لیکن مہاگٹھ بندھن کے اس طرزعمل پربھی غورکرنے کی ضرورت ہے کہ اس نے 63یادئوں کوٹکٹ دیاجب کہ 33مسلمان امیدواربنائے گئے۔کل 24مسلمان اسمبلی پہونچنے میں کامیاب ہوئے ،مہاگٹھ بندھن سے 23اورسی پی ایم سے ایک مسلمان نے کامیابی حاصل کی۔یہ تعدادآبادی کے تناسب سے کم ہے ۔جب آپ ٹکٹ دیں گے ہی نہیں تومسلمان کہاں سے قانون سازاداروں تک پہونچ سکتاہے۔اندازہ لگائیے کہ مسلمانوں کی آبادی کاتناسب کیاہے اوریادئوں کاکیا،پھربھی اس کے تقریباََآدھے امیدواربنائے گئے۔جب ہمارے ووٹ کے دعویدارآپ ہیں تونمائندگی سے گھبراہٹ کیوں؟۔پھرتمام مسلم لیڈران،ڈاکٹرشکیل ،تسلیم الدین اورعبدالباری صدیقی پس منظرمیں ڈال دیئے گئے۔یہ نہیں بھولناچاہئے کہ لالویادوووٹ لینے کیلئے مسلم، یادوکی بات کرتے ہیں لیکن بات آتی ہے انہیں ان کے حقوق دینے کی اوران کی نمائندگی کی توپھرصرف یادوہی سامنے ہوتے ہیں۔مسلمانوں نے اپنی ذمہ داری اداکردی ہے اور نہایت دانشمندی اورخاموشی کے ساتھ فرقہ پرستوں کوجواب دے دیا۔اب مہاگٹھ بندھن کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مسائل کووہ سمجھیں۔
اب تک ہماری شکایت یہ تھی کہ ذات برداری کے حساب سے بھی مختلف پارٹیاں ہیں لیکن ملک کی دوسری اکثریت ہونے کے باجودہماراکوئی سیاسی وزن نہیں ہے۔کیااس مسئلہ کاکوئی کل وقتی حل نکلے گا۔ سیاست میں ہمیں اجارہ دارنہ سمجھاجائے بلکہ اگرہمارے ووٹ کی ضرورت ہے توپھرنمائندگی دینی ہوگی،ہمارے مسائل حل کرنے ہوں گے۔اس حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرناچاہئے کہ مسلمانوںکوسچرکمیٹی کی سفارشات کے مطابق تعلیم میں اورنوکری میں دس فیصدریزرویشن دیناچاہئے،کھل کراتنی حمایت اوراقتدارتک پہونچانے والے مسلما ن کیااس سے بھی گئے کہ اپنے مطالبات منوائیں۔مودی جی کے بقول نتیش جی نے سب کوٹے سے مسلم ریزرویشن کی بات کہی تھی اورراجدکے سنیئرلیڈرعبدالباری صدیقی بھی سب کوٹے سے نہیں الگ کوٹے سے ریزرویشن کااشارہ اورخودلالوجی وعدہ کرچکے ہیں۔مسلمانوں کایہ بھی مطالبہ ہوناچاہئے کہ جس طرح سب سے زیادہ(98فیصد)مسلمانوں نے مہاگٹھ بندھن کوووٹ دیاہے تواسی ووٹنگ کے تناسب سے وزارت میں بھی حصہ داری چاہئے۔ورنہ مسلمان خودکوٹھگاہوامحسوس کریں گے۔اب استحصال اوراستعمال کی سیاست کوترک کرکے انہیںمسلمانوں کے حوالہ سے پالیسی ،رویہ اورنظریہ بدلناہوگا۔ سافٹ کمیونلزم کوہارڈکمیونلزم پرترجیح دینامسلمانوں کی مجبوری رہی ہے۔انہوں نے بڑی قیمت اداکرکے سیکولرزم کی حفاظت کی ہے اورایک بارپھرانہوں نے سیکولرزم کے پرچم کوبلندکرکے کنگ میکرکاکرداراداکیاہے۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے فیچر ایڈیٹر ہیں رابطہ: sharibziarahmani@gmail.com، 08750258097)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker