مضامین ومقالات

ملک کی جانچ ایجنسیاں اپنی قوت فکر پر غور کریں!

محمد اکرم ظفیر -یواین این…7250130884

یہ ہمارے ملک کی بدقسمتی کہہ لیجیے یاپولس اور جانچ ایجنسیوں کی سوچی سمجھی سازشوں کا حصہ کہ مسلمانوں کے تئیں ملک کی آزادی کے بعد سے ہی ایساماحول تیار کیا گیا ہے کہ جب بھی کہیں کوئی بم دھماکہ یادہشت گردانہ حملہ رونما ہوتا ہے ایسے میں پولس و جانچ ایجنسیوں کے نشانے پہ مسلمان ہی ہوتے ہیں،بغیرکسی تحقیق وجانکاری کے پکڑکر نامعلوم جگہ پہ لیجاتاہے.اس کاتعلق کسی بھی صوبہ وبرادری سے ہو وہ یہ نہیں دیکھتی کہ اس کا مسلک کیاہے بلکہ اسکے لیے مسلم نام ہی کافی ہے.
ملک کے اندر چلن سا ہوگیاہے کہ جب کہیں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکتی ہے توپولس انتظامیہ یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے چلتے پھرتے نوجوانوں کوگرفتارکرلیتی ہے توکبھی مسجدسے نکلتے ہی اٹھالیتی ہے.آزادی کے بعد سے ایسے ہزاروں مسلم نوجوانوں کوصرف شک و شبہات کی بنیاد پہ گرفتار کیاگیا. جس کے چہرے پہ لمبی ڈارھی اور سرپہ ٹوپی دکھائی دی.ظلم وبربریت کی حداس وقت پار ہوگئی جب بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت نے 2002 میں ہمارے ہی ایک لیڈرکو پیسے وکرسی کا لالچ دے کر ملک کے مسلمانوں پہ آفت لادی اور بھارتیہ جنتاپارٹی کو پوٹاقانون کی کھلے طورپہ حمایت کااعلان کردی.اس وقت پورے ملک کے سیکولر پسندعوام اور بالخصوص مسلمانوں نے اس ضمیرفروش لیڈر سے پوٹاقانون کیلیے وؤٹ نہ کرنے کی بھیک مانگ رہاتھا لیکن انہوں نے قوم کے بچوں کی زندگی کو عذاب بنادیا. سرکار کی نیت ہی یہی تھی کے مسلم بچوں کوبلا وجہ پکڑ کر جیل میں ڈالا جائے. جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں مسلمانوں کوچلتے پھرتے بغیر کسی تحقیق کے جیل میں ڈال دیاگیا.جو اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے جیل میں ہی دم توڑدیا اورآج بھی سینکڑوں لوگ عدالت کی چوکھٹ پہ انصاف کی بھیک مانگ رہے ہیں.
مرکز میں کانگریس نے آتے ہی اس قانون کوختم کردیا.اس کے بعد بھی پولس وخفیہ ایجنسیوں نے طالب علموں پہ دہشت گردی کا لیبل لگا کرتو کبھی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث بتاکر گرفتارکیا اور زندگی کے قیمتی 20،25 سال برباد کردیے.اس دوران جوصعوبتیں دی جاتی ہیں اسے سن کر دل کانپ اٹھتا ہے اور جس قدر بناؤٹی کہانی دہرائی جاتی ہیوہ نہایت ہی افسوسناک ہے.جب نوجوان اپنی زندگی کے قیمتی سال گزارکر چار دیواری سے باہرآتاہے تو سامنے مسائل ہی مسائل، دور دور تک دکھائی دیتے ہیں.کبھی اپنے گھرکی حالت زار کو دیکھ کر روتا ہے.کبھی والدین کی آوازسن کر سسک پڑتاہے تو کبھی اپنے اندر جھانک کر بے تحاشہ روتاہے. بار بار روتا ہے اور جیل کے ایام کو یاد کرتے بے تحاشہ روتا ہے. ایسے سیکڑوں مسلم نوجوان ہیں جن کی زندگی کوملک کی پولس وخفیہ ایجنسیوں نے اجیرن وبیجان بنادیا ہے.انہی میں سے بارہ بنکی یوپی کے رہنے والے گلزار وانی و محمد مبین کے نام شامل ہیں.جسے 16سال کے بعدعدالت نے باعزت بری کیاہے .جنہیں 14 اگست 2000 کی رات سابرمتی ایکسپریس دھماکہ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا.اب سوال ہے کہ انکے قیمتی سال کون لوٹائے گا؟ کون ہے جو انکے درد کو سنے گا؟کون ہے جو انکا آنسو پوچھے گا؟ اور ایساکوئی ہفتہ نہیں جس میں عدالت نوجوانوں کو بری نہیں کرتی .اب جب کہ دھشت گردی و القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں 2016 میں گرفتار کیے گئے مشہور عالم دین مولانا انظر شاہ قاسمی کو 23 اکتوبر سموار کے روز دہلی کی پٹیالہ عدالت نے باعزت بری کردیا.اس دوران تحقیقاتی ایجنسی اور پولیس نے الزام نے ان کے اوپر طرح طرح کے الزامات لگائے تھے جسے جج سدھارتھ شرما نے خارج کرتے ہوئے کہا کہ “پورے مقدمے کے دوران عائد الزامات میں سے کسی کو بھی جانچ ایجنسی و پولس ثابت کرنے میں ناکام رہی اور یہ بھی ثابت نہیں کر پائے کہ انظر شاہ کبھی پاکستان گئے تھے”.اس فیصلے کے بعد عوام کا عدالت پر یقین پختہ ہوا ہے. وہیں اب یہ سوال بار بار چہار جانب سے سیکولر و امن پسند لوگ اٹھا رہے ہیں کہ کب تک ملک کے نوجوانوں کی زندگیوں کو برباد کیا جاتا رہے گا؟ کب تک ملک کی سلامتی کی آڑ میں ایک خاص طبقہ ،مذہب کے لوگوں کو ٹارگیٹ کیا جاتا رہے گا؟ زندگی کے قیمتی دنوں کو کون لوٹائے گا؟ ایک بار جو لیبل لگ جاتا ہے اسے چھٹکارا پانے میں زندگی ختم ہوجاتی ہے. ایسے میں کیوں نہیں ملک کی جو ایجنسیاں ہیں انہیں جواب دہ بنایا جانا چاہیے تاکہ گناہگاروں کو سزا ملے. جس سے لوگوں میں اعتماد بڑھے گا ورنہ آہستہ آہستہ پولیس و جانچ ایجنسیوں سے لوگوں کا یقین و بھروسہ اٹھ جائے گا.جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور پوری دنیا کی نظر میں بے اعتمادی ہوگی.یو این این

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker