مضامین ومقالات

بہار کے معصوموں سے پتھر دل ہار گیا

رمیض احمد تقی
بہار کا الیکشن کئی حیثیتوں سے لوگوں کی توجہات کا مرکز بناہوا تھا، ایک طرف جہاں ترقی اور فلاح وبہبود کے نام پر بی جے پی نے ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ کو بیوقوف بنانے کی سعی کی، وہیں درپردہ پورے ملک میںہندتوا ایجنڈا کے نفاذ کے لیے گئو کشی کو مذہبی رنگ دے کر اس ملک کے بھولے بھالے اور غیرتعلیم یافتہ عام لوگوں کے جذبات سے کھیلواڑ کیا اور جابجا ان کے حقوق کا استحصال بھی کیا اور اپنی انہی تمام ترعیاریوں اور مکاریوں کو بروئے کا رلاکر اس نے بہارکی انتخابی مہم سر کرنے کی ناکام کوشش کی، جس کو این ڈی اے کے تمام نیتاؤں نے اپنی ذاتی لڑائی سمجھ کر تن من دھن سے ’’جنتا جناردھن‘‘ کو اپنی حمایت میں کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کردیا ،مگر خوش باش اے بہار کی غیورعوام جس نے ووٹ کا مدار کسی ایجنڈا اور فکرونظر کو نہیں بنایا اور نہ ہی گائے کی پونچھ پکڑ کر اس کی لیدسے گھروندے تعمیرکی، بلکہ این ڈی اے کی دہلی میں ناکامی اور ملک بھر میں انتشار وخلفشار کا ماحول پیدا کرنے ، فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے اور مہنگائی وکرپشن جیسے اہم مدعے کو بنیاد بنا کر اپنا قیمتی ووٹ اس پارٹی کے حق میں دیا ،جس سے ملک و ملت کا فائدہ ہو، ایک قلم کار کی نظر سے اگر دیکھا جائے،تو تعمیر وترقی کے حوالہ سے بہار میں لالو اور نتیش کا ماضی بھی کچھ زیادہ تابناک نظر نہیں آتا، تاہم لالو کے مقابلہ میں نتیش کی کمار کی حکومت قدرِ غنیمت تھی،لیکن اگر بات کسی ایسی دوپارٹیوںکے درمیان فیصلہ کرنے کی ہوجن میں سے ہرایک کے اندر اپنی قومیت کا احساس بیدارتو ہو، مگر ان میں سے ایک کسی دوسری قوم اور فکرونظرکی اگرطرف دار نہیں ہے، تو اس کے لیے خطرناک ارادے بھی نہیں رکھتی ہے ، بالفاظ ِ دیگرجمہوریت کی علم بردار ہے اور دوسری پارٹی نہ صرف اپنے نظریے کی طرف داری کرتی ہے، بلکہ دوسری قوم کے تعلق سے اس کے عزائم تباہ کن ہیں، تو یقینا ہرمعتدل فکر انسان اس پارٹی کو ووٹ کرنا پسند کرے گا جس کی بنیاد اس ملک کے دستور کے مطابق ہو اور اس کی جمہوریت کی انیٹ بلند کرنیو والی ہو ،توبہار کی عوام نے عظیم اتحادی پارٹی کو کامیاب جیت دلا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک میں ہندتوا فکر رکھنے والوں سے کہیں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے، جو اپنے چمن کی زینت اور اس کی خوش رنگت مختلف رنگ اور الگ الگ پھولوں کی مختلف خوشبوؤں میںسمجھتے ہیں ۔
خدا خدا کرکے انتخابی مہم کا وہ بلا خیز طوفان ٹلا جس کے شور غوغے نے ایک خاموش فضا کو متعفن بنا دیا تھا اور آٹھ تاریخ کا سورج مشرق سے ایک نامعلوم نوید لے کر طلوع ہوا، دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئیںاور پھر وہ ساعت بھی آگئی جب سب کی محنتوں کی میٹھائی تقسیم ہونے والی تھی؛گنتی سے قبل اور اس کے آغاز میں بی جے پی اور اس کے حمایتی نیتاؤں اور چمچاؤں کا دماغ ساتویں آسمان پر تھا اور ان کی باتیں اور مودی کے نعرے سن سن کر ایسا لگ رہا تھا کہ بہار کی عوام شاید اپنے لیے خود وہ گڈھا کھود چوکی ہے جس کی مودی اور امیت شاہ نے خواب سجائے تھے ، بی جے پی کے کچھ نیتاصبح کی چائے نوشی چھوڑ کر اسٹوڈیو میں ننگے پاؤں آبیٹھے تھے اور شیخ چلی کے پلاؤ پکانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ناکام کوشش کررہے تھے، اس وقت خود میری حالت یہ تھی کہ میں رات بھر کی ڈیوٹی سے واپس آکرخبریں سماعت کرنے بیٹھ گیا ، جسم تو پہلے ہی سے تھک کر چور ہوگیا تھا اور جب بی جے پی کو بڑھتا ہوا دیکھا تو دماغ نے بھی کام کرنا بند کردیا ، بالآخر لیپ ٹاپ بند کرکے بستر ہی کو سکون کے لیے بہترین جائے پناہ سمجھا،مگر جب دوپہر میں آنکھیں کھلیں اور واٹسیپ کے کچھ میسیز کو دیکھا ،تو اپنی آنکھوں پر ہی اعتبار نہیں آیا،بی جے پی کا صفایا ہورہاتھا ، کنول کا پھول مرجھا رہاتھا اور لالٹین کی مدھم روشنی لمحہ بہ لمحہ تیز ہورہی تھی ، اس وقت دل کا جذباتی ہونا بھی کوئی غیر فطری نہیں تھا،بلکہ بہار کی عوام کا وہ جرأت مند اقدام دیکھ کر ہر معتدل فکر اورسوچ رکھنے والا ہندوستانی دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد دے رہا تھا،کیونکہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشید گی کو لے کر ملک کی عوام بالخصوص اقلیتوں کے سامنے بہار کا الیکشن یقینا کسی ایک چیلینج سے کم معلوم نہیں ہوتا تھا، اس لیے کہ اس ملک میں یوپی کے بعد بہار ہی ایک ایسا صوبہ تھا جہاں بی جے پی کو اپنی دال گلانے کی پوری امید تھی، اس کی وجہ یہاں کی عوام کا مذہبی جنون اور کہیں نہ کہیں غربت اور تعلیم کی کمی ، جن کو بی جے پی اپنے لیے کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں سمجھتی،نیز ان دونوں صوبوں میں دلت اور اقلیتوں کی تعداد دوسرے صوبوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے اور بی جے پی انہی کو ہمیشہ مرغا بناتے ہیں اور ان کے جذبات سے کھیل کر ان کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں ،مگر اس الیکشن میں بی جے پی کی شکتِ فاش نے ایک بار پھر سے ملک کی عوام کو غوروفکرکرنے پر مجبور کردیا ہے ، اس حوالہ سے یقینا بہار کی عوام قابلِ تحسین ومبارک باد ہیں جنہوں نے اس الیکشن میں اپنی مکمل بیداری کا بہترین ثبوت پیش کیا ، یہاں ایک قابلِ لحاظ امر یہ ہے کہ کچھ لوگ لالو اور نتیش کی جیت کی وجہ ذات پات کو بتلاتے ہیں، مگر کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ملک کی صرف بڑی ذاتی کے لوگ ہی بی جے پی کو ووٹ کرتے ہیں ، مگر اس کوکوئی بھی ذاتی واد کانام نہیںدیتا، بہر حال بات جو بھی ہو اس کو ذاتی واد کا نام دیں یا پھرجمہوریت کی جیت، بہار کی عوام نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا کہ ہمارے درمیان گو مذہبی دیواریں قائم کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں اور ہمارے جذبات واحساست کو خوب مہمیز لگایا گیا،مگر ہم نے اپنے ملک کے امن وسکون اور فلاح وبہبود کے لیے ان تمام دیواروں کو پاٹ دیا جن سے ہمارے ملک کی بنیاد کو خطرہ تھا۔ اس الیکشن کی چناوی مہم میں بی جے پی نے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دی ، بلکہ مودی جو اس ملک کے وزیر اعظم ہیں، انہوں نے بھی بے شمار دورے کیے، ان کے علاوہ علاقائی نیتاؤں کو چھوڑ کر بی جے پی کے تمام مشہور اور قدآور نیتاؤں نے اس الیکشن میں اپنے تمام حربوں کو استعمال کیا ، بہار کی تعمیر وترقی اور اس کے لیے خصوصی پیشکش کا فلک بوس نعرے لگائے اور ساتھ میں غریب ہندؤوںکے جذبات کو بھڑکانے کے لیے آج کا ایک چبھتا ہو مسئلہ’’ گئو کشی‘‘کا کارڈ اچھالا، تاکہ لوگ ان کی باتوں میں آکر ان کی ڈیڑھ سال پہلے کیے گئے تمام وعدوں کو بھول کر پھر سے ان کے جھوٹ کے نئے رتھ میں سوار ہوجائیں ،مگربہار کی عوام نے اپنے کرداروعمل سے یہ ثابت کردکھایاکہ یہاں کی عوام اپنی ذمہ داریوں کے تعلق سے بے خبر نہیں ہے ،بلکہ ہمہ دم باخبر اور حساس بھی ہے، نتیجتاً بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی ۔ ان تمام تر کامیابیوں کا سہرہ جہاں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو جاتا ہے ، ان سے کہیں زیادہ لالو پرساد یادوقابل ستائش اور لائق تحسین ومبارک باد ہیں جنہوں نے بہار کی سیاسی نیا کو ڈوبنے سے بچایا اور اس وقت جنتا دل یونائٹد کا ساتھ دیا جب اس کی یکتا کاتاج محل تاش کے پتوں کی طرح بکھرتا ہوا نظرآ یا اور کوئی یہ یقین بھی نہیں کرسکتاتھا کہ کبھی لالو اور نتیش بھی کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوپائیںگے ، مگر لالو پرسادیادو نے ماضی کے تمام قصوں کو بھلاکر نتیش کمار کے شانہ بشانہ چلنے کا ایک چونکانے دینے والا فیصلہ لیا ، جس کا صلہ یہ ملا کہ تقریبا دو دہائیوں سے آر جے ڈی بہار میں بالکل فلاپ چل رہی تھی، ایک بار پھر سے اس کے لالٹین کی روشنی تیز ہوگئی اور پھر ان دونوں نے مل کر جو کارنامہ انجام دیا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ بہار میں بی جے پی کی ہار در اصل اس ہار کا پیش خیمہ ہے جو بی جے پی اور آرایس آر ایس کے بھگوا دہشت گردوں نے ۲۰۲۵ تک اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب سجائے ہوئے ہیں اور ۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخاب اور یکے بعد دیگرے کئی صوبوں میں بی جے پی کی تاریخ سازکامیابی کو دیکھ کر یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ شاید سچ میں ان کا وہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوجائے اور جس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے اس ملک کے ہندؤوں اور مسلمانوں نے جو ناقابلِ فراموش قربانیاں پیش کی تھیں، کہیں پھر سے کسی کی غلامی کا طوق ان کی نسل کی گردنوں کی ہار نہ بن جائے ، مگر سلام اے بہار کی غیور عوام جس نے اس ملک کے دشمنوں کی چال کو سمجھ کر ان کے خواب کے اس تاج محل کو منہدم کردیا اور اپنی یکجہتی سے ملک کی عوام کو یہ پیغام دیا کہ ووٹ آپ کا ایک ایسا حق ہے جو آپ کے گھرکو مسجد ومندر بنا سکتا ہے اور یہی آپ کے خانہ کو خراباں اور چمن کو ویران بھی کر سکتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker