ہندوستان

روہنگیامسلمانوں کوواپس نہ کیاجائے،انسانی بنیادپرپناہ دی جائے

بی جے پی کی خفت ،ورون گاندھی نے روہنگیامسلمانوں کی واپسی کی مخالفت کی،سرکارنے تنقیدکی
نئی دہلی26ستمبر(آئی این ایس انڈیا)
اتر پردیش کے سلطان پور سے بی جے پی کے لیڈر ورون گاندھی نے ایک بار پھر حکومت کے خیال سے الگ اپنی رائے رکھی ہے۔ 37 سالہ ورون گاندھی نے روہنگیا مسلمانوں پر حکومت کی رائے سے مختلف کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دی جائے۔ میانمار میں تشدد سے پریشان ہوکر بنگلہ دیش بھارت پہنچ رہے ان روہنگیا مسلمانوں کو حکومت ہند نے خطرہ بتایا ہے کہ پناہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں جاری ایک کیس کی سماعت میں بھی یہ بات صاف کہی ہے کہ یہ لوگ سلامتی کے لیے خطرہ بھی ہیں۔حکومت کی جانب سے مرکزی داخلہ وزیر مملکت ہنس راج اہیر نے بی جے پی کے رہنما ورون گاندھی کی ان کے اس نقطہ نظر کی تنقیدکی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو جائزہ کے بعد بھارت میں پناہ دیناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ذہن میں قومی مفادرکھتے ہیں انہیںاس طرح کے بیانات نہیں دینے چاہئیں۔ورون گاندھی نے اپنے بلاگ میں ایک ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو واپس نہیں بھیجناچاہئے۔ان کے ساتھ انسانیت کے ساتھ سلوک کیا جانا چاہئے۔ این ڈی ٹی وی سے بات میں ورون گاندھی نے کہا کہ ہر ایک آدمی کی جانچ ہونی چاہئے اور یہ قومی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ورون کے بیان سے ناراض مرکزی وزیر نے کہاکہ جوملک کے مفاد میں سوچے گا وہ اس طرح کا بیان نہیں دے گا۔ ایک ہندی اخبار میں آپ مضمون میں ورون نے کہا کہ بھارت کوروہنگیا کو ضرور پناہ دینا چاہئے لیکن اس سے پہلی حقیقی حفاظتی خدشات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker