ہندوستان

رو ہنگیا مسلمانوں کا قتل عام تحفظ انسانیت کیلئے خطرہ : ڈاکٹر شیخ سراج

متداتا جاگرن سنستھان کی جانب سے یو پی پریس کلب میں پریس کانفرنس کا انعقاد
لکھنؤ۔۱۲؍ستمبر: (سعید ہاشمی ) میانمار میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں پر ہو رہے ظلم وستم اور قتل عام پر فوراً روک لگائی جائے ۔ بے گناہ روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کا لا منتاہی سلسلہ جاری ہے اور عالمی برادری خاموش تماشین بنی ہوئی ہے اور امن کی دہائی دینے والی حقوق انسانی ادارے بھی خواب خرگوش میں ہیں جس سے عالم اسلام کے مسلمانوں شدید تشویش پائی جارہی ہے،برما کے مسلمانوں پر ظلم کی انتہاء ہوگئی ہے جو تشویشناک اورانسانیت کے تحفظ کیلئے خطرہ ہے لہذا میا نمار کے فوجی جوانوں اور کٹر پنتھی بو دھست کے ذریعہ راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام اور ظلم وستم فورا بند کیاجائے۔مذکورہ خیالا ت کا اظہار متداتا جاگرن سنستھان کے قومی صدر ڈاکٹر شیخ سراج بابا نے کیا وہ یوپی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ تنظیم کی جانب سے برما میں ہو رہے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم وستم اور جانی مالی حملوں اور قتل عام پر فوراً روک لگائے جانے کے مطالبہ پر مشتمل ایک مکتوب صدر جمہو ریہ ہند اور اقوام متحدہ کو ارسا ل کر مجرمین پر سخت کارروائی کی مانگ کی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ سراج نے کہا کہ میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے تحفظ دے اس کے لئے سخت قانون بنایا جائے ۔لاکھوں روہنگیا مسلمان جنہوںنے اپنی جانیں بچا کر دوسرے ملک چلے گئے ہیں ۔ ان کو واپس محفوظ لایا جائے ۔ سابق سکریٹری جنرل یو این او کوفی عنان نے میانمار دورے کے بعد سو رکنوں کے کمیشن نے بھی مانگ کی ہے کہ میانمار روہنگیا مسلمانوں کے آنے جانے پر پابندی ختم کر حکومت ان کی مالی سماجی حالات سدھارنے پر زور دے ۔ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر شیخ سراج بابا نے ناراضگی ظاہر کرتے ہو ئے کہا کہ میانمار حکومت کی گھنونی حرکت دنیاکے سامنے آچکی ہے ۔ انسانیت کو شرمسار کردینے والی سوچ شانتی کا پیغام دینے والے مہا تما بدھ کے ماننے والے انسانوں نے خونخوار جانوروں کی طرح روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا قتل ، اور نو جوانوں کو زندہ جلانا خواتین کے ساتھ آبروریزی کر قتل کیاجارہا ہے ۔ دل دہلادینے والی تصویریں سامنے آرہی ہیں ۔ اس سے ہندوستان کے مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ پو ری دنیا کے حق پسند انسانوں میں اشتعال ہے ۔ شانتی کا نو بل یافتہ سان سوکی سے نو بل ایوارڈ واپس لیاجائے ۔ اگر ہمارے جائز مطالبات پر غور نہیں کیاگیا توکٹر پنتھی بودھستوں کے خلاف عوامی آندولن چھیڑا جائے گا ۔ اور بھارت چھوڑو مہم چلائی جائے گی ۔ مولانا اکرم ندوی ، سماجی خدمت گار طارق صدیقی ، قاری طیب ضیاء ، ڈاکٹر آفتاب احمد ، ڈاکٹر شکیل ، زید فاروقی ، ڈاکٹر اقبال ، قمر الہدیٰ ، راکیش کشواہا ، طاہر صدیقی ، آشیش ورما وغیرہ موجود رہے ۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker