مضامین ومقالات

نسل کشی کے دوران اقتصادی پیکیج کی کوئی اہمیت حاصل ہے؟

اقتصادی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی کشمیرکا ایک اورچراغ گل کردیاگیا
عبدالرافع رسول
آغازکلام جناب نازکی صاحب کی ا س رباعی سے کرتاہوںکہ
من تو شدم مودی شدم
تو من شدی مفتی شدی
تا کس نہ گویند بعد ازیں
تو دیگر ی من دیگرم
آج جب’’مودی حکومت میں‘‘ یعنی مودی کے بھارت میںمذہبی منافرت اور ہندو جنونیت کی حدیں آسمان کوچھورہی ہیں ،دندناتی ہوئی ہندو جنونیت کے بھارتی اقلیت ا ور دلت کش اقدامات، بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی کیفیت جسے دیکھ بھارت کے انسان دوست ہندوئوں کی بھی چیخیں نکل رہی ہیں،دلی والے مودی مائینٹ سیٹ کومستردکرتے ہوئے کیجروال کوحکومت کرنے کامنڈیٹ دے رہے ہیںجبکہ بہارمودی کی طرز حکومت کوسختی سے مستردکرتاہے ،بھارت کے معروف ہندوشاعر،صحافی ،دانشور اور قلم کار ،مودی کے بھارت میںمذہبی منافرت اور ہندو جنونیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھڑادھڑاپنے ایوارڈ واپس کررہے ہیں ایسے میںکشمیرکے وزیراعلیٰ مفتی سعید بھارت کے وزیراعظم مودی کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں اور انہیں زبردست اور غیر فرقہ پرست لیڈر قرار دے رہیں، اسے توصیف وتعریف کو سوائے ذہنی غلامی کے قعرمذلت کے اورکچھ نہیںکہاجاسکتا ۔سوال یہ ہے کہ اس کشمیرمیںاقتصادی پیکیجزکی کیااہمیت باقی رہتی ہے کہ جہاں کے نوجوانوں کوموت کے گھاٹ اتارکربدترین نسل کشی کی جارہی ہو۔7نومبر2015بروزہفتہ جب بھارتی وزیراعظم شیڈول کے مطابق سری نگرکے مختصر دورے پرہوائی اڈے پراترے توکشمیرمیں چارسوہوکاعالم تھا ۔بھارتی وزیراعظم کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے ریاستی انتظامیہ نے حریت کانفرنس کے مجوزہ ملین مارچ اور عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے رواں ہونے کے خوف سے،جگہ جگہ ناکہ بندیوں،گرفتاریوں،سلاسل کے ذریعے سے وادی کو عملافوجی چھائونی اور جیل میں تبدیل کرکے پولیس اورفوج کے ہزاروں اہلکاروں ،یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ،آشا ورکر ،بہاری مزدوروں اور خواتین ملازمین کوجلسے گاہ میںلاکر اس محبت یانفرت کوازخود آشکارکردیاتھاکہ جوبھارتی حکمرانوں کے حوالے سے اہل کشمیرکے دلوں میں پائی جارہی ہے ۔
سری نگرمیں اربوں روپے پرمشتمل بھاری بھرکم اقتصادی پیکیج کے اعلان کی حقیقت اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے اعلانات کی کلعی اسی وقت کھل گئی کہ جب مودی ابھی سرینگرمیں ہی زیرقیام تھے کہ اسکی بہادر فوج نے اپنے قاتلانہ اختیارات کاحسب دستوراستعمال کرتے ہوئے مصطفی آباد ایچ ایم ٹی زینہ کوٹ میںایس ایس ایم کالج پٹن میںزیرتعلیم ایک انجینئرنگ طالب علم کوموت کے گھاٹ اتاردیا۔کشمیریوں کی نسل کشی کی اس تازہ کارروائی جس میںگوہرکی زندگی کاچراغ گل کردیاگیاکے ذریعے سے مودی کی بہادرفوج، مودی کے بادی النظرمیں خوش کن اعلانات کی صداقت پرمہرتصدیق ثبت کررہی تھی یایہ کہ اس پر خط تنسیخ پھیرکر عملی طورپروہ اسکی تکذیب کررہی تھی یہ محتاج وضاحت نہیں۔واضح رہے کہ مودی کی کشمیرمیں موجودگی کی ساعتوں کے دوران ہی 44بٹالین سی آر پی ایف کے اہلکاروںنے22سالہ گوہر نذیر ڈار ولد نذیر احمد ساکن مصطفی آباد ایچ ایم ٹی کو شیل ماراجواسکے سر پر جالگا جس کے نتیجے میں وہ خون میں لت پت ہوکر گرپڑا۔طالب علم گوہر احمد کی موت دراصل ’’مفتی مودی الائنس ‘‘کا کشمیریوں کیلئے بدترین تحفہ ہے۔گوہوکی موت سے ایک بارپھریہ سوال کھڑاہوجاتاہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کوروکنازیادہ اہم ہے یاان کے دلوں کولبھانے کے لئے انکے سامنے اقتصادی پیکیج کااعلان کرنا؟نسل کشی لگاتارجاری رہے تو اقتصادی پیکیج کے اعلان کی کوئی اہمیت باقی رہتی ہے؟ جب اقتصادی پیکیج کے اعلان کے ساتھ ہی کشمیرکے ایک اورطالب علم کی زندگی کاچراغ گل کردیاگیا توبھارتی بقراط عقل سے پوچھاجاسکتاہے کہ اہل کشمیرکواقتصادی پیکیج کی ضرورت ہے یاانکے جانوں کے تحفظ کا؟صاف لگ رہاہے کہ دلی کوکشمیرکے جانوں کی کوئی پرواہ نہیں البتہ عالمی رائے عامہ کوگمراہ کرنے کے لئے وہ بھاری بھرکم اقتصادی پیکیجزکاحسب سابق اعلان کرتے رہیں گے اوراسکی آڑ میں وہ یہاں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیرمیں نوجوانوں کے جنازے اٹھارہے ہیں اور توایسے میںیہاں کی نوجوان نسل کو کسی اقتصادی پیکیج یا نوکریوں کے جھانسے میں لاکرانکے تحفظ کی تحریک ’’تحریک حق خودارادیت ‘‘سے دورکس طرح کیاجاسکتاہے وہ جب اپنے مستقبل کوہی غیر محفوظ سمجھتے ہوں تو پھرانہیںاقتصادی پیکیجوںیا نوکریوں سے کیالینادیناہے ہو سکتا ہے۔ یہی وہ پس منظرہے کہ گزشتہ کئی ڈھائی عشرے سے جب بھی بھارت کے وزرائے اعظم دیوگوڑا،نرسہمارائو،اٹل بہاری واجپائی ،من موہن سنگھ اورنریندرامودی کشمیر کی یاتراپرآتے رہے تویہاں کے نوجوانوں اور کشمیری عوام نے من حیث القوم فقید المثال احتجاجی ہڑتال مناکران پرواضح کردیاکہ ہماراتم سے کوئی تعلق نہیںاوریہ کہ ریاست جموں وکشمیرایک ایسامتنازعہ خطہ ہے کہ جس کے عوام کواپنے مستقبل کافیصلہ کرناابھی باقی ہے۔اپنے اس جائزردعمل سے وہ بھارتی قیادت کویہ سمجھاتے رہے کہ ایک طرف تم کشمیریوں کے لیے مالی پیکیج کا اعلان کرتے ہو تو دوسری طرف فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی کرا رہے ہواس خوفناک طرزعمل سے تمہارے اصلی چہرے کوپہچاننے میں کوئی دقعت محسوس نہیں ہوتا ۔بہرحال گوہر کا صدمہ انتہائی دلخراش اوریہ بھارتی ظلم وجبر کی منہ بولتاثبوت ہے ،بھارتی استعمار نہتے لوگوں کو مقتل کی بھینٹ چڑھا کر خاموش قبرستان میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔مودی کی موجودگی میں گوہر کے قتل کی انسانیت سوز کاروائی کشمیری عوام کے خلاف اس منصوبہ بندکھلی جارحیت اور ریاستی دہشت گردی کوالم نشرح کرتاہے کہ جس کی پشت پناہی دلی سے ہورہی ہے اورکشمیرکے لیلیٰ اقتدار کو گلے لگانے کے بعد ہوس اقتدار میں لہو کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں۔ گوہر احمدکے بہیمانہ قتل سے ایک بار یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت اورکشمیرمیں اس کے بہی خواہ کو یہاں کے لوگوں کے بجائے صرف اورصرف یہاں کی زمین سے لگا ہے اسی لئے جب بھارت کے وزیر اعظم ابھی جموں کشمیر کی سر زمین پر ہی تھے تو اس کی بہادرفوج نے اپنے وطیرے سے مجبورایک اورنوجوان کاخون بہادیا۔
پوری دنیامیں یہ ایک عام سی روایت ہے کہ عوام ظالم حکومتوں اورسفاک حکمرانوں کے خلاف اپنااحتجاج ریکارڈ کرانے اورچاردانگ عالم اپنی مظلومانہ آوازکوپہنچانے کے لئے سڑکوں پرمارچ کرتے ہیں توکہیں بھی اس مارچ کوجبری طورپر روکانہیں جاتاالبتہ یہ ضرورہے کہ مارچ کے تخمینے اوراسے کن راستوں سے گذرناہے کابھرپوراندازہ لگاکرانتظامات مہیارکھے جاتے ہیں لیکن کشمیرشائدوہ واحد خطہ ہے کہ جہاں مجوزہ ملین مارچ کیاجمعہ کے اجتماعات میں شرکت سے بھی بالجبرروکاجاتاہے طرہ کمال یہ ہے کہ اس پر سلطانی جمہورنشان فتح ’’وکٹری ‘‘دکھاتی ہے حالانکہ یہ واضح طورپراس کا اعتراف شکست ہوتاہے۔مجوزہ ملین مارچ کے ذریعے سے کشمیری اپنے دلوں کی بات زبان پرلاکر سوئے ہوئے عالمی ضمیرکوجگاناچاہتے تھے۔مگرہمیشہ کی طرح آج بھی اس حوالے سے سلطانی جمہوراپنی روش بدلنے کے لئے ہرگزآمادہ نہیں۔ سوال یہ ہے کب تک سلطانی جمہورکی طرف سے کشمیریوں کی ریلیاں اورمجوزہ ملین مارچ روکے جائیں گے ۔وہ بھی ایسے میں کہ جب بزرگ راہنماسیدعلی شاہ گیلانی یہ کہہ رہے ہوں کہ بھارت اپنی فوج کی مدد ہم سے ہماری زمینیں چھین رہا ہے، ہمارے جنگلات کا صفایا کررہا ہے، ہمارے آبی وسائل پر قبضہ کر رہا ہے ، ہماری عزت اور عصمت چھین رہا ہے، ہمارا دین چھین رہا ہے، ہمارا ایمان چھین رہا ہے، ہماری تہذیب چھین رہا ہے، ہمارا کلچر چھین رہا ہے، ہماری زبان چھین رہا ہے مطلب سب کچھ جو مظلوم قوم کے پاس ہے اسے وہ چھین رہا ہے۔ تواس صورتحال کے ردعمل میںگیلانی صاحب کہتے ہیں کہ ان دھماکہ خیز حالات میںہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم لوگوں کو سڑکوں پر آنے اورمنظم احتجاج کرنے کے لئے کہیںگے،کہنے کامطلب یہ ہے کہ آج مجوزہ ملین مارچ کوروکاتوگیا لیکن اس کاامکان کل بھی موجودہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ سرینگر سے ایک یوم قبل کشمیرکے وزیراعلیٰ نے انہیں رواداری کا پیامبر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندرا مودی عدم روا دار ی کے حامی نہیں بلکہ ایک دور اندیش سیاسی راہنما ہیں۔مودی کی تعریف میں رطب اللسان ہونے اور انہیں غیر فرقہ پرست اور زبردست لیڈر قرار دینے سے مفتی محمد سعید بھی اسی راہ پرگامزن نظرآرہے ہیںکہ جس پرچل بالآخرشیخ عبداللہ نے کشمیریوں کوغلامی کاطوق پہنادیاجب سیاہ کوکوئی سفیدکہہ کرحقائق کے علیٰ الرغم قصیدہ خوانی کرے سمجھ لیناچاہئے کہ یہ غلاموں کی ذہنی غلامی کی قعرمذلت کاعکاس ہوتاہے ۔یہ دراصل سلطانی جمہورکی ہوس اقتدار پر حلف وفاداری کی انتہائی حد ہوتی ہے۔کشمیرکی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں ہمیشہ سلطانی جمہور ،قصیدہ خوانوں نے دسترخوانوں پراپنی نشت توپکی کردی لیکن قوم کی غیرت اورحمیت کواسفل اسلافلین میں پھینک ڈالا۔اس قصیدہ خوانی کی ابتدالالچوک میں شیخ عبداللہ نے پنڈت جوہرلال نہرو کے ساتھ یارانہ گانٹھ کرکی اوراب اس بوسیدہ مضراب کی تاریں مفتی سعیدبجارہے ہیں،جب شیخ عبداللہ قوم کے ساتھ ڈرامہ رچارہے تھے توانہیں اس وقت جموں کے مسلمانوں کاغدریادنہیں رہااوراب کے مفتی سعید، مودی کے وژن کی داددیکراسکے قصیدے گھڑکرڈرامہ رچارہے ہیں توانہیں بھی کشمیرکے قبرستانوں کوچھوڑیں کیونکہ ان کے آبادکرانے میں جناب کابڑاعمل دخل اورخدمات ہیں البتہ یہ کہ مودی کے بھارت میںبھارتی مسلمان آج کس کرب میں مبتلاہیں مفتی سعید کویادنہیں ۔انسان جب اس عالم میں ہوتواسی عالم کو ذہنی غلامی کہتے ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو رواداری کا پیامبرکہناجہاں بدترین ذہنی غلامی کا عکاس ہے وہیںاس قصیدہ گوئی کامقصداپنی نوکری کاپکابنانابھی ہے ورنہ مفتی سعید بھی یہ بات جانتے ہیں کہ بھارتی ریاست گجرات میں مسلمان خاندانوں کو پلوں میں نیست ونابود کردینے سے مودی کی رواداری چھلک رہی ہے،اورآج مودی کی قیادت میں آر ایس ایس اور شیو سیناجواطوارانجام دے رہے ہیں کسی سے چھپانہیںاس لئے مودی کی رواداری دادری، ہماچل اور ادھمپور جیسے واقعات کی تازہ مثالیں ہیں ۔یہ سب اوراس کے علاوہ سب کچھ ہمارے سامنے بکھراپڑاہے لیکن کرسی پربراجماں رہنے کے لئے مفتی محمد سعید اور اس کی پارٹی پی ڈی پی کو مودی کے زیرسایہ آر ایس ایس اور شیو سیناکی کوئی برائی نظرنہیں آرہی ۔ ماضی میں نیشنل کانفرنس بھی سیاہ کواسی طرح سفیدکہتی رہی ہے اورآج پی ڈی پی بھی دائروں کے اسی سفرپررواں اوررقصاںہے دراصل کشمیرمیں کرسی کے پجاری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ان سب نے بھارتی حکمرانوں کی خوشنودی کے لئے ہمیشہ اہل کشامر کا خون بہا یا۔
سوال یہ ہے کہ کب تک کشمیرکے بھارت نواز سیاسی پارٹیاں اوراسکی قیادت دہلی کی قیادت کی شان میں قصیدہ خوانی میں رطلب اللسان رہ کراپنی نوکریاں پکی کرواتے رہیں گے ۔کب تک اہل کشمیرکواپنے جذبات کا اظہار کرنے اور انکی زبانوں پر تالے چڑھانے کاسلسلہ جاری رہے گا۔کب تک کسی بھاری بھرکم اقتصادی پیکیجزکے نیچے کشمیریوں کے حق خوداردیت کودبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی،کب تک مراعات کی لالچ دیکر عوام کی تقدیر بدلنے یا نوجوانوں کو طاقتور بنانے کی طفل تسلیوں کاسہارالیاجاتارہے گا۔کیاپنڈت جواہرلال نہرو سے لیکرڈاکٹرمن موہن سنگھ تک کھربوں روپے کے اقتصادی پیکیجز کے اعلانات سے بھارت جموں کشمیر کے عوام کے دلوں کوجیت سکھا،یاان اعلانات کے پس منظرمیں کشمیری اپنے حق خودارادیت کے موقف سے اعلان برات پرآمادہ ہوئے؟بات دراصل یہ ہے کہ اس طرح کے پیکیجزکشمیریوں کے دکھوں کاہرگز مداوانہیں ہے کیوںکہ تکلیف یکسرمختلف ہے اورصحیح تشخیص کے باوجودجان بوجھ کر علاج کسی اورطریقے سے کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔توتکلیف کہاں ٹھیک ہوگی ۔سر نگرمیں آکر پیکیجزکے اعلانات ایک دیرینہ معمول ہے اوراس طرح کے پیکیجزکے اعلانات کشمیریوںپربھارت کاکوئی احسان بھی نہیں کیونکہ سبزسونے اور این ایچ پی سی جیسے ریاست کے وسائل پر ناجائز قبضہ جماکربھارت سالانہ یہاں کھربوں روپے لوٹ رہا ہے ۔اگروہ اربوں روپے دے بھی دیتاہے تودلائل اوربراہین کی عینک سے دیکھیں تو یہ سچائی الم نشرح ہوگی کہ بھارت اپنانہیں بلکہ وہ کشمیریوں لوٹے ہوئے پیسے سے اسکاعشرعشیر انہیں واپس لوٹارہاہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker