ہندوستان

دیوبند میں فرقہ وارانہ تصادم، کئی افراد زخمی

مشہور مینا بازار میں بھگدڑ، دکانداروں کی بری طرح پٹائی، سامان پھینکا گیا، پورے علاقے میں سراسیمگی
دیوبند۔۱۰؍اکتوبر (سمیر چودھری ورضوان سلمانی)دیوبند کے مصروف ترین مینا بازار میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ،پولیس فورس موقع پر تعینات ہے ،ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موقع پر خیمہ زن ہیں ،شرپسند عناصر دیوبند کو بار بار فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں اسی سلسلے میں آج پھر کچھ شرپسند عناصر میں مینا بازار میں ہنگامہ آرائی کی اور دوکانداروں کو نقصان پہنچایا اس میں کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے شرپسند عناصر کے سامنے پولیس بھی بے بس نظر آرہی ہے بتایا جاتا ہے کہ ان عناصر کے پس پشت بھاجپا کی مقامی لیڈر شپ کام کررہی ہے ،تازہ ترین معاملے میں آج کچھ نوجوانوں نے مینا بازار میں جس بے دریغ انداز میں توڑ پھوڑ اور ماردھاڑ کی ہے اس سے علاقے میں خوف وہراس کا ماحول ہے ،موصولہ تفصیل کے مطابق شہر کے مصروف ترین مینا بازار میں واقع چاند گارمینٹس کے سامنے دوپہر کے وقت کچھ نوجوان لڑکوں نے اپنی موٹر سائکلیں کھڑی کرنا شروع کیں ،جس کو دیکھ کر دوکان مالک سلمان نے اعتراض کیا ،اور دوکان کے بالمقابل موٹر سائیکل کھڑی کرنے کے لئے منع کیا ۔جس پر اس نے دوکان مالک کو دھمکاتے ہوئے اپنے آپ کو دیوبند رکن اسمبلی کنور برجیش سنگھ کا بھتیجا ظاہر کیا اور دوسرے قسم کی دھمکیاں وگالیاں بھی دینے لگا اسی قسم کی بات چیت میں تلخی بڑھی اور نوبت مارپٹائی تک آگئی جس میں دوکاندار کے ایک ساتھی محمد علیم بری طرح زخمی ہوگیا اس وقت تو وہ شرپسند عناصر وہاں سے چلے گئے اور کچھ دیر بعد ایک ہجوم کے ساتھ دوبارہ مینا بازار پہنچے اور دوکاندار کے ساتھ از سر نو مارپیٹ شروع کردی ، ہجوم نے دوکانوں کا سامان باہر نکال کر پھینک دیا اور بہت سے دوکانداروں کو زودوکوب بھی کیا اس کے نتیجے میں علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور وہاں بہت سے لوگوں نے دوکانیں بند کردی اس طرح دیکھتے دیکھتے مینا بازار بند ہوگیا اور پورے علاقے میں خوف ودہشت اور سراسیمگی کا ماحول پیدا ہوگیا ۔اسی سلسلے میں پورے شہر میں مختلف قسم کی افواہیں بھی گشت کرنے لگیں اور شہر کے ماحول میں بھی کشیدگی پیدا ہوگئی ۔پولیس انتظامیہ نے بروقت موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا اور اس فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روک دیا ۔جبکہ پولیس پر دوسری جانب سے سیاسی دبائو بنایا جارہا ہے کہ وہ مسلم دوکانداروں کے خلاف یکطرفہ کاروائی کرے خاص بات یہ ہے کہ دیوبند کے رکن اسمبلی کنور برجیش سنگھ ہنگامہ کرنے والے عناصر کی پشت پناہی کررہے ہیں اور ان کی حمایت میں قائدانہ رول بھی ادا کررہے ہیں ۔ ایس ڈی ایم رام ولاس یادو،سی او سدارتھ سنگھ، انچارج انسپکٹر پنکج کمار تیاگی بھاری پولیس فورس کے ساتھ پہنچے اور حالات کو کنٹرول میں کیا۔ واقعہ کے بعدایک طرف جہاں تاجر طبقہ کوتوالی پہنچ گیا وہیںدوسرے فریق کے افراد نے ڈاک بنگلہ پہنچ کر واقعہ کے بارے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی کو مطلع کیا۔ دکان کے مالک عامل فریق کے لوگوں کا الزام تھا کہ جب اس نے نوجوانوں کو اپنی دکان کے سامنے اسکوٹر کھڑا کرنے سے منع کیا تو ان میں سے ایک نوجوان نے اپنے آپ کو ممبر اسمبلی کا بھتیجا بتاتے ہوئے مارپیٹ شروع کردی،اتنا ہی نہیںبلکہ اس نے کچھ دیر بعد مزید نصف درجن نوجوانوں کوبلاکر دکان میں رکھاسامان باہر پھینکا شروع کردیا اور توڑ پھوڑ کے ساتھ ہی معاملہ کو رفع دفع کرانے آئے پڑوسی دکاندار دانش کو بھی مارپیٹ کر زخمی کردیا۔جبکہ دوسرے فریق کے لوگ کاکہناہے کہ ان کے ساتھ بلا وجہ گالی گلوچ کی گئی۔واقعہ کے بعد ایک مرتبہ پھر شہر میں سیاسی اور فرقہ وارانہ فضا گرم ہوگئی اور نیتاؤںکاجماوڑہ شروع ہوگیا۔ بی جے پی رکن اسمبلی کے علاوہ شام کو بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راگھو لکھن پال شرما دیوبند پہنچے اور ڈاک بنگلہ پر ایک فریق سے تنازعہ کے بابت معلومات حاصل کی،وہیں کوتوالی میں فریق اول کی قیادت کرنے آئے سابق چیئرمین ضیاء الدین انصاری اور چیئرمینی کے دعویدار سلیم قریشی کے مابین ہی تناتنی ہوگئی۔ معاملہ الگ الگ فرقے کا ہونے کی وجہ سے پولیس محکمہ بھی پوری طرح الرٹ ہوگیا اور کشیدگی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کردی گئی اور شہر کے بازاروں میں پولیس گشت شہر بڑھا دیاگیا۔ انچارج انسپکٹر پنکج تیاگی کا کہنا ہے کہ دونوں فریق کی جانب سے تحریر مل چکی ہے، تحقیقات کے بعد ضروری کارروائی کی جائے گی۔ایس ڈی ایم رام ولاس یادو نے کہاکہ موٹر سائیکل کھڑی کرنے کو لیکر دونوں فریق کے درمیان تنازعہ ہواہے، معاملے کو لیکر شہر میں کوئی کشیدگی نہیں ہے ، کسی بھی صورت میں شہر کے ماحول کو خراب نہیں ہونے دیاجائے گا،احتیاط کے مدنظر میںبازار میں پولیس گشت بڑھا دیاگیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker