مضامین ومقالات

اعتدال دین اسلام کاطرہ ٔامتیاز

مفتی محمدعبداللہ قاسمی
اعتدال اورتوازن دین اسلام کاامتیازی وصف ہے،امت محمدیہ کانشان امتیازہے،دنیاوآخرت میں فلاح وکامیابی کی شاہ کلیدہے،توازن واعتدال وہ بہترین صفت ہے جوزندگی کوکامیاب اورخوش گواربنانے میں اہم کرداراداکرتی ہے،اورمصاف زندگی میں انسان کومسلسل سرگرم عمل رکھتی ہے،جس قوم کے افراداعتدال پسنداورمتوازن طبیعت کے مالک ہوں وہ قوم عروج واقبال مندی سے ہمکنارہوتی ہے،سرفرازی وکامرانی اس کی حلیف ہوتی ہے،اورجس قوم کے افرادغلواورشدت پسندی کے شکارہوں وہ قوم ذلت ونکبت سے دوچارہوتی ہے،اورشکست وناکامی اس کامقدرہوتی ہے۔اعتدال اوردین اسلام اللہ جل شانہ نے جودین وشریعت ہم مسلمانوں کوعطاکی ہے وہ بھی معتدل اورمتوازن ہے،دین اسلام کاایک ایک حکم ،اس کاایک ایک اصول اوراس کاایک ایک ضابطہ اپنی جگہ پرمعتدل اورمتناسب ہے،اس میں نہ وہ شدت وسختی ہے جوحضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت میں تھی،نہ اس میں وہ نرمی اورسہولت پسندی ہے جوحضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی شریعت میں تھی،بلکہ دین اسلام میں ایک طرف جمال ہے تودوسری طرف جلال بھی،ایک طرف گرمی ہے تودوسری طرف نرمی بھی،ایک طرف کوہ فرازہے تودوسری طرف ماں کے دل کاگدازبھی،شعلہ بھی شبنم بھی،غرض مذہب اسلام دومتضادپہلوئوں کاحسین وجمیل ایڈیشن ہے،مذہب اسلام کی اسی خصوصیت کوبیان کرتے ہوئے حق جل مجدہ نے اپنے بندوں کوہرنمازمیں یہ دعاء مانگنے کی تلقین کی ہے:اے اللہ !توہمیں سیدھا(معتدل)راستہ دکھا،ان لوگوں کی راہ پرجن پرآپ نے انعام فرمایا،ان کے راستہ پرنہیں جن پرتیراغضب ہوا،نہ ان کے راستے پرجوگمراہ ہوچکے ہیں۔(الفاتحۃ:۶،۷)اس آیت میں اللہ جل شانہ نے دین اسلام کومعتدل اورمتوازن دین قراردیاجوحضرات انبیاء،صدیقین،شہداء اورصالحین کاطریقہ ہے،اس میںنہ عیسائیوں کے دین کی طرح افراط کے جراثیم ہیں اورنہ ہی یہودیوں کی طرح تفریط اورتعدی کے عناصرکی اس میں آمیزش ہے۔اعتدال اورامت محمدیہ اوریہی اعتدال وتوازن امت محمدیہ کاخاص وصف ہے،اللہ تبارک وتعالی کاارشادگرامی ہے:اسی طرح ہم نے تم کوایک معتدل امت بنایا۔(البقرۃ:۱۴۳)امت محمدیہ کایہ اعتدال وتوازن عبادات میں بھی ہے اوراخلاقیات میں بھی ،اقتصادیات میں بھی ہے اورسیاست وامارت میں بھی،معاشرت میں بھی ہے اورمناکحت میں بھی،غرض اللہ جل شانہ نے آپﷺکے طفیل جودین وشریعت ہمیںعطاکیاہے اس میں اعتدال اورتناسب کوملحوظ رکھاگیاہے،تواس دین حق پرصحیح معنوں میں عمل پیراہونے کالازمی اثریہ ہوتاہے مسلمان کامزاج ومذاق بھی اعتدال میں ڈھلتاہے،اس کے اخلاق ورجحانات پربھی توازن ویکسانیت کارنگ چڑھتاہے،اس کا دل ودماغ بھی تشددسے دوراورسہولت پسندی سے نفورہوتاہے،ظاہرہے کہ جس شخص کاپوراوجوداس قیمتی وصف میں ڈھل جائے تواس سے صادرہونے والے تمام حرکات وسکنات معتدل ہوتے ہیں،اس کے اعمال وافعال متوازن ہوتے ہیں،اورایساشخص کائنات کاایک بہترین فردثابت ہوتاہے جس سے پوری انسانیت کوفائدہ پہونچتاہے۔اعتدال سارے کمالات کامنبع  واقعہ یہ ہے کہ اعتدال اورتوازن جمال وخوبصورتی کاسبب ہے،اورافراط وتفریط بدصورتی وبدنمائی کاذریعہ ہے؛کیوں کہ اعتدال اعضاء کے تناسب کانام ہے،اگرانسان کے جسم کے سارے اعضاء معتدل اورمتوازن ہوں تویہ انسان کی خوبصورتی شمارکی جاتی ہے،اوراگرکسی عضوکی ساخت میں افراط وتفریط ہوتویہ بدنمااورعیب سمجھاجاتاہے،مثلاکسی کی ناک حدسے زیادہ بڑی ہویابالکل ہی چھوٹی ہو،یاکسی کے کان حدسے زیادہ بڑے ہوں یابالکل ہی چھوٹے ہوں ،ہونٹ بہت ہی موٹے ہوں یابہت پتلے ہوں تویہ انسان کے چہرے کی بدصورتی سمجھی جاتی ہے،نیزدنیامیں علاج کے جوبھی طریقے آج رائج ہیں،خواہ ایلوپیتھک ہویاہومیوپیتھ ، آیورویدک طریقۂ علاج یایانونی ،تمام اطباء اورحکماء کااس بات پراتفاق ہے کہ صحت انسان کے مزاج کے اعتدال کانام ہے،انسان کے جسم میں چاراخلاط ہیں:صفراء،سواداء ،خون اوربلغم،اوران چارون سے چارکیفیات پیداہوتی ہیں:سردی،گرمی،تری اورخشکی،یہ چاروں اخلاط اگرحداعتدال میںرہیں توانسان کی صحت صحیح رہتی ہے،اوراگران چاروں اخلاط میں سے کوئی حداعتدال سے بڑھ جائے یاکم ہوجائے توانسان کی صحت بگڑجاتی ہے،اوراس کابروقت علاج نہ کیاجائے تویہی چیزبالآخرانسان کے لئے موت کاپیغام ثابت ہوتی ہے،یہی حال اخلاق وروحانیات کابھی ہے،اگرانسان کے اخلاق واعمال حداعتدال میں رہیں تویہ انسان کی روحانی ترقی کاضامن ہوتی ہیں،اوراگرحداعتدال سے تجاوزکرجائے توپھرانسان ہلاکت وتباہی کے گڑھے میں گرتاچلاجاتاہے۔افراط کے اسباب وعوامل  جہاں اعتدال اورمیانہ روی ختم ہوتی ہے وہیں سے افراط وتفریط کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں،اورجب یہ مزاج انسان کے اندرپیداہوجاتاہے توعقل ومنطق کی کوئی بھی تدبیراس کے لئے کارگرثابت نہیں ہوتی ،افراط وتفریط کے بہت سے اسباب وعوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان کے مزاج میں تشدد اورسختی پیداہوتی ہے،ذیل میں ان کااختصارکے ساتھ تذکرہ کیاجاتاہے:منصوص اورغیرمنصوص میں عدم تمیز منصوص ان باتوں کوکہتے ہیں جواللہ جل شانہ یا اللہ کے رسول ﷺ سے منقول اورثابت ہوں،جیسے نماز،روزہ وغیرہ،ان کی ادائیگی کے طریقے اورساری کیفیت احادیث شریفہ اورامت کے تعامل سے ہمیں معلوم ہوئی ہیں،اورغیرمنصوص ان امورکوکہتے ہیں جن کی کوئی خاص کیفیت اوران کی ادائیگی کاکوئی خاص طریقہ شریعت میں ثابت نہ ہو،جیسے اللہ تعالی کاذکرگومنصوص ہے،تاہم اس کاکوئی خاص طریقہ احادیث شریفہ میں بیان نہیں کیاگیاہے،بزرگان دین نے اپنے مشاہدے اورتجربات کی روشنی میںدھیان اوریکسوئی پیداکرنے کے لئے ضرب لگانے کاایک طریقہ ایجادکیاہے،ظاہرہے یہ مستحسن ہے ؛لیکن اس کومنصوص نہیں کہاجائے گا،اگرکوئی شخص منصوص باتوں میں غفلت اورسستی سے کام لے تواس کوٹوکاجائے گا،اوراس کے عمل کوغلط قراردیاجائے گا،لیکن اگرکوئی غیرمنصوص چیزپرعمل نہیںکرتااوراس میں سستی وسہل انگاری برتتاہے تواس پرٹوکنااوراس کے عمل کوغلط ٹھہراناافراط اورغلوکے دائرے میں آتاہے۔تبلیغی جماعت ایک عالمگیراصلاحی تحریک یہیں سے یہ بات بھی بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دین کے اندرجوطریقے منصوص اورمقررنہیں ہیں ہم انہیں اپنی کسی مصلحت اورافادیت کے پیش نظرجاری کرتے ہیں توایک وسیلہ اورذریعہ کی حدتک جائزاوردرست توہے؛لیکن ہم اس کومنصوص کادرجہ دے دیں،اوراس طریقے کواختیارنہ کرنے والے پرنکیرکریں،اورطعن وتشنیع کریںیہ سب چیزیں جہالت اوردینی تعلیمات سے ناواقفیت کی دلیل ہیں۔آج سے چنددہائیوں قبل حضرت مولاناالیاس صاحب کاندھلویؒنے…جن کواللہ جل شانہ نے دل دردمنداورفکرارجمندعطاکیاتھا،قسام ازل نے انہیں جوسوزوگداز،امت کی زبوں حالی پردردوکرب اوراس کے لئے تریاق مہیاکرنے کی جوفکرفلک پیماعطاکیاتھاوہ یقیناانہی کاحصہ تھا…دعوت الی اللہ کی جوتحریک شروع کی تھی وہ دیکھتے ہی دیکھتے مشرق سے لے کرمغرب تک،شمال سے لے کرجنوب تک چہاردانگ عالم میں پھیل گئی،اوراس الہامی تحریک کی وجہ سے ماضی میں اوراس دورمیں امت کوجوفائدہ پہونچ رہاہے وہ محتاج بیان نہیں ہے،اس تحریک کی وجہ سے کتنے ہی گم گشتہ راہ لوگوں کوہدایت نصیب ہوئی،کتنے ہی لوگ تھے جوخواہشات نفس کے اسیراورمعادوآخرت سے لاپرواہ تھے اس بابرکت تحریک کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں خوش گوارانقلاب آیا،کتنے ہی علاقے تھے جہاں ہرسودین بیزاری اورخدافراموشی کابسیراتھااس دعوتی تحریک سے وابستہ لوگوں نے وہاں پہونچ کرایمان ویقین کی شمع فروزاں کی،اورلوگوں میں دین کی خاطرجینے اوراس کے لئے مرمٹنے کاصالح جذبہ پیداکیا۔دعوت وتبلیغ سے وابستہ لوگوں کاغلو تاہم یہ ایک ناقابل انکارحقیقت ہے کہ عمومی طورپر اس تحریک سے وابستہ لوگوں میں جوغلواورافراط کارجحان بڑھ رہاہے وہ یقیناافسوسناک ہے،اورہرباشعوراوردل دردمندرکھنے والے شخص کوتڑپادینے والاہے،آج دعوت وتبلیغ کوہی دین کاسب سے اہم شعبہ خیال کیاجارہاہے،اوراسے ہی فلاح ونجات کامعیارقراردیاجارہاہے،اوراس شعبہ سے غیروابستہ لوگوں کوہدف تنقیداورہدف ملامت بنایاجارہاہے،درس وتدریس،تصنیف وتالیف ،وعظ وارشاد،تصوف واحسان ہرایک کی تحقیروتنقیص کی جارہی ہے،علماء ،حفاظ ،ائمہ وخطباء اوربزرگان دین کی ناقدری کی جارہی ہے؛بلکہ بہت سی مساجدکے بارے میں یہ بھی سننے میں آیاکہ امام ومؤذن جواس مخصوص دعوتی کام سے نہیں جڑتے ،اورجماعت میں وقت نہیں لگاتے ،تبلیغی احباب ان کے خلاف ماحول بناتے ہیں،اوران کوامامت ومؤذنی کے عہدے سے معزول کردیتے ہیں،یقینایہ بڑی فتنہ انگیزی اورشرپسندی ہے،فالی اللہ المشتکی،ظاہرہے کہ دعوتی تحریک گوبڑے فوائدکی حامل ہے،اوراس کی وجہ سے پورے عالم میں دین کاکام پھیل رہاہے ؛تاہم یہ غیرمنصوص ہے،لہذااس کومنصوص کے برابرسمجھنااوراس سے غیروابستہ لوگوں پرنکیرکرناحدسے تجاوزاورافراط ہے،اورجہالت وکم علمی کی آئینہ دارہے۔شخصیت پرستی کافتنہ کچھ لوگ فطری طورپرغیرمعمولی صلاحیت اورغیرمعمولی کمال لے کرپیداہوتے ہیں،اوران کواپنے ہم عصروں میں ممتازاورانفرادی مقام حاصل ہوتاہے،جس کی وجہ سے ان کوطبعی طورپرمرجعیت عام اورمقتدایانہ حیثیت حاصل ہوجاتی ہے،کچھ لوگ ان کے ایسے گرویدہ ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہربات بلاچون وچرامان لیتے ہیں،اوران کے قلب ودماغ میں وہی باتیں گردش کرتی ہیں جوان کے دل میں ڈالی جاتی ہیں،خواہ وہ بات قرآن وسنت کے معارض ہی کیوں نہ ہو؟اورخواہ ان کی بات جمہورعلماء کی رائے اورتعامل امت سے ہی کیوں نہ ٹکراتی ہو؟اورصرف اسی پربس نہیں ہوتا؛بلکہ وہ اس میں اتنی شدت اورغلوسے کام لیتے ہیںکہ اگرکوئی عالم دین ان کی غلطی کی نشاندہی کرتاہے،اوراس کے اصلاح وازالہ کی خواہش کرتاہے تویہ محبین اسی عالم دین کے خلاف محاذکھول دیتے ہیں،اوراس پرطعن وتشنیع کرنااوراس کوگمراہ بتاناان کامحبوب اورپسندیدہ مشغلہ ہوجاتاہے،ظاہرہے کہ ہم ایسے لوگوں کوذہنی اوردماغی لحاظ سے مفلوج اورناکارہ ہی کہہ سکتے ہیں،جوشخصیت پرستی اوراندھی تقلیدکے ایسے شکارہوئے کہ صحیح اوردرست بات سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوگئی،فضل وتقوی کی وجہ سے کسی شخصیت کامعتقدہونااوراس سے محبت کرناعین ایمان ہے،اوردین میں مطلوب اورپسندیدہ ہے ،تاہم اگراس شخصیت سے کبھی کوئی غلطی سرزدہوجائے تواس پرٹوکنااوراس کولغزش پرمتنبہ کرناہی اس کے ساتھ حقیقی محبت وخیرخواہی ہے،اوراعتدال وتوازن کے عین قریب ہے۔ اللہ جل شانہ سے دعاء ہے کہ امت مسلمہ کوحق بات سمجھنے اوراس پرعمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،اورافراط وغلوسے اس کی حفاظت فرمائے،آمین ثم آمین۔(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker