ہندوستان

جمعیۃ علماء اترپردیش کی ریاستی دفتر لکھنؤ میں جائزہ اجلاس کا انعقاد

کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت
لکھنؤ۔۵؍اکتوبر:(سعید ہاشمی)
ہندوستان کے معمار گاندھی جی نے زندگی کے آخری سانس تک ملک میں بھائی چارہ، پیار ومحبت اور اقلیت واکثریت کے درمیان قربتیں پیدا کرنے کی جد وجہد کی اور ہمیشہ دیش میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ہندوستانی قوم کے طور پر دنیا میں متعارف کراتے رہے، جس کے نتیجہ میں ہندوستان دنیا کے نقشہ پر سب سے بڑے جمہوری ملک کی شکل میں اُبھر کر سامنے آیا، جس میں مختلف مذاہب اور عقائد سے وابستہ لوگ آپسی میل ملاپ اور پیار ومحبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کو کسی کی نظر لگ گئی ہے، مذہبی رواداری اور انسانیت نوازی جو اس ملک کی پہچان تھی اس کو ختم کیا جارہا ہے، محض ذاتی اور سیاسی مفاد کے لئے ہندوستان کی تہذیبی شناخت کو مٹایا جارہا ہے، مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا سید اشہد رشیدی کیا۔وہ یہاں صد ف منزل قیصر باغ میں واقع صوبائی دفتر میں آئندہ 12؍ نومبر 2017 کو لکھنؤ میں ہونے والے ’’قومی یکجہتی اجلاس عام‘‘کے جائزہ اجلاس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔مولانا رشید نے ملک کی موجودہ صورتحال اور مفاد پرستی پر مبنی سیاست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بات یہاں تک بگڑ گئی ہے کہ رہبران قوم و ملت ذاتی اغراض ومقاصد کے لئے ضمیر کا سودا کرنے لگے ہیں، اور سیاسی جماعتیں اپنی افرادی قوت میں اضافہ کے لئے کھلے عام خطیر رقم کے عوض ممبران کی خرید وفروخت میں ملوث ہوگئی ہیں اور تنقید کرنے والے افراد کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتے ہوئے مختلف معاملات میں پھنساکے خوف زدہ کیا جارہا ہے یا پھر ان کو گولی کا نشانہ بنا کر ہمیشہ کے لئے خاموش کردیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملک بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، ایک طرف اگر دیش کا اقتصادی تانا بانا بکھرتا نظر آرہا ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی متحدہ قومیت کے نظریے کی بنیادیں بھی متزلزل ہوتی دیکھائی دے رہی ہے جبکہ کسی بھی ملک کی ترقی اوراس کے امن وامان میں کلیدی رول انہیں دونوںچیزوں کا ہوا کرتا ہے؛ کیونکہ اگر اقتصادی پالیسی تباہی کا شکار ہوجائے تو ملک میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے اور عام لوگ ضروریات زندگی کے حوالہ سے طرح طرح کی مشکلات سے دو چار ہونے لگتے ہیں، جیسا کہ آج کل ہمارے ملک میں ہورہا ہے۔ اور اسی طرح جب دیش کے باشندوں میں ایک دوسرے کے لئے عدم اعتماد کا ماحول پیدا ہونے لگے تو جگہ جگہ جھگڑے اور فسادات ہونے لگتے ہیں، برداشت کا مادہ ختم ہوجاتا ہے، کہیں مذہب کی بنیاد پر اختلاف ہوتا ہے اور کہیں قومیت وعلاقائیت کی بنیاد پر انتشار پھیلتا ہے۔آج کل ہندوستان کے حالات اسی رخ پر چل رہیں ، اگر اس پر باندھ نہ باندھا گیا اور قوم کے سامنے صحیح افکار وخیالات پیش کرکے اس کو گاندھی جی کے اصولوں پر لانے کی اور ان کو اپنانے کی تلقین نہیں کی گئی تو ہمارے اس دیش کو مستقبل میں نہایت تباہ کن حالات سے دو چار ہونا پڑے گا، جس کا نقصان ملک میں بسنے والی ہر کمیونٹی کو پہنچے گا اور کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔مولانا نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہنداترپردیش نے یہ طے کیا ہے کہ 12؍ نومبر 2017 کو لکھنؤ میں ’’قومی یکجہتی‘‘ کے عنوان سے ایک عظیم الشان اجلاس کیا جائے جس میں برادران وطن کو ساتھ میں لے کر موجودہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے اور فرقہ پرستوں کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف متحدہ آواز بلند کی جائے اور یہ واضح کر دیا جائے کہ ملک جمہوری اصولوں کے ذریعہ ہی ترقی کرسکتا ہے، تنقیدی خیالات رکھنے والوں کا گلا دبا کر ڈکٹیٹرشپ کے ساتھ ملک کو چلانا ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔اجلاس میںمولانا عبد العلیم فاروقی ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند ،مولانا عبد الہادی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی ، مفتی اشفاق احمد اعظمی نائب صدر جمعیۃ علماء یوپی،مولاناسید حبیب اللہ مدنی ،مولانا سیدحسن مدنی ، مولانا خالد غازی آباد،مولانا عبد الرب سلطانپور، مفتی محبوب الرحمٰن امبیڈکر نگر، مولانا خورشید انورمئو،مولانا عبد الحلیم بستی ،مفتی محمد ابرار لکھنؤ،حافظ عبد القدوس ہادی کانپور وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ اجلاس کی صدارت ریاستی صدرمولانا سید اشہد رشیدی جبکہ نظامت کے فرائض مفتی اشفاق احمد اعظمی و مولانا عبد الجلیل خاں قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء یوپی نے مشترکہ طور پر انجام دئے ۔خصوصی شرکاء میں ریاستی خزانچی حاجی محمد فصیح صدیقی لکھنؤمولانا محمد اسلام بارہ بنکی ،مولانا وکیل سیتاپور،مولانا محمد قاسم مظفر نگر ،مولانا سراج احمد ہاشمی سلطانپور ،مولانا عبد اللہ پرتاپگڈھ،مفتی نعمت اللہ گونڈہ،مولانا شاہد القاسمی اعظم گڈھ، مولانا عبد الخالق مراد آباد،حافظ محمد عرفان فیض آباد، ، ،مولانا آفتاب سیتاپور،مولانا سمیع الدین لکھیم پور،مولانا محمد عمر سنت کبیر نگر ،مولانا زبیر احمد بلرامپور،مولانا بلال سنبھل ،مفتی ساجد رامپور،قاری نعیم الدین فیروز آباد،مولا نا وسیم اٹاوہ،مفتی عبد الرحیم بہرائچ ،،مولانا عبد اللہ فیصل بنارس ،جناب جاوید اقبال بنارس وغیرہ نے شرکت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker