Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
مالداروں کو چرم قربانیسوال:-  کیا چرم قربانی صاحب ِنصاب مالدار کو دے سکتے ہیں ، اسی طرح مساجد کے ائمہ ومؤذنین ، خواہ وہ مالدار ہوں یا غیر صاحب ِنصاب ، ان کو گفٹ کے طورپر چرم قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر مالدار اور صاحب ِنصاب کو دیئے تو کیا وہ اس چرم قربانی کو بیچ کر خود استعمال کرسکتا ہے یانہیں ؟ (عبد الحسیب ، ممبئی) جواب : –  چرم قربانی اگر قربانی کرنے والے نے فروخت نہیں کیا ہے تو وہ قربانی کے گوشت کے حکم میں ہے ، خود بھی استعمال کرسکتا ہے ، اصحابِ ثروت کو بھی دے سکتا ہے اور فقراء کو بھی ، اس نے جس شخص کو دیا ہے اگر وہ بیچ لے ، یا کسی اور شئے سے اس کا تبادلہ کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ؛ البتہ جس نے قربانی کی تھی اگر اس نے چرم کو فروخت کیا تو اس کی قیمت کا صدقہ کردینا واجب ہے ، اور ایسے ہی شخص کو وہ پیسے دیئے جاسکتے ہیں ، جو محتاج اور صدقاتِ واجبہ کا مستحق ہو ، اس میں امام مسجد اور دوسرے حضرات کا ایک ہی حکم ہے : ’’ قولہ ولو باعھما أی الجلد واللحم ، اھ (قولہ : ولا یعط أجرۃ الجزار الخ ) أما لوأعطاہ بفقرہ أو علی وجہ الھدیۃ فلا بأس بہ‘‘ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق : ۶؍۹) ’’ واللحم بمنزلۃ الجلد فی الصحیح حتی لا یبیعہ بمالا ینتفع بہ إلا بعد الاستہلاک ، ولو باعھما بالدراہم یتصدق بہا جاز ؛ لأنہ قربۃ کالتصدق بالجلد واللحم ‘‘ ۔ (تبیین الحقائق : ۶؍۸-۹)گائے کے گوشت سے متعلق ایک حدیثسوال:-  گذشتہ سالوں میں بعض اداروں نے اخبارات کے ذریعہ یہ بات نشر کی ہے کہ گائے کے دودھ میں تو شفا ہے ؛ لیکن اس کے گوشت میں بیماری ہے ، اس لئے اس کے گوشت سے بچو ، کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اور کیا اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کو یہ مشورہ نہیں دینا چاہئے کہ وہ گائے کی قربانی نہیں کریں ؟ (رفیق احمد ، بنجارہ ہلز) جواب : –  اس طرح کا مضمون بعض روایات میں آیا ہے ، روایت کے الفاظ اس طرح ہیں  :  علیک بألبان البقر فإنھا دواء ، وأسمانھا فإنھا شفاء ، إیاکم ولحومھما فإن لحومھا داء ۔ (مسند حاکم : ۴؍۴۴۸ ، حدیث نمبر : ۸۲۳۱ ، نیز دیکھئے : مسند دیلمی : ۳؍ ۲۸ ، حدیث نمبر : ۴۰۵۸)تم گائے کا دودھ لیا کرو کہ وہ دوا ہے ، اس کی چربی بھی استعمال کرو کہ وہ شفا ہے اور اس کے گوشت سے بچو کہ اس کا گوشت بیماری ہے ۔ اگرچہ علامہ حاکم نے اس روایت کو معتبر مانا ہے ؛ لیکن اہل علم کے یہاں یہ بات محتاج اظہار نہیں کہ وہ روایت کو صحیح قرار دینے میں ایک گونہ تساہل سے کام لیتے ہیں ؛ چنانچہ علامہ مناوی کا بیان ہے کہ زرکشی نے لکھا ہے کہ اس کی سند میں تسلسل نہیں ہے ، یعنی محدثین کی اصطلاح میں یہ منقطع ہے ، نیز اس روایت کا صحیح و معتبر ہونا اس لئے بھی محل نظر ہے کہ رسول اللہ ا نے خود اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی فرمائی ہے ، ( فیض القدیر : ۴؍۳۴۸ ) علامہ سخاویؒ نے اس حدیث کے سلسلہ میں ایک توجیہ یہ کی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حجاز کے موسم کے لحاظ سے وہاں گائے بیل کا گوشت نقصاندہ ہوتا ہو ، گرما کی شدت کی وجہ سے اس کے گوشت میں خشکی اور روکھا پن پیدا ہوجاتا ہو ؛ البتہ وہ بھی لکھتے ہیں کہ حاکم کا اس حدیث کو صحیح و معتبر قرار دینا درست نہیں ، ( المقاصد الحسنۃ : ۱؍۵۲۸) پھر اگر یہ حدیث درست بھی ہو تو اس سے گائے کی قربانی یا ذبح کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ؛ کیوںکہ اسی روایت میں گائے کی چربی کو مفید قرار دیا گیا ہے اور جب تک جانور ذبح نہ کیا جائے ، چربی حاصل نہیں کی جاسکتی ، ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی باتوں میں حتی المقدور قانون ملکی کی رعایت کرنی چاہئے ، ایسا کام نہ کرنا چاہئے جس سے فرقہ وارانہ منافرت پیدا ہو ، اور کسی گروہ کی دل آزاری ہو ۔خسر کے انتقال کے بعد جوڑے کی رقم کی واپسیسوال:-  ایک شخص تقریباً ۳۵ سال قبل اپنی شادی کے موقع پر نقد پانچ ہزار روپے جوڑے کی رقم اور کچھ ضروری سامان جہیز کی شکل میں حاصل کیا تھا ، جو کہ ناجائز اور حرام تھا ، اب ان تمام اشیاء کو مع جوڑے کی رقم پانچ ہزار روپے واپس کرنا چاہتا ہے ، خسر صاحب انتقال کرگئے اور خوش دامن بھی علیل ہیں ، یہ ساری چیزیں کیسے اور کس کو حوالے کریں ؟ تفصیلات سے آگاہ فرمائیے ۔ ( اسرار عالم ، نلگنڈہ) جواب : –   اگر اس نے شادی کے موقع پر جوڑے کی رقم مطالبہ کرکے حاصل کی تھی ، یا کھل کر مطالبہ نہیں کیا ؛ لیکن انکار بھی نہیں کیا اوررواج کے تحت لڑکی والوں سے رقم لی تو یہ رقم اس کے حق میں حلال نہیں ، اس کو واپس کرنا واجب ہے ؛ کیوںکہ یہ رشوت ہے ، اور مال حرام کا حکم یہی ہے کہ اس کو اصل مالک کو واپس کردیا جائے ، اگر خسر صاحب کا انتقال ہوگیا ہوتو ان کے ورثاء کو ان کے حصۂ میراث کے لحاظ سے دے دینا چاہئے ، اگر وہ قبول نہ کریں تو واپس کرنا ضروری نہیں کہ یہ ان کی طرف سے مالک بنایا جانا متصور ہوگا ؛ البتہ اگر مذکورہ شخص نے لینے سے انکار کر دیا تھا ، کہہ دیا تھا کہ مجھے جوڑے کی رقم نہیں چاہئے ، اس کے باوجود اس کو رقم دی گئی تو اب یہ رقم اس کے حق میں جائز ہے ، اس رقم کی واپسی کی ضرورت نہیں ، یہ ہدیہ اور ہبہ کے حکم میں ہے اور مسلمان سے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے ۔انکم ٹیکس اور آبکاری کی ملازمتسوال:-  انکم ٹیکس اور محکمہ آبکاری کی ملازمت شریعت کی رُو سے جائز ہے یا ناجائز ؟ جب ناجائز ہے توایسے لوگوں کی دعوت وغیرہ میں شرکت کی جاسکتی ہے ؟ ( سیف الرحمن ، ویلور) جواب : – (الف)   انکم ٹیکس کی ملازمت جائز ہے ؛ کیوںکہ انکم ٹیکس کے ملازمین قانون کے مطابق ٹیکس کی وصولی کا کام انجام دیتے ہیں اور عوام کی جائز ضروریات اور ملک کی حفاظت و سلامتی کے لئے ٹیکس لگانا جائز ہے ؛ البتہ ٹیکس بڑھاکر لینا ظلم ہے اور ٹیکس کی مقدار کم کرنے کے لئے یا ٹیکس دہندہ لوگوں کی ٹیکس چوری میں مدد کرنے کے لئے پیسے لینا رشوت ہے اور یہ دونوں باتیں حرام ہیں ، اگر ضابطہ کے مطابق اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے انکم ٹیکس کی ملازمت کی جائے تو کوئی حرج نہیں اور ایسی صورت میں اس کے یہاں دعوت کھانے میں بھی حرج نہیں ۔ (ب )  محکمۂ آبکاری کا تعلق شراب سے ہے ، اس محکمہ کے ملازمین شراب پر ٹیکس کی وصولی کا کام کرتے ہیں ، شراب کا نہ صرف پینا اورفروخت کرنا حرام ہے ؛ بلکہ شراب کے کام میں کسی طرح کا تعاون جائز نہیں ، اس لئے محکمۂ آبکاری کی ملازمت جائز نہیں اور جن لوگوں کا بنیادی ذریعۂ آمدنی یہی ہو ، ان کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ، سوائے اس کے کہ ان کی کوئی اور آمدنی بھی ہو اور وہ بتائیں کہ مہمانوں کے لئے حلال پیسوں سے کھانے کا نظم کیا گیا ہے ، پھر بھی جو لوگ قوم کے مقتدا ہوں اور جن کو سماج میں رہبر و رہنما کا مقام حاصل ہو ، ان کے لئے اس کے باوجود اس دعوت میں شرکت مناسب نہیں ۔غیر محرم رشتہ داروں کے درمیان پردہسوال:-  موجودہ ماحول میں جب کہ بھاوج اور دیور ، جیٹھ اور بھاوج کے درمیان گوشے اورپردے کا کوئی رواج باقی نہیں رہا ، خلیرے بھائی بہن ، چچیرے اور تائرے بھائی بہن ، ممیرے اورپھوپیرے بھائی بہن آپس میں ایک دوسرے سے کوئی گوشہ پردہ نہیں کرتے تو ایسی صورت میں ایک دوسرے کی اشیاء اور دیگر استعمال کی چیزوں کو ہاتھ لگاسکتے ہیں ؟ کیا ایسا مجبوراً اور ضرورتاً بھی ہاتھ لگانا گناہ ہے ؟ ( نجیب خان ، ملے پلی) جواب : –  اصل تو یہی ہے کہ دیور ، جیٹھ اور بھاوج ، خالہ ، چچا ، ماموں یا پھوپھی زاد بھائیوں بہنوں میں چہرہ کے بشمول مکمل پردہ ہے ؛ کیوںکہ یہ سب ایک دوسرے کے لئے غیر محرم ہیں ؛ اس لئے مسلمانوں کو اپنے گھروں میں اسی طریقہ پر عمل کرنا چاہئے ؛ لیکن اگر مشترک مکان ہو اور ایک گھر میں ایک سے زائد لوگ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے ہوں اور چہرہ کا پردہ کرنے میں بہت دشواری ہو تو آخری درجہ میں اگر ایسی صورت حال نہ ہو کہ کسی خاص لڑکے اور لڑکی کے ایک دوسرے کے سامنے آنے میں فتنہ کا قوی اندیشہ ہو تو چہرہ اور گٹوں تک ہاتھ کھلا رکھ سکتے ہیں ، جیساکہ بعض احادیث کی بناپر امام ابوحنیفہؒ کی اصل رائے ہے ؛ البتہ بے تکلفی اور آپس میں ہنسی مذاق جائز نہیں ؛ نیز اگر کسی خاص واقعہ کی وجہ سے فتنہ کا قوی اندیشہ ہو تو واجب ہے کہ کسی ایک کے سرپرست اپنا مکان بدل لیں کہ ایک دوسرے کا سامنا نہ ہو ، اور اس کی استطاعت نہ ہو تو کم از کم چہرہ کے پردہ کا بھی اہتمام کیا جائے ؛ البتہ اجازت سے ایک دوسرے کی گھریلو اشیاء کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ، پردہ انسان سے ہے نہ کہ اس کے سامان سے ۔نماز باجماعت کے بعد جہری دُعاسوال:-  نماز باجماعت کے بعد جہری دُعا کرنا بالخصوص ترنم اور لہجہ میں جب کہ اکثر نمازوں    میں کافی لوگ سلام پھیرنے کے بعد اپنی نماز مکمل کررہے ہوتے ہیں ؟ کہاں تک درست ہے؟۔(محمد حبیب ، سعید آباد) جواب : –  دُعا زور سے بھی کرنا درست ہے ؛ لیکن آہستہ کرنا بہتر ہے ، خود قرآن مجید میں دُعا کا یہی ادب بتایا گیا ہے : ’’ اُدْعُوْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّخُفْیَۃً‘‘ ( الاعراف : ۵۵) چنانچہ مشہور حنفی فقیہ علامہ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ آہستہ دُعا کرنا افضل ہے : ’’ الإخفاء فی الدعاء أولیٰ‘‘ اوراس کی دلیل کے طورپر حدیث پیش کرتے ہیں کہ آپ ا نے فرمایا بہترین دُعا آہستہ کی جانے والی دُعا ہے اور بہترین رزق وہ ہے جو انسان کے لئے کافی ہوجائے : ’’ خیر الدعاء الخفی ، وخیر الرزق ما یکفی‘‘ ( المبسوط : ۱؍۳۳) قریب قریب یہی بات ہدایہ کی شرح میں  علامہ عینیؒ نے لکھی ہے ، ( البنایۃ : ۲؍ ۲۱۸) اور اسی بنا پر حنفیہ کے یہاں نماز میں آمین کا آہستہ کہنا افضل ہے ، اس لئے نماز باجماعت کے بعد عام معمول آہستہ دُعا کا رکھنا چاہئے ، بالخصوص ایسی صورت میں کہ کچھ مسبوق بھی ہوں ، جو اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں پوری کررہے ہوں ، ہاں کبھی کبھی زور سے دُعا کرلی جائے تو حرج نہیں ۔(بصیرت فیچرس)

You might also like