جہان بصیرتحق گوئی

’ٹکے سیر بھاجی، ٹکے سیر کھاجا‘

نازش ہماقاسمی
ہندوستانی سیاست کا سولہواں لوک سبھا الیکشن ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوا جب ہندوستانی عوام یوپی اے حکومت سے تنگ آچکی تھی۔ یوپی اے نے اپنی دوسری میعاد میں وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو ہندوستانی عوام کی سمجھ سے بالاتر تھے، ہر آئے دن نت نئے گھوٹالوں کا انکشاف ہوتا، تقریباً ہر شعبہ وزارت میں کوئی نہ کوئی مہاپرش ضرورتھا جو اپنے گھوٹالوں اور داغدار شبیہ سے یوپی اے کے لئے گلے کی ہڈی بن گیا تھا، گھپلوں اور گھوٹالوں کے بیچ کانگریس کی ساکھ دائو پر لگ چکی تھی، اور رہی سہی کسر انا ہزارے کی تحریک نے پوری کردی، جسے ہندوستانی میڈیا نے اتنی اہمیت دی کہ انا جی کو گاندھی کے مرتبہ تک پہنچا دیا، جسے گاندھیائی رہنما کے لقب سے ملقب کیاجانے لگا، اور قوم انا کی تحریک میں میڈیا کی باتوں سے متاثر ہوکر جوق در جوق شامل ہوتی چلی گئی جس سے رائے عامہ یوپی اے حکومت کے خلاف صف آراء ہوگئی، عوام بے چاری بھی مجبور تھی کیوں کہ اس وقت مہنگائی نے مجبورو بے کس ہندوستانیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی، اسی مایوسی کے عالم میں ایک آواز ڈگمگاتے ، پریشان حال اور مایوسی سے جوجھتے عوام کے لیے صور اسرافیل کا کام دے گئی، ایک 56انچ کے سینے والے آدمی نے انہیں صحیح منزل کی طرف راہنمائی کرنے کی حامی بھری، وہ کبھی اپنے مخالفین پر چھبتے جملوں کی بارش کرتا اور کبھی ہندوستانی عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی باتیں کرتا رہا اور ان کی کشتی جو مہنگائی کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی انہیں ساحل پر لاکر ترقی یافتہ قوم بنانے کا عندیہ دیتا رہا۔ اس کی گرجتی ہوئی آوازبکائو میڈیا کے ذریعہ عوام الناس کی رگوں میں بجلی لہر بن کر دوڑ جاتی وہ اپنے الفاظ کے نشتر سے مخالفین کی جراحی کرتا ہوا انہیں ٹھوکر مار کر آگے بڑھتارہاعوام اس لفظوں کے سوداگر کی باتوں میں آگئی اس کے تمام دعوے صحیح نظر آنے لگے کالا دھن کو مزید کالی میڈیا نے اجلا کرکے مودی کے نشتر سے اچھالا اور 100دنوں میں اس دھن کو واپس لانے کی تجویز پر عمل آوری کرنے کی پیشین گوئی کی او ریہاں تک کہدیا گیا کہ ہر عام وخواص کے اکائونٹ میں 15-15لاکھ روپئے جمع ہوجائیں گے، جس سے عوام الناس شیخ چلی کے خواب بننے میں مشغول ہوگئے اور اس ساحر کے سحر میں آکر اس کے ظلم وجبر کی داستان عظمی کو بھلا کر اس شخص کو وزارت عظمی کی کرسی پر متمکن کردیا۔
مرکز میں حکومت تبدیل ہوگئی کانگریس نے تاریخ کی بدترین شکست کا مزہ چکھا اور بی جے پی مرکز میں براجمان ہوگئی، عوام اچھے دنوں کا انتظار کرنے لگے، نئی حکومت کو ایک مہینہ گزرا دو گزرا اسی طرح ا ب تک 420سے زائد دن گزرگئے اور حکومت کی چارسو بیسی عوام کے سامنے واضح ہوگئی۔ بلیک منی کا بھانڈا پارٹی کے داغدار قومی صدر نے یہ کہہ کر پھوڑ دیا کہ وہ انتخابی جملہ (محاورہ) تھا ، محض بیوقوف بنانے کی حکمت عملی تھی، جسے ہم نے پورا کرلیا، ’’سب کاساتھ سب کاوکاس‘‘ جیسا نعرہ بھی صدا بصحرا ثابت ہوا، او ر’’اچھے دن بھی آگئے‘‘ عوام کے لیے تو ’’اوچھے دن‘‘ ہوئے لیکن اچھے دن مودی جی کے آئے، ان کے حوارین کے آئے، شیوارج چوہان، اسمرتی ایرانی، پنکجا منڈے، وسندھرا راجے، کے اچھے دن آئے، اور ان افراد کے لیے بھی اچھے دن آئے جنہوں نے اپنے مال ومتاع سے اس حکومت کو لانے میں کوششیں کی تھیں۔ اور عوام کے لیے بھی خوشی کی بات ہے کہ وہ لوگ جو چکن وغیرہ کسی خاص موقع پر ہی کھانے کی استطاعت رکھتے ہیں اب دال کی قیمت میں ہر دن چکھ سکتے ہیں، ہندوستان کی مشہور کہاوت گھر کی مرغی دال برابر کو بھی موجودہ حکومت نے ثابت کردیا، وہ حضرات جو موٹرگاڑیاں اور دوسری گاڑیاں پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے استعمال کرنے سے گریز کررہے تھے، اب ان کے لیے پٹرول کی حیثیت روز مرہ استعمال ہونے والی پیاز سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی، بلکہ اس سے بھی کم تر ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم نے کسانوں کی خوشحالی کے لیے کسان ٹی وی کوسالانہ 100کروڑ کا بجٹ پاس کیا، گیس سبسڈی کے اشتہار کے لیے 250کروڑ روپئے خرچ کیے، صفائی مہم کے لیے بھی 250کروڑ روپئے خرچ ہوئے، عوام کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اور انہیں جسمانی تندرستی حاصل کرنے کے لیے یوگا ڈے ’ڈرامہ ڈے‘ منظورا کروا کر 500کروڑ خرچ کئے اوراسی طرح کے بے شمار بجٹ ہیں جو ہندوستانی عوام کو دئیے گئے ہاں یہ ایک الگ بات ہے کہ ان سب بجٹ سے ہر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا، وجہ ظاہر ہے ایک سو پچیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں تنہا وزیر اعظم کی شخصیت ہر کوئی کے دروازے پر تو نہیں جاسکتی، انہوں نے 100کروڑ کے گیس سبسڈی کے لیے دوسو پچاس کروڑ روپئے خرچ کردیئے،اسی طرح صفائی مہم کے لیے بھی 250کروڑ روپئے خرچ ہوگئے، گرچہ ان کی وجہ سے تعلیمی بجٹ میں کمی کرنی پڑی، پھر ویسے بھی ہمارے دیش کے معزز ترین شہری (حکومت کے حواری) کے بچے پرائیوٹ ا سکول کا ہی رخ کرتے ہیں، یا پھر بیرون ممالک کا، تعلیمی بجٹ میں کمی سے ان کا کوئی نقصان تو ہے نہیں، رہے غریب کے بچے تو وہ پڑھ لکھ کرہی کیا لیں گے؟، صحت کے لیے سال بھر نہیں ایک دن یوگا ضروری ہے،بقیہ دنوں میں اگر بیمار بھی ہوجائیں تو دوصورتیں ہیں اگر معزز ترین شہری میں سے ہیں تو پرائیوٹ اسپتال یا پھر بیرون ممالک کا سفر ضروری اگر غریب ہیں توبیماری تو ہر کسی کے ساتھ ہے بھگوان سے پراتھنا کریں ٹھیک ہوجائیں گے؟ ۔
مودی جی نے یقینا بہت سارے کام کیے ہیںبس فرق صرف اتنا ہے کہ یہ تمام مخصوص افراد کے لیے کیے گئے ہیں، نتیجتاً ہمارے ہندوستان میں ہر چیز کی قیمت میں یکسانیت آگئی ہے، ’ٹکے سیر بھاجی مل رہی ہے تو وہیں ٹکے سیر کھاجا بھی گویا اندھیر نگری چوپٹ راجا کا بالکل نمونہ پیش کیاجارہا ہے۔ مظلومین جیل تو میں ظالم کو رہائی۔ خیر ! کارپوریٹ اور مہاجنوں نے مکمل طور پر ہندوستانی معیشت کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، ذخیرہ اندوزی کا بازا رگرم ہے، حکومت مارکیٹ سے کنٹرول ختم کرچکی ہے، مہاجن خود مارکیٹ کا بھائو طے کررہے ہیں ، بازار میں اشیائے خوردونوش کی قیمت عام ہندوستانی کی پہنچ سے باہر ہوتی جارہی ہے، غریبوں کا جینا دوبھر ہورہا ہے، معمولی سے معمولی چیز خریدنے کے لیے سوچنا پڑتا ہے، اچھے دن کا سپنا دیکھنے والے عوام اب رات میں خواب دیکھنے سے بھی ڈرتے ہیں، اچھے دن کا جھانسہ دے کر غریب عوام کو مزید غریب تر کرنے والے وزیراعظم خود کو ایک خاص طبقہ کا وزیر اعظم تصور کرلیا ہے، ان چندافرادکی ترقی کو ہی ملک کی ترقی سمجھی جارہی ہے، مودی جی اپنے وعدوں سے ایسا مکر گئے ہیں گویا انہوں نے کوئی وعدہ کیا ہی نہیں ہے اگر کیے ہوتے تو کچھ عوامی مفاد میں کام کرتے نہ کے دنیا بھر کا سفر کرکے دنیا کے واقعتاً گول ہونے کا ثبوت ڈھونڈتے اور سیلفی کھنچا کر محظوظ ہوتے۔ کارپوریٹ گھرانوں کی خوشی کے لیے کسانوں کی خودکشی پر نہیں سوچ رہے ہیں، وزیراعظم شاید یہ بھول گئے ہیں کہ عوام نے انہیں اچھے دن کے لیے چنا تھا نہ کہ مہاجنوں کے ساتھ سیرسپاٹے کے لیے۔ یاد رکھیں۔ جس طرح کانگریس کو مہنگائی کی مار کھائی ہے اگر اس حکومت کا بھی یہی حال رہا ’ٹکے سیر بھاجی، ٹکے سیر کھاجا‘ ملتا رہا، شراب وکباب ایک ہی دام میں فروخت ہوتے رہے اور پیازاسی طرح آنسو رلاتی رہی تو آئندہ الیکشن میں شاید وزیراعظم اندرون ملک کا بھی سفر کرنے کے لائق نہیں رہ جائیں گے؟ ۔
(مضمون نگار بصیرت میڈیا گروپ کے نیشنل بیورو چیف ہیں: رابطہ9322244439)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker