Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

معانقہ دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے ؟
سوال :- معانقہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟ او ر یہ کس طرف سے کیا جائے ؟آج کل اس سلسلہ میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے ، بعض دائیں طرف سے معانقہ کرنے پر اصراکرتے ہیں اور بعض بائیں طرف سے ، صحیح طریقہ کیا ہے ؟ وضاحت کریں ؛ کیوں کہ اس سلسلہ میں ہمارے یہاں علماء کے درمیان بھی کافی اختلاف ہے۔
( عظمت اللہ ، قاضی پیٹ)
جواب :- رسول اللہ ا نے مختلف مواقع پر معانقہ فرمایا ہے ، خاص کر اگر آپ اکے رفقاء میں سے کوئی دور سے آتا یا زیادہ عرصہ بعد ملاقات ہوتی تو آپ معانقہ کا اہتمام فرماتے ، حضرت جعفرؓبن ابی طالب ہجرت کر کے حبشہ گئے ، آپ کی واپسی اسی دن ہوئی ، جس دن خیبرفتح ہوا ، حضرت جعفر کی آمد پر آپ نے ان سے معانقہ فرمایا ، اور اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آج مجھے خیبر کی فتح سے زیادہ خوشی ہوئی ہے یا جعفر کی آمد سے ، ’’ ماأدری أنابفتح خیبر أفرح أم بقدوم جعفر ‘‘ ( المعجم الکبیر للطبرانی ، حدیث نمبر : ۰ ۷ ۴ ۱ ، نصب الرایۃ ، فصل في الاستبراء:۴ ؍۵۵ ۲ ) اسی طرح جب حضرت زید ؓبن حارثہ حضور اکی خدمت میں پہنچے تو اس موقع پر بھی حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ آپ انے ان کو گلے لگایا اور بوسہ دیا ’’ فاعتنقہ وقبلہ ‘‘۔ (سنن الترمذی ، باب ماجاء فی المعانقۃ والقبلۃ ، حدیث نمبر :۲ ۳ ۷ ۲ )
اسی لئے معانقہ کرنا مستحب ہے ؛ لیکن میرے حقیر علم کے مطابق کسی حدیث میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ آپ نے معانقہ میں اپنے سینہء مبارک کا دایاں حصہ ملایا ، یا بایاں حصہ ؟ شارحین حدیث نے بھی اس پر بحث کی ضرورت محسوس نہیں کی ، اور فقہاء رحمہم اللہ جو رسول ا کے ایک ایک عمل کی کیفیت متعین کرنے کے لئے کوشاں ہوتے ہیں اور نہایت وقت نظر کے ساتھ اس کی جستجو کرتے ہیں ، انھوں نے بھی اتنا تو لکھا ہے کہ معانقہ کرنا جائز یا مستحب ہے ، ( فتاوی قاضی خان ، باب فیمایکرہ من النظرو المس للاقارب والأجانب ومالایکرہ: ۳ ؍ ۹ ۴ ۲ )لیکن معانقہ دائیں جانب سے ہویا بائیں جانب سے ؟ اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی ۔
ترجیحات دونوں طرف ہیں ، رسول اللہ ا ہر اچھے کام میں اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اس کو دائیں طرف سے کیا جائے ، اس حیثیت سے دائیںجانب سے کرنا بہتر معلوم ہوتا ہے ، دوسری طرف سلام ، مصافحہ اور معانقہ کا مقصد محبت ہے اور محبت کا تعلق قلب سے ہے ، جو سینہ میں بائیں طرف ہوتا ہے ، اس لئے بعض حضرات کا خیال ہے کہ بائیں طرف سے معانقہ ہونا چاہیے ؛ لیکن جب حضور ا کا اس سلسلہ میں کوئی واضح ارشاد یا آپ کا کوئی متعین عمل موجود نہیں ہے تو اس طرح کی ترجیحات کو ذوق و وجدان ہی پر مبنی کہاجاسکتا ہے ، اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں سے ایک طریقہ بہتر ہے اور دوسرا غیر بہتر ، اصل یہ ہے کہ شریعت میں بعض افعال کی کیفیت متعین کردی گئی ہے ، ان افعال کو انجام دینے میں وہ کیفیت واجب ، مسنون یا مستحب کے درجہ میں ہوتی ہے ، اور قرآن و حدیث کی تعبیر سے یہ بات متعین کی جاتی ہے کہ اس کیفیت کی رعایت کس درجہ اہم ہے ؛ لیکن جن افعال کے بارے میں قرآن مجید ، رسول اللہ ا کا قول و فعل یا صحابہ کے آثار وتعامل سے کوئی ایک کیفیت متعین نہیں ہوتی ، اس میں شریعت کا منشا وسعت کو باقی رکھنا ہے ، اور ایسے مسائل میں کسی ایک ہی پہلو پر اصرار شریعت کے منشاکے خلاف ہے ؛ اس لئے ان دونوں میں سے کسی ایک طریقہ پر اصرار کرنا اور دوسرے کو نادوست یا غیر بہتر سمجھنا درست نہیں ہے ، معانقہ دائیں جانب سے بھی کیا جاسکتا ہے اور بائیں جانب سے بھی ، دونوں صورتیں دوست ہیں ، اگر کسی شخص کو اپنے ذوق کے اعتبار سے کوئی پہلو بہتر نظر آتا ہو اور وہ اس پر عمل کرلے تو حرج نہیں ؛ لیکن اپنے ذوق کو دوسروں پر مسلط کرنا یا اس کی تبلیغ کرنا درست نہیں اور یہ غلومیں داخل ہے ۔

خواتین کا گاڑی چلانا
سوال:- کیاخواتین کا خاص ضرورت کے وقت پورے حجاب میں رہتے ہوئے گاڑی (Two wheeler) چلانا جائزہے ؟ جیسے کہ بچوں کو اسکول سے لانا وغیرہ اور گھرکی دوسری ضروریات ۔( سمیع احمد ، ہبلی)
جواب:- اگر عورت نقاب اوڑھ کر گاڑی پر ان مقاصد کے لئے جائے جو آپ نے لکھے ہیں ، اور اس کو ایسے راستہ سے نہ گزرنا پڑے جس میں اس کی عزت وآبرو کے لئے خطرہ ہو تو اس کی گنجائش ہے ، رسول اللہ ا کے زمانہ میں خواتین اونٹنی کی سواری کیا کرتی تھیں ، اس لئے عورت کا گاڑی چلانا اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے ؛ البتہ اہمیت تین باتوں کی ہے : اول یہ کہ وہ پوری طرح پردہ میں ہوں ، دوسرے یہ کہ وہ جہاں جارہی ہوں وہ بہت دور نہ ہو اور مسافت شرعی یعنی ۷۷ ؍ کلو میٹر کی مقدار سے کم ہو ،ہاں اگر اس کا شوہر یا محرم ساتھ ہو اور وہ گاڑی ڈائیو کررہی ہو تو پھر مسافت کی قید نہیں ہے ، تیسرے : جہاں جارہی ہوں وہاں یا راستہ میں اس کی عفت وعصمت کے لئے خطرہ درپیش نہ ہو ، حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کی ڈرائیونگ کا تعلق حالات سے ہے ، بعض دفعہ عورت کا تنہا گاڑی لے کر جانا اس کی عزت و آبرو کے لئے پُرخطر ہوتا ہے اوربعض اوقات عورت کا غیر محرم ڈرائیور کے ساتھ گاڑی پر جانے سے تنہا گاڑی چلاکر جانا زیادہ بہتر ہوتا ہے ؛ چنانچہ بہت سے ملکوں میں ڈرائیونگ کی وجہ سے غیر اخلاقی واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں ۔

انسانی بال کی فروخت
سوال:- بعض خواتین گلی کو چوں میں پھر کر یہ آواز دیتی ہیں ’’ بالوں کے برتن ‘‘ چنانچہ بیچنے والیاں بالوں کے بدلہ کوئی برتن دیتی ہیں ، تو بال کو اس طرح فروخت کر سکتے ہیں ؟کیوں کہ اللہ کے رسول ا نے ناخن اوربال کو دفنانے کا حکم دیا ہے ؟( ظفر عالم ، یاقوت پورہ)
جواب:- کسی بھی انسان کے لئے اپنے زندہ یا مردہ جزء کو بیچنا جائز نہیں ، یہ انسانی شرافت کے خلاف ہے ، اور یہ بھی درست نہیں ہے کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کے جزء کو زینت و آرائش کے لئے استعمال کرے ، اور بال عام طور پر اسی لئے خریدے جاتے ہیں کہ اس کے ذریعہ جوڑے تیار کئے جائیں ، اور عورتیں ان کو لگاکر اپنے بال کو بڑے ظاہر کرسکیں ، بال ، ناخن اور انسان کے جسم سے نکلنے والی کسی بھی جزء کو جیسے کہ آپریشن میں کوئی جزء نکال لیا جائے یا کسی کاکوئی عضوکٹ کر الگ ہو جائے تو اس کے لئے یہی حکم ہے کہ اسے دفن کر دیا جائے : ’’ واذا قص أظفارہ أو حلق شعرہ ینبغی أن یدفنہ ‘‘ (الاختیار لتعلیل المختار : ۴؍۱۶۷) اس لئے نہ خواتین کا اس طرح بال بیچنا درست ہے نہ خریدنا اور نہ استعمال کرنا ۔( بدائع الصنائع: ۵ ؍۵ ۴ ۱ ، ہدایۃ :۳ ؍۶ ۴ ، الاختیار لشرح المختار : ۴ ۷ ۶ ۱ )

مسلمانوں کا گنیش منڈپ میں شریک ہونا
سوال :- کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ نلگنڈہ واطراف میں کچھ مسلمانوں نے گنیش منڈپ قائم کیا ہے اور اس میں مسلمان تلک لگاتے ہیں ، ناریل پھوڑتے ہیں اور برقعہ خواتین بھی گنیش منڈپ میں شریک ہوتی ہیں ، ان کا یہ عمل کیسا ہے ، اور اس سلسلے میں مسلمانوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں ؟
( محمد حسین ، حیدرگوڑہ)
جواب :- شرک اسلام میں سب سے سنگین ، قبیح اور ناقابل معافی گنا ہ ہے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کے متعلق واضح طور پر ارشاد فرمادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف کر سکتے ہیں ؛ لیکن شرک کو معاف نہیں کریں گے :’’إِنَّ اﷲ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَن یَشَائُ وَمَن یُشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدِ افْتَرَی إِثْماً عَظِیْماً‘‘ (النساء :۸ ۴ )شرک سے اسلام کی بیزاری کا عالم یہ ہے کہ پیارے نبی ا کو رشتہ دار مشرکین کے لئے دعائے مغفرت تک سے منع کردیا گیا :’’مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ أَن یَسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا أُوْلِیْ قُرْبَی‘‘ (التوبۃ : ۳ ۱ ۰ ۱ )اور یہاں تک تاکید کی گئی ہے کہ اگر کفار کسی مسلمان پر کلمات کفر کہنے کے لئے زبردستی کریں تو عزیمت کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان جان دے دے ؛ لیکن کلمات کفر زبان پر نہ لائے ؛ البتہ بحالت مجبوری صرف جان بچانے کے لئے دل کے ایمان پر مطمئن ہونے کے ساتھ زبان سے کلمات کفر کہنے کی اجازت ہے :’’إِلاَّ مَنْ أُکْرِہَ وَقَلْبُہُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِیْمَانِ‘‘۔(النحل : ۶ ۰ ۱ )
مکہ کے مشرکین نیز رسول پاک ا کو کو پیش کش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبود کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرتے ہیں ؛ تاکہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو کشمکش ہے ، وہ ختم ہو جائے ، اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر سورۂ کافرون نازل فرمائی اور اعلان کردیا گیا کہ اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو نہ کرو؛ لیکن اس کی توقع بالکل مت کرو کہ اسلام کا ماننے والا تمہارے معبود ان باطل کی عبادت کرنے کی سوچ بھی سکتا ہے ، ( تفسیر ابن کثیر ، سورہ الکافرون ) غور کیا جائے تو یہ وہی بات ہے جو بعض مسلمان رواداری کا نام لے کر کرتے ہیں کہ اکثر یتی فرقہ کی پوجا پاٹ میں شریک ہوتے اور مذہبی رسوم ورواج کو انجام دیتے ہیں ، ان کے لئے اس واقعہ میں واضح رہنمائی موجود ہے ۔
رسول اللہ ا نے بھی کفر و شرک کو سب سے بڑا ، سب سے سنگین اور نا قابل معافی گناہ بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ جیسے کسی کو آگ میں ڈالا جانا انتہائی ناپسند ہوتا ہے ، مسلمان کو ایمان کی دولت ملنے کے بعد کفر و شرک میں مبتلا ہونا اتناہی ناپسند ہونا چاہئے ، ( بخاری ، کتاب الایمان ، حدیث نمبر : ۱ ۲ ) — فقہائے کرام نے بھی تفصیل سے کفر و شرک اور کفریہ و شرکیہ اعمال وافعال کی شناعت بیان کی ہے ، صورت حال کی مناسبت سے چند جزئیات ذکر کی جاتی ہیں :
٭ ’’یکفر بوضع القلنسوۃ المجوس علی رأسہ علی الصحیح إلا لضرورۃ دفع الحر والبرد وبشد الزنار فی وسطہ‘‘( مجمع الانہر : ۱ ؍۸ ۹ ۶ )اگر کسی نے مجوسیوں کی مخصوص مذہبی ٹوپی اپنے سرپر رکھی تو وہ مسلمان باقی نہیں رہے گا ، ہاں اگر سردی گرمی دُور کرنے کی نیت سے پہنے تو دوسری بات ہے ، نیزکسی نے زنار باندھی تو یہ بھی کفر ہے :
٭ ’’وبخروجہ الی نیروز المجوس لموافقتہ معھم فیما یفعلون فی ذلک الیوم‘‘(البحرالرائق :۵ ؍۳ ۳ ۱ )یہی حکم اس شخص کا ہے جو مجوسیوں کے تہوار میں شرکت کرتا ہے ؛ تاکہ وہ بھی وہ سب کچھ کرے جو مجوسی وغیرہ کرتے ہیں :
٭ ’’قال الامام ابو منصور رحمہ اﷲ تعالٰی اذا قبل احد بین یدی احد الارض ، او انحنی لہ الخ ‘‘( فتاوی ہندیہ :۲ ؍ ۱ ۸ ۲ ، باب موجبات الکفر)امام ابو منصور ماتریدی سے منقول ہے کہ کہ باد شاہ کے سامنے جھکنا اور سجدہ تعظیمی کرنا بعض علماکے نزدیک کفر ہے اور بعض کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے ، اگر بادشاہ کے سامنے جھکنا عبادت کی نیت سے ہو تو یہ کفر ہے اور اگر محض تعظیم کی غرض سے ہوتو بھی گناہ کبیرہ ہے ۔
قرآن وحدیث اور فقہا کی ان صراحتوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گنیش منڈپ بنانا یا پوجاکی تقریب میں شریک ہونا ، مسلم خواتین کا پوجا کی تقریب میں آنا ، ناریل پھوڑنا ، قشقہ لگانا ، یہ سب ایسے امور ہیں ، جو کفر یا کفر کے انتہائی قریب ہیں اور ہر مسلمان پر ان سے خود بچنا واجب ہے ، نیز علما ، مذہبی قائدین ، سماجی رہنماؤں اور ایسا کرنے والے حضرات کے رشتہ داروں اور دوستوں کا فریضہ ہے کہ وہ ان کو سمجھائیں ، اور ایسی حرکتوں سے روکنے کے لئے قانوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر طرح کے رسوخ کا استعمال کریں ، واللہ اعلم بالصواب ۔

موبائل میں قرآن مجید
سوال:- کیا موبائل میں قرآن شریف لوڈکرنا جائز ہے ؛ جب کہ اس موبائل کے ساتھ انسان ضرورت کے وقت بیت الخلاء بھی جاتا ہے اور بسا اوقات اس موبائل کو بے وضوچھوتا بھی ہے اوراس سے تلاوت بھی کرتا ہے ، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ موبائل میں بعض مفید اور غیر مفید چیزیں بھی ہوتی ہیں ، جو غیر اختیاری طور پر صاحب موبائل کو دیکھنی پڑتی ہیں ، خلاصہ یہ کہ کیا قرآن شریف کا موبائل میں لوڈ کرنا شرعاً درست ہے ، جواب سے مستفید فرمائیں ۔ ( زاہد اختر ، ممبئی)
جواب:- موبائل عصر حاضرکی ایجاد ہے ، جس کی حیثیت دودھاری تلوار کی ہے ، اس کا استعمال اچھے کاموں کے لئے بھی ہوسکتا ہے اوربرے کاموں کے لئے بھی ، اور اچھے کاموں میں دنیاوی فائدے کے کام بھی شامل ہیں اور دینی فائدے کے کام بھی ، جیسے موبائل کے ذریعہ طلبہ اپنا تعلیمی مواد بھی حاصل کر سکتے ہیں ، جو سوالات استاذ اور ساتھیوں کے ذریعہ حل نہیں ہوسکیں ، انٹرنیٹ کے ذریعہ ان کا جواب حاصل کیا جاسکتا ہے ، اگر کوئی شخص دینی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہے تو وہ موبائل میں پوری لائبریری کو منتقل کر سکتا ہے ، قرآن مجید کو ہر وقت ساتھ رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا دشوار ہوتا ہے ؛ لیکن اگر موبائل میں قرآن مجید محفوظ کر لیا جائے تو بہ وقت ضرورت قرآن کی کہیں بھی تلاوت کی جاسکتی ہے — ایسی چیزیں جس کا استعمال جائزطریقہ پر بھی ہوسکتا ہے ، اور ناجائز طریقہ پر بھی ، اس سلسلہ میں شریعت کا اُصول یہ ہے کہ جائز مقاصد کے لئے استعمال کرنا جائز ہے ، اور ناجائز مقاصد کے لئے ناجائز ، رسول اللہ ا دعوت ِاسلام کے لئے ایسے تجارتی میلوں میں تشریف لے جاتے تھے ، جہاں بہت سی منکرات ہوتی تھیں ، اور اس مقام کو دعوتی مقاصد کے لئے استعمال کیا کرتے تھے ، فقہا نے اسلحہ کے بارے میں لکھا ہے کہ چوں کہ اس کا استعمال ظلم کرنے کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور ظلم سے روکنے کے لئے بھی ؛ اس لئے مفسدین کے ہاتھ ہتھیار بیچنا جائز نہیں ہوگا ، عام لوگوں کے ہاتھ بیچنا جائز ہوگا ، اس طرح کی اور بھی نظیریں فقہاء کے یہاں ملتی ہیں ؛ اس لئے اگر کوئی شخص موبائل خریدکر ے اور اس میں قرآن مجید لوڈ کرے تو جائز ہے ؛ کیوں کہ قرآن مجید کا لوڈ کرنا ایک بہتر مقصد کے لئے ہوسکتا ہے ؛ البتہ یہ بات ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ موبائل کے غلط استعمال سے بچے ، اپنے آپ کو جائز استعمال تک محدد رکھے اور ایسی چیزیں لوڈ نہ کرے ، جن کا دیکھنا جائز نہیں ۔
رہ گئی یہ بات کہ موبائل کولے کر بیت الخلاء میں جانا ہوتا ہے ، یا بے وضو چھونے کی نوبت آتی ہے تو اس سلسلے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جیسے چھپی ہوئی کتاب میں ہر وقت وہ تحریر موجود ہوتی ہے ، جس کو انسان دیکھتا ہے ، موبائل میں یہ صورت نہیں ہوتی ؛ بلکہ جب آپ کسی پروگرام کو بند کرتے ہیں تو اس کے الکٹرانک ذرات بکھر جاتے ہیں ، اور وہ چھوٹی سی چِپ میں محفوظ ہوجاتے ہیں ، پھر پروگرام لوڈ کرنے کے لئے حرکت دی جاتی ہے تووہ سب جمع ہو کرایک کتاب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں ، اس موبائل میں ہر وقت قرآن مجید موجود ہو ایسا نہیں ہے ، اور اگر موجود بھی ہوتو اس کے کیس کی حیثیت غلاف کی ہے ، اور غلاف کے ساتھ بے وضو شخص بھی قرآن مجید کو چھوسکتا ہے : ’’ ولیس لھم مس المصحف إلا بغلافہ الخ ‘‘ (ہدایہ : ۱؍۳۳)یا قرآن مجید کسی ڈبہ میں بند ہو اور بیت الخلاء جانے والے کو حفاظت کے لے اس کو ساتھ رکھنا پڑے تو اس کی بھی گنجائش ہے : ’’ الأفضل أن لا یدخل الخلایٔ وفی کمہ مصحف إلا اذا اضطر ونرجو أن لا یأثم بلا اضطرار‘‘ (طحطاوی علی مراقی الفلاح : ۱؍۵۴) ہاں ، اگر موبائل کی اسکرین پر قرآن مجید موجود ہو ، جس کو پڑھا جاسکتا ہو تو یہ قرآن مجید کے حکم میں ہوگا ، اس وقت اس کو وضو کے بغیر چھونا یا بیت الخلاء لے جانا درست نہیں ہوگا ۔ واللہ اعلم
(بصیرت فیچرس)

٭٭٭

You might also like