Baseerat Online News Portal

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی

زیادہ سے زیادہ نفع
سوال:- ہمارے کاروبار میں ہر چیز پر منافع الگ الگ ہوتے ہیں ، کسی پر 5%، کسی پر 10% ، کسی پر 15% ، کسی پر 50% سے بھی زیادہ ہوتا ہے ، غور طلب بات یہ ہے کہ ہم کتنا منافع زیادہ سے زیادہ لے سکتے ہیں ؟ ( اشتیاق احمد ، کریم نگر)
جواب :- شریعت میں منافع کے لئے کوئی ایسی حد مقرر نہیں ہے ، جس پر عمل کرنا ضروری ہو اور جس سے زیادہ یا کم نفع نہ لیا جاسکتا ہو ، صحابہ نے ایک بار رسول اللہ ا سے درخواست کی کہ گرانی بڑھ گئی ہے ؛ اس لئے آپ چیزوں کی قیمت متعین فرمادیجئے ، کہ اسی قیمت پر خرید وفروخت کی جائے ، رسول اللہ انے قیمت متعین کرنے کو پسند نہیں فرمایا ، آپ نے ارشاد فرمایا کہ قیمت مقرر کرنے والی ، قیمت گھٹانے والی ، بڑھانے والی اور روزی دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے : ’’ ان اﷲ ھو المسعر ، القابض ، الباسط ، الرازق الخ ‘‘ ( سنن ابن ماجہ ، باب من کرہ ان یسعر، حدیث نمبر : ۲۲۰۰)اسی لئے فقہاء نے معمول کے حالات میں حکومت کو کسی شئے کی قیمت مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے ؛ البتہ اگر تجار زیادتی کرنے لگیں اور نامنصفانہ طورپر قیمتیں بہت بڑھادیں تو حکومت قیمت مقرر کرسکتی ہے ، جیساکہ آج کل بعض اوقات گراں فروشی پر کنٹرول کے لئے حکومتیں قیمتیں مقرر کرتی ہیں : ’’ … إلا إذا تعدی الارباب عن القیمۃ ، تعدیا فاحشاً ، فیسعر بمشورۃ أہل الرائی‘‘ (درمختار علی ہامش الرد : ۹؍ ۵۷۳) — اس لئے اُصولی طورپر بیچنے والا خود اپنے سامان کی قیمت متعین کرسکتا ہے ؛ البتہ یہ بات درست نہیں ہے کہ کسی شئے کی زیادہ سے زیادہ جو قیمت مارکٹ میں پائی جاتی ہو ، اس سے بھی زیادہ قیمت وصول کی جائے ، اس کو ’ غبن فاحش ‘ کہتے ہیں : ’’ أما اذا کان البیع أوالشراء بغبن فاحش ، وھو مالا یتغابن فیہ الناس عادۃ ، فإن العقد لا یکون صحیحاً ‘‘ ( الموسوعۃ الفقہیہ : ۶؍۲۱۳) — ایسی ہی بدترین صورتوں میں یہ ہے کہ قیمت متعین کرتے ہوئے کسی شخص کی مجبوری کا استحصال کیا جائے ، جیسے کسی مرض کی دوا کی اصل قیمت دوسو روپے ہو ، دوا کی فوری ضرورت ہو ، مارکٹ میں دوسری دکانیں بند ہوں یا کھلی ہو ں؛ لیکن دوا دستیاب نہ ہو ؛ اس لئے جس کے پاس دوا ہے ، وہ اس دوا کے لئے ایک ہزار روپے کا مطالبہ کرے تو یہ درست نہیں ، یہ ایک مجبور شخص سے اس کی مجبوری کا فائدہ اُٹھانا ہے ، رسول اللہ ا نے مضطر کی بیع سے منع فرمایا ہے : ’’ قد نھی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم عن بیع المضطر‘‘ (سنن ابی داؤد ، کتاب البیوع ، حدیث نمبر : ۳۳۸۲) ، یہ اس میں شامل ہے ۔

کمیشن کی شکل میں اُجرت
سوال:- آج کل مکان کے خریدنے اور بیچنے میں دلالی کی جاتی ہے اور دلال کمیشن وصول کرتے ہیں ، دلال کے بغیر زمین کا بیچنا دشوار ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنی خواہش کے مطابق زمین یا مکان کا خریدکرنا بھی دشوار ہوتا ہے ، تو اس طرح دلالی کا کام کرنے والے دلال کی خدمات سے استفادہ کرنے اور اس کام پر کمیشن لینے کا کیا حکم ہے ؟ (محمد عامر ،سنتوش نگر)
جواب :- کسی کے لئے گاہک تلاش کرنا یا کسی گاہک کے لئے اس کی مناسب شئے تلاش کرنا ایک جائز عمل ہے اور جائز عمل کی اُجرت لینا بھی جائز ہے ، اب اُجرت مقرر کرنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں : ایک یہ کہ ایک متعین رقم مقرر کردی جائے ، جیسے فلاں کام کی اُجرت ایک ہزار روپے ہوگی ، یہ زیادہ بہتر ہے اور اس کے درست ہونے پر اتفاق ہے ، دوسری صورت فیصد کے طورپر اُجرت متعین کرنے کی ہے ، مثلاً آپ جتنی قیمت میں فروخت کریں گے ، اس کا دو فیصد اُجرت ادا کرنی ہوگی ، اس کو ’ اُجرت سمسار ‘ کہا جاتا تھا ، بعد کے فقہاء نے اس کے رواج کو دیکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کی وجہ سے کوئی نزاع پیدا نہیں ہوتی ہے ، اس کو درست قرار دیا ہے ؛ اس لئے اُجرت مقرر کرنے کی یہ صورت بھی جائز ہے :’’ سئل عن محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار ، فقال : ارجو أنہ لا باس بہ ، وان کان فی الأصل فاسداً لکثرۃ التعامل وکثیر من ہذا غیر جائز فجوزوہ لحاجۃ الناس إلیہ کدخول الحمام الخ ‘‘ (ردالمحتار : ۹؍۸۷) —البتہ یہ ضروری ہے کہ معاملہ واضح ہو اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ نہ ہو ، مثلاً کمیشن کی بات اس نے دونوں فریقوں سے کی ؛ لیکن ایک فریق سے کہا کہ میں جو کچھ نفع لے رہا ہوں ، آپ ہی سے لے رہا ہوں ، دوسرے فریق سے نہیں لیتا تو یہ جھوٹ بھی ہے اور دھوکہ بھی ، یہ جائز نہیں ہوگا ۔

تعلیم قرآن کی ٹیوشن فیس
سوال:- بہت سارے حفاظ مساجد اور مدرسوں میں خدمت انجام دیتے ہیں ، جس کا انھیں معاوضہ بھی دیا جاتا ہے ، فرصت کے اوقات میں کچھ بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں اور اس کا بھی بھرپور معاوضہ طلب کرتے ہیں ، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ (ریحان خان ، رتنا گیری)
جواب :- قرآن مجید کی تعلیم یا اذان پر اُجرت لینا فقہاء نے جائز قرار دیا ہے کہ اگر اس کی اجازت نہیں دی جائے تو دین کے اہم کاموں کی انجام دہی دشوار ہوجائے گی : ’’ ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرآن الخ ‘‘ ( ردالمحتار : ۹؍۷۶) — یہ بنیادی طورپر عمل کی اُجرت نہیں ہے ، وقت کی اُجرت ہے ؛ کیوںکہ ان کاموں میں خاصا وقت صرف کرنا پڑتا ہے ؛ لہٰذا اگر کوئی شخص امامت کرتا ہو ، مدرسہ یا مکتب میں پڑھاتا ہو اور اپنے بچے ہوئے وقت میں بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتا ہو تو اس کے لئے اس کی اُجرت لینا درست ہے ، اگر ایسی خدمت کرنے والے لوگ مہیا نہ ہوتو جن بچوں کو مدرسہ یا مکتب میں جانے کا وقت نہیں ملتا ، وہ قرآن مجید کی تعلیم سے محروم رہ جائیں گے ۔

دعوت کے مطالبہ یا ویڈیو گرافی والی شادی میں شرکت
سوال:- آج کل شادیوں میں کھانا کوئی خوشی سے کھلا رہا ہے تو کوئی باضابطہ مانگ کر لے رہا ہے ، کیا ایسی شادیوں میں شرکت مناسب ہے ؟ اور دوسری طرف تقریباً ہر شادی میں فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی کو ضروری سمجھا جارہا ہے ، کیا ان شادیوں سے اجتناب کرنا چاہئے ۔(ابرار حسین ، فیض آباد)
جواب :- نکاح میں جو دعوت مسنون ہے ، وہ ہے دعوت ولیمہ ، جس کی رسول اللہ انے ترغیب بھی دی ہے ، لڑکی والوں کی طرف سے دعوت کا اہتمام بہتر نہیں ہے ؛ کیوںکہ اس نے اب رواج کی صورت اختیار کرلی ہے اور جو چیز شریعت میں مطلوب نہ ہو ، وہ رواج کا درجہ اختیار کرلے اور اس سے مفاسد پیدا ہونے لگیں تو اس کو روکنا واجب ہے ، ایسی دعوت کا مطالبہ لڑکے والوں کی طرف سے یا سماج اور خود لڑکی کے رشتہ داروں کی طرف سے جائز نہیں ہے ؛ بلکہ خود دعوتِ ولیمہ میں بھی اگر لڑکی والے یا سماج کے لوگ اپنے آپ کو مدعو کرنے کا مطالبہ کریں تو یہ جائز نہیں اور یہ باطل طریقہ پر کھانے میں شامل ہے ؛ اس لئے جہاں معلوم ہو کہ دعوت میں مطالبہ کی صورت اختیار کی گئی ہے تو وہاں دعوت میں شریک ہونا درست نہیں — اسی طرح شادی کی فوٹو گرافی یا ویڈیو گرافی بھی جائز نہیں ، اس سے کوئی دینی ضرورت متعلق نہیں ہے ؛ بلکہ اس میں بڑے اخلاقی مفاسد ہیں ؛ کیوںکہ آج کل شادیوں کی ویڈیو گرافی میں عورتوں کے ہال کی بھی ویڈیو گرافی کی جاتی ہے اور پھر وہ غیر محرم اور غیر متعلق لوگوں کے سامنے دیکھی جاتی ہے ؛ اس لئے جن شادیوں میں یہ عمل کیا جائے ان میں شرکت کرنا جائز نہیں : ’’ لو دعی إلی دعوۃ فالواجب الاجابۃ إن لم یکن ھناک معصیۃ ولا بدعۃ ، والامتناع اسلم فی زماننا إلا اذا علم یقیناً ان لا بدعۃ ولامعصیۃ …لأن استماع ا للھو حرام والاجابۃ سنۃ والامتناع عن الحرام اولیٰ‘‘ ۔( ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ: ۹؍۵۰۱)

اگر حائضہ اس وقت پاک ہو جب مسافت سفر سے کم باقی ہو؟
سوال:- اگر کوئی عورت حالت حیض میں سفر شروع کرے اور سفر کے درمیان پاک ہوجائے ؛ لیکن اب سفر شروع کرنے کے بقدر مسافت باقی نہ ہو تو وہ چار رکعت نماز ادا کرے گی یا دو رکعت ؟
(عبد الوحید ، مہدی پٹنم)
جواب :- جب وہ عورت حیض سے پاک ہوئی اور اس سے نماز کا فریضہ متعلق ہوا ، اس وقت اس کی منزل مسافت شرعی سے کم پر واقع ہے ؛ اس لئے اس کو مسافر شمار نہیں کیا جائے گا اور اس کو پوری چار رکعت نماز ادا کرنی ہوگی : ’’ طہرت الحائض لمقصدھا یومان تتم فی الصحیح کصبی بلغ بخلاف کافر أسلم‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۳؍۶۱۹)

(بصیر ت فیچرس)
٭٭٭

You might also like