Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

شادی میں ہدیہ کئے ہوئے کپڑے کی خرید و فروخت
سوال:- شادی میں ہدیہ دی ہوئی ساڑی یا کپڑے جو ابھی پہنے نہیں گئے ہیں ، اسے ہم خرید کر بیچتے ہیں تو کیا یہ بیچنا صحیح ہے ؟ (محمد عبید اللہ ، دربھنگہ)
جواب : – شادی میں کپڑا جسے ہدیہ کردیا گیا ، وہ اس کا مالک ہے اور وہ اس میں ہر طرح کا مالکانہ تصرف کرسکتا ہے ، اس لئے اگر آپ ان سے یہ کپڑے خرید کرلیں اور پھر اسے فروخت کریں تو آپ کا خرید کرنا بھی جائز ہے اور بیچنا بھی ۔

استعمال شدہ کپڑوں کو فروخت کرنا
سوال:- پہنے ہوئے کپڑے لوگ برتن کے عوض بیچتے ہیں ، کیا ہم ان سے ایسے کپڑے خرید کر بیچ سکتے ہیں ؟ (سیف الباری ، اکبر باغ)
جواب : – سامان کی سان کے بدلہ خرید و فروخت ہوسکتی ہے ؛ اس لئے کپڑے اور برتن کی ایک دوسرے سے خرید و فروخت جائز ہے اور جب آپ نے ان کپڑوں کو خرید کرلیا تو آپ کا پھر ان کو کسی دوسرے کے ہاتھ بیچنا بھی درست ہے ؛ کیوںکہ آپ ایک ایسی شئے کو بیچ رہے ہیں ، جس کے آپ مالک ہیں ؛ البتہ یہ ضروری ہے کہ آپ کے بیچنے میں جھوٹ اور دھوکہ شامل نہ ہو ؛ بلکہ یا تو ان کو وضاحت کے ساتھ بتادیں کہ یہ پہنا ہوا کپڑا ہے ، یا آپ اس کے بارے میں خاموشی اختیار کریں اور کہیں کہ یہ کپڑا ، آپ کے سامنے ہے ، جیساکچھ بھی ہے ، آپ دیکھ لیں اورخریدنا چاہیں تو خرید لیں ۔

جسم کے بال کی اسی کے سر پر کھیتی
سوال:- اگر کسی مرد یا عورت کے سرپر بال نہ ہو اور اسی کے جسم کے دوسرے حصہ سے بال لے کر سرجری کے ذریعہ سر پر لگادیا جائے جس سے قدرتی طورپر بال کی پیدائش شروع ہوجاتی ہے تو کیا یہ عمل درست ہوگا ؟(ناہیدہ پروین ، گووا)
جواب : – گنجا پن ایک عیب ہے اور عیب کو دُور کرنے کے لئے سرجری جائز ہے ، نیز ایک انسان کا اپنے سر میں دوسروں کے بال لگانا تو درست نہیں ، رسول اللہ ا نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے ؛ ( صحیح بخاری ، باب الوصل فی الشعر ، حدیث نمبر : ۵۹۳۳) لیکن اگر اسی کا بال اسی کے سر میں لگادیا جائے تو اس کی ممانعت نہیں ؛ کیوںکہ یہ شریعت کی حدود میں اپنے ہی جسم کے ایک حصہ سے استفادہ کرنا ہے ۔

ایام تشریق کی قضاء نماز اور تکبیرات تشریق
سوال:- ۸؍ذو الحجہ کو کسی آدمی کی نماز چھوٹ جائے، پھر وہ اس کی قضاء ایام تشریق ( ۹؍ ذوالحجہ ) میں کرنا چاہتا ہے ، تو کیا وہ نماز کے بعد تکبیر تشریق کہے گا اور اسی طرح اگر کسی کی نماز ایام تشریق میں چھوٹ جائے پھر وہ ان ایام کے بعد قضاء کرنا چاہتا ہے تو کیا وہ بھی تکبیر تشریق کہے گا ، وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں ۔ (زیاد احمد ، دہلی )
جواب : – تکبیر تشریق کا محل وہ فرض نمازیں ہیں ، جو ۹؍ سے ۱۳؍ ذوالحجہ میں ادا کی جائیں ، جو نمازیں پہلے فرض ہوچکی تھیں اور بطور قضاء ایامِ تشریق میں پڑھی جائیں ، وہ تکبیر کا محل نہیں ہیں ، اسی طرح ایام تشریق میں اگر کوئی نماز قضاء ہوگئی اور ۱۳؍ذوالحجہ کے بعد ادا کی گئی تو ایام تشریق کے گزرجانے کی وجہ سے وہ بھی اس کا محل نہیں ہیں اور ان میں بھی تکبیر تشریق نہیں کہی جائے گی ؛ البتہ ایام تشریق کی کوئی نماز چھوٹ گئی اور پھر ایام تشریق ہی کے اگلے دنوں میں اس کی قضاء کی جائے تو اس میں تکبیر تشریق کہی جائے گی ؛ کیوںکہ وہ اسی سال کے ایام تشریق کی نماز ہے اور ایامِ تشریق ہی میں ادا کی جارہی ہے ، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے : ’’ … فا تتہ أیام العید قضاھا فی أیام العید من عامہ ذلک ، ولا یکبر إلا فی الأخیر فقط (من عامہ) أی حال کون أیام العید التی تقضی فیھا الصلاۃ التی فاتت فی أیام العید من عام الفوات احترز بہ عن الثالثۃ (لقیام وقتہ) علۃ لوجوب تکبیر التشریق فی القضاء المذکور‘‘ ۔ (ردالمحتار :۳؍۳۶ ، نیز دیکھئے : فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۷۶۱)

شہر کے آدمی کی دیہات میں نماز سے پہلے قربانی
سوال:- ۱۰؍ ذوالحجہ کو دن میں عید الاضحی سے پہلے اگر کوئی شخص اپنا قربانی کا جانور دیہات میں خود لے جائے ؛ تاکہ جلد گوشت کھانے کے لئے مل جائے اور وہ نماز شہر میں آکر پڑھتا ہو تو کیا اس طرح اس کی قربانی درست ہوجائے گی ؟ (نادر عثمانی ، حافظ بابا نگر)
جواب : – قربانی کے وقت کے سلسلہ میں قربانی کئے جانے کی جگہ کا اعتبار ہوگا ، جہاں قربانی کی جارہی ہو ، اگر وہ ایسا دیہات ہو ، جہاں جمعہ و عیدین کی نماز نہیں ہوتی ہے ، تو وہاں ۱۰؍ذوالحجہ کی صبح طلوع ہونے کے بعد قربانی کی جاسکتی ہے ، چاہے شہر میں ابھی نماز عید نہ ہوئی ہو اور چاہے خود قربانی کرنے والے نے ابھی نماز عید نہ پڑھی ہو ؛ کیوںکہ اس میں قربانی کرنے والے کے مقام کا اعتبار ہے ، یہ حکم اس سورت میں تو ہے ہی جب دیہات میں کوئی شخص شہر میں مقیم کسی شخص کی طرف سے قربانی کرے ، یا خود جس شخص پر قربانی واجب ہے ، وہ قربانی کا جانور دیہات میں بھیج دے ، اور اس صورت میں بھی ہے جب وہ خود اپنے ساتھ جانور لے کر جائے : ’’ والمعتبر مکان الأضحیۃ الخ ، فلو کانت فی السواد والمضحی فی المصر جازت قبل الصلاۃ ، وفی العکس لم تجز ، قولہ أن یخرجھا أی یأمر بإخراجھا لخارج المصر أی إلی مایباح فیہ القصر‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۹؍۱۶۴)

کسی شخص کی موت پر بستی کے لوگوں کی طرف سے کھانے کا اجتماعی نظم
سوال:- ہمارے علاقے میں ایک مسئلہ جو بڑی کثرت سے پیش آرہا ہے ، وہ یہ کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے گھر باہر شہروں سے مہمان آتے ہیں ، اور خود گاؤں کے لوگ بھی کثیر تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں اور قرب و جوار کی عورتیں بھی اپنے گھر چھوڑ کر اہل میت کے گھر اہل میت کو دلاسہ دینے ، ان کے غم میں شریک ہونے کے لئے پہنچ جاتی ہیں ، اور تمام رشتہ داروں کا ہجوم بھی اسی گھر میں ہوتا ہے ، اس حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے بستی والوں نے ایک کمیٹی بنائی ہے ، جس میں تمام لوگ متفق علیہ پیسوں کی ایک یکساں مقدار جمع کرتے ہیں ، پھر اس پیسے سے وہ کمیٹی کھانا بنواتی ہے ، تو کیا ایسی حالت میں یہ کھانا بنانا جائز ہوگا یا ناجائز ، یا یہ مکرو ہ ہے ؟ اگر مکروہ ہے تو کونسا مکروہ ہے ؟ پھر اس کھانے کا گاؤں والوں کے لئے رشتہ داروں کے لئے کھانا کیسا ہے ؟ براہ کرم اس مسئلہ کی مدلل وضاحت فرمائیں ؛ کیوںکہ اس مسئلہ میں ہمارے علاقے کے لوگ تاآںکہ علماء کرام بھی بڑے افراط و تفریط میں مبتلا ہیں ، بعض کہتے ہیں حرام ہے ، بعض کہتے ہیں بلا کراہت جائز ہے ، وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں ۔ (محمد شاکر ، دلسکھ نگر)
جواب : – جس گھر میں کسی شخص کی موت ہوگئی ہو ، اس گھر کے لوگ غم دہ اور رنجیدہ ہوتے ہیں ، اس وقت ان کے لئے خود کھانا پکانا ایک تو ناگوار خاطر ہوتا ہے ، جب حزن و ملال بڑھا ہوا ہو تو اس کو پکانا تو کیا کھانا بھی اچھا نہیں لگتا ، دوسرے میت کی تجہیز و تکفین کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں اور اس کی بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے ، اس لئے اس بات کو مستحب قرار دیا گیا ہے کہ اس کے پڑوسی ان لوگوں کے کھانے کا نظم کریں ؛ چنانچہ رسول اللہ ا نے حضرت جعفرؓ کی شہادت کی اطلاع کے موقع پر لوگوں کو ہدایت دی تھی کہ حضرت جعفر ؓکے گھر والوں کے لئے کھانا بنایا جائے : ’’ اضعوا لآل جعفر طعاماً ، فقد جاء ھم مایشغلھم‘‘ (سنن الترمذی ، ابواب الجنائز ، حدیث نمبر : ۹۹۸) اسی لئے فقہاء نے لکھا ہے کہ ایسے غم زدہ لوگوں کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو ایک دن ورات ان کے لئے کھانا بنانا مستحب ہے : ’’ ویستحب لجیران أھل المیت والأقرباء الأباعد تھیئۃ طعام یشبعھم یومھم ولیلتھم‘‘۔ (ردالمحتار : ۳؍۱۴۸)
اس کے برخلاف مرنے والے کے اہل خانہ پر آنے والوں کے لئے کھانا بنانا مکروہ اور بدعت ہے ؛ کیوںکہ یہ منشاء شریعت کے بالکل برعکس عمل ہے ، شریعت چاہتی ہے کہ غم زدہ لوگوں کی دلداری ہو ، اور اس عمل کے نتیجہ میں ان پر ایک طرح کا بوجھ پڑ جاتا ہے ، جو کسی طرح مناسب نہیں ؛ اسی لئے فقہاء نے اس کے مکروہ اور قبیح و بدعت ہونے کی صراحت کی ہے : ’’ ویکرہ اتخاذ الطعام من أھل البیت ؛ لأنہ شرع فی السرور لا فی الشرور وھی بدعۃ مستقبحۃ‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۳؍۱۴۸)
اب آپ نے جو صورت دریافت کی ہے ، وہ بظاہر کھانا بنانے کی پہلی صورت سے قریب ہے ، جس میں میت کے اہل خانہ کھانا نہیں بناتے ؛ بلکہ بستی کے لوگ ان کے لئے اور ان کے مہمانوں کے لئے کھانا پکاتے ہیں ، تو یہ صورت چند اُمور کی رعایت کے ساتھ درست ہوگی ، اول یہ کہ اگر میت کی وفات کے وقت ہی ہنگامی طورپر فنڈ فراہم کیا جاتا ہوتو میت کے اہل خانہ سے اس مد میں کوئی رقم نہ لی جائے ؛ کیوںکہ یہ مرنے والے کے اہل خانہ کی طرف سے دعوت کے مماثل عمل ہوجائے گا ، دوسرے : اگر پہلے سے فنڈ جمع رہتا ہو تو تمام لوگوں پر اس مد میں رقم دینا یا اس کی مقررہ مقدار دینا لازم نہ کیا جائے ؛ کیوںکہ لازم کرنے میں یہ جبر کی صورت ہوجائے گی جو جائز نہیں ، ترغیب دی جاسکتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ فی گھر اتنی رقم دیں تو بہتر ہوگا ؛ لیکن اسی رقم کا لزوم نہ ہو ، تیسرے : کھانا میت کے اہل خانہ اور ان کے یہاں آنے والوں کو کھلایا جائے ، پورے گاؤں کو چاہے وہ اپنے گھروں میں ہوں ، کھانے میں شریک نہ رکھا جائے ؛ کیوںکہ پھر یہ ایک ہندوانہ رسم ہوجائے گی ، برادران وطن کے یہاں کسی انسان کی موت کی صورت میں اہل خانہ کو پورے گاؤں یا پوری برادری کو کھانا کھلانا پڑتا ہے ، اس دعوت میں اس طریقہ کی مشابہت نہ ہونی چاہئے ، چوتھے : کھانا سادہ انداز کا ہو ، ایسا پرتکلف نہ ہو جیساکہ عام طورپر خوشی کے موقع سے بنایا جاتا ہے ؛ کیوںکہ یہ غم کے موقع پر خوشی ومسرت کے اظہار کے مترادف ہے ۔
رہ گیا عورتوں کا تعزیت میں جانا تو اگر وہ شرعی حدود اور پردہ کی رعایت کے ساتھ میت کے گھر جائیں اور اہل خانہ کی خواتین کی تعزیت کریں تو یہ درست ہے : ’’ ویستحب أن یعم بالتعزیۃ جمیع أقارب المیت الکبار والصغار والرجال والنساء إلا أن یکون امرأۃ شابۃ فلا یعزیھا إلا محارمھا‘‘ ۔ (فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۱۸۳)
(بصیرت فیچرس)
٭٭٭

You might also like