مضامین ومقالات

’’رام مندر بن کر ہی رہے گا‘‘ 

عبدالرحمن صدیقی(نیوز ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی اور سیکولر ازم کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود نام نہاد ہندو تو وادی ہمیشہ بے لگام رہے ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے دور میںبابری مسجد کے اندر مورتیاں رکھی گئیں اندرا ، راجیو اور وی پی سنگھ چندر شیکھر اور ملائم سنگھ کے دور میں رام مندر کی تحریک پروان چڑھی اور ایک کانگریسی وزیر اعظم نرسمہا رائو کے دور اقتدار میں مسجد دن دہاڑے شہید کردی گئی او رایک تاریخی مسجد دیو مالائی کہانیوں کی آڑ میں اپنی جغرافیائی حیثیت سے محروم ہوکر تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئی۔ آج اس مسجد کی جگہ رام مندر بنا ہوا ہے مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ابھی فیصلہ نہیں آیا کب آئے گا کہا نہیں جاسکتا لیکن سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیموں کے لوگو ںکے بیانات آتے رہتے ہیں کہ مندر وہیں بنائیں گے کوئی کہتا ہے کہ عدالت کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ فرقہ پرست تنظیمیں ہمیشہ سے اس ملک میں سرگرم رہی ہیں اور مسلمانوں کی مسلسل دل آزاری کرتی رہی ہیں اور فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کی جان ومال کی ہولی کھیلتی رہی ہیں او ران کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پایا ایک عرصہ تک ڈاکٹر سبرامنیم سوامی رام مندر کی تعمیر کے چمپئن بنے ہوئے تھے او رکہتے تھے کہ رام مندر بن کر رہے گا مسلمانوں نے یہ زمین ہندوئوں کے حوالے نہیں کی تو پارلیمنٹ میں قانون بناکر مندر تعمیر کیاجائے گا۔ تازہ ترین بیان وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما کا ہے اندر پرستھ ہندو پریشد کے ذریعہ منعقد ایک سیمینار میں وی ایچ پی رہنما سوامی راگھو انند نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت پر نہیں چھوڑا جاناچاہئے کہ پارلیمنٹ میں ایک قانون بنایاجاناچاہئے۔
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں کہا ہے کہ ہندوتو وادی ہر دور میں اشتعال انگیزی کرتے رہے ہیں اور ان پر کبھی کسی نے گرفت نہیں کی نہ مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے کسی کو سزا دی گئی نہ فرقہ وارانہ فسادات کے مجرمین اور بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ داروںسے کسی طرح کی باز پرس ہوئی سب آزاد گھوم رہے ہیں اگر کسی پر کیس درج بھی ہوا تو بھی قانون کے ہاتھ لمبے ہونے کے باوجود ان کی گردنوں تک نہیں پہنچے جب سے نریندر مودی اقتدار میں آئے ہیں ان کی زبانیں زیادہ ہی دراز ہوگئی ہیں۔
ابھی تک صرف حاشیہ کے لوگ اشتعال انگیزی اور بدزبانی کرتے تھے اب مرکزی وزراء ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی کے سینئر لیڈران پوری طرح سے بے خوف ہوکر دل آزاری والے بیانات دے رہے ہیں اوررام مندر سے لے کر گئو کشی تک ہر چیز کو ماحول خراب کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں کیوں کہ انہیں ہر قیمت پر ۲۰۱۹ میں اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ ۲۰۱۴ میں یوپی اے ٹو کے حد سے بڑھے ہوئے کرپشن اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا او رسوشل میڈیا کے ذریعے ایک خاص طرح کا ماحول بناکر نریندر مودی اقتدار میں آگئے اقتدار میں آتے ہی ان کے دعوئوں کی پول کھلنے لگی اور عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے انہیں پورا کرنا، مودیت کے بس کی بات نہیں تھی اب دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے ماحول خراب کرنا ضروری ہے یوپی میں جب انتخابات ہوئے تو وزیر اعظم نے شمشان اور قبرستان ، دیوالی اور رمضان کا معاملہ اُٹھایااور الیکشن میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ ماحول خراب کرنے کے لیے مسلمانوں کی بیف کے نام پر اور رام مندر کے نام پر دل آزاری کی جارہی ہے۔
دراصل ۲۰۱۴ کا اقتدار ادھورا تھا لوک سبھا میں بی جے پی کی اکثریت تھی لیکن راجیہ سبھا میں کانگریس کا پلڑا بھاری تھا صدرجمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ دونوں کانگریس کے تھے اس کے بعد منظم منصوبہ کے تحت بھگوا طاقتوں نے سیاسی اقتدار کو مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا، اشتعال انگیز بیانات اور ہجوم کے ہاتھوں قتل اور گھر واپسی جیسے پروگراموں کے ذریعے ماحول میں زہر گھولا ، ملک کی کئی ریاستوں میں بی جے پی کو الیکشن میں کامیابی ملی اب صدر اور نائب صدر دونوں سنگھ پریوار سے تعلق رکھتے ہیں راجیہ سبھا میں اگلے سال اکثریت مل جائے گی اس کے بعد ۲۰۱۹ میں بی جے پی کی حکومت بنے گی تو اس کے بعد رام راج اور ہندو راشٹر کے قیام کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
لیکن ان سب کے ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مودی کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے مختلف مورچوں پر حکومت ناکام ہوچکی ہے نوٹ بندی کی ناکامی ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے مودی حکومت نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہورہے ہیں۔ شاید سنگھ پریوار والے سمجھ رہے ہیں کہ ماحول خراب کرکے وہ اقتدار پر قبضہ کرسکتے ہیں اب دیکھنا ہے کہ اس طرح کی شعبدہ بازیوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker