اسلامیات

جادو ٹونے سے تحفظ

ایس اے ساگر
ہولی،دسہرہ اور دیوالی جیسے مواقع پر ضعیف الاعتقادی کے شکار امن پسند طبقہ میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔ رہی سہی کسر چوراہوں پر رکھے ہوئے ٹونے ٹوٹکے پوری کردیتے ہیں۔ ان بیچاروں کو علم نہیں پوتا کہ اعمال صالح میں جادو سے تحفظ ہے۔پیشہ ور عامل اس آگ میں اپنی روٹیاں سینکتے ہیں ۔ صاحب ایمان ہونے کے باوجود لوگ نہیں سمجھ پاتے کہ کوئی عامل یا جن پر وقت مریض کیساتھ بھلا کیسے رہ سکتاہے؟ اس لئے مریض کو درحقیقت اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہوتی ہے۔مزید یہ کہ زبان زد عام ہے کہ جادو دوبارہ ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مریض اپنی حفاظت کا خیال نہیں رکھتا۔ عامل سے تعویزحاصل کیا اور گلے میں باندھ لیا، گھر میں لٹکا لیا یا اپنے پاس رکھ لیا جبکہ یہ ہر گز کافی نہیں ہوتا۔
مسنون اعمال کو ترجیح:
چند برس قبل ہمارے ایک ساتھی کے یہاں عجیب صورتحال پیش آئی۔ ماچس کی تیلی چولہے کو دکھاتے جبکہ آگ دور رکھے ہوئے کپڑے پکڑ لیتی۔ ایک مخلص عامل نے انھیں 40 روز تک بلا ناغہ سورہ بقرہ پڑھنے کی تاکید کی۔ ناغہ ہونے کی صورت میں پہلا دن شمار کرکے ازسرِنو عمل شروع کرنے کیلئے کہا گیا۔ اس وبال سے تو انہیں نجات نصیب ہوگئی لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر مستقل اور صحیح حفاظت مطلوب ہے تو مکمل اثرات دور ہونے کے بعد حفاظت کے اعمال پابندی بھی ضروری ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 24 گھنٹے پر مشتمل زندگی میںتحفظ کیلئے بیت الخلا سے بستر تک ایمان اعمال کی ایسی ترتیب تعلیم کی ہے کہ جب تک حفاظت کی ضرورت ہے، اس پر کار بند رہیں۔ ان میں سب سے اول فوقیت مسنون دعاوں کو دیں۔ پھر دیگر اعمال کو۔ ساتھ ہی گھر کے ماحول کو بہتر کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت داخل ہو اور شیطان وہاں سے بھاگے۔ تب کہیں جا کر فتنوں سے حفاظت ہو گی۔
چند کلمات کا کمال:
حضرت کعب الاحبار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ چند کلمات اگر میں نہ کہتا رہتا تو یہود مجھ کو گدھا بنا دیتے۔ کسی نے پوچھا وہ کلمات کیا ہیں؟ انہوں نے یہ بتلائے:
اعوذ لوجہ اللہ العظیم الَّذِی لَیسَ شِیی اعظَمْ مِنہْ وَ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ الَّتِی لاَ یْجَاوِزْھْنَّ بَرّ وَّ لاَ فَاجِرَّ بِاَس مَائِ اللہِ الحْسی مَا عَلِمتْ مِنھْمَا وَ مَا لَم اَعلَم مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ذرائً وَ بَرَائً۔اگرکوئی شخص اس دعا کو روزانہ صبح و شام پڑھا کرے تو ان شااللہ تعالیٰ سحر و جادو کے اثرات سے محفوظ رہے۔ اگر سحر ہو چکا ہو تو اثرات ختم ہو جائیں گے۔
اعوذ لوجہ اللہ العظیم
چند آیتوں کا اہتمام:
ابو جعفر نحاس نے حدیث نقل کی ہے کہ مندرجہ ذیل آیتیں اگر کوئی شخص دن میں پڑھے تو تمام دن اور اگر رات میں پڑھے تو تمام رات شیطان سرکش اور جادوگر ضرررساں اور حاکم ظالم اور تمام چوروں اور غنڈوں سے محفوظ رہے گا۔ آیتیں یہ ہیں:
آیت الکرسی(بقرۃ:255)
ان ربکم اللّٰہ…۔۔۔من المحسنین(اعراف:54–56)
والصفٰت صفا……ثاقب(صٰفٰت:1–10)
سنفرغ……فلا تنتصران(رحمٰن:31–35)
کیا کہتے ہیں ابن بطوطہ رحمۃاللہ علیہ ؟
مشہور سیاح علامہ ابن بطوطہ رحمۃاللہ علیہ نے جزائر مالدیپ میں اسی انداز میںبلاؤں سے تحفظ کے واقعہ کو نقل کیا ہے۔ ا س وقت ہندوحکمراں راجہ دھرم سانت نے بھی اسلام قبول کیا۔ مشہور مسلمان مورخ ابن بطوطہ بھی مالدیپ آئے اوریہاں بطورقاضی کام کرتے رہے۔اس سیاح اور مورخ کا مکمل نام ابوعبداللہ محمدا بن بطوطہ ہے جو مراکش کے شہر طنجہ میں پیدا ہوئے۔ ادب، تاریخ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعدانھوں نے محض اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا۔ اس کے بعد شوق سیاحت نے انھیں افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا دیا۔ انھوں نے جزائر شرق الہند اور چین کی بھی سیاحت کی۔ عرب، ایران ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان کی سیر کی۔ چار بار حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے اور محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آئے تھے۔ سلطان نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی کے عہدے پر سرفراز کیا۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت میں انھوں نے 75ہزار میل کاسفر کیا۔ آخر میں فارس کے بادشاہ ابوحنان کی دربار میں آئے اور ان کے کہنے پر اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارنی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔ابن بطوطہ کا سفرنامہ مالدیپ کے قدیم احوال کے بارے میں اولین تاریخی دستاویزشمار ہوتی ہے۔
مالدیپ میں کیا دیکھا؟
اپنے سفرنامہ میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ جب وہ جزائر مالدیپ میں سیاحت کرتے ہوئے پہنچے تو دیکھا کہ تمام ملک اذان کی صداؤں سے گونج رہاہے اور ساری زمین سجدہ ہائے نماز کی کثرت سے ٹپی پڑی ہے۔ انہیں اس سے بہت تعجب ہواکہ کیوں کہ ان کے علم کے مطابق کوئی مسلمان اس میں فاتحانہ یا تاجرانہ حیثیت سے کبھی نہیں پہنچاتھا۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ یہ دور دراز سرزمین اسلام کے نور سے کیسے روشن ہوئی؟وہاں کے اہل علم نے بتایاکہ عربوں کا کوئی تجارتی جہاز مشرقی اقصیٰ کی طرف جارہا تھا۔ یہ مشرقی جزائر کے قریب تھا کہ سمندر میں سخت طوفان آیا اور جہاز تباہ وبرباد ہوگیا۔ اس کے مسافروں میں سے ایک مسلم تاجر کسی تختہ پر بیٹھ کربچ گیا۔اللہ کے فضل سے ہمارے جزیرہ کے ساحل پر آلگا۔ یہ ایک مراکشی عرب تھا۔ چونکہ جزیرہ میں اس کا کوئی یارومددگار نہ تھا۔ اس لئے اس نے ایک بڑھیاکے گھر پناہ لی۔ وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتاتھا اور انہیں فروخت کرتاتھا۔ ایک عرصہ تک اسی پر گزراوقات کرتا رہا۔ ایک دن جب یہ عرب گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ بڑھیا روپیٹ رہی ہے اور پاس ہی اس کی نوجوان لڑکی سر پیٹ رہی ہے۔
عرب نے پوچھا۔’یہ مصیبت کیسی ہے؟‘
بڑھیا نے جواب دیاکہ آج یہ میری اکلوتی بچی مرجائے گی۔ عرب نے پوچھا کہ کیسے مرجائے گی؟ یہ تو تندرست ہے اور عالم الغیب تو خدائے تعالیٰ ہی ہے۔‘ بڑھیا نے انگلی کے اشارے سے بتایا کہ وہ سامنے دیکھو موت کھڑی ہے۔‘عرب نے حیرت زدہ ہوکر دیکھا تو فوجی سوار سامنے کھڑے تھے۔ اس نے حوصلہ مندی سے دریافت کیا کہ کیا یہ تمہاری لڑکی کو قتل کردیں گے؟‘بڑی بی نے کہا کہ یہ بات نہیں‘دراصل یہ سپاہی میری لڑکی کو لینے آئے ہیں کیونکہ ہمارے اس جزیرہ میں ہرمہینہ کی ایک مقررہ تاریخ کو ایک سمندری بلا نمودار ہوتی ہے جس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس جزیرہ والوں کی طرف سے ایک کنواری لڑکی اسی تاریخ کو غروب آفتاب کے بعد ایک مندر میں جو سمندر کے کنارے ہے پہنچادیتے ہیں۔ دوسری صبح کو جب حکومت کے آدمی ساحل سمندر پر جاتے ہیں تو وہ لڑکی مردہ ملتی ہے‘اور اس کا کنوارہ پن زائل شدہ۔ ہرسال قرعہ اندازی سے فیصلہ کیا جاتاہے کہ کون لڑکی بھیجی جائے؟ ‘یہاں تک بیان کرکے بڑھیا زیادہ روئی اور کہنے لگی کہ اس مرتبہ قرعہ میری لڑکی کے نام نکلاہے جو میری اکلوتی بیٹی ہے اس وجہ سے ہم رورہے ہیں۔
خبیث جنات کا علاج:
جب عرب نے یہ دردناک کہانی سنی تو کہاکہ تسلی رکھو میں اس سمندر میں بلا یعنی خبیث جنات کا علاج میں جانتاہوں۔ آج رات میں خود اس سمندر میں جاؤں گاتاکہ تمہاری اکلوتی لڑکی کی بجائے اپنی جان قربان کردوں۔ تم مجھے اپنی لڑکی کے زنانہ کپڑے پہنادو تاکہ کوئی شخص مجھے پہچان نہ سکے۔مراکشی عرب ان لوگوں میں سے تھا جن کے داڑھی مونچھ صفر کے برابر یابالکل نہیں ہوتی۔ بڑھیا نے عرب کی یہ تجویز منظور کرلی اور اسے زنانہ کپڑے پہنادئے۔ جب سپاہی آئے تو بڑھیا نے اس کو ان کیساتھ بھیج دیا۔ جو اس کو مندر میں بٹھاکر چلے آئے۔ یہ عرب قرآن پاک کے حافظ تھے۔ان کا نام ابو البرکات تھا۔جب حکومت کے سپاہی دور چلے گئے تو انہوں نے نہایت اطمینان سے وضو کیا۔ عشاکی نماز پڑھی پھر اپنے سامنے ننگی تلوار ڈال کر سمندر کی موجوں کودیکھنے لگے اور قرآن پاک کی تلاوت شروع کردی۔
تلاوت اور اذان کا اثر :
رات نہایت خوفناک ،اندھیرا چھایا ہوا اور جزائر مالدیپ کی ساری کائنات نیند کے سمندر میں غرق تھی۔ سوائے تین روحوں کے جن کی آنکھوں پر نیند کی لذت حرام تھی۔ ان میں سے ایک بہادر شیر دل عرب تھا جس کی آنکھوں میں پانی کا سمندر تھا اور سینہ میں ایمان کا سمندر دوسری غریب بڑھیا تھی جسے اپنی اکلوتی بیٹی کی زندگی پرشاد ہونا چاہئے تھا لیکن مراکشی غریب الوطن کی شہادت کا غم اس کے دل وجگر کو چھیلے ڈال رہا تھا۔ تیسری روح جزیرہ کی وہ معصوم لڑکی جس کو قرعہ حکومت نے موت اور ذلت کیلئے۔ مگر قسام ازل نے زندگی اور عزت کیلئے منتخب کرلیا تھا۔ وہ شریف اور بہادر عرب کے غم میں نڈھال تھی۔ اور روئے جاتی تھی۔مراکشی عرب نے دل کش آواز کیساتھ قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی اور اسی عالم میں رات کے بارہ بج گئے۔ ناگہاں افق سمندر سے ایک جہاز جیسی عجیب خوفناک شکل نمودار ہوئی جس میں بے شمار خانے بنے ہوئے تھے۔ یہ شے آہستہ آہستہ کنارے کی طرف آئی اور مندر کے پاس آکر رک گئی۔ مراکشی غازی اپنی تلاوت میں مصروف رہا۔بعض روایات میں اس موقع پراذان کا کہنا بھی وارد ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہواکہ یہ خوفناک بلا آگے نہ بڑھ سکی اور تھوڑی دیر ٹھہر کر آہستہ آہستہ واپس چلی گئی۔ یہاں تک کہ نظروں سے غائب ہوگئی۔
غیر اللہ کی نکیر:
صبح کے وقت جب حکومت کے سپاہی۔ لڑکی کی نعش لینے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں کوئی نعش موجود نہ تھی۔ لڑکی غائب اور اس کی بجائے ایک بہادر جواں مرد مسلمان موجود تھا سپاہی اس غازی اسلام کے پاس آئے اور اس کو راجہ کے پاس لے گئے۔ راجہ نے ساری داستان سنی اطمینان کیلئے جرح کی۔ پھر بڑھیا اور اس کی بیٹی کو بلایاجنہوں نے تمام واقعات کی تصدیق کردی شریف عرب نے راجہ کو بتایاکہ میرا یہ فعل شریعت اسلام کے مطابق اوربوڑھی خاتون کے احسان کا معمولی سا بدلہ ہے۔ راجہ’ معمولی‘ لفظ سے بے حد متاثر ہوا۔ پھرراجہ نے پوچھا تم اتنی بڑی بلاکے سامنے تن تنہا جاکھڑے ہوئے۔مراکشی عرب نے کہاکہ میں اکیلا نہیں تھابلکہ میرا خدا میرے ساتھ تھا۔‘راجہ نے پوچھا کہ لیکن تم ڈرے کیوں نہیں؟ مجاہد عرب نے جواب دیا کہ مسلمان اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔‘راجہ نے جوش سے کہا کہ اگر اس مرتبہ بھی تم اکیلے گئے اور سلامت واپس آگئے تو ہم سب اسلام کی صداقت کے سامنے سرتسلیم خم کردیں گے۔ تمام اہل دربارنے اس کی تائید کی۔ اس کے بعد جب دوسری تاریخ آئی تو بہادر عرب پھر مندر میں چلاگیا اور صحیح وسلامت واپس آگیا۔
روحانی انقلاب:
اس مرتبہ کسی بلانے سمندر کا رخ نہیں کیا۔ جب راجہ اور اس کی رعیت کو یہ معلوم ہواکہ اس مسلمان کے فیض قدم سے اہل جزیرہ کو خوفناک سمندر ی بلا اور شیاطین سے ہمیشہ کیلئے نجات مل گئی ہے تو تمام ملک میں اسلام کی صداقت کا غلغلہ بلند ہوگیا۔ سب سے پہلے بڑھیا اور اس کی بیٹی مسلمان ہوئی اس کے بعد راجہ اور اس کے درباریوں نے اسلام قبول کیا اور پھر تمام جزائر میں لاالہ الااللہ، محمد الرسول اللہ کی دھوم مچ گئی۔اس طرح مالدیپ میں اسلام پہلی صدی ہجری میںعرب تاجروں کی وساطت سے آیا۔یہ واقعہ1314کا ہے۔ مالدیپ کے لوگ اسے اب تک ’روحانی انقلاب ‘ کے نام سے یادکرتے ہیں۔ اس وقت سے اب تک پرتگالیوں کے مختصراًعہداقتدار کے سوا مالدیپ اسلامی سلطنت چلی آر ہی ہے۔ مالدیپ کا شماربھی قدیم اسلامی سلطنت میں ہوتاہے۔1581میں ان جزائر پرپرتگالیوں نے قبضہ کرلیا لیکن70ویں صدی میں دلندیزیوں کی نگرانی میں آگیا ‘جوسری لنکا کے بھی حاکم تھے۔1887 میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ براعظم ہند،پاک کیساتھ مالدیپ کا بھی حکمران تسلیم ہوا۔
تیتیس آیات :
حضرت شاہ ولی اللہ نور اللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن حکیم کی تیتیس آیات ایسی ہیں کہ اگر ان کو روزانہ پڑھا جائے تو جادو سے حفاظت ہوتی ہے۔اور اگر جادو کے زیر اثر ہو تو بفضل تعالیٰ جادو سے نجات مل جاتی ہے۔
وہ تیتیس آیات یہ ہیں:
الم ذٰلک الکتاب……ھم المفلحون(بقرۃ:1–5)
اللّٰہ لا الٰہ……خٰلدون(بقرۃ:255–257)
للّٰہ ما فی السمٰوٰت……الکٰفرین(بقرۃ:284–286)
ان ربکم اللّٰہ الذی……رب العلمین(اعراف:54)
وقل الحمد للّٰہ……تکبیرا(بنی اسرآئیل:111)
لصّٰفّٰت صفّا……طین لازب(صّٰفّٰت:1–11)
یامعشر الجن……تنتصران(رحمٰن:33–35)
لو انزلنا ھذا……العزیز الحکیم(حشر:21–24)
قل اوحی الی……شططا(جن:1–4)
نقش کے ذریعہ تحفظ:
اس کے علاوہ مجربات کی بھی کمی نہیں ہے۔بعض کے نزدیک ذیل میں تحریر پہلا نقش تحفظ جملہ آفات و بلیات و عمل سفلی وغیرہ سے تحفظ کا ہے۔ جو کوئی شرف قمر میں چاندی کی تختی پر اس نقش مکرم کو کندہ کرواکے اپنے پاس رکھے گا وہ تمام آفات مندرجہ بالا سے محفوظ رہے گا۔
سچے موتیوں پر عمل:
سات عددسچے موتی لیں۔ہر ایک موتی پر سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرکے ایک بوتل میں ڈال دیں اور اس میں پانی بھر دیں۔یہ پانی مریض کو صبح وشام سات دن تک پلائیں۔آٹھویں دن موتیوں میں سے ایک موتی کی انگوٹھی بنوا کر مریض کو پہنا دیں اور چھ موتی چھ الگ الگ کنووں میں ڈال دیں۔کنواں مسجد کا ہو تو بہتر ہے۔انشا اللہ جادو کے اثرات زائل ہوجائیں گے۔اور آئندہ جبتک یہ انگوٹھی انگلی میں رہے گی۔جادو نہیں ہوسکے گا۔
معوذتین کا ورد:
جو شخص معوذتین کو سوتے وقت پڑھے گا، اس پر ہرگز جادو وسحر کا اثر نہ ہوگا۔
اعراف:31–33:
یا بنی ادم……تعلمون(اعراف:31–33)
جو شخص اس کو انگور سبز کے عرق اور زعفران سے لکھ کر اولے کے پانی سے دھو کرکھانے میں ملا کر کھائے تو زہر سے مامون رہے اور سحر اور نظر بد سے بھی۔
مندرجہ ذیل نقش کو لکھ کر پاس رکھیں۔کوئی سحر جادو اثر نہ کرے۔بلکہ رزق میں بھی کشائش ہو گی۔یہ نقش سورئہ طٰہٰ کا ہے۔
درودشریف کی برکت:
لّٰھم صل علی محمد سید المصدقین
بعض حضرات کا تجربہ ہے کہ اگر اس درودشریف کو مکمل طور پر مشک و زعفران سے لکھے اور فریم کروا کے اپنی دکان یا گھر کی چوکھٹ کے اوپر لگائے تو اس کی برکت سے گھر یا دکان میں کوئی بھی بیماری ، جادو ٹونہ داخل نہیں ہوسکے گا۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker