مضامین ومقالات

فرقہ پرستی کے منہ پر طمانچہ

راحت علی صدیقی قـاسمی
09557942062
تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب جب برائی نے سر اٹھایا، ظلم کی حکومت ہوئی، فرعونیت کا غلبہ ہوا، حیوانیت کا راج ہوا، تاریکی غالب آگئی اور ہر شخص اس فکر میںڈوب گیا کہ شاید اب کبھی روشنی کا سورج نمودار نہیں ہوگااور یہ اندھیرا ہی ہمارا مقدر ہے اور اسی کی حکمرانی اب تسلیم کرلینی چاہئے تب ہی اچانک صبح کی پو پھوٹتی ہے اور گھٹاٹوپ اندھیروں کو ختم کردیتی ہے، اسی کو احمد فرازؔ کہتے ہیں:
جب رات کسی خورشید کو شہید کرکے
صبح ایک نیا سورج تراش لاتی ہے
یہی نظام کائنات ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، یہی ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا مگر بسا اوقات حالات اتنے تشویشناک ہوتے ہیں کہ مایوسی کفر کے مانند لگتی ہے اور انسان کے ذہن پر حاوی ہوجاتی ہے، ایسے ہی حالات سے کچھ دنوں ہندوستان دوچار رہا، بارہا مصائب و آلام اور تکالیف کے پہاڑ انسانوں پر توڑے گئے، ظلم و ستم کی داستانیں اس عرصہ میں تعداد و شمار کو شکست دے رہی ہیں۔ چند فرقہ پرستوں کا غرور و تکبر اتنا بڑھا کہ ان کی نگاہوں میں انسان بے وقعت اور بے حیثیت ہوتا چلا گیا۔ ہندوستان مقدم کہہ کر لوگوں کا بیوقوف بنانے والے نے جب سے کرسی پر اپنی پشت رکھی تب سے انسانوںکا استحصال ہوتا رہا، نوعیت الگ رہی، طریقے مختلف رہے مگر نتیجہ ایک۔ انسانی قدروں کی پامالی، انسانیت سوزی، درندگی کا بول بالا، جیسے ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کا مطلب یہی ہوتا ہے جو اس حکومت کی مدت میں ہم نے بھگتا۔ چوںکہ بی جے پی اتنے مضبوط طریقے سے سیاست کے آسمان پر چمکی کہ سورج کا گماں ہورہا تھا اور مخالفین کی آنکھیں اس کی چکاچوند کی تاب نہ لاکر بند ہوگئی تھیں سب کے سب محو حیرت تھے۔ فرقہ پرستوں کو لگا کہ پورا ہندوستان ان کی متعصبانہ ذہنیت کا حامی ہوگیا اور ان کے اس خیال کو پختگی بخش رہا تھا۔ اترپردیش جہاں کمل ایسے کھلا جیسے یوپی نہ ہو کیچڑ ہو اور یقینا حالات اس وقت مثل کیچڑ ہی تھے جس میں گلاب نہیں کمل ہی کھلتے ہیں اور پورا ملک ایک گندی ذہنیت کے زیر اثر آگیا۔ اس کے اسباب و عوامل اگر چہ مختلف تھے لیکن بی جے پی پورے طور پر مطمئن ہوگئی کہ ملک متعصب ذہنیت کا شکار ہوچکا ہے، جس کا مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جائے۔ ترقی و تعمیر کے الفاظ اجنبی ہوگئے اور بارش ہوئی تو متعصبانہ طرز کے الفاظ کی جو کہ ہر شخص کے قلب کو چھلنی کر تے رہے۔ اسی نقطہ اور اسی فکر کو لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کی گئی اور اپنے منصوبوںکو پورا کرنے کے لئے کمر کس کر بی جے پی دہلی کے سیاسی دنگل میں اتری، مقابلہ سیدھے طور پر ایک ایسے شخص سے تھا جس نے سیاست کی گلیوں میں ابھی قدم رکھا، نہ اس کی کوئی حیثیت، نہ شناخت اور دوسری طرف ملک کا وزیر اعظم اپنی پوری طاقت جھونک چکا تھا، نتیجہ سب نے دیکھا۔ لیکن وقت پر کرن بیدی کو لا کر ہار سے اپنا دامن بچایا اور ایسی شکست جو سوچنے پر مجبور کرنے والی تھی اس کے باوجود بی جے پی اسی خوش فہمی میں مبتلا رہی کہ وہ ہار نہ صرف کرن بیدی کی ہے ، فرقہ پرستی کی نہیں یا جیت ہے کیجری وال کے وعدوں کی بارش کی۔ اس کا سیدھا اثر بہار انتخاب سے قبل نظر آیا جب ایک مرتبہ بی جے پی نے ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جلا کر اپنے آشیانے کو روشن کرنے کی کوشش کی، ہر صبح ملک کے کسی نہ کسی حصہ سے فرقہ پرستی کے واقعات کی خبر لے کر آتی ، جس میں براہِ راست یا کسی نہ کسی طرح بی جے پی کے افراد شامل تھے، ملک کے حالات کو اس خیال کے مدنظر بد سے بدتر کرنے کی کوشش کی گئی کہ پہلے کی طرح پھر کیچڑ میں کمل کھلایا جائے مگر شاید وہ لوگ بھول گئے کہ ابھی انسانیت باقی ہے، ابھی آدمیت زندہ ہر شخص خون کی قیمت سے واقف ہے۔، ان کے حاشیۂ خیال میں یہ نہیں آیا کہ مظلوموں کے خون پر زیادہ دنوں تک کرسیاں نہیں حاصل کی جاسکتیں، ان کی آہیں آسمانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں، ان کے آنسوں رائیگاں نہیں جاتے، ان کی دعائیں بے اثر نہیں ہوتیں مگر وہ تو کرسی کی چاہت میںایسے غرق تھے جیسے مجنوں لیلیٰ کے عشق میں اس کے کتے کے ساتھ بوس و کنار کر رہا ہو اور وہی جوڑی بہار نکلی جسے اپنی تدبیر پر ناز، فخر بلکہ تکبر تھا اور پھر وہی الفاظ کی جنگ، گالیوں کی بارش، ذاتوں سے بڑھ کر معاملہ نسلوں تک پہنچا اور DNA (ڈی این اے) تک کی باتیں ہوئیں، کسی کو چور کہا گیا اور کسی کو شیطان اور مودی کی تقریریں بہار کی فضا میں گونجتی رہیں، ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ریلیوں پر ریلیاں، خطابات کا طویل سلسلہ، عوام کو بے وقوف بنانے کی پوری کوشش کی گئی اور دوسری طرف ظلم و ستم پر خاموشی کا رویہ بی جے پی کے لئے بہت بھاری پڑا اور ظاہر ہوگیا کہ ’’ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے‘‘ نتیجوں نے ظاہر کردیاکہ گنگا جمنی تہذیب کا خاتمہ اتنا آسان کام نہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ عوام وعدے نہیں، کام چاہتی ہے، جس شخص نے لوگوں کو دال کے ذائقہ سے محروم کردیا وہ کیا ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لاسکتا ہے، یہ سادہ طبیعت لوگ کیا جانے F.D.I. کو، یہ تو محنت کو جانتے ہیں، اخوت کو جانتے ہیں، پیٹ کی آگ کو جانتے ہیں، جو بی جے پی کے دورِ اقتدار میں ٹیڑھی کھیر ثابت ہوئے ہیں۔ شکم سیر ہو کر اس حکومت میں کھانا نصیب نہیں ہوااور غریب و پسماندہ اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بے خوف سونے کا موقع فراہم نہ ہوسکا۔ فرقہ پرستی نے ان کے چین و سکون کو غارت کردیا اور بڑھتی مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اس کا شکار ہر انسان ہوا جس کا بدلہ بی جے پی بہار میںبھگت چکی اور اس کو نئی صبح کے آغاز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ان نتائج نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ ایک مرتبہ پھر بی جے پی اس انجام کی طرف قدم بڑھا چکی ہے جہاں سے وہ یکایک ترقی کے بام عروج پر پہنچی تھی اور ثابت ہوگیا کہ ان لوگوںمیں صحیح طرز پر کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، نہ وہ سب کو لے کر چلنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ان کے دل میں اتنی وسعت ہے کہ وہ سب کے حقوق یکساں طور پر ادا کرسکیں۔ ان سب چیزوں پر نظر رکھتے ہوئے بہار کی عوام نے سبق سکھا دیا اور پورے ہندوستان کو یہ پیغام دیدیا کہ اب بھی فرقہ پرستی کا خاتمہ ممکن ہے اگر ہمت و عقل سے کام لیا جائے۔یہ نتیجہ آنے والے یوپی کے انتخابات پر اثر انداز ہوگا اور یہاں کے افراد کے لئے ایک سبق بھی ہے کہ وہ بھی بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے خلاف متحد ہوجائیں اور بہار کے اس نتیجہ کو نئی صبح سے تعبیر کریں اور یاد رکھیں کہ فرقہ پرستی کا سورج غروب ہونے کے قریب ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker