مضامین ومقالات

عظیم اتحاد کی عظیم کامیابی

مفتی محمد عامر مظہری
جنرل سیکریٹری الخیر فاؤنڈیشن جالے
اتور کو بہار میں ہونے والے الیکشن کے نتیجے میں عظیم اتحاد کی واضح اکثریت اور این ڈی اے کی بھار میں پسپائی ایک ایسا سیاسی زلزلہ ہے جو ہندوستان کی سیاست میں معیاری تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور جس کے آنے والے وقت میں یو پی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ کیوں کہ بہار کے عوام کو اس بات کا مکمل ادراک یو چلا تھا کہ مودی لہر نہیں بلکہ مودی زہر کا شکار ہوئے، یہی وجہ ہے کہ مرکزی الیکشن کے بعد منعقد ہونے والے ہر الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کا گراف گرتا رہا، اور جہاں کچھ کامیابی ملی بھی تو وہ گانگریس سے فرار کے عوامی رجحان کا نتیجہ تھا،لیکن بہارکے عوام مودی زہر کے شکار نہیں ہوئے، اور فرقہ پرست کے کسی بھی شر انگیزی اور مذہبی منافرت کی ہم نوائی نہیں کی اور بی جی پے کے کسی بھی ایشوز پر لبیک نہیں کہا بلکہ ترقی کا ایجنڈہ پر ووٹنگ کی، جب کہ بی جے پی نے اس الیکشن کو اپنی طرف کرنے کے لیے ہندو انتہا پسند، متعصب اور متشدد افراد کا ٹولہ سارے بہار میں بکھیر دیا تھا، اور خود ہمارے وزیر اعظم جو ریکارڈ بنانے میں ریکارڈ قائم کیاکہ ان کے سامنے تمام سابقہ وزیر اعظم بونے نظر آتے ہیں، انہوں نے بھی بھار میں تقریبا 30 ریلیاں کر کے ایک ریکارڈ قائم کر دیا اس سے پہلے کسی ریاست مین کسی وزیر اعظم نے اتنی ریلیاں نہیں کیں، وزیر اعظم نے لوک سبھا بھار ابتخاب کو دیکھیں تو 2000 میں اٹل جی نے دو اور 2005 سے2010 تک منموہن جی نے3ریلیاں سے خطاب کی، بلکہ ملک کے زعفرانی عوام سے لے کر وزیراعظم اور وزرائے کرام سب مصروف عمل تھے۔ دورے کئے جارہے تھے، اور سیاسی اور فکری مخالفین کی نیچے دکھانے کی فکر کی جارہی تھی، کوئی ایسا وار نہ رہ گیا جو آزمایا نہ گیا ہو، سیاست کے سارے دائوپیچ آزمائے گیے، کبھی رام بھروسے، تو کبھی مودی بھروسے، کبھی گائے بھروسے، اور آخر میں پاکستان بھروسے، دوستی کے نعرے بلند کیے جارہے تھے، اور جھوٹی ترقی کے خواب دیکھائے جا رہے تھے، اور جب سیاسی جوڑ توڑسے ناکامی کی امید ہوگئی تو یہ کنفیوز ہو گئے کہ پاکستان سے داؤد کے بجائے گیتا اور بدیش سے کالا دھن لانے کیے بجائے چھوٹا راجن کو لا بیٹھے، جب کہ خودہمارے وزیر اعظم کو اس بات کا احساس تھا کہ بہار کے عوام جھانسے میں نہیں آنے والے ہیں، یہی وجہ تھی کہ جب مودی بھاگلپور میں بولنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے تمام دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ بہار کے لوگوں کے مزاج اور صلاحیت پر بھی خوب بات کی۔ مودی نے اپنی تقریر میں بہار کے عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے لوگ اس زمین پر سب سے زیادہ ذہین لوگ ہیں۔ مودی نے کہا کہ اس عوام کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور دربھنگہ کے آخری اجلاس میں کہا کہ جو عوام کو دھوکہ دے سکتے ہیں ان پر کوئی بھروسہ نہیں کرسکتا ہے، بہار کے لوگوںنے اس ملک کی بہت خدمت کی ہے ملک کی جمہوریت کو ذات کا زہر، فرقہ پرستی کا جنون، جمہوریت کو کمزور کر رہا ہے، اس لیے بھار کے عوام جمہوریت کی حفاظت اور ترقی کے لیے ذات پات اور مذہب سے اوپر اٹھ کر ترقی کے لیے ووٹ کریں اور ملک کو صحیح راستہ دیکھائیں، بھار کے عوام نے اپنے بدیشی دورے اور پردھان پرچارک وزیر اعظم کی باتون کو دل میں جگہ دی، اور ترقی اور مذھب سے اوپر اٹھ کر تمام مذھب کے لوگوں نے عظئ￿ م اتحاد کو ووٹ کر کے ملک کو ایک صحیح سمت دی اور فرقہ پرستی سے اوپر اٹھ کر جمہوریت کی حفاظت کرتے ہوئے عظیم اتحاد کو عظیم کامیابی دی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عظیم اتحاد کی عظیم کامیابی کے بعد کیا وہ مسلمانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرپایئگے یا نہیں، کیونکہ عظیم اتحاد کے ڈوبتے سورج کو دوبارہ مطلع سیاست پر مسلمانوں نے اپنوں کو نظر انداز کر کے عظیم اتحاد کا ساتھ دیا، ابھی اس وقت یہاں مسلمانوں کی نوکری میں فیصد کا کم ہونا ،اور ٹی ائی ٹی میں کامیاب طلبہ کو اس کے جائز مطالبہ کو پورہ کرنا، ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، ہونا تو یہ چاھیے تھا کہ الیکشن کے قبل ہی اس کو حل کرنا چاھیے تھا، لیکن دیر سے صحیح اس ہم مسئلہ پر فورا توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے، یقینا گزشتہ دنوں نتیش کمار کے ذریعہ جو اہم کام انجام پائیں ہیں، وہ لائق تحسین ہیں، جس میں مدرسہ بورڈ کے اساتذہ کے تنخواہوں کا اعلان قابل ذکر یے، جو اگر چہ الیکشن کی وجہ سے جاری نہیں کیا جا سکا ہے، لیکن اس کے علاوہ بہت سارے وہ مدارس ہیں، جو تنخواہوں سے محروم ہیں، اس وقت زعفرانی رنگ کے اثر میں آکر سپرم کورٹ کے مایہ ناز ججوں نے یہ کہکر مسلمانون کو تذبذب میں ڈال دیا ہے، کہ مسلمانون کے عائلی قانون کے مطابق عورتوں پر جرم کیے جاریے ہیں، جو سراسر غلط ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کی ترجمانی کی جارہی ہے، اس موقع پر جہاں ملک کے ممتاز علماء کے بیانات کے ذریعہ اس کی شدومد کے ساتھ مخالفت کی گئی ہے، اب عظیم اتحاد کے رہنماؤں پر بھی لازم ہوتا ہے کہ اس طرح اس طرح مسائل پر پوری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ توجہ دے، اور ان کو یہ بات یاد دلائیں کہ دستور سازی کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر سے مولانا حسرت موہانی اور جناب محمد اسماعیل مرحوم نیز دستور ساز اسمبلی کے بعض مسلم ارکان نے رہنماء اصول کے دفعہ 44 میں یکساں سول کوڈ کے خذف کی بات کی تو انہوں نے کہا تھا کہ کوئی پاگل حکومت ہی ہوگی جو اس ملک میں یکساں سیول کوڈ کی بات کرے گا، یہ ایسے نظریے ہیں، جو فرقی پرستی کی طرف ملک کو گامزن کرنے کی بات کر رہا ہے، ہندوستان کی آزادی کے بعد اس ملک کو فرقہ پرستوں کے ذریعہ تقسیم کردیا گیا، اس لیے فرقہ پرستوں کو ختم کرنے کے لیے تمام سیکولر مزاجوں کو پوری مستعدی کا ثبوت دینا ہوگا، یہاں سب سے پہلے بڑی ذمہ داری ان تین ہم سیاسی جماعتوں کو جاتی ہے، جو بھار میں مسلمانوں کے بل بوتے کامیابی حاصل کی، ہم نے ان سے اچھی امیدیں وابستہ کر رکھیں تھیں، اور اب ابھی ہم ان سے اچھی امیدیں رکھتے ہیں، خدا کرے اس جمہوری ملک میں سیکولر کارواں اپنے میر کارواں کے ساتھ اپنی کامیاب منزل کی طرف رواں دواں رہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker