مضامین ومقالات

دہشت گردی کا ایک اور رخ

عبدالرحمن صدیقی(روزنامہ ممبئی اردو نیوز)
ایک عرصہ سے پروپیگنڈہ مشنری کے ذریعہ یہ باور کرایا جاتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے فریم میں صرف مسلمانوں کی تصویر ہی فٹ ہوتی ہے لیکن مہاراشٹر پولس کے اس وقت کے ایک جانباز پولس آفیسر آنجہانی ہیمنت کرکرے نے کچھ ہندوئوں کو بھی گرفتار کرکے اس تصویر کو پاش پاش کردیا کہ صرف مسلمان ہی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ آنجہانی ہیمنت کرکرے کو کس انداز سے شہید کیاگیا اور بعد میں ان مقدمات کا کیا ہوا یہ وہ خود اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے یہ حوالہ دینے کی نوبت اس لیے آئی کیوں کہ جنوبی ہند کے ایک سپر اسٹار جنہوں نے بالی ووڈ میں بھی اپنا مقام بنایا ہے یہ کہہ کر بھگوا خیمے کو چراغ پا کردیا ہے کہ ہندوئوں میں بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ اس کے بعد سے ہی ان کے خلاف بیان بازیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے معلوم ہوا ہے کہ عدالتی کارروائی بھی شروع ہونے والی ہے۔
بالعموم ہمیں نصیحت کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے اور یہ کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن دوسری ہی سانس میں یہ لوگ نہایت بے حیائی سے مسلمانوں جیسا نام رکھنے والے کسی بھی شخص کی مجرمانہ کارروائی کو فوراً اسلامی آتنک واد قرار دیا جاتا ہے اس وقت یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے کہ اسلام اور دہشت گردی دو متضاد چیزیں ہیں۔ اس وقت انٹرنیشنل میڈیا اسلامی آتنک واد کا زور وشور سے پروپیگنڈہ کررہا ہے جبکہ المیہ یہ ہے کہ نام نہاد اسلامی آتنک واد کاشکار ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے اس کے باوجود پروپیگنڈہ کی طاقت کا کرشمہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں اسلامی آتنک واد کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے او ردیگر مذاہب سے جڑے ہوئے لوگوں کا آتنک وادسے متعلق ان کے مذاہب کے حوالے سےنام نہیں لیاجاتا ۔
پوری دنیا کی طرح ہندوستان میں بھی زوروشور سے کہاجاتا ہے کہ ہرمسلمان آتنک واد نہیں ہوتا مگر ہر آتنک وادی مسلمان ہوتا ہے حالانکہ یہ اتنا بڑا جھوٹ اور اتنی بڑی دھاندلی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں لیکن خود مسلمان بھی اس پروپیگنڈہ کی زد میں آکر خوف کی نفسیات میں اس حد تک مبتلا ہوگئے ہیں کہ دہشت گردی کی کسی بھی واردات کے بعد اپنا نام مجرمین کی فہرست میں تلاش کرنے لگے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیاگیا وہ لوگ ملک کی عدالتوں سے باعزت بری ہوگئے جبکہ اس کے برعکس دیگر برادران وطن جب اس معاملے میں گرفتار ہوئے تو ایک سازش کے تحت ان کے  خلاف کیس کوکمزور کردیاگیا اور یہ لوگ کافی حد تک سرکاری مشنری کی ملی بھگت یا پھر مجرمانہ غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے چھوٹ چکے ہیں۔
ابھی تک عالمی سطح پر دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف متعین نہیں کی جاسکی ہے جس کی وجہ سے اپنے جائز حق کے لیے لڑنے والے دہشت گرد ٹھہرائے جاتے ہیںاور جن لوگوں نے پوری دنیا میں دہشت پھیلا رکھی ہے اور جن کا دامن پوری بنی نوع انسان کے خون سے داغدار ہے وہ مہذب دنیا کی قیادت کررہےہیں۔ سوال یہ ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات میں جو لوگ بے گناہوں کے خون کی ہولی کھیلتے ہیں اور گلی کوچوں میں کشتوں کے پشتے لگادیتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں جن لوگوں نے بابری مسجد کو دن دہاڑے شہید کیا وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں جن لوگوں نے مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں فسادات برپا کیے وہ دہشت گرد ہیں یا نہیں، جن لوگوں نے گجرات فساد۲۰۰۲ میں مسلمانوں کے  خون سے یا پھر ۱۹۸۴ میں سکھوں کے قتل عام میں ملوث لوگ دہشت گرد تھے یا نہیں؟ سری لنکا کی نسل پرست تنظیم ایل ٹی ٹی ای میں ۱۰۰ فیصد ہندو ہیں اس تنظیم پر ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کا بھی الزام ہے اس کو ہندو دہشت گرد تنظیم کہا جائے یا نہیں؟
دنیا بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں جو افراد اور تنظیمیں ملوث ہیں ان میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری دہشت گردی بھی پوری دنیا میں قیامت برپا کیے ہوئے ہے ان حالات کے پیش نظر اگر کمل ہاسن نے کچھ لکھا ہے تو اس پر برہم ہونے کے بجائے سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ برادران وطن کے ایک طبقہ میں دہشت گردی کے جراثیم پنپ رہے ہیں ، ہم دہشت گردی کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کے قائل نہیں البتہ دہشت گردی جہاں بھی نظر آئے اس کا قلع قمع کرنا ضروری ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker