ہندوستان

بیف کھانے یا رکھنے کے معاملے میں سپریم کورٹ کی رائے

مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کے غیرآئینی فیصلے کا واضح ثبوت ہے : نسیم خان
ممبئی۔۲۶؍اگست: (نامہ نگار) بیف رکھنے یا کھانے کے معاملے میں مہاراشٹر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ کے آبزرویشن کا آج یہاں سابق اقلیتی امور کے وزیر اور کانگریس کے سینئر مسلم لیڈر محمد عارف نسیم خان نے استقبال کیا ہے اور کہا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کے فیصلے آئین کے برخلاف ہوتے ہیں۔ بیف رکھنا یا کھانا آدمی کے شخصی رازادی کے حقوق کا ایک حصہ ہے جو آئین کے ذریعے عطاکردہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے، جس کی بنیاد پر پہلے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور اب سپریم کورٹ نے اسے اپنے آبزرویشن میں آئین کے خلاف پایا ہے۔میڈیا کے جاری اپنے بیان میں محمد عارف نسیم خان نے مزید کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مہاراشٹر حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنی جو رائے ظاہر کی ہے اس سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کے فیصلے فرقہ پرستی کی بنیاد پر غیرآئینی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت لوگوں کے کھانے وپکانے کے معاملے میں ڈکٹیٹرانہ طور پر پابندی عائد کرتی ہے جو صریح طور پر غیر آئینی ہے۔انہوں نے فڈنویس حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے، سدھر جاؤ اور لوگوں کی کھانے پینے کی تھالی میں جھانکنا بند کردو۔نسیم خان نے کہا کہ حکومت کو جو بھی فیصلہ کرنا چاہئے وہ آئین کے مطابق کرنا چاہئے ۔ فرقہ پرستی کی بنیاد پر ریاست نہیں چل سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۶ میں ہائی کورٹ نے بیف رکھنے یا کھانے کی ضمن میں جو فیصلہ دیا تھا وہ آئین کے بالکل عین مطابق تھا، مگر اس حکومت نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں آج سپریم کورٹ نے اپنے جائزے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کو آئین کے مطابق پایا ہے اور کھانے پینے وپہننے کو رائیٹ ٹو پرائیویسی کے زمرے میں قراردیا ہے۔ واضح رہے کہ ۲۰۱۵ میں گائے کی نسل کی ذبیحے پر پابندی عائد کرتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے بیف رکھنے یا کھانے کو بھی قانوناً جرم قرار دیا تھا، جس کے خلاف کچھ تنظیموں نے ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جس پر مئی ۲۰۱۶ میں فیصلہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے اسے آئین کے خلاف قرادیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس پر مہاراشٹرحکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔سپریم کورٹ نے اس اپیل پر سماعت کرتے ہوئے اسے شخصی رازداری کے آئینی حقوق کی خلاف پایا ہے جس پر حتمی سماعت دو ہفتے کے بعد ہونی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker